Kilk-e-Raza

Members
  • Content count

    434
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    40

Kilk-e-Raza last won the day on July 30

Kilk-e-Raza had the most liked content!

Community Reputation

120 Excellent

About Kilk-e-Raza

  • Rank
    Makki Member

Recent Profile Visitors

377 profile views
  1. انکشاف حق کے رد کیلئے کتاب عجائب دیوبند سے ابتدائی چند صفحات ہی کافی ہیں۔ جب مصنف ہی معتبر نہیں اور اُس کیخلاف متفقہ فتوی ہو تو کتاب کی ہمارے نزدیک کیا حیثیت؟ انکشاف حق کے ابتدائی چند صفحات پڑھ کر ایک صحیح العقیدہ سُنی کو فوراً اندازہ ہوجائے گا کہ یہ کتاب وہابیوں کا دھوکہ ہے۔ کیونکہ مولوی خلیل دیوبندی شروع میں اعلی حضرت سے کفر کے مسئلے پر اختلاف کر رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ اس مسئلہ میں تقلید نہیں کی جائے گی اور کفر کا فتوی دینے میں احتیاط کی جائے گی اور دیوبندی اکابر اُن عبارات کا دوسرا مطلب مانتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔۔۔ مگر آگے چل کر اُس نے باقائدہ دیوبندی اکابرین کا دفاع کرنا شروع کر دیا۔ جس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ یہ مسئلہ کفر پر اختلافی بحث نہیں بلکہ دیوبندیوں کی حمایت اور اُن کے کفریہ کلام کی تاویلات کا ایک نیا منصوبہ ہے۔ اور سُنی لبادہ اوڑھ کر عوام کو گمراہ کرنے کی ایک مذموم کوشش ہے۔
  2. Sarkar ki shan men gustakhi kerne wale ki sirf aik hi saza hay. Sar tan se juda. hakim e islam usko saza e mout de ga.. agerche toba bhi ker le. jahan tak ulema e karam se suna hai ke uski toba aakhirat men qabol hogi mager dunya main usko saza di jaye gi.. agr ghalti ho tu nishan dehi fermain. Is ke lye Pakistan men jo 295C ka qanoon hay. woh bilkul bar haq qanoon, quran o sunnat ke aen mutabiq hay. Is qanoon ko ghalat kehne wala khud ghalat, jahil, bad bakht or is roe zameen pr aik kala dhaba hay.
  3. Iska jawab yahan dekhen. inkishaf e haq k radd men likhi kitab Ajaib e Deoband yahan pedhi ja sakti hai. http://www.ja-alhaq.com/ajaib-e-inkishaf-ajaib-e-deoband/ or download yahan se keren. http://books.nafseislam.com/details.php?book_id=3195&book=ajaaib-e-inkashaf-ajaaib-e-deoband
  4. شروع میں مقدمہ پڑھیے۔ اُس میں تفصیل موجود ہے۔۔ نیچے کچھ لفظ ہائلائیٹڈ ہیں۔۔ مفتی صاحب، صغیرہ گناہ کی دو اقسام بیاں کر رہے ہیں۔ دوسری قسم میں پھر دو نوعیتیں ہیں کہ جان بوجھ کر کیا یا غلطی سے ہوا۔ پھر آگے چل کر لکھتے ہیں کر جان بوجھ کر یا غلطی سے وہ ایک آن کیلئے بھی بدعقیدہ نہیں ہوسکتے۔ وہابی انبیاء علیہ السلام کی وہ لغزش جو بھول کر ہوئیں، غلطی سے ہوئیں اُن کو بیان کر کے اور بنیاد بنا کر انبیاء کرام علیہ السلام کو گناہ گار بتانا چاہتے ہیں معاذ اللہ۔۔ کیونکہ بد بخت وہابیوں کی فظرت میں گستاخی شامل ہیں۔۔ مفتی احمد یار خاں نعیمی علیہ الرحمہ اس کا رد کر رہے ہیں۔ اور جہاں اُن لغزشوں کا ذکر قرآن کریم و احادیث وغیرہ میں ہوا ہے۔ اُن کا جواب دے رہے ہیں۔ مفتی خلیل احمد قادری برکاتی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں۔ "نبی کی فطرت بہت ہی سلیم ہوتی ہے اور سلامت روی اس کا ایک ذاتی خاصہ ہوتا ہے اسی لیے جوباتیں خدا کو نا پسند ہوتی ہیں ان سے نبی کو نفرت ہوتی ہے اور اگر کوئی موقع پیغمبر کو ایسا پیش آجاتا ہے جو عام لوگوں کی لغزش کا مقام ہوتا ہے تو وہاں خدائی قدرت کسی نہ کسی صورت میں ظاہر ہو کر اسے بچالیتی ہے لہٰذا پیغمبر سے گناہ کبیرہ کا صادر ہونا ناممکن و محال ہے بلکہ ایسے افعال بھی ان سے سرزد نہیں ہوتے جو وجاہت اور مروت کے خلاف ہیں یا جو خلق کے لیے باعث نفرت ہوں۔ نبی کے قصد و ارادہ سے گناہ صغیرہ کا صادر ہونا بھی ممکن نہیں ہے خواہ قبل نبوت ہو یا بعد نبوت ۔ ہاں بھول چوک سے کوئی ایسا امر صادر ہو جائے تو اور بات ہے کہ آخر تو بشر ہیں مگر تبلیغی امور میں یہ بھی ممکن نہیں۔ انبیاء کرام علیہم السلام سے جو لغزشیں واقع ہوئیں ان کا ذکر تلاوت قرآن اور قرآت حدیث کے سوا حرام اور سخت حرام ہے۔ اللہ تعالیٰ عزوجل ان کا مالک ہے اور وہ اس کے پیارے بندے ۔ مولا کوشایاں ہے کہ وہ پانے محبوب بندوں کو جس عبادت سے اور جس طرح چاہے تعبیر فرمائے اور یہ اپنے رب کے لیے جس قدر چاہیں تواضع فرمائیں۔ دوسرا ان کلمات کو سند نہیں بنا سکتا ورنہ مردود بارگاہ ہوگا۔ بلاتشبیہ یوں خیال کرو کہ کسی باپ نے اپنے بیٹے کو کسی غلطی پر تنبیہہ کرنے کے لیے نالائق کہہ دیا تو باپ کو اختیار تھا۔ اب کوئی دوسرا ان الفاظ کو سند بنا کر یہی الفاظ کہہ سکتا ہے؟ ہر گز نہیں اور اگر کہے گا تو سخت گستاخ سمجھا جائے گا؟ جب یہاں یہ حالت ہے تو اللہ عزوجل کی ریس کرکے انبیاء علیہم السلام کی شان میں ایسے الفاظ بکنے والا کیونکر بارگاہ الٰہی سے مردود اور سخت عذاب جہنم کا مستحق نہ ہوگا؟ ایسی جگہ سخت احتیاط کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے محبوبوں کا حسن ادب عطا فرمائے." مفتی قاسم قادری مدظلہ العالی کا یہ فتوی بھی قابل غور ہے۔
  5. سوال:کلی کرتے وقت پانی حلق میں چلا جائے تو کیاحکم ہے؟ جواب : کلی کر رہا تھا اور بلاقصد پانی حلق سے اتر گیا یا ناک میں پانی چڑھایا (مثلاً وضو یا غسل کرتے وقت ) اور دماغ کو چڑھ گیا تو روزہ جاتا رہا۔ ہاں اگر وہ اپنا روزہ دار ہونا بھول گیا تونہ ٹوٹے گا۔ اگرچہ قصداً ہو۔ یوں ہی کسی نے روزہ دار کی طرف کوئی چیز پھینکی اور وہ اس کے حلق میں چلی گئی روزہ جاتا رہا۔ (عالمگیری) یہ جواب مفتی خلیل احمد قادری برکاتی علیہ الرحمہ کی کتاب ہمارا اسلام سے ہے۔ پانی حلق سے نیچے گیا اور آپ کو اپنا روزہ دار ہونا یاد تھا تو آپ کا روزہ ٹوٹ گیا۔
  6. بھائی جان۔ میرے علم کے مطابق یہاں پر کوئی مفتی صاحب نہیں ہیں۔ اپنا سوال دارالفتاء کو بھیجیں۔ فون نمبرز ایک دوسرے ٹاپک میں دیے ہوئے ہیں۔ mufti.nafseislam.com پر بھی کوشش کریں۔
  7. مفتی اکمل صاحب کے جواب میں آپ کے سوال کا جواب موجود ہے۔۔ معین بھائی کی پوسٹ کردہ ویڈیو نیچے ایمبیڈ ہے۔۔ اگر لڑکے کے ماں باپ الگ ہیں۔ اور لڑکی کے ماں باپ الگ ہیں تو ایسی صورت میں شادی ہو سکتی ہے۔ جس کو مفتی صاحب نے مثال سے واضح کیا ہے۔۔
  8. جزاک اللہ۔ @Abu.Huzaifa نعض افراد کو یہ اعتراض کرتے اکثر دیکھا ہے کہ ہم سعودیہ کے ساتھ عید کیوں نہیں کرتے۔ اس لئے تمام بھائیوں سے گزارش ہے کہ اس موضوع پر کتب یا احادیث وغیرہ ہوں تو یہاں ضرور شیئر کریں۔۔ تاکہ جو اس کنفیوژن میں ہیں۔ اُن کی رہنمائی ہوسکے۔ جزاک اللہ۔
  9. اوریا مقبول جان کا یہ کلپ دیکھا ہے جس میں وہ رویت حلال کمیٹیوں اور مختلف جگہ چاند پر روزوں اور عیدوں کی سخت مخالفت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کچھ فقہ سے حوالے کوٹ کیے ہیں کہ فتاوی عالمگیری میں ہے کہ اگر مغرب میں چاند نظر آجائے تو مشرق میں عید ہوگی۔ اسی طرح شافعی، مالی، جنبلی وغیرہ کتب سے بھی کہا ہے۔ اس کا جواب اگر کسی کے پاس ہے تو ضرور دیں۔۔ اور اس مسئلہ سے متعلق علماء کی کتب سے حوالے اور احادیث وغیرہ ہیں تو وہ ضرور پوسٹ کریں۔۔ کیونکہ آج تک ہم نے تو یہی سُنا ہے کہ جغرافیائی حدود سے چاند کی رویت کا تعین ہوتا ہے۔
  10. میرے خیال میں یہ ایک تازہ تازہ دیوبندی یا وہابی غیر مقلد ہے۔ اس لئے علمی گفتگو کی اُمید بہت ہی کم ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ بیسیوں صفحات کاپی پیسٹ کرنا شروع کردے گا۔ پھر بھی چند چھوٹے سے سوالات ہیں۔ اُمید کرتے ہیں ٹو دا پوائںٹ جواب آئے گا۔ ۱۔ قبر کو پوجنے کو کس نے جائز کہا ہے؟ ہم صرف ایک اللہ تعالی کی عبادت کرتے ہیں۔ ہمارے کسی مستند عالم کی تحریر، تقریر، عمل وغیرہ سے یہ بات ثابت کرو۔ خالی چاولیں مارنے سے تمہاری اپنی بدنامی ہوگی۔ جو کہ خیر اس پوسٹ سے ہوچکی ہے۔ ۲۔ اوپر جو لکھا ہے۔ اُس کا جواب کدھر ہے؟ ہم صاحب صحیح مسلم، اما سیوطی، صاحب فتح الباری اور دیگر جید علماء کی مانیں یا چودھویں صدی میں پیدا ایک شخص کی، جس کو اپنی پہچان بھی نہیں؟ ۳۔ اپنی کچھ پہچان پیدا کرنے کیلئے سب سے پہلا کام کرو اور اپنا عقیدہ بتائو۔۔ وہابی دیوبندی یا وہابی غیر مقلد؟ تاکہ بات کرتے ہوئے آسانی ہو۔
  11. تیجانی صاحب۔ آپ کی جہالت، کم علمی اور گندی سوچ انتہائی قابل افسوس ہے۔ آپ کی جہالت اور گندی سوچ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جن الفاظ کو آپ نے ہائی لائٹ کیا ہے وہ تماش بین کے ہیں۔ بالکل اُسی لفظ کہ نیچے لفظ تماشا لکھا ہے۔ یہ لفظ تماشا اصل فارسی کا لفظ ہے۔ جس کا اسکرین شاٹ میں نے اوپر پوسٹ کیا۔ اور اُسی تماشا کو تماشی (باہم پیدل چلنا) کا مفرس کہا گیا ہے۔ پھر بھی آپ کا اتنا ضد اور ہٹ دھرمی کہ ابھی بھی اسے اردو کا لفظ کہہ رہے ہیں۔۔ اور مزید جو اصل لفظ تماشا ہے۔ اُس کا معنی دیکھیں۔ آپ کی جہالت کی انتہا کہ اصل فارسی کا معنی نظارہ ہے۔ جیسا کہ گوگل نے ترجمہ فارسی کا کیا نہ کہ اردو کا۔۔ مذاق ٹھٹا، کھیل، ناٹک یہ سب اردو کے مزید معانی ہیں۔ اوپر والی کتاب اردو لغت ہے۔ فارسی لغت نہیں۔۔ فارسی اصل ماخد ہے اس لفظ کا۔ آپ اپنی دلیل پر فارسی لغت ڈکشنری سے اس کے مختلف معنی پیش کرتے تب بھی کچھ بات بنتی۔ آپ نے جو جہالت کا مظاہرہ کرتے ہوئے لکھا کہ یہی آپ کا اصل رد ہے۔۔ جتنے بھی صحیح اور غلط معنی لغت میں درج ہیں۔۔ وہ اردو کی لغت کے ہیں۔۔۔ مولانا حسن رضا خاں علیہ الرحمہ نے جو لفظ لکھا وہ اُس کے اصل مطلب پر لکھا۔۔۔ یعنی نظارہ کرنا۔ دوسرا آپ کی جہالت اس بات سے ثابت ہے۔ اردو زبان عربی، فارسی اور کچھ ترک الفاظ سے مل کر بنی۔۔ تو الفاظ جہاں سے لئے گئے پہلے اُس کے وہی معنی ہونگے پھر اُس کے دوسرےمعنی ہونگے۔ لفظ تماشائی کا جو مطلب آپ نے اس جگہ لکھا "تماشہ دیکھنے والا" ۔۔ یہی تو غلطی ہے۔ تماشا (فارسی) "دید، نظارہ" تماشا۔۔۔۔ئی ۔۔"نظارہ کرنے والا"۔۔۔ آپ کی علمی حیثیت کا اندازہ اس پوسٹ سے لگایا جا سکتا ہے۔ جو مجرہ کی اوپر تشریح کی ہے۔ اُسی لفظ مجرہ کے اِسی اردو لغت کی کتاب میں غلط معنی بھی درج ہیں (نوٹ: عربی لغت نہیں۔۔ اردو لغت میں مجرہ کے غلط معنی)۔ اور یہاں پر ت مربوظ کا استعمال نہیں ہے کیونکہ لفظ مجرے استعمال ہوا شعر میں۔ مجرۃ نہیں۔ اور بڑی یے اردو کے تلفظ کیلئے نہیں لگائی گئی بلکہ اصل لفظ ہی اردو میں مجرا ہے جو عربی لفظ سے اخذ کیا گیا ہے۔ آپ نے معنی کہکشاں آسماں وغیرہ کِیے ہیں۔۔ جبکہ اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے اسے اصل آداب، جھکنا، سلام والے معنی میں لکھا ہے۔ پھر سے پڑھو۔ "بیت اللہ مجرے کو جھکا"۔ یعنی جھُک کر سلام پیش کرنا۔ آداب بجا لانا۔ جیسے لفظ مجرہ کے معنی تبدیل ہوگئے اور اب اکثر غلط معنی لئے جاتے ہیں۔ بالکل یہی معاملہ یہاں ہے۔ اب بتائو ان دو میں کونسا معنی لوگے؟ جھُک کر سلام پیش کرنا ۔۔۔ یا معاذ اللہ ناچنا وغیرہ جیسے گندے معنی؟ آپ سے کوئی بعید نہیں۔ شاید اس اسکرین شاٹ کے بعد آپ علی حضرت علیہ الرحمہ کو بھی گستاخ ثابت کرنے پر تُل جائیں۔۔۔ اور اسی عربی کے کسی دوسرے لفظ کے صحیح معنی کے ساتھ غلط معنی بھی اردو میں جمع ہوجائیں تو کیا وہ عربی کا لفظ ہی غلط ہوجائے گا اور قرآن کریم میں اُس لفظ کا صحیح استعمال گستاخی بن جائے گی۔۔ نعوذ باللہ؟ مثالوں اور مختلف وقت میں مختلف چیزوں کی مختلف نوعیت کا بیان آپ کی جہالت، ہٹ دھرمی اور گندی سوچ کے آگے بالکل فضول ہے۔ چونکہ آپ اپنی جہالت اور گندی سوچ کہ مطابق بغیر فتوی لئے ایک عاشق رسول کو گستاخ ثابت کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔ اس لئے ہم اللہ تعالی کی پناہ چاہتے ہیں شیطان لعین سے اور آپ جیسے شخص سے۔
  12. تیجانی صاحب۔ آپ نے میری پوسٹ کو جان بوجھ کر اگنور کیا ہے یا آپ کے پاس آپ کی اپنی بات پر دلیل نہیں ہے؟ کیا آپ صرف اس بات پر اپنی غلطی تسلیم کریں گے کہ یہ اردو زبان کا لفظ نہیں ہے؟ یا یہاں پر بھی ضد و ہٹ دھرمی کا مظاہرہ ملنے کو نظر آئے گا؟ یہ آپ کی پوسٹ ہے۔ اوہر لغت سے ثابت کیا گیا ہے کہ تماشہ اردو زبان کا لفظ نہیں ہے۔ بلکہ عربی اور فارسی سے ماخوذ کیا گیا ہے۔ عربی کیلئے ڈکشنری کہ یہ دو صفحات ملے ہیں مگر عربی سے کم علمی کی وجہ سے کچھ زیادہ یہاں سے نہیں بتا سکتا۔ بہرحال لفظ تماشی عربی کا اصل ماخذ ہے جیسا کہ فروزاللغات میں بھی لکھا ہے۔ جہاں سے لفظ تماشا فارسی میں بنا، جس کا مطلب ہے دیکھنا، نظارہ کرنا اور اردو لفظ تماشہ فارسی سے لیا گیا۔ http://www.almaany.com/ar/dict/ar-ar/تماشى/ http://www.almaany.com/ar/dict/ar-ar/تماشي/ میرے مطالبے پر آپ نے ایک ایسے ماڈرن اسکالر کا انتخاب کیا جن کا نام پہلے تو کوئی معتبر سُنی علماء میں نہیں آتا۔ دوسرا، آپ نے بغیر سیاق و سباق ایک سوال پوچھا۔ شاید آپ اگر کلام کو واضح کرتے تو پھر جو جواب ملتا اُس پر بحث ہو سکتی تھی۔ تیسرا۔ جناب کا ایک آرٹیکل چند سال قبل پڑھا جو کہ ہر کسی کو صلح کلی کہنے کے رد پر تھا۔ آرٹیکل پڑھ کر ایسا گمان گزرا کہ جناب دیوباندیوں اور ہر کسی سے دینی اتحاد کی بات کر رہے ہیں۔ میں نے فیس بک پوسٹ پر کمنٹ پوسٹ کیے اور اشرف علی تھانوی وغیرہ کی گستاخی لکھ کر پوچھا کہ ایسے عقیدے والوں سے اتحاد کیا جائے؟ تو حضرت نے مجھے پرسنل میسج بھیجا کہ آپ نے میری بات کو غلط سمجھا۔ پھر میں نے ڈاکٹر طاہر کا ذکر کیا تو جناب کو اُن کی صلح کُلیت پر اختلاف تھا۔ میں نے چند حوالے پوسٹ کئے، اسی فورم کے لنکس وغیرہ بھیجے مگر پھر اُن کا جواب نہیں آیا تھا۔ اس لئے پھر گزارش ہے کہ آپ واقعی حق کہ متعلاشی ہیں تو کسی معتبر سُنی عالم سے فتوے لاکر دیں اور سوال میں مولانا حسن رضا خاں کا کلام بھی نقل کریں تاکہ سیاق و سباق بھی واضح ہو اور جواب میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے۔
  13. جناب تیجانی صاحب۔ آپ اپنی علمی حیثیت پہلے بیان کریں۔ اور آپ نے لکھا کہ یہ اردو زبان کا لفظ ہے۔ اس پر کوئی حوالہ پیش کریں۔ پھر آگے بات ہوگی۔ یا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی ایک ذہنی اختراء و سوچ کو ہم من و عن تسلیم کر لیں؟ شروع سے اب تک آپ نے سوائے اپنی ذہنی اختراء و شیطانی وسوسوں کے علاوہ کوئی صحیح بات نہیں کی اور نہ حوالہ پیش کیا۔ آپ ایک سچے عاشق رسول کو بلاوجہ اپنی ذہنی اختراء سے گستاخ رسول ثابت کرنے پر تُلے ہیں؟ اس سے بڑھ کر بھی کوئی ظلم ہو سکتا ہے اور پھر آپ کہتے ہیں کہ یہ تحقیق ہے۔ اگر آپ اپنی تحقیق میں اتنے ہی سچے اور حق کے متلاشی ہیں تو بجائے عام بندوں سے سوال کرنے کے دو چار سُنی علماء سے فتوی ہی لے لیتے۔ شاید اُس سے آپ کی تسلی ہو جائے کہ یہ کس زبان کا لفظ ہے اور اس طرح استعمال ہو سکتا ہے یا نہیں۔ لغت کی کتب سے عربی لفظ کو آپ نے اُٹھا باہر پھینکا۔ اب عام بندہ عربی کا علم کیا جانے جو آپ کو اس لفظ کا اصل ماخذ بتا سکے۔ اگر آپ کے پاس کوئی حوالہ اور اصل ماخذ نہیں ہے تو آپ سب سے پہلے لاحول ولا قوۃ پڑھ کر شیطانی وسوسے کو دور کریں اور پھر کسی صحیح العقیدہ سُنی مفتی سے تفصیلی فتوی لیں اور یہاں بھی پوسٹ کر دیں۔
  14. حرف راز۔ اوریا مقبول جان قادیانی اسلام کے دُشمن اس پروگرام کے ابتدائیے میں ایک غلطی ہے کہ مفتی محمود کے دلائل سے قادیانی لاجواب ہوئے۔ حالانکہ تحذیر الناس پیش کرنے کے بعد دیوبندیوں کے پاس جواب نہیں تھا۔ علامہ شاہ احمد نورانی علیہ الرحمہ نے قادیانیوں کو لاجواب کیا۔ سُنا ہے کہ بھٹو کی کتاب میں اس کی تفصیل ہے۔ اگر کسی کے پاس اس سے متعلق حوالاجات وصفحات ہوں تو ضرور شیئر کریں۔ تاکہ علامہ شاہ احمد نورانی علیہ الرحمہ کا یہ کارنامہ حوالوں کے ساتھ زندہ رہے اور وہابیوں کو ڈنڈی مارنے کا موقع نہ ملے۔۔ اللہ بیڑا غرق کرے ان حکمرانوں اور پیمرا میں بیٹھے ناسوروں کا، اس پروگرام کے بعد ایک نوٹس اوریا مقبول جان صاحب کو بھیج دیا گیا۔ اسی طرح قادیانیوں کے خلاف بات کرنے پر ایک نوٹس نزیر احمد غازی صاحب کو بھی بھیجا گیا جو ۹۲ نیوز پر صبح نور پرگرام کرتے ہیں۔