Sybarite

Moderator
  • Content count

    621
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    42

Sybarite last won the day on July 28 2016

Sybarite had the most liked content!

Community Reputation

141 Excellent

About Sybarite

  • Rank
    Makki Member
  • Birthday 01/01/1982

Contact Methods

  • Website URL
    http://exposingdeoband.co.nr
  • ICQ
    0

Profile Information

  • Gender
  • Location
    Karachi
  • Interests
    Islamic & Inter-sect studies
    Linguistics
    Graphics

Previous Fields

  • Madhab
  1. شرح صحيح ابن حبان - الراجحي ترجمة المؤلف: عبد العزيز الراجحي http://shamela.ws/browse.php/book-37009
  2. To be honest you should think very thoroughly before reaching a conclusion. What I guessed after reading it all, I think your wife being encouraged by her mother to some real bad extent. As you've been shown the hadith in this regard, you can leave her. But ask yourself if you are ready to either let go of your children or to raise them without their mother? Also think again and see if there is anything missing in your marital life which caused your wife to go seek attention from guys other than her husband? Think as hard as you can and see if you can find a something which can repair your relationship. Did you try to talk to her that why she need other guys appreciating her beauty? If I were you, I would first try my best to find the reason why she is doing it by taking her in her comfort zone where she'll fearlessly admit why she is doing it and then I'll conclude whether its a repairable relation or should I just put an end to it for good. Conclusively if you find that there is nothing wrong from your side and her extra-marital affairs are habitual, then sure you must leave her. May Allah and his Rasool (Sallallahu Allaihe Wasallam) help you make the right decision.
  3. ڈاکٹرطاہر پر اولاً گمراہی کا فتوی ہی تھا پھر حدِ کفر تک جانے پر کفر کا فتویٰ دیا گیا۔ ہو سکتا بعض علماء جنہوں نے صرف گمراہی کا فتویٰ ان تک حدِ کفر کی خبر نہ پہنچی ہو اس لئے ان کی جانب سے کفر کا فتویٰ نہ آیا ہو۔ بہرحال جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا کہ اگر تو زید ڈاکٹرطاہر کے عقائدِ باطلہ سے واقف ہونے کے باوجود اسے ٹھیک سمجھتا ہےتو فتویٰ وہی ہوگا جو ڈاکٹرطاہر پر ہے۔ اب وہ فتویٰ گمراہی کا ہو یا کفر کا۔ مثلاً حضور تاج الشریعہ کی جانب سے فتویٰ کفر دیا گیا تو فتویٰ کفر لگے گا۔ اسی طرح کسی اور مفتی کی جانب سے اگر صرف گمراہی کا فتویٰ ہے تو اس مفتی کی جانب سے زید پر بھی صرف گمراہی کا فتویٰ لگے گا۔ رہی بات علیحدہ سے سائل کے لئے فتویٰ حاصل کرنے کی تو یہ آپ پہلے ہی بتا چکے کہ زید اس مسئلہ میں دعوت اسلامی کے فتاوی کو نہیں مانتا۔ تو ایسا شخص تو اسی طرز پر کسی بھی فتویٰ کا انکار کرسکتا ہے کہ جی میں تو اس فتویٰ کو بھی نہیں مانتا۔ باقی آپ ضروری سمجھتے ہیں تو دار الافتاء سے اس مسئلے پر فتویٰ حاصل کرنے کی کوشش کریں۔
  4. اگر تو ڈاکٹرطاہر کے متنازعہ عقائد، اقوال و اعمال سے واقف ہو کر بھی انہیں صحیح سمجھتا ہے تو اس پر وہی فتویٰ ہوگا جو ڈاکٹرطاہر پر ہے۔ علیحدہ فتوٰی کی ضرورت ہی نہیں۔ کسی کے ماننے یا نہ ماننے سے فتوٰی کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
  5. مام فخر الدین رازی علیہ الرحمہ (المتوفی 606ھ) فرماتے ہیں کہ ’’جس شخص نے میلاد شریف کا انعقاد کیا۔ اگرچہ عدم گنجائش کے باعث صرف نمک یا گندم یا ایسی ہی کسی چیز سے زیادہ تبرک کا اہتمام نہ کرسکا تو ایسا شخص برکت نبوی سے محتاج نہ ہوگا اور نہ ہی اس کا ہاتھ خالی رہے گا
  6. حضرت امام شافعی علیہ الرحمہ (المتوفی 204ھ) آپ علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں کہ ’’میلاد شریف منانے والا صدیقین، شہداء اور صالحین کے ساتھ ہوگا۔
  7. قصیدہ ںعمانیہ مکمل
  8. http://www.aldiwan.org/127601.html مجھ فقیر کی عربی اتنی اچھی نہیں کہ پوری طرح سمجھ سکوں اسے۔
  9. حضرت ِسیِّدُنا قاسم بن مُخَیْمَر رَحْمَۃُ اللہِ تعالٰی علیہ کہتے ہیں :کسی شخص نے ایک قبر پر پاؤں رکھا، قبر سے آواز آئی، اِلَیْکَ عَنِّیْ وَلَاتُؤْذِنِی اپنی طرف ہٹ (یعنی دور ہو ! اے شخص میرے پاس سے) اور مجھے ایذا نہ دے۔ دیوبندی اشرفعلی تھانوی لکھتا ہے۔
  10. آپ غالباً اصل اعتراض پوسٹ کرنا بھول گئے ہیں۔ کس کا جواب مانگ رہے ہیں؟
  11. روح المعانی نہ مل سکی البتہ یہی قول ارشادالساری شرح بخاری میں موجود ہے۔ فمن ادعٰی علم شیئ منہا غیر مسند الٰی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان کاذبًا دعواہ جو کوئی قیامت و غیرہ خمس سے کسی شے کے علم کا اِدعا کرے اور اسے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف نسبت نہ کرے کہ حضور کے بتائے سے مجھے یہ علم آیا،وہ اپنے دعوے میں جھوٹا ہے۔