All Activity

This stream auto-updates   

  1. Yesterday
  2. ماں کی پکار پر نماز توڑ دینا کیا یہ حدیث صحیح ہے : کاش میری ماں زندہ ہوتی ، اور میں عشاء کی نماز کے لئے مصلی پر کھڑا ہوتا ، اور سورہ فاتحہ شروع کرچکا ہوتا ، ادھر سے میرے گھر کا دروازہ کھلتا اور میری ماں پکارتی : محمد، تو میں ان کے لئے نماز توڑ دیتا اور میں کہتا : لبیک اے ماں ۔ الجواب : یہ حدیث دو طرح کے الفاظ سے وارد ہے : 1-عن طلق بن علي، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَوْ أَدْرَكْتُ وَالِدَيَّ أَوْ أَحَدَهُمَا وَأَنَا فِي صَلاةِ الْعِشَاءِ، وَقَدْ قَرَأْتُ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ يُنَادِينِي: يَا مُحَمَّدُ؛ لأَجْبُتُه لَبَّيْكَ . شعب الإيمان (10/ 284) ، مصنفات أبي جعفر ابن البختري (ص: 210) ، الموضوعات لابن الجوزي (3/ 85) . 2-عن طَلْقَ بْن عَلِيٍّ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْ أَدْرَكْتُ وَالِدَيَّ أَوْ أَحَدَهُمَا ، وَقَدِ افْتَتَحْتُ صَلَاةَ الْعِشَاءِ ، فَقَرَأْتُ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ فَدَعَتْنِي أُمِّي تَقُولُ: يَا مُحَمَّدُ ، لَقُلْتُ لَبَّيْكِ . البر والصلة لابن الجوزي (ص: 57) ، كنز العمال (16/ 470) . حدیث کا ترجمہ : اگر میں میرے والدین، یا ان دونوں میں سے کسی ایک کو پاتا ، جبکہ میں عشاء کی نمازشروع کرکے سورہ فاتحہ پڑچکا ہوتا ، اور وہ مجھے پکارتے (یا ماں پکارتی ) : اے محمد ، تو میں جوابا : لبیک کہتا ۔ اوپر سوال میں بعض الفاظ اصل حدیث پر زائد ہیں ، جو روایت میں وارد نہیں ہیں ۔ اس حدیث کی اسانید کا مدار : یاسین بن معاذ الزیات ہے ، وہ عبد اللہ بن قُرَیر سے ، اور وہ طلق بن علی سے روایت کرتے ہیں ۔ عبد اللہ بن قریر کے والد کا نام کتابوں میں محرف آتاہے ( مرثد ، قرین ، قوید ) یہ سب تحریف ہے ، صحیح ( قُرَیر ) ہے ، دیکھو ( الاکمال لابن ماکولا (7/ 84) ۔ ابن الجوزی اور ابو الشیخ کی روایت میں ( فدعَتنی اُمی ) ہے ، اسی سے ہمارے یہاں : اور میری ماں پکارتی ، کے الفاظ مشہور ہیں ۔ حدیث کا حال : یہ حدیث سند کے لحاظ سے نا قابل اعتبار ہے ، چونکہ اس میں مدار سند : یاسین الزیات ہے ، جو ناقدین کے نزدیک بہت سخت مجروح ہے ، اس کی روایات نکارت سے خالی نہیں ہے ، اس لئے اس روایت کی نسبت حضور ﷺ کی طرف کرنا درست نہیں ہے ۔ البتہ اس مضمون کی دوسری احادیث منقول ہیں ، لیکن وہ بھی ضعف وانقطاع سے خالی نہیں ہیں ، مثلا : 1- ... عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا دَعَتْكَ أُمُّكَ فِي الصَّلَاةِ فَأَجِبْهَا، وَإِذَا دَعَاكَ أَبُوكَ فَلَا تُجِبْهُ» . مصنف ابن أبي شيبة (2/ 191 حديث 8013 ) مرسل . 2- ... الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ: قَالَ مَكْحُولٌ: " إِذَا دَعَتْكَ وَالِدَتُكَ وَأَنْتَ فِي الصَّلَاةِ فَأَجِبْهَا، وَإِذَا دَعَاكَ أَبُوكَ فَلَا تُجِبْهُ حَتَّى تَفْرُغَ مِنْ صَلَاتِكَ " . شعب الإيمان (10/ 285) . قال ابن الملقن في التوضيح لشرح الجامع الصحيح (9/ 286) : فأما مرسل ابن المنكدر فالفقهاء على خلافه ولا أعلم به قائلًا غير مكحول . وفي فتح الباري لابن حجر (6/ 483) : وَحَكَى الْقَاضِي أَبُو الْوَلِيدِ أَنَّ ذَلِكَ يَخْتَصُّ بِالْأُمِّ دون الْأَب ، وَعند ابن أَبِي شَيْبَةَ مِنْ مُرْسَلِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ مَا يَشْهَدُ لَهُ ، وَقَالَ بِهِ مَكْحُولٌ ، وَقِيلَ : إِنَّهُ لَمْ يَقُلْ بِهِ مِنَ السَّلَفِ غَيْرُهُ . 3- ... الْحَكَمُ بْنُ الرَّيَّانِ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ حَوْشَبٍ الْفِهْرِيُّ، عَنِ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَوْ كَانَ جُرَيْجٌ الرَّاهِبُ فَقِيهًا عَالِمًا لَعَلِمَ أَنَّ إِجَابَتَهُ أُمَّهُ أَوْلَى مِنْ عِبَادَةِ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ». رواه الحسن بن سفيان في مسنده، والترمذي في النوادر، وأبو نُعيم في المعرفة، والبيهقي في الشعب . كما في المقاصد الحسنة (ص: 551) . قال ابن مندة : "غريب تفرد به الحكم بن الريان عن الليث" . ومن هذا الطريق أخرجه أبو نعيم في "الصحابة" (2283) وقال : "حوشب أبو يزيد الفهري مجهول" . وكذا يزيد ولده مجهول . وَفِي سنده أيضا : مُحَمَّد بن مُوسَى السامي الْقرشِي مُتَّهم بالوضع . متن کےمذکورہ شواہد بھی اتنے مضبوط نہیں ہیں جو اصل روایت کی تقویت کے قابل ہوں ، اس لئے اس حدیث کی نسبت حضور ﷺ کی طرف کرنے میں احتیاط کرنا چاہئے ۔ Sent from my Redmi Note 5 using Tapatalk
  3. ماں کی پکار پر نماز توڑ دینا کیا یہ حدیث صحیح ہے : کاش میری ماں زندہ ہوتی ، اور میں عشاء کی نماز کے لئے مصلی پر کھڑا ہوتا ، اور سورہ فاتحہ شروع کرچکا ہوتا ، ادھر سے میرے گھر کا دروازہ کھلتا اور میری ماں پکارتی : محمد، تو میں ان کے لئے نماز توڑ دیتا اور میں کہتا : لبیک اے ماں ۔ الجواب : یہ حدیث دو طرح کے الفاظ سے وارد ہے : 1-عن طلق بن علي، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَوْ أَدْرَكْتُ وَالِدَيَّ أَوْ أَحَدَهُمَا وَأَنَا فِي صَلاةِ الْعِشَاءِ، وَقَدْ قَرَأْتُ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ يُنَادِينِي: يَا مُحَمَّدُ؛ لأَجْبُتُه لَبَّيْكَ . شعب الإيمان (10/ 284) ، مصنفات أبي جعفر ابن البختري (ص: 210) ، الموضوعات لابن الجوزي (3/ 85) . 2-عن طَلْقَ بْن عَلِيٍّ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْ أَدْرَكْتُ وَالِدَيَّ أَوْ أَحَدَهُمَا ، وَقَدِ افْتَتَحْتُ صَلَاةَ الْعِشَاءِ ، فَقَرَأْتُ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ فَدَعَتْنِي أُمِّي تَقُولُ: يَا مُحَمَّدُ ، لَقُلْتُ لَبَّيْكِ . البر والصلة لابن الجوزي (ص: 57) ، كنز العمال (16/ 470) . حدیث کا ترجمہ : اگر میں میرے والدین، یا ان دونوں میں سے کسی ایک کو پاتا ، جبکہ میں عشاء کی نمازشروع کرکے سورہ فاتحہ پڑچکا ہوتا ، اور وہ مجھے پکارتے (یا ماں پکارتی ) : اے محمد ، تو میں جوابا : لبیک کہتا ۔ اوپر سوال میں بعض الفاظ اصل حدیث پر زائد ہیں ، جو روایت میں وارد نہیں ہیں ۔ اس حدیث کی اسانید کا مدار : یاسین بن معاذ الزیات ہے ، وہ عبد اللہ بن قُرَیر سے ، اور وہ طلق بن علی سے روایت کرتے ہیں ۔ عبد اللہ بن قریر کے والد کا نام کتابوں میں محرف آتاہے ( مرثد ، قرین ، قوید ) یہ سب تحریف ہے ، صحیح ( قُرَیر ) ہے ، دیکھو ( الاکمال لابن ماکولا (7/ 84) ۔ ابن الجوزی اور ابو الشیخ کی روایت میں ( فدعَتنی اُمی ) ہے ، اسی سے ہمارے یہاں : اور میری ماں پکارتی ، کے الفاظ مشہور ہیں ۔ حدیث کا حال : یہ حدیث سند کے لحاظ سے نا قابل اعتبار ہے ، چونکہ اس میں مدار سند : یاسین الزیات ہے ، جو ناقدین کے نزدیک بہت سخت مجروح ہے ، اس کی روایات نکارت سے خالی نہیں ہے ، اس لئے اس روایت کی نسبت حضور ﷺ کی طرف کرنا درست نہیں ہے ۔ البتہ اس مضمون کی دوسری احادیث منقول ہیں ، لیکن وہ بھی ضعف وانقطاع سے خالی نہیں ہیں ، مثلا : 1- ... عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا دَعَتْكَ أُمُّكَ فِي الصَّلَاةِ فَأَجِبْهَا، وَإِذَا دَعَاكَ أَبُوكَ فَلَا تُجِبْهُ» . مصنف ابن أبي شيبة (2/ 191 حديث 8013 ) مرسل . 2- ... الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ: قَالَ مَكْحُولٌ: " إِذَا دَعَتْكَ وَالِدَتُكَ وَأَنْتَ فِي الصَّلَاةِ فَأَجِبْهَا، وَإِذَا دَعَاكَ أَبُوكَ فَلَا تُجِبْهُ حَتَّى تَفْرُغَ مِنْ صَلَاتِكَ " . شعب الإيمان (10/ 285) . قال ابن الملقن في التوضيح لشرح الجامع الصحيح (9/ 286) : فأما مرسل ابن المنكدر فالفقهاء على خلافه ولا أعلم به قائلًا غير مكحول . وفي فتح الباري لابن حجر (6/ 483) : وَحَكَى الْقَاضِي أَبُو الْوَلِيدِ أَنَّ ذَلِكَ يَخْتَصُّ بِالْأُمِّ دون الْأَب ، وَعند ابن أَبِي شَيْبَةَ مِنْ مُرْسَلِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ مَا يَشْهَدُ لَهُ ، وَقَالَ بِهِ مَكْحُولٌ ، وَقِيلَ : إِنَّهُ لَمْ يَقُلْ بِهِ مِنَ السَّلَفِ غَيْرُهُ . 3- ... الْحَكَمُ بْنُ الرَّيَّانِ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ حَوْشَبٍ الْفِهْرِيُّ، عَنِ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَوْ كَانَ جُرَيْجٌ الرَّاهِبُ فَقِيهًا عَالِمًا لَعَلِمَ أَنَّ إِجَابَتَهُ أُمَّهُ أَوْلَى مِنْ عِبَادَةِ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ». رواه الحسن بن سفيان في مسنده، والترمذي في النوادر، وأبو نُعيم في المعرفة، والبيهقي في الشعب . كما في المقاصد الحسنة (ص: 551) . قال ابن مندة : "غريب تفرد به الحكم بن الريان عن الليث" . ومن هذا الطريق أخرجه أبو نعيم في "الصحابة" (2283) وقال : "حوشب أبو يزيد الفهري مجهول" . وكذا يزيد ولده مجهول . وَفِي سنده أيضا : مُحَمَّد بن مُوسَى السامي الْقرشِي مُتَّهم بالوضع . متن کےمذکورہ شواہد بھی اتنے مضبوط نہیں ہیں جو اصل روایت کی تقویت کے قابل ہوں ، اس لئے اس حدیث کی نسبت حضور ﷺ کی طرف کرنے میں احتیاط کرنا چاہئے ۔ Sent from my Redmi Note 5 using Tapatalk
  4. Wailekum assalam Masha Allah Sent from my Redmi Note 5 using Tapatalk
  5. فیض احمد چشتی رضاخانی بغض کا مارا ہوا اور علم سے یتیم انسان ہے اس کی پوسٹ دیکھے کے یہی لگتا ہے کی اس کو ڈاکٹر کی سند کس نے دے دی یہ تو کمپاونڈر بنے کے بھی لائق نہیں۔۔۔،😂😂🤣😂🤣 اس نے ایک پوسٹ لگائی ہے کہ اذان کے وقت جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام آئے تو انگوٹھا چومنا مستحب ہے۔۔ شاید چشتی نے اپنے گھر کی کتابوں کا مطالعہ نہی کیا ورنہ ایسی پوسٹ ہی نہیں لگتا۔۔۔😂😂 اب میں چشتی کو اسی کے گھر کے سب سے معتبر شخص جس کو یہ لوگ اعلیٰ حضرت کہتے ہیں کا قول دکھاتا ہوں کہ انگوٹھا چومنے کے مسئلے پر احمد رضا خان نے کیا لکھ مارا ہے۔۔۔😀 احمد رضا خان فتویٰ رضویہ کی جلد ۲ کے صفحہ ۶۴۹ میں اسے مسئلے کے سوال کے جواب میں کہ اذان کے وقت جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام آئے تو انگوٹھا چومنا چاہئے یہ نہی کے جواب میں لکھتا ہے۔۔۔ جواب :- اوّل تو اذان ہی میں انگوٹھے کو چومنا کسی معتبر کتاب سے ثابت نہیں اور جو کچھ بعض لوگوں نے اس بارہ میں روایت کیا ہے وہ محققین کے نزدیک ثابت نہیں۔۔۔اور پھر آگے چل کر شامی کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ شامی بعد نقل اس عبارت کے لکھتے ہیں۔۔۔۔۔ مگر اقامت میں تو کوئی ٹوٹی پھوٹی روات بھی موجود نہیں پس اقامت میں انگوٹھے چومنا اذان کے وقت سے بھی زیادہ بدعت و بے اصل ہے اسی واسطے فقہا نے اس کا بلکل انکار کیا ہے۔۔۔۔۔😂💖💖 باقی یہی مسئلہ احمد رضا خان نے اپنے رسالے " ابر المقال فی استحسان قابلۃ الاجلال" میں بھی نقل کیا ہے یہ حدیث ضعیف ہے اور اس مسئلے پر کسی کی ملامت کی تو وہ غلطی پر ہے۔۔۔ بانی بریلویت احمد رضا خان جس بات کو بدعت لکھ رہے ہیں چشتی اس کو مستحب ثابت کرنے کی پر زور کوشش کر رہا ہے۔۔🤣🤣 لگتا ہے چشتی اپنے گھر کا اصول بھول گئے " جو احمد رضا خان کا ہم عقیدہ نہی وہ اسے کافر جانتے تھے" (الصواریم الہندیہ صفحہ ۱۳۷) اور دوسری طرف رضا خانیوں کی معتبر کتاب " وصایا شریف " صفحہ ۸-۹ پر لکھا ہے جس نے احمد رضا خان کی بات کو مانا اس کے لئے قیامت میں نور اور نجات ہے اور جس نے بات نہی مانی اس کے لئے ظلم اور ہلاکت ہے (مفہوم) اب ذرا چشتی صاحب ہی بتائیں کی ان کے بانی کے اس قول اور اصول سے وہ کافر ہوئے یا نہیں۔۔۔۔؟ چشتی صاحب کا قیامت میں ٹھکانا جہنم بنا کی نہی۔۔۔؟ کاش کہ چشتی پوسٹ کرنے سے پہلے اپنے بانی کی یہ بات پڑھ لیتے تو یوں فالتو کی پوسٹ لگانے سے پہلے لکھ بار سوچتے۔۔۔۔🤣🤣🤣🤣 اب میں چند اصول رضا خانیوں کے گھر سے بھی بیان کرتا چلوں تاکہ چشتی صاحب کی آنکھ پوری طرح سے کھل جائے۔۔۔👀👀👀 احمد رضا خان کے والد نقی علی خان اپنی کتاب "انوارِ جمال مصطفیٰ" کے صفحہ ۷۲ میں لکھتے ہیں " ضعیف روایتوں کو اختیار نہ کرے" انوارِ شریعت میں فتویٰ عالمگیری کے حوالے سے لکھا ہے ضعیف حدیث قابلِ عمل نہی۔۔۔😘😘 اب جو چشتی صاحب نے فتاویٰ دار العلوم کے حوالے سے جو جھوٹ بولا ہے آئین ذرا اس کی بھی حقیقت جان لیتے ہیں۔ چشتی جھوٹے نے فتویٰ دار العلوم کا اسکین لگا کر اس میں لکھا ہے کہ انگوٹھا چومنا مستحب ہے l۔۔😂 جھوٹے پر خدا کی لعنت۔۔۔۔آمین۔۔۔ چشتی صاحب کو قیامت تک کا وقت ہے کہ اس میں مجھے دیکھا دیں کی کہاں لکھا ہے کہ انگوٹھا چومنا مستحب ہے۔۔۔؟ بلکہ اس میں بھی شامی کا حوالہ لکھا ہے اور اس کی عبارت نقل کی گئی ہے اور آگے لکھا ہے " آخر عبارت شامی سے یہ بھی واضح ہوا کہ کوئی مرفوع حدیث صحیح اس بارے میں نہیں ہے۔۔غایت یہ کہ ضعیف حدیث پر بھی فضائل اعمال میں عمل کرنا درست ہے مگر اس کی شرط یہ ہے کہ اس فعل کو مسنون نہ سمجھیں۔پس چونکہ بعض عوام کو اس میں غلو ہو گیا ہے اور اس کو سنت سمجھ کر کرتے ہیں اور ترک پر طعن و ملامت کرتے ہیں اس لئے ترک اس کا علماء محققین احوت سمجھتے ہیں۔۔۔۔💖💖💖
  6. Last week
  7. جناب میں آپ کا بہت بہت شکر گزار ہوں اگر مکمل ترجمہ مل جاۓ تو بہت نوازش ہو گی میرا ای میل ایڈریس ہے [email protected] اس پر میل کر دیجیے گا اگر مل جاۓ
  8. kya ya hadees pak sahi hai ali bi noor hai
  9. The post Imam Saib ki Tankha/Salary 1 Lakh ho appeared first on SunniSpeeches. View the full article
  10. Earlier
  11. جواب کا شدت سے منتظر ہوں
  12. السلام علیکم مختلف اعتراضات کے جواب میں دیوبندیوں کی جانب سے یہ توضیحات پیش کی گئی ہیں ان کا تفصیلی رد اگر کسی سنی عالم نے کیا ہے تو ہمیں وہ درکار ہے
  13. Jazak Allahu Khair Sent from my Redmi Note 5 using Tapatalk
  14. جبرائیل علیہ السلام پر رب العالمین کا حکم ہوا کہ ایک مشت خاک زمین پر سے لاؤ بحکم الہٰی جبرائیل علیہ السلام بلندی سے آسمان کی فوراً اس زمین پر آئے کہ اب جہاں خانہ کعبہ ہے چاہا کہ ایک مشت خاک لیں اس وقت زمین نے ان کو قسم دی کہ اے جبرائیل برائے خدا مجھ سے خاک مت لے کہ اس سے خلیفہ پیدا ہو گا اوراس کی اولاد بہت عاصی و گنہگار مستوجب عذاب ہو گی میں مسکین خاک پا ہوں طاقت و تحمل عذاب خدا کا نہیں رکھتی ہوں، اس بات کو سن کر حضرت جبرائیل علیہ السلام خاک سے باز آئے۔ غرض اسی طرح سے جبرائیلؑ پھر گئے اور میکائیل اور اسرافیل علیہما السلام سے بھی یہ کام انجام کو نہ پہنچا۔تب عزرائیل کو بھیجا ان کو بھی زمین نے منع کیا انہوں نے نہ مانا اور کہا کہ جس کی قسم دیتی ہے میں اس کے حکم سے آیا ہوں میں اس کی نافرمانی نہیں کروں گا تجھ کو لے ہی جاؤں گا۔ پس عزرائیلؑ نے ہاتھ نکال کر ایک مٹھی بھر خاک اسی سرزمین سے لے کر عالم بالا پر چلے گئے اور عرض کی کہ خداوند تو دانا و بینا ہےمیں نے یہ حاصل کیا ہے تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے عزرائیل علیہ السلام میں اس خاک سے زمین پر ایک خلیفہ پیدا کروں گا اور اس کی جان قبض کرنے کے لئے تجھی کو مقرر کروں گا۔ تب عزرائیل علیہ السلام نے معذرت کی کہیا رب تیرے بندے مجھے دشمن جانیں گے اور گالیاں دیں گے۔ جناب باری نے فرمایا اے عزرائیل تو غم مت کر میں خالق مخلوقات کا ہوں ہر ایک موت کا سبب گردانوں گا اور ہر شخص اپنے اپنے مرض میں گرفتار رہے گا۔ تب دشمن تجھ کو نہ جانے گا۔ کسی کو درد میں مبتلا کروں گا اور کسی کو تپ دق میں اور کسی کو پانی میں غرق کروں گا۔ Need Refernce Or Authenticity ...?
  15. The post Jummah Khutbah – Feb 1st 2019 – Shaykh Muhammad bin Yahya Al Ninowy (Eng) appeared first on SunniSpeeches. View the full article
  16. Internal Server Error The server encountered an internal error or misconfiguration and was unable to complete your request. Please contact the server administrator, [email protected] and inform them of the time the error occurred, and anything you might have done that may have caused the error. More information about this error may be available in the server error log. Additionally, a 500 Internal Server Error error was encountered while trying to use an ErrorDocument to handle the request.
  17. حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہ قول حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قول کے مخالف نہیں۔ کیونکہ حضرت علی کے اس قول میں حجر اسودکے بروز قیامت گواہی دینے کا ذکر ہے ظاہر ہے جو مسلمان جیسا عمل کرے گا ویسی ہی گواہی ملے گی ،اگر نیک عمل ہوگا تو حجر اسود کی گواہی پر بروز قیامت فائدہ اٹھائے گا اور اگر برا عمل ہوگا تو نقصان اٹھائے گا۔
  18. The post Tarawih Parhne Wala Imam Kesa ho ? | Maulana Shafiq Attari | Dawateislami appeared first on SunniSpeeches. View the full article
  19. Koi jawab hi nae dyta islami mefil pr. Islami mehfil ab fazool hogya hy
  20. السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ The Prophet (PBUH) said: Salah is the Key of Jannah.
  21. As-Salaam alaikum, Thanks for the reminder on/about this all-important second pillar of Islam... Sallah. Indeed, Sallah, the ritual prayer, is the pillow of the Islamic Religion, and is the basis of Imaan (faith). Concerning Sallah, the Noble Prophet, Sallallahu alaihi Wasallam, said:-- "Everything has a symbol and the symbol of faith is the Sallah. The ritual prayer [Sallah] is the light of my eyes." "If a person does not perform the prayer, it is as if he has not adopted any religion."
  22. Islamic Books Library has books in 38 the various languages. Users can select the book in any language they need. This will help several Muslims in gaining the understanding of Islam more completely because they can find any separate book in their native language and preserve themselves enlight including its knowledge.
  23. In the Islamic Books library section on the website of Dawat-e-Islami you will find many books on numerous topics. In the Books library section you can read books in more than 38 languages and gain the precious treasure of knowledge in your desired language so, all the Islamic brothers should take benefit from this service.
  24. مولوی زکریا دیوبندی نے فضایل اعمال میں ایک واقعہ لکھا کہ ایک عورت مر گی تو اس کا منہ سیاہ ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاے اور انہوں نے اس عورت کے پیٹ یا چہرے پر ہاتھ پھیرا تو وہ صحیح ہو گی۔۔مفہوم عرض کر دیا ہے ۔اب دیوبندی اس پر فتویٰ لگایں اصل سکین بھی پیش کر دیا جاے گا۔۔
  25. Fasting. Ramadan is a time of unworldly reflection, improvement and increased devotion and worship. Muslims are expected to put more effort into following the teachings of Islam.
  26. Wa alayqum salam, Moterma aap joh sawal pooch rahi hen is k talluq nah aap kay Islam say, nah ap kay iman say, aur nah hamaray jawab say heh, yeh aap ki pasand heh ... pasand mein nah ap nay Allah aur Rasool kay deen ka lehaz keren gi aur nah hamaray jawab ka ... mukhtasar ... Ismail Musalman nahin hen ... Namaz, Hajj, Roza, Zakat ... aur baqi kay munkir hen ... is inqar ki waja say yeh logh 100 say ziyada ayaat kay munkir hotay hen aur hukm kufr lagta heh ... aur GHAYR MUSLIM SAY AAP KA NIKKAH NAHIN HOGA ... aik maulvi kia hazaaar aa kar Nikkah kar denh Shar'ri tor par aap ka Nikkah nahin hoga ... aur Zina ki murtaqib aur haram ki ulaad peda keren gi.
  27. Asalam alaikom me ek sunni gharane se hn but me ek ismaili larke ko pasand krti hn .. me ye janna chahti hn k kya mera nikkah us se ho skta h kya wo jaiz hoga ya nhi please mujhe ahl e sunnat ka nukta nazar btaen is hawale se.. JAZAKALLAH HU KHAERA
  1. Load more activity