Jump to content
IslamiMehfil

امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا چالیس سال عشاء کہ وضو سے فجر کی نماز پڑھنا


Recommended Posts

(امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا 40 سال تک عشاء کے وضو سے فجر کی نماز پڑھنا اور پلمبری فرقے کا اعتراض )


محترم قارئین كرام بیشک اللّه رب العزت نے اپنے مقریب بندوں کو بیشمار کمالات و کرامات سے نوازا ہے۔۔ لیکن کچھ لوگ اپنی جہالت سے مجبور ہیں اور آئے دن اولیا عظام و صحابہ كرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی تنقیص و توہین کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں جس میں سرِ فہرست دورِ حاضر کا بدترین فتنہ نام نہاد انجینئر مرزا بھی ہے : 
اعتراض:(انجینئر محمد علی مرزا عرف پلمبر اپنی ایک ویڈیو میں بکواس کرتے ہوے کہتا ہے کہ ایسا تو ہو ہی نہیں سکتا کہ کوئی شخص مسلسل چالیس سال عشاء کے وضو سے فجر کی نماز پڑھے یہ تو کہانی ہے جو کہ علماء احناف نے معاذ اللہ خود سے بنائی ہے)

°°°°°°°°°°°الجواب و باللہ التوفیق°°°°°°°°°

 پہلی عرض تو یہ ہے کہ بیشک کرامات حق ہیں جس کہ دلائل قرآن و احادیث میں بیشمار موجود ہیں اور امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا عشاء کے وضو سے چالیس سال تک فجر کی نماز پڑھنا یہ بھی کرامت میں سے ہی ہے اور کرامت کہتے ہی اسی ہیں جو عقل سے بلاتر ہو 
جس کی ایک دلیل قرآن سے ملاحظہ فرمائیں:
______________________________________
ارشاد باری تعالٰی ہے: (قَالَ الَّذِیْ عِنْدَهٗ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّرْتَدَّ اِلَیْكَ طَرْفُكَؕ-فَلَمَّا رَاٰهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهٗ قَالَ هٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّیْ ﱎ لِیَبْلُوَنِیْۤ ءَاَشْكُرُ اَمْ اَكْفُرُؕ-وَ مَنْ شَكَرَ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖۚ-وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّیْ غَنِیٌّ كَرِیْمٌ(۴۰))

ترجمہ:اُس نے عرض کی جس کے پاس کتاب کا علم تھاکہ میں اسے آپ کی بارگاہ میں آپ کے پلک جھپکنے سے پہلے لے آؤں گا (چنانچہ) پھر جب سلیمان نے اس تخت کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا تو فرمایا: یہ میرے رب کے فضل سے ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری؟ اور جو شکر کرے تو وہ اپنی ذات کے لئے ہی شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا رب بے پرواہ ہے، کرم فرمانے والا ہے۔(پ19،النمل:40)
__________________________________________
محترم قارئین كرام آپ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے امّتی حضرت آصف بن برخیا رحمہ اللہ کا واقعہ پڑھا جن کہ پاس کتاب کا کچھ علم تھا اور وہ اتنی بڑی کرامت دیکھا گئے پلک جھپکنے سے بھی پہلے وہ تخت جو ہزاروں میل کہ فاصلہ پر تھا اس کو اٹھا کر حضرت سلیمان علیہ السلام کے سامنے پیش کر دیا۔۔
تو معلوم ہوا کہ اللّه رب العزت اپنی عطا سے اولیائے عظام کو کرامات عطا فرماتا ہے 

اب یہاں تو حضرت سلیمان علیہ السلام کہ امتی حضرت آصف تھے جن کہ کمال کا یہ عالم تھا عوام اہلسنّت ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر ایمان کی ٹھنڈک کو محسوس کرتے ہوۓ سوچیں جب حضرت سلیمان کہ امتی جن کے پاس کتاب کا کچھ علم ہو ان کہ کمالات و کرامات کا یہ عالم ہے تو پھر جو امّت تمام امّتوں میں سب سے افضل ہو یعنی امّت محمدی اِس امّت کہ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کرامات و كامالات کا عالم کیا ہوگا۔۔

اب آتے ہیں ان مستند اور معتبر  محدثین کی طرف جنہوں نے امام اعظم کی اس کرامت کو اپنی کتب کی زینت بنایا ہے 
_______________________________________
 امام نووی رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں 

وعن زافر بن سليمان، قال كان أبو حنيفة يحيى الليل بركعة يقرأ فيها القرآن. وعن أسد بن عمرو، قال: صلى أبو حنيفة صلاة الفجر بوضوء العشاء أربعين سنة، وكان عامة الليل يقرأ القرآن فى ركعة، وكان يسمع بكاؤه حتى ترحمه جيرانه، وحفظ عليه أنه ختم القرآن فى الموضع الذى توفى فيه سبعة آلاف مرة

زافر بن سلیمان نے کہا ابو حنیفہ رات کو ایک رکعت پڑھتے جس میں وہ پورا قرآن پڑھتے تھے۔ اسد بن عمرو سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ابو حنیفہ نے چالیس سال تک فجر کی نماز عشا کے وضو سے پڑھی، اور رات کے اکثر حصے میں ایک ہی رکعت میں پورا قرآن پڑھا کرتے تھے

📓(لكتاب: تهذيب الأسماء واللغات جلد2 صفحہ88)
________________________________________
امام شمس الدین ذھبی الشافعی لکھتے ہیں:

وعن أسد بن عمرو: أن أبا حنيفة رحمه الله-صلى العشاء والصبح بوضوء أربعين سنة

اسد بن عمرو سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ نے چالیس سال تک فجر کی نماز عشاء کہ وضو سے پڑھی۔

📗(الكتاب: سير أعلام النبلاء جلد6 صفحہ 399)
_______________________________________
امام ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

اسد بن عمرو نے روایت کی ہے کہ حضرت امام ابوحنیفہ رات کو نماز پڑھتے تھے اور ہر شب کو قرآن پڑھتے تھے اور روتے تھے حتی کہ آپکے پڑوسیوں کو آپ پر رحم آ جا تا تھا آپ چالیس سال تک عشاء کے وضو سے صبح کی نماز پڑھتے رہے اور جس جگہ آپ نے وفات پائی آپ نے اس میں ستر ہزار دفعہ قرآن ختم کیا

📓(الکتاب:تاریخ ابن کثیر جلد10 صفحہ134)
______________________________________
خاتم الحفاظ امام جلال الدین سیوطی الشافعی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

ابی یحییٰ حمانی امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بعض تلامذہ سے روایت کرتے ہیں امام صاحب عشاء کے وضو سے فجر کی نماز پڑھتے تھے اور رات میں نوافل پڑھنے کے لیے ریش مبارک میں کنگھی کر کے مزین فرماتے تھے۔
📕(الکتاب:تبییض الصحیفة صفحہ61)

محترم قارئین كرام یہ تمام وہ اکابرین و آئمہ حدیث ہیں جن کو مرزا صاحب اپنا مانتے ہیں اور اپنی ویڈیوز میں انھیں کتب سے حوالہ جات دیکھا رہے ہوتے ہیں۔۔
یہی مرزا صاحب کا دجل ہے اور منافقت ہے کہ اپنے مقصد کی بات کو لے لیتے ہیں اور باقی سب ان کہ نذدیک کہانی قصہ اور معاذ اللہ بدعت ہوتی ہے 

تو اب مرزا صاحب اور ان کہ اندھے مقلدین ذرا ہمّت کریں اور لگائیں فتویٰ امام نووی۔امام ذھبی۔امام ابن کثیر رحمہ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین پر 

اللّه تعالیٰ حق پات سمجھنے کی توفیق عطا فرماۓ آمین بجاہ النبی الامین
______________________________________
ازقلم:خادم اھلسنّةوالجماعة محمد حسن رضا قادری رضوی الحنفی البریلوی

20220306_185957.jpg

20220306_194437.jpg

20220306_162500.jpg

20220306_164306.jpg

20220306_170255.jpg

Link to post
Share on other sites
  • 2 months later...
On 3/8/2022 at 12:52 PM, Muhammad hasanraz said:

 

وعن زافر بن سليمان، قال كان أبو حنيفة يحيى الليل بركعة يقرأ فيها القرآن. وعن أسد بن عمرو، قال: صلى أبو حنيفة صلاة الفجر بوضوء العشاء أربعين سنة، وكان عامة الليل يقرأ القرآن فى ركعة، وكان يسمع بكاؤه حتى ترحمه جيرانه، وحفظ عليه أنه ختم القرآن فى الموضع الذى توفى فيه سبعة آلاف مرة

زافر بن سلیمان نے کہا ابو حنیفہ رات کو ایک رکعت پڑھتے جس میں وہ پورا قرآن پڑھتے تھے۔ اسد بن عمرو سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ابو حنیفہ نے چالیس سال تک فجر کی نماز عشا کے وضو سے پڑھی، اور رات کے اکثر حصے میں ایک ہی رکعت میں پورا قرآن پڑھا کرتے تھے

📓(لكتاب: تهذيب الأسماء واللغات جلد2 صفحہ

اس روایت کی مکمل سند تاریخ بغداد ( ج 15، ص 484) میں ہے جو کہ یہ ہے

أَخْبَرَنَا علي بن المحسن المعدل، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بكر أَحْمَد بن مُحَمَّد بن يَعْقُوب الكاغدي، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّد عبد الله بن مُحَمَّد بن يَعْقُوب بن الحارث الحارثي البخاري ببخارى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَد بن الحسين البلخي، قَالَ: حَدَّثَنَا حماد بن قريش، قال: سمعت أسد بن عمرو، يقول: صلى أَبُو حنيفة فيما حفظ عليه صلاة الفجر بوضوء صلاة العشاء أربعين سنة، فكان عامة الليل يقرأ جميع القرآن في ركعة واحدة، وكان يسمع بكاؤه بالليل حتى يرحمه جيرانه، وحفظ عليه أنه ختم القرآن في الموضع الذي توفي فيه سبعة آلاف مرة

 اور یہ سند ابوبکر احمد بن محمد بن یعقوب الکاغدی اور ابومحمد بن یعقوب بن الحارث الحارثی البخاری کی وجہ سے سخت ترین ضعیف اور موضوع ہے۔ واللہ اعلم

 أحمد بن محمد بن يعقوب أبو بكر الفارسي الوراق الكا
غذي عن البغوي، وَغيرہقال ابن أبي الفوارس: ضعيف جدا فيما يدعي عن ابن منيع وكان رديء المذهب أيضًا

لسان المیزان رقم 825

وَأَمَّا حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَعْقُوبَ فَإِنَّهُ كَذَّاب، لَا يُحْتَجُّ بِهِ
 أخبرنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أَحْمَدَ الْحَافِظَ يَقُولُ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ الْأُسْتَاذُ يَنْسِجُ الْحَدِيثَ
(الخلافيات للبيهقي، ج 2، ص 482
)

  • Thanks 1
Link to post
Share on other sites

Join the conversation

You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.

Guest
Reply to this topic...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.

Loading...
  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

  • Similar Content

    • By Aquib Rizvi
      آگ أنبیاء علیہم السلام کے ہاتھ سے چھوئی ہوئی چیز کو نہیں جلاتی روایت کی تحقیق
       
       
      امام خطیب البغدادی م463ھ رحمہ اللہ نے فرمایا
      وأخبرنا الحسن، قال: حدثنا عبد الرحمن، قال: حدثنا أبو عمير الأنسي بمصر، قال: حدثنا دينار مولى أنس، قال: صنع أنس لأصحابه طعاما فلما طعموا، قال: يا جارية هاتي المنديل، " فجاءت بمنديل درن، فقال اسجري التنور واطرحيه فيه، ففعلت فابيض، فسألناه عنه، فقال: إن هذا كان للنبي صلى الله عليه وسلم وإن النار لا تحرق شيئا مسته أيدي الأنبياء "
      ( كتاب تاريخ بغداد ت بشار 11/589 )
      دینار مولی انس بیان کرتا ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ نے صحابہ کرام کے لیے کھانے کا انتظام فرمایا جب وہ لوگ کھانے سے فارغ ہوئے تو آپ نے اپنی لونڈی کو آواز دے کر فرمایا رومال لے آؤ . وہ جب رومال لائی تو وہ میلا تھا حضرت انس بن مالک نے فرمایا تندور کو ہلکا کر کے اس رومال کو تندور میں ڈال دو جب رومال تندور سے باہر نکالا گیا تو وہ سفید ہو گیا تھا صحابہ کرام نے پوچھا یہ کیسے تو حضرت انس بن مالک نے فرمایا یہ نبی علیہ الصلوۃ والسلام کا رومال ہے اور انبیاء علیہم السلام جس چیز کو چھو لیں آگ اسے نہیں جلاتی
       
      یہ روایت موضوع ہے
       
      أبو مكيس دينار بن عبد الله الحبشي متھم بالوضع راوی ہے اور اس پر خاص جرح یہ بھی ہے کہ اس نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے 100 کے قریب موضوع روایات بیان کیں لہذا اس کی حضرت انس بن مالک سے روایت موضوع قرار دی جائے گی
      امام ابو عبداللہ حاکم نیشاپوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں
      وقال الحاكم: روى، عَن أَنس قريبا من مِئَة حديث موضوعة
      اس نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے تقریباً 100 موضوع روایات بیان کیں ہیں
      امام ابن حبان رحمہ اللہ نے بھی امام حاکم کی موافقت کی چنانچہ فرماتے ہیں
      قال ابن حبان: يروي، عَن أَنس أشياء موضوعة
      یہ انس بن مالک سے موضوع روایات بیان کرتا ہے
      ( لسان الميزان :- 3077 )
       
      امام شمس الدین ذہبی رحمہ اللہ نے اندازاً فرمایا کہ
      أن يروي عنه عشرين ألفا كلها كذب
      اس نے تقریباً بیس ہزار روایتیں بیان کیں جو سب کی سب جھوٹ ہیں
      ( ميزان الاعتدال 2/31 )
       
      نیز سند میں " أبو عمير الأنسي " بھی مجہول ہے
       
      امام احمد بن علی المقریزی م845ھ رحمہ اللہ نے حافظ ابونعیم اصفہانی رحمہ اللہ کے طریق سے اس کو اپنی کتاب میں نقل کیا
      فخرج أبو نعيم من حديث محمد بن رميح، قال: حدثنا عبد الله بن محمد بن المغيرة، حدثنا أبو معمر عباد بن عبد الصمد، قال: أتينا أنس بن مالك نسلم عليه، فقال: يا جارية، هلمي المائدة نتغدى، فأتته بها فتغدينا، ثم قال: يا جارية هلمي المنديل، فأتته بمنديل وسخ، فقال: يا جارية أسجرى التنور، فأوقدته، فأمر بالمنديل، فطرح فيه، فخرج أبيض كأنه اللبن. فقلت: يا أبا حمزة! ما هذا؟ قال: هذا منديل كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يمسح به وجهه، وإذا اتسخ صنعنا به هكذا، لأن النار لا تأكل شيئا مر على وجوه الأنبياء- عليهم السلام
      عباد بن عبدالصمد کہتے ہیں کہ ہم انس بن مالک کے پاس حاضر ہوئے تو انہوں نے اپنی لونڈی سے کہا کہ دسترخوان لے آؤ ہم دوپہر کا کھانا کھائیں گے چنانچہ وہ اسے لے کر آئی اور ہم نے دوپہر کا کھانا کھایا پھر آپ نے فرمایا اے لونڈی رومال لے آؤ تو پھر وہ ایک گندا رومال لے کر آئی پھر آپ نے لونڈی سے کہا کہ تندور کو روشن کرو اسے روشن کیا گیا اور وہ رومال تندور میں ڈالنے کا حکم دیا وہ جیسے ہی تندور میں ڈالا گیا دودھ کی طرح سفید ہو گیا . میں نے کہا: اے ابو حمزہ! یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: یہ وہ رومال ہے جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا چہرہ انور پونچھتے تھے ، اور جب یہ میلا ہو جاتا تو ہم ایسا ہی کرتے کیونکہ آگ اس شے پر اثر نہیں کرتی جو انبیاء علیہم الصلوٰۃ و السلام کے چہرہ مبارک پر سے گذری ہو
      ( كتاب إمتاع الأسماع 11/254 )
       
       
      یہ بھی موضوع ہے
       
      1 : محمد بن رميح العامري مجہول ہے
       
      2 : عبد الله بن محمد بن المغيرة متھم بالوضع راوی ہے یعنی اس پر احادیث گھڑنے کا الزام ہے
       
      امام ابن عراق الکنانی رحمہ اللہ اس کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ سفیان ثوری اور مالک بن مغول سے موضوع روایات بیان کرتا ہے
      ( كتاب تنزيه الشريعة المرفوعة 1/75 )
       
      امام عقیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ ایسی روایتیں بیان کرتا ہے جن کی کوئی اصل نہیں ہوتی امام ابن یونس نے اس کو منکر الحدیث قرار دیا
      ( كتاب الزهر النضر في حال الخضر ص76 )
       
      امام شمس الدین ذہبی رحمہ اللہ نے اس کو متروک قرار دیا اور اس کی مرویات کو نقل کرکے انہیں موضوع قرار دیا
      ( كتاب تاريخ الإسلام - ت تدمري 14/219 )
      ( كتاب ميزان الاعتدال 2/487 )
       
      3 : أبو معمر عباد بن عبد الصمد بھی متھم بالوضع راوی ہے
       
      امام ابوحاتم رازی رحمہ اللہ نے اس کے بارے میں فرمایا کہ یہ سخت ضعیف راوی ہے امام ابن عدی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ غالی شیعہ ہے
       
      امام شمس الدین ذہبی رحمہ اللہ نے اس کو " واہ " قرار دیا اور یہ جرح متروک درجے کے راویان پر کی جاتی ہے
      ( كتاب ميزان الاعتدال 2/369 )
      ( فتح المغيث للسخاوي 2/128 )
       
      شیخ الاسلام حافظ ابن حجر عسقلانی نے نقل کیا کہ عباد بن عبدالصمد نے سیدنا انس بن مالک سے ایک پورا نسخہ روایت کیا جو کہ اکثر موضوع من گھڑت روایات پر مشتمل ہے
      ( كتاب لسان الميزان ت أبي غدة 4/393 )
       
      اس مکمل تحقیق کے بعد خلاصہ کلام یہ ہوا کہ یہ اثر اپنی دونوں اسناد کے ساتھ موضوع من گھڑت ہے اس کو بیان کرنا جائز نہیں
      اسی طرح ایک من گھڑت قصہ یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ سیدہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ تعالی عنہا نے روٹیاں لگائیں اور نبی علیہ السلام نے بھی ایک روٹی لگائی باقی روٹیاں پک گئیں لیکن نبی علیہ السلام نے جو روٹی لگائی وہ نہیں پکی وغیرہ وغیرہ اس قصہ کا وجود بھی کسی حدیث٬ تاریخ٬ سیرت کی معتبر کتاب میں نہیں اللہ جانے صاحب خطبات فقیر نے اس ہوا ہوائی قصہ کو کہاں سے نکل کر لیا اپنی خطبات فقیر جلد دوم صفحہ 92/93 پر
       
      فقط واللہ و رسولہٗ أعلم بالصواب
       
      خادم الحدیث النبوی ﷺ سید محمد عاقب حسین رضوی
       
       
      مؤرخہ 15 ذو الحجہ 1443ھ
       
       
    • By Aquib Rizvi
      السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
       
      حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ نے اس اظہر من الشمس جھوٹی روایت کو اپنی الموضوعات میں نقل کیا :
      «حُضُورُ مَجْلِسِ عَالِمٍ أَفْضَلُ مِنْ صَلاةِ أَلْفِ رَكْعَةٍ وَعِيَادَةِ أَلْفِ مَرِيضٍ وَشُهُودِ أَلْفِ جَنَازَةٍ»
      عالم کی مجلس میں حاضری ہزار رکعت نماز پڑھنے سے افضل ہزار مریضوں کی عیادت سے افضل اور ہزار جنازوں میں شریک ہونے سے افضل ہے  
      كتاب الموضوعات لابن الجوزي1/223 
       
      حافظ ابن جوزی نے اسکو نقل کرکے کہا
      هذا حديث موضوع
      اسکی سند میں
       
      1 : محمد بن علي بن عمر المذكر متروک كما قال ابن الجوزي 
       
      2 : إسحاق ابن نجيح کذاب
       
      ابن جوزی امام احمد سے نقل کرتے ہیں لوگوں میں سب سے زیادہ جھوٹا ہے اسی طرح امام ذہبی نے بھی اس کو کذاب کہا اور ابن حجر عسقلانی نے بھی موافقت کی 
       
      3 : أحمد بن عبد الله الجويباري یہ مشہور احادیث گھڑنے والا راوی ہے .
       
      اس کے بارے میں شیخ الاسلام حافظ الدنیا امیر المؤمنین فی الحدیث ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
       
      أما الجويباري فإني أعرفه حق المعرفة بوضع الأحاديث على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقد وضع عليه أكثر من ألف حديث
       
      جہاں تک تعلق رہا جویباری کا تو میں اسے بہت اچھے سے احادیث گھڑنے کے حوالے سے جانتا ہوں اس ( خبیث ) نے نبی علیہ السلام پر ایک ہزار سے زائد احادیث کو گھڑا ہے .
      ( كتاب لسان الميزان 1/194 )
       
      اور حافظ ابن حجر عسقلانی اور امام ذہبی نے اس کے ترجمے میں اس کی اس جھوٹی روایت کو نقل کرکے بطور ثبوت یہ روایت پیش کی کہ اس نے اس کو وضع کیا ہے جو روایت زیر بحث ہے .
      چناچہ امام ذہبی فرماتے ہیں 
      ومن طاماته: عن إسحاق ابن نجيح الكذاب ..... قال: حضور مجلس عالم خير من حضور ألف جنازة ...... الخ
      اور یہ روایت جویباری کی گمراہیوں میں سے ایک ہے جو اس نے اسحاق بن نجیح کذاب سے نقل کی آگے پھر اسی روایت کا ذکر کیا .
      ( كتاب ميزان الاعتدال 1/107 )
      لہذا جب اس روایت کا جھوٹا ہونا واضح ہوگیا تو اب اس کی نسبت نبی علیہ السلام کی طرف کرنا حرام ہے 
      فقط واللہ و رسولہ اعلم
      خادم الحدیث النبوی ﷺ سید محمد عاقب حسین رضوی
    • By Sunni Haideri
      *جس نے جان بوجھ کر ایک نماز چھوڑی اس کا نام جہنم کے دروازے پر لکھ دیا جاتا ہے جس میں وہ داخل ہوگا۔*
      1 📕حدثنا إبراهيم بن محمد بن يحيى المزكي النيسابوري، في جماعة قالوا: ثنا محمد بن إسحاق الثقفي، ثنا أبو معمر صالح بن حرب , ثنا إسماعيل بن يحيى، عن مسعر، عن عطية، عن أبي سعيد، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من ترك صلاة متعمدا كتب اسمه على باب النار فيمن يدخلها» تفرد به صالح , عن إسماعيل، عنه
      (حلیاۃ اولیاء و طبقات اصفیاء7/254)
      2 :📕473 - أخبركم أبو الفضل الزهري، نا أبي، نا محمد بن غالب، نا صالح بن حرب، نا إسماعيل بن يحيى بن طلحة بن عبيد الله، عن مسعر، عن عطية، عن أبي سعيد الخدري، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا ترك الرجل الصلاة متعمدا كتب اسمه على باب النار فيمن يدخلها»
      (حدیث ابیی فضل الزھری: صفحہ465)
      دونوں میں اسماعیل مسعر سے روایت کر رہا ہے اس کی حقیقت ہم آگے بیان کرتے ہیں

      1 *إسماعيل بن يحيى* 
      اس کا پورا نام: اسماعیل بن یحیی بن عبيد الله بن طلحة بن عبد الله بن عبد الرحمن بن أبي بكر الصديق۔
      ✍️یہ ایک یضح الحدیث راوی ہے اس پر کذاب جروحات بھی موجود ہیں 
      ✍️اور ایسے راوی کی روایت موضوع ہوتی ہے۔
      ✍️اور اس پر ایک خاص جرح مسعر کے حوالہ سے ہے کہ مالک و مسعر سے یہ موضوع رویات نقل کرتا ہے۔
      ✍️اور اس کذاب راوی نے یہ روایت بھی مسعر سے روایت کی ہے لہذا یہ روایت بھی موضوع ہے۔
      خود صاحب حلیاۃ اولیاء (امام ابو نعیم اصبھانی رحتہ اللہ علیہ) اپنی کتاب الضعفاء الابیی نعیم صفحہ 60 پر فرماتے ہیں کہ: 
      12- إسماعيل بن يحيى بن عبيد الله التيمي حدث عن مسعر ومالك بالموضوعات يشمئز القلب وينفر من حديثه متروك،
      کہتے ہیں کہ اسماعیل  مالک و مسعر سے موضوعات بیان کرتا ہے اور دل میں کراہت و نفرت سی ہے اس کے لیے اور اسکو حدیث میں ترک(چھوڑ دینا) ہے۔
      2: عطیہ عوفی راوی مشھور ضعیف الحدیث راوی ہے،
      ✍️لیکن یہ حدیث اسماعیل کی وجہ سے موضوع ہے
      ✍️اس میں صالح اور اسماعیل کا تفرد بھی ہے جیسا کہ خود صاحب حلیاۃ اولیاء نے فرمایا ہے۔
      اسکا مطلب اس کے علاوہ اس کی کوئی اور سند بھی نہیں ہے
      الحکم الحدیث:- موضوع
      (محمد عمران علی حیدری)
      01.04.2022.
      28شعبان 1443ھ
    • By Sunni Haideri
      *سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ  نے وفات کے وقت  تین باتوں کا اقرار جرم کیا تھا؟*
      *اس کی حقیقت کیا  ہے؟*
      *✍️شیعہ کی جہالت کا جواب✍️*
       *الصلوۃ والسلام علیک یاسیدی یارسول اللہؐ۔*
      *وعلی الک واصحبک یاسیدی یا خاتم المرسلین۔*
      *صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم*
      *⚔️🗡️ضرب حیدری🗡️⚔️*
      عبد الرحمن ابن عوف ، ابوبکر کی بیماری کے ایام میں اسکے پاس اسکی عیادت کرنے گیا اور اسے سلام کیا، باتوں باتوں میں ابوبکر نے اس سے ایسے کہا:
      مجھے کسی شے پر کوئی افسوس نہیں ہے، مگر صرف تین چیزوں پر افسوس ہے کہ اے کاش میں تین چیزوں کو انجام نہ دیتا، اور اے کاش کہ تین چیزوں کو انجام دیتا، اور اے کاش کہ تین چیزوں کے بارے میں رسول خدا سے سوال پوچھ لیتا، اے کاش میں فاطمہ کے گھر کی حرمت شکنی نہ کرتا، اگرچہ اس گھر کا دروازہ مجھ سے جنگ کرنے کے لیے ہی بند کیا گیا ہوتا.
        
      *الجواب بعون الوہاب*
      ✍️پہلی بات اس روایت کی تین اسنادہیں اور تینوں ہی قابل قبول نہیں ہیں۔ ان میں کوئی ایک سند بھی درجہ صحیح و حسن تک نہیں جاتی۔
      *طریق نمبر 1*
      أنا حميد أنا عثمان بن صالح، حدثني الليث بن سعد بن عبد الرحمن الفهمي، حدثني علوان، عن صالح بن كيسان، عن حميد بن عبد الرحمن بن عوف، أن أباه عبد الرحمن بن عوف، دخل علي أبي بكر الصديق رحمة الله عليه في مرضه الذي قبض فيه ... فقال [أبو بكر] : « أجل إني لا آسي من الدنيا إلا علي ثَلاثٍ فَعَلْتُهُنَّ وَدِدْتُ أَنِّي تَرَكْتُهُنَّ، وثلاث تركتهن وددت أني فعلتهن، وثلاث وددت أني سألت عنهن رسول الله (ص)، أما اللاتي وددت أني تركتهن، فوددت أني لم أَكُنْ كَشَفْتُ بيتَ فاطِمَةَ عن شيء، وإن كانوا قد أَغْلَقُوا علي الحرب.
      *الخرساني،زنجويه الأموال، ج 1، ص 387۔* *الدينوري، الإمامة والسياسة، ج 1، ص 21، تحقيق: خليل المنصور، باتحقيق شيري، ج1، ص36، و با تحقيق، زيني، ج1، ص24.*
      *تاريخ الطبري، ج 2، ص 353.* *العقد الفريد، ج 4، ص 254.* *مروج الذهب، ج 1، ص 290*
      ترجمہ اوپر والا ہی ہے یہ اس کی عربی عبارت ہے۔
      ✍️اس سند میں علوان بن داود البجلی منکر الحدیث ہے۔۔ 
      *1* قال البخاري: علوان بن داود ويُقال: ابن صالح *منكر الحديث.*
      *2* وقال العقيلي: *له حديث لا يتابع عليه، وَلا يعرف إلا به.*
      *3* وقال أبو سعيد بن يونس: *منكر الحديث.*
      *طریق نمبر 2*
      أخبرنا أبو البركات عبد الله بن محمد بن الفضل الفراوي وأم المؤيد نازيين المعروفة بجمعة بنت أبي حرب محمد بن الفضل بن أبي حرب قالا أنا أبو القاسم الفضل بن أبي حرب الجرجاني أنبأ أبو بكر أحمد بن الحسن نا أبو العباس أحمد بن يعقوب نا الحسن بن مكرم بن حسان البزار أبو علي ببغداد حدثني أبو الهيثم خالد بن القاسم قال حدثنا ليث بن سعد عن صالح بن كيسان عن حميد بن عبد الرحمن بن عوف عن أبيه.
      *ابن عساكر الشافعي.*
      *تاريخ مدينة دمشق وذكر فضلها وتسمية من حلها من الأماثل، ج 30، ص417 ـ 419۔*
      ✍️اس نقل کرنے کے بعد امام مدائنی نے کہا سند مختصر ہے مطلب سند میں انقطاع ہے۔ 
      *كذا رواه خالد بن القاسم المدائني عن الليث وأسقط منه علوان بن داود وقد وقع لي عاليا من حديث الليث وفيه ذكر علوان.*
      ✍️امام عقیلیؒ نے علوان والے طریق کو نقل کرنے کے بعد فرمایا اور  لیث  والا بھی اور آخر میں فرمایا کہ *ابو بکر والی حدیث  اضطراب کا شکار ہے۔*
      ✍️ *وأورد العقيلي أيضًا من طريق الليث:* حدثني علوان بن صالح عن صالح بن كيسان أن معاوية قدم المدينة أول حجة حجها بعد اجتماع الناس عليه ... فذكر قصة له مع عائشة بنت عثمان , وقال: لا يعرف علوان إلا بهذا مع اضطرابه في حديث أبي بكر.
      طریق نمبر 2 کی سند میں ایک راوی ہے
      ✍️أبو الهيثم خالد بن القاسم اس پر کذاب، متروک اور وضح  تک ہی جرح ہے۔✍️
      اس کا پورا نام: *خالد بن قاسم* 
      ہے اور اس نے شہرت: *خالد بن القاسم المدائني*
       کے نام سے پائی اور اس کی کنیت:*أبو الهيثم* ہے
      *1* إسحاق بن راهويهؒ فرماتے ہیں کہ: *كذاب.*
      *2* إبراهيم بن يعقوب الجوزجاني فرماتے ہیں کہ: *کذاب يزيد في الأسانيد*
      *3* محمد بن إسماعيل البخاريؒ فرماتے ہیں کہ: *متروك تركه علي والناس.*
      *4* مسلم بن الحجاج النيسابوريؒ فرماتے ہیں کہ: *متروك الحديث.*
      *5* أبو أحمد بن عدي الجرجانيؒ فرماتے ہیں کہ: *له عن الليث مناكير.*
      *6* امام الذهبيؒ فرماتے ہیں کہ : *ذكر فيه ما يقتضي الوضع.*
      *طریق نمبر 3*
      حدثني حفص بن عمر، ثنا الهيثم بن عدي عن يونس بن يزيد الأيلي عن الزهري أن عبد الرحمن بن عوف قال: دخلت علي أبي بكر في مرضه.
      *البلاذري. أنساب الأشراف، ج 3، ص 406 ، طبق برنامه الجامع الكبير.*
      ✍️اس طریق میں *الهيثم بن عدي* متروک الحدیث ہے۔
      اور اضطراب بھی تینوں اسناد میں ہے۔
      اس کا پورا نام:.
      *الهيثم بن عدي بن عبد الرحمن بن زيد بن أسيد بن جابر بن عدي بن خالد بن خيثم بن أبي حارثة* ہے
      *1:* أبو بكر البيهقيؒ فرماتے ہیں کہ *متروك الحديث، ونقل عن ابن عدي أنه: ضعيف جدا*
      *2:* أبو حاتم الرازيؒ فماتے ہیں کہ  *متروك الحديث۔*
      *3:* أبو داود السجستانيؒ فرماتے ہیں کہ: *كذاب.*
      *4:* أبو زرعة الرازي فرماتے ہیں کہ : *ليس بشيء*
      *5:* امام يحيى بن معين الحنفیؒ فرماتے ہیں کہ: *ليس هو بثقة، ومرة: ليس بشيء، ومرة: ليس بثقة كان يكذب*
      خلاصہ کلام آپ کی پیش کردہ روایت سے استدلال کرنا ہی سرے سے غلط ہے کیوں کہ تینوں طریق میں ایک طریق بھی قابل استدلال نہی ہے۔
      تینوں اسناد میں وضح،کذاب اور متروک راوی موجود ہیں۔
                           الحکم الحدیث: متروک
      (طالب دعا : محمد عمران علی حیدری)
      17.09.2021.
      09 صفر المظفر 1443ھ
    • By Sunni Haideri
      *کفار نے کہا انبیاء کو کہ تم صرف ہمارے جیسے بشر ہو*
      بسم اللہ الرحمن الرحیم
      الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا رسول اللہ۔
      صلی اللہ علیہ وآلہ و اصحابہ وسلم.
      اعتراض : 
      مفتی احمد یار خان نعیمی نے اپنی تفسیر میں کہا کہ: انبیاء کو بشر کہنے والے کافر ہی تھے 
      اب جو انبیاء کو بشر کہے وہ مفتی صاحب کے نزدیک کافر ہے
      کیا انبیاء بشر نہیں ہوتے
      قل انما آنا بشر المثلکم قرآن میں اللہ کہتا کہ اے نبی تم کہے دو کہ میں تمھاری مثل بشر ہوں۔
      اور جگہ جگہ انبیاء کو بشر کہا گیا ہے بلکہ سنیوں کی سب معبتر علماء انبیاء کی بشریت کا انکار کفر سمجھتے ہیں اب کون کافر ہے مفتی احمد یار یا پھر باقی سنی علماء قرآن و حدیث میں ثبوت موجود ہے کہ انبیاء بشر ہی ہوتے ہیں۔ 
      *الجواب بعون الوہاب۔*
      پہلی بات وہابیوں کا اعتراض ہی باطل ہے جو کہ کچھ اہمیت کا حامل نہیں بس جہالت پر مبنی ہے لیکن اپنی عوام کے لیے ہم جواب دے دیتے ہیں۔ اس میں حکیم الامت نے انبیاء کرام علیہم السلام کی بشریت کا انکار کیا ہی نہیں یہی بتایا کہ موازنہ کرتے اپنے جیسا بتاتے اور انبیاء کرام علیہم السلام کی عزت،  شان و عظمت کم کرنے کی کوشش کرتے لوگوں کے سامنے اور انبیاء کو کہتے کہ یہ تو بس ہمارے جیسا بشر اے لوگو تم ان کی پیروی کرو گے۔ لوگوں کے دلوں میں انبیاء کرام علیہم السلام کے لیے یہ بیٹھانا چاھتے تھے یہی کہ یہ ہم جیسے ہیں بشر بس اور یہی لوگ انبیاء کی عزت کم کر کے لوگوں کے سامنے پیش کر کے انبیاء کی عزت کرنا چاھتے۔
      اس پوسٹ کو مکمل پڑھیں تو سمجھ لگ جاۓ گی حکیم الامت، مفسر شہیر علامہ،مفتی احمد یار خان نعیمی رحمتہ اللہ نے بلکل صحیح بات کی ہے عین قرآن سے وہی بات ثابت ہے۔
      عقیدہ: 
      *عقیدہ اھلسنت: تمام انبیاء کرام علہم السلام بشر ہی ہیں بشریت کا انکار کفر ہے اورحضرت محمد صلی صلی اللہ علیہ وآلہ وسم کی نورانیت کا انکار کرنا گمراہی ہے۔ ان کمال،فضائل، خصائص بہت زیادہ ہیں انکو قرآن میں نور بھی کہا گیا احادیث میں بھی آیا مفہوم ہے کہ تم میں سے کوئی بھی  میری مثل نہیں۔ یہ باتیں قرآن و حدیث سے ثابت شدہ ہیں۔*
      *لیکن ان کو اپنے جیسا بشر کہنا اس انداز سے کہ  عوام کو باور کروایا جاۓ کہ انبیاء کوئی چیز ہی نہیں بس وہ نبی ہیں اور ان پر وحی آتی باقی ہم میں ان میں کوئی فرق نہیں اور نبی ایک انسان ہوتا ہے اس انداز سے کہنے کہ ہر نتھو پھتو ایرا غیرہ لولھا لنگڑا کانا سمجھے کہ ہم میں اور انبیاء میں کوئی فرق ہی نہیں یہ تو عام بات ہے ہم بھی بشر وہ بھی بشر اور بس فرق یہی ہے کہ ان وحی آتی ہے ہم پر نہیں۔اور خاص کر جب شان نبی علیہ السلام بیان کی جارہی ہو تو کچھ نام نہاد مولویوں کو تکلیف ہونا شروع ہو جاتی ہے وہ یہ برداشت نہیں کر سکتے تو وہاں یہ رٹ لگانا شروع کر دیتے ہیں کہ ہماری مثل بشر ہیں ہماری جیسے ہیں  بس تو ہم اس بات کی پرزور مزمت کرتے ہیں اور اس میں عوام الناس نبی کو عام انسان محسوس کرتی ہے اور نبوت کو عام سا عہدہ اور اس پر فائز نبی عام بشر سمجھنے لگتے ہیں۔*
      *2: اعتراض:.*
       بات یہ کہ تم نبی کو خدا بنا دیتے ہو یا اس کو خدا کے برابر کر دیتے ہو اور لوگوں کو لگتا ہے کہ یہ نبی نہیں خدا ہے اس لیے ہم یہ بات ادھر کرتے ہیں۔
      *الجواب بعون الوہاب:.*
      اگر یہ بات سچ ہے تو آپ وہاں اپنے جیسا بشر ثابت کرنے کہنے کی بجاۓ پوچھ لیا کریں کہ تم نبی کو اللہ(خدا) یا اللہ کا بیٹا یا فرشتہ یا کچھ اور سمجھتے ہو تو پھر جو جواب ملے گا سن لینا یقینا جواب یہی ہوگا ہم بتا دیتے ہیں اور یہی کہا جاۓ گا کہ بے مثل بشر سمجھتے ہیں ان کی مثل اللہ نے ان کے مرتبہ و مقام کا بنایا ہی نہیں کسی کو۔
       بے شک تمام ابییاء بشر ہیں۔
      تو اگر یہی جواب ملے تو پھر سمجھ جائیں حق کیا ہے۔
      ھدایت اللہ ہی عطا کرتا ہے ہمارا کام آپ کو حق بتانا ہے۔
      ✍️اصل علمی تحریر لکھنے کا مقصد یہ ہے اسے بھی پڑھ لیں:.✍️
      کچھ جاہل قسم کے لوگ حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمتہ اللہ علیہ پر زبانیں کستے ہیں اور کہتے ہیں کہ کہاں ہے کوئی ایک آیت لاو جس میں ہو کہ انبیاء کو بشر کہنے والے کافر ہوں۔ ایسا مطالبہ کرنے والے یقینا جاہل ہی ہو سکتے جو قرآن کو کبھی نہ پڑھنے والے ہی ہو ہوسکتے ہیں  ورنہ اس بات کا مطالبہ ہی نہ کرتا
      ہم کچھ آیات پیش کرتے ہیں تاکہ جہلا سمجھ سکیں کہ قرآن میں سچی بات ہے کفار نے یہی کہا انبیاء علیہم السلام کو کہ تم ہمارے جیسے بشر ہو۔
      حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر نور العرفان  میں یہ بات کی ہے۔ آپ نے بلکل ٹھیک کہا ہے ایسا ہی ہے۔ اور مفتی صاحب قرآن کو گہری نظر سے سمجھنے والے انسان تھے اللہ ان کے درجات بلند فرماۓ اور سیدی  معصوم کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی شفاعت فرمائیں اور ساتھ ہی ساتھ ہماری بھی آمین۔

      ✍️✍️✍️قرآنی دلائل: ۔
      *بسم اللہ الرحمن الرحیم*
      1: *نمبر ایک الشعراء 186*
      وَمَآ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُـنَا وَاِنْ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الْكَاذِبِيْنَ.
      ترجمہ: تم تو نہیں مگر ہم جیسے بشر اور بیشک ہم تمہیں جھوٹا سمجھتے ہیں۔
      (محمد عمران علی حیدری)
      ✍️اس آیت مبارکہ شان نزول دیکھ لیجیے گا کن لوگوں نے کہا تھا یہ کہ تم ہمارے جیسے بشر ہو.
      (محمد عمران علی حیدری)
      2: *نمبر دو سورۃ الإسراء نمبر 94*
      وَمَا مَنَعَ النَّاسَ اَنۡ يُّؤۡمِنُوۡۤا اِذۡ جَآءَهُمُ الۡهُدٰٓى اِلَّاۤ اَنۡ قَالُـوۡۤا اَبَعَثَ اللّٰهُ بَشَرًا رَّسُوۡلًا‏.
      ترجمہ: اور لوگوں کو ایمان لانے سے صرف یہ چیز مانع ہوئی کہ جب بھی ان کے پاس ہدایت آئی تو انہوں نے کہا کیا اللہ نے بشر کو رسول بنا کر بھیجا ہے.
      (محمد عمران علی حیدری)
      3: *سورۃ المؤمنون آیت 24*
      فَقَالَ الۡمَلَؤُا الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثۡلُكُمۡ ۙ يُرِيۡدُ اَنۡ يَّـتَفَضَّلَ عَلَيۡكُمۡ ؕ وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ لَاَنۡزَلَ مَلٰٓئِكَةً ۖۚ مَّا سَمِعۡنَا بِهٰذَا فِىۡۤ اٰبَآئِنَا الۡاَوَّلِيۡنَ‌.
      ترجمہ: پس ان کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا یہ تو محض تمہاری مثل بشر ہیں جو تم پر فضیلت اور بڑائی حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اگر اللہ کسی کو بھیجنا چاہتا تو فرشتوں کو نازل کردیتا، ہم نے تو اس بات کو اپنے پہلے باپ دادا میں سے کسی سے نہیں سنا.
      (محمد عمران علی حیدری)
      4: *سورۃ المؤمنون آیت 33*
      وَقَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِهِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَكَذَّبُوۡا بِلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ وَاَتۡرَفۡنٰهُمۡ فِى الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ۙ مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثۡلُكُمۡ ۙ يَاۡكُلُ مِمَّا تَاۡكُلُوۡنَ مِنۡهُ وَيَشۡرَبُ مِمَّا تَشۡرَبُوۡنَ.
      ترجمہ: اور رسول کی قوم کے وہ *کافر سردار* جنہوں نے آخرت کی ملاقات کی تکذیب کی تھی اور جن کو ہم نے دنیا کی زندگی میں فراوانی عطا فرمائی تھی وہ کہنے لگے یہ رسول صرف *تمہاری مثل بشر ہے* یہ ان ہی چیزوں میں سے کھاتا ہے جن سے تم کھاتے ہو اور ان ہی چیزوں سے پیتا ہے جن سے تم پیتے ہو.
      (محمد عمران علی حیدری)
      5: *سورۃ المؤمنون آیت 34*
      وَلَئِنۡ اَطَعۡتُمۡ بَشَرًا مِّثۡلَـكُمۡ اِنَّكُمۡ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَۙ.
      ترجمہ: اور اگر تم نے اپنے جیسے بشر کی اطاعت کی تو تم ضرور نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائو گے.
      (محمد عمران علی حیدری)
      6: *سورۃابراهيم آیت 10*
      قَالَتۡ رُسُلُهُمۡ اَفِى اللّٰهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ‌ؕ يَدۡعُوۡكُمۡ لِيَـغۡفِرَ لَـكُمۡ مِّنۡ ذُنُوۡبِكُمۡ وَيُؤَخِّرَكُمۡ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى‌ؕ قَالُوۡۤا اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا بَشَرٌ مِّثۡلُنَاؕ تُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ تَصُدُّوۡنَا عَمَّا كَانَ يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَا فَاۡتُوۡنَا بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ.
      ترجمہ: ان کے رسولوں نے کہا کیا اللہ کے متعلق شک ہے جو آسمانوں اور زمینوں کا پیدا کرنے والا ہے وہ تمہیں اس لیے بلاتا ہے کہ تمہارے بعض گناہ ہوں کو بخش دے اور موت کے مقرر تک تم کو عذاب سے مئو خر رکھے، انہوں نے کہا *تم تو محض ہماری مثل بشر ہو* تم تو یہ چاہتے ہو کہ ہمیں ان معبودوں سے روک دو جن کی ہمارے آباؤاجداد پرستش کرتے تھے سو تم ہمارے پاس کوئی روشن دلیل لاؤ.
      (محمد عمران علی حیدری)
      7: *سورۃ يس آیت 15*
      قَالُوۡا مَاۤ اَنۡـتُمۡ اِلَّا بَشَرٌ مِّثۡلُـنَا ۙ وَمَاۤ اَنۡزَلَ الرَّحۡمٰنُ مِنۡ شَىۡءٍۙ اِنۡ اَنۡـتُمۡ اِلَّا تَكۡذِبُوۡنَ.
      ترجمہ: ان لوگوں نے کہا *تم تو صرف ہماری مثل بشر ہو* اور رحمٰن نے کچھ نازل نہیں کیا تم محض جھوٹ بولتے ہو.
      (محمد عمران علی حیدری)
      8: *سورۃ الأنبياء آیت 3*
      لَاهِيَةً قُلُوۡبُهُمۡ‌ ؕ وَاَسَرُّوا النَّجۡوَى‌ۖ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ‌ۖ  هَلۡ هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثۡلُكُمۡ‌ ۚ اَفَتَاۡتُوۡنَ السِّحۡرَ وَاَنۡتُمۡ تُبۡصِرُوۡنَ.
      ترجمہ: ان کے دل کھیل کود میں ہیں، اور ظالموں نے آپس میں یہ سرگوشی کی کہ یہ شخص تو تمہاری ہی مثل بشر ہے کیا تم جانتے وبجھتے جادو کے پاس جا رہے ہو.
      (محمد عمران علی حیدری)
      مفہوم کلام:۔
      ثابت ہوا کہ کفار نے انبیاء کرام علیہم السلام کو اپنے جیسا بشر کہا اور انبیاء کی عزت کم کرتے اور ان کی دعوت کا انکار کرتے اور اور اپنے جسا بشر کہے کر لوگوں کے دلوں میں ان کے لیے نفرت پیدا کرنا چاھتے تھے۔ اور ان کو عام بشر کہتے تھے۔
      پس جو کہتا ہے حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی ؒ نے غلط کہا تو وہ آنکھیں کھول کے بار بار پڑھیں اس تحریر کو 
      پس حق یہی ہے مفتی صاحب کا موقف قرآن سے ثابت ہے۔
      اب اگر کوئی مفتی صاحب پر اعتراض کرے اسی بات کی وجہ سے تو پھر یہ علمی اختلاف نہیں بلکہ مخالفت ہے۔
       إن شاءالله ایک اور تحریر نور و بشر پر بنانی ہے اس میں بہت سارا علمی مواد ہوگا وقت ملتے ہی بنائی جاۓ گی إن شاءالله۔
      *(طالب دعا محمد عمران علی حیدری)*
      24.01.2022.
       
×
×
  • Create New...