All Activity

This stream auto-updates   

  1. Yesterday
  2. باپ اگر بچوں کے سامنے اُن کی ماں کو مارے تو ایسی صورت میں اَولاد کو کیا کرنا چاہیے ؟
  3. زلزلے کیوں آتے ہیں ؟؟؟
  4. Last week
  5. ماشاللہ ۔ I love Murshid Attar.Murshid Attar ko is gunehgar Sohail Qadri Attari ki tarf se Khusuboodar Salam.Murshid Attar se arz he ke mere lye dua kren aur Allah Ta'alah Qadremutliq se mere gunaho ki maghfirat ki dua frmaen.maazrat chahunga mere pas aur koi contact ni is lye comment kr dia . صلو علی الحبیب صلی اللہ علیٰ مُحٙمّٙد
  6. Tareekh ki ek kitab likhi gyii dsrii likhi gyii tareekh ko jhuta sabit krti hai.....
  7. جناب سعیدی صاحب سب سے پہلے آپ نے لکھا کہ : حضرت عمار کو صحابی قتل نہیں کریں گے باغی قتل کریں گے ۔ اور پھر اپنی ہی پیش کردہ روایت کو پسِ پشت کیا ، کیوں ؟ پھر آپ نے تین قاتل بنائے ، پھر دو بنا رہے ، اور وہ بات نہیں مان رہے جو قاتل خود بول بول کر کہ رہا ہے کہ ہاں میں حضرت عمار کا قاتل ہوں ۔ جناب ابوالغادیہ خود مان چکا ہے کہ میں نے حضرت عمار بن یاسر کو ایسے ایسے قتل کیا ۔ میں حیران ہوں کہ آپ کس طرح حق بات کو ناحق چھپانے کی کوشش میں ہیں ۔ جس میں آپ قیامت تک کامیاب نہیں ہو سکتے ۔ فیضی صاحب کی پیش کردہ روایت (159) بالکل صحیح ہے مگر اس میں دونوں میں کسی ایک نے اقرار نہیں کیا کہ میں قاتل ہوں ۔ پھر آپ دونوں میں سے کس کے سر پر ہاتھ رکھیں گے ؟ فیضی صاحب کی کتاب صفحہ (888) والی روایت البدیہ والنہایہ کی ہے اور اس کی فیضی صاحب نے تصدیق نہیں کی ہے ۔ دوسرےابن جوی نے حضرت عمار کے الفاظ جو سنیں وہ دھرائے ہیں اور اُن الفاظ کو دھرانے سے ابن جویں قاتل ثابت نہیں ہو سکتا ، کیونکہ حضرت عمار دوران جنگ بار بار اعلان کرتے تھے کہ " اُس ذات کی قسم جس کے قبضہِ قدرت میں میری جان ہے ہم ( علی کا گروہ) حق پر ہیں اور وہ ( معاویہ کا گروہ ) ضلالت و گمراہی پر ہیں ۔ " اور بھی بہت کچھ فرماتے تھے ۔ لہذا محترم سیعدی صاحب ایک تو روایت کی تصدیق نہیں ہے ۔ دوسرے ابن جویں حضرت عمار کے الفاظ دھرانے سے ہر گز قاتل نہیں ثابت ہوتا اس روایت کی موجودگی میں جس میں ابوالغادیہ اپنے قاتل ہونے کا خود اقرار کر رہا ہو ۔ پھر جناب سعیدی صاحب صاحب کتاب جناب فیضی صاحب جن کی کتاب کا آپ حوالہ دے رہے ہیں انہوں نے مختلف جگہوں پر ابوالغادیہ کو کو ہی قاتلِ عمار لکھا ہے ۔ جب صاحب کتاب نے خود تصریح فرما دی کہ قاتل ابوالغادیہ ہی ہے تو ان کی باقی لکھی ہی روایات کا خود انہیں کے پاس سے رد آ گیا ۔ جناب سعیدی صاحب اب میں آپ کی خدمت میں مکمل واقعہ پیش کرتا ہوں کہ اصل قاتل ابو الغادیہ ہے ۔ کریم آقاﷺ کی بیعت کی اور عقبہ کا خطبہ سنا اور اس میں سے خود خون اور مال کے حرام ہونے پر روایت پیش کی ، حضرت عمار کو کوبھی خود ہی قتل کیا اور خود ہی اسی روایت کے سبب اور فرمان مصطفیٰﷺ کہ : عمار کا قاتل اور مال لوٹنے والا جہنم جائے گا ، جہنم گیا ۔ مکمل واقعہ جو ہوا آپ بھی پڑھیں اور اھل فورم بھی پڑھیں ۔ شکریہ
  8. جناب سعیدی صاحب آپ بات کوکیوں غلط رنگ دیتے ہیں میں نے سوال کیا تھا کہ کیا اک خلیفہِ راشد یا خلیفہِ عادل اک صحابی رسولﷺکے قاتل کو مدینہ کا حاکم یا گورنر بنا سکتا ہے ؟؟؟ آپ نے لکھا کہ حضرت علی نے محمد بن ابو بکر کو کیوں بنایا ؟ میں نے عرض کیا ہے کہ وہ عثمان کے قاتل نہیں ہیں اور یہ ثابت ہے ۔ انہوں نے سیدنا عثمان کی داڑھی مبارک پکڑی تھی جسے حضرت عثمان کے شرم دلانے پر وہ چھوڑ کر چلے گئے تھے ۔اور یہی ان کا گناہ تھا ۔ مگر اس کےعوض بھی معاویہ نے ان کو بے گناہ قتل کرا کر ان کی لاش کی بے حرمتی کرائی ۔ لہذا میرا سوال وہی ہے کہ آپ کے بقول معاویہ خلیفہِ عادل تھا تو بتائیں کہ قرآن و سنت کی روشنی میں اک عادل یا راشد خلیفہِ مروان جیسے قاتل اور ظالم کو حکمران بنا سکتا ہے ؟؟؟ آپ کنھی بھی دوٹوک جواب نہیں لکھتے ہمیشہ بات کو الجھانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ جناب سعیدی صاحب اس میں کونسی میں نے مشکل بات لکھی ہے جو آپ کی سمجھ میں نہیں آ رہی ۔ مروان قاتل اور ظالم تھا اور معاویہ نے حاکم مدینہ بنایا اس پر آپ کی حضرت علی کے بارے کوئی بھی دلیل کارگر ثابت اس لیے نہیں ہو گی کہ وہ تو ہیں ہی خلیفہِ راشد مسئلہ تو امیر معاویہ کا ہے جس کو آپ بھی خلیفہِ راشد یا عادل ثابت فرمانا چاہتے ہیں ۔ لہذا اب پھر پوچھتا ہوں کہ کیا اک عادل اور راشد خلیفہ اک قاتل کو مدینہ کا حاکم بنا سکتا ہے ؟ اس کا جواب لکھیں ۔ -------------------------- ا
  9. سعیدی صاحب کیا بچوں جیسی باتیں لکھ رہے ہیں : آل طلحہ کی FIR مجھے پیش کرنے کی ضرورت ہر گز نہیں ہے اس لیے کہ حضرت طلحہؓ حضرت علیؓ کے خلاف جنگ لڑنے آئے تھے ۔ اور ان کے اپنے لشکر میں موجود بنواُمیہ کے مروان نے تیر مار کر اُن کو قتل کیا ۔ اور انہیں کے حمایتی معاویہ بن ابوسفیان نے اس قاتل کو مدینہ کا حاکم بنا کر ممبر رسولﷺ پر بٹھایا لہذا قاتل اور مقتول دونوں انہیں کے لشکر کے تھے ، لہذا ہوش کے ناخن لیں ۔ آپ کے حواس کام نہیں کر رہے ۔ آپ کو بار بار لکھا ہے کہ جنگ جمل والوں اور صفین والوں کا حضرت علی سے قصاص طلب کرنا غلط تھا ۔ اس کا ثبوت بھی امام قرطبی سے کتاب کی شکل میں پیش کر چکا مگر آپ چند جملے لکھ کر فرماتے ہیں کہ یہ لیں جی FIR ہو گئی ہے ۔ او اللہ کے بندے اس کے ثبوت پر کتابیں پیش کیوں نہیں کرتے کہ کب حضرت علی کے سامنے قصاص عثمان کا مقدمہ درج ہوا ۔ اب آپ کے حوالوں کے ثبوت کی کتابیں میں تو پیش کرنے کا ذمہ دار ہرگز نہیں ہوں ۔ آپ ثبوت پیش کریں یا امام اھل سنت امام قرطبی کی یہ بات مان لیں : سعدی صاحب آپ کے لکھ دینے کی کوئی اہمیت ہے اور نہ کوئی حقیقت لکھے ہوئے کوثابت کیا جاتا ہے جیسے یہ میں ثابت کر چکا ہوں ۔ آپ بھی میرے دوست کوشش کریں اور ایسا کوئی ثبوت کتاب کی شکل میں پیش فرمائیں اور ثابت کریں کہ ہے FIR کی نقل ۔ اب فلاں نے کہا اور فلاں نے کہا سے آپ کی جعلی FIR ہر گز نہیں مانی جا سکتی ۔ اور یہی حقیقت اور سچ ہے کہ حضرت علی سے خون عثمان سے ان لوگوں کا مطالبہ درست نہیں بالکل غلط تھا ۔ میں آپ کے ثبوت کی کتابوں کا منتظر رہوں گا اور دیکھو گا -------------------------------
  10. اس مقدمہ میں آپ کا موقف روافض والا ہے، کیا میں آپ کے مقابلے میں اُن کے حوالے پیش کروں تو وہ آپ پر حُجت ھوں گے؟ آپ کو رافضی حوالے پیش کرتے ہیں، اس لئے آپ کا اپنا مطالعہ نہیں ہے ورنہ سارا مقدمہ پڑھتے تو آپ کو پتہ چلتا کہ مولا علی مرتضیٰ چل کر عثمان رضی اللہ عنہ کے وارث سے اس کا بیان لینے آئے تھے یا نہیں؟ اور محمد بن ابوبکرؓ نے تسلیمی بیان کیا دیا؟ اور زوجہ عثمان نے اسے کتنا ذمہ دار ٹھہرایا؟ آپ آل طلحہ کی مروان کے خلاف FIR پیش کریں اور میں یہ حوالہ جناب کے حوالے کر دوں گا ۔
  11. جناب آپ نے طلحہ رضی اللہ عنہ کے کسی وارث سے مروان کو الزام علیہ بنائے بغیر اُسے گورنر بنانے کے فعل کو خلافت عادلہ کی نفی کی بنیاد بنایا تھا ۔ ۔ ۔ میں نے جناب کے بارے مسلمہ قاعدہ کلیہ کو الزاما جناب پر لوٹایا ھے ۔ ۔ ۔ میرا وہ مسلک نہیں ہے ۔ ۔ ۔ آپ کا مسلک آپ کو مبارک ہو ۔ ۔ ۔ جناب مرتضیٰ مشکل کشا کو جو FIR پیش ھوئی اُسے پڑھو۔ ۔ ۔ وارثان طلحہ کی ایف آئی آر کی سند پیش کرو تو آپ کو آپ کی مطلوبہ سند بھی پیش کر دیں گے انشاءاللہ ۔
  12. جناب والا جب ثقہ راویوں سے مروی ھے کہ دو بندے حضرت عمارؓ کے قتل کے بزعم خویش مدعی ہیں۔ (شرح خصائص علی از ظہور فیضی: رقم حدیث:159)۔ تو ثابت کریں کہ کس کے قاتلانہ حملے سے حضرت عمار کی فی الواقع موت واقع ھوئی؟ ابھی لاش کے ٹھنڈے ھو جانے والی دلیل آپ کی غلط ھو چکی ۔ آپ کے ساتھی ظہور فیضی اپنی اسی کتاب کے صفحہ888 پر ابوالغادیہ کی بجائے ابن جوی کے دعویٰ کے ثابت ھونے کی روایت پیش کر کے اُسے برقرار رکھتے ہیں ۔
  13. جناب سعیدی صاحب لگتا ہے لفظ ٹھنڈے پڑنے سے آگے پیچھے اصل لفظ آپ کع نظر نہیں آ رہا تھا ۔ اس لیے میں نے اصل الفاظ پر اب نشان لگا دیا ہے لہذا جناب سعیدی صاحب پھر سے پڑھیں کہ ابو الغادیہ صحابی رسولﷺ ہی عمار بن یاسر کا اصل قاتل ہے ۔ قتل کا لفظ اک دفعہ نہیں بہت دفعہ موجود ہے ، اب قتل کے بھی کوئی نئے معنیٰ نہ تلاش کرنے لگ جائیے گا پلیز ۔ پڑھییے
  14. Great ...... I want to buy a book in hard form would you please tell me about that from where i can find " Muqamat e Anmbiyaa (A.S) " Great ...... I want to buy a book in hard form would you please tell me about that from where i can find " Muqamat e Anmbiyaa (A.S) "
  1. Load more activity