Jump to content
اسلامی محفل

Leaderboard


Popular Content

Showing content with the highest reputation since 10/01/2019 in all areas

  1. 2 points
    20 رکعت تراویح پرحضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی روایت کا تحقیقی جائزہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی روایت أخبرنَا أَبُو عبد الله مَحْمُود بن أَحْمد بن عبد الرَّحْمَن الثَّقَفِيُّ بِأَصْبَهَانَ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي الرَّجَاءِ الصَّيْرَفِي أخْبرهُم قِرَاءَة عَلَيْهِ أَنا عبد الْوَاحِد بن أَحْمد الْبَقَّال أَنا عبيد الله بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ أَنا جَدِّي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ جَمِيلٍ أَنا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ أَنا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى نَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ أَنَّ عُمَرَ أَمَرَ أُبَيًّا أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فِي رَمَضَانَ فَقَالَ إِنَّ النَّاسَ يَصُومُونَ النَّهَار وَلَا يحسنون أَن (يقرؤا) فَلَوْ قَرَأْتَ الْقُرْآنَ عَلَيْهِمْ بِاللَّيْلِ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ هَذَا (شَيْءٌ) لَمْ يَكُنْ فَقَالَ قَدْ عَلِمْتُ وَلَكِنَّهُ أَحْسَنُ فَصَلَّى بِهِمْ عِشْرِينَ رَكْعَة (إِسْنَاده حسن) ( الأحاديث المختارة للضياء المقدسي 3/367رقم الحدیث 1161) ترجمہ:حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت مروی ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے رمضان میںمجھے رات کو تراویح پڑھانے کاحکم دیتے ہوئے فرمایا کہ لوگ دن میں روزہ رکھ لیتے ہیں مگر تراویح نہیں پڑھ سکتے، اس لئے لوگوں کو تراویح پڑھاؤ۔ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یاامیرالمومنین! یہ ایسی چیز کا حکم ہے جس پر عمل نہیں ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: میں جانتا ہوں لیکن یہی بہتر ہے، پس حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے بیس20 رکعات تراویح پڑھائی۔ اعتراض: کفایت اللہ سنابلی صاحب غیر مقلد اپنی کتاب انوار التوضیح ص348 پر لکھتے ہیں۔ یہ رویات ضعیف ہے ، سند میں موجود ابو جعفرالرازی سی الحفظ ہے ۔ امام أبو زرعة الرازي رحمه الله (المتوفى264)نے کہا: شيخ يهم كثيرا۔[الضعفاء لابي زرعه الرازي: 2/ 443]۔ امام ابن حبان رحمه الله (المتوفى354)نے کہا: كان ممن ينفرد بالمناكير عن المشاهير لا يعجبني الاحتجاج بخبره إلا فيما وافق الثقات۔ [المجروحين لابن حبان: 2/ 120]۔ یہ مشہور لوگوں سے منکر روایت کے بیان میں منفرد ہوتا تھا،اس کی حدیث سے حجت پکڑنا مجھے پسند نہیں الاکہ یہ ثقہ رواۃ سے اس کی تائید مل جائے۔ امام ابن حبان نے یہ بھی فرمایا: والناس يتقون حديثه ما كان من رواية أبى جعفر عنه لأن فيها اضطراب كثير لوگ الربیع بن انس سے ابوجعفر کی روایات سے بچتے ہیں،کیوں کہ ان بہت اضطراب ہوتا ہے۔( الثقات - ابن حبان ص4/228) اور زیر بحث حدیث اسی طریق سے ہے،لہذا ضعیف ہے۔یاد رہے کہ متعدد حنفی حضرات نے بھی اس راوی کو ضعیف تسلیم کیا ہے۔ جواب: گذارش ہے کہ کفایت اللہ سنابلی صاحب نے ابو جعفر الرزی پر چند محدثین کرام نے جرح نقل کی ہے مگر اکثر علماء نے اس کی توثیق کی ہوئی ہے۔ہم مسلکی حمایت سے ہٹ کر اس راوی پر محدثین کرام کے آراء کو پیش کرتے ہیں تاکہ حقیقت واضح ہوسکے۔ ابو جعفر الزای پر جرح کرنے والے محدثین کرام کے حوالہ جات ملاحظہ کریں۔ الفلاس : فيه ضعف ، وهو من أهل الصدق سيء الحفظ ۔ ( تاريخ بغداد 11/146.) العجلي : ضعيف الحديث ۔(ترتيب معرفة الثقات 2/391.) أبو زرعة : شيخ يهم كثيراً ۔( سؤالات البرذعي 1/443.) امام نسائی : ليس بالقوي. (سنن النَّسَائي: 3 / 258.) ابن حبان کا مکمل قول: کفایت اللہ سنابلی صاحب نے ابن حبان کی جرح مکمل نقل نہیں کی۔ كان ممن ينفرد بالمناكير عن المشاهير لا يعجبني الاحتجاج بخبره إلا فيما وافق الثقات۔۔۔۔ یہ مشہور لوگوں سے منکر روایت کے بیان میں منفرد ہوتا تھا،اس کی حدیث سے حجت پکڑنا مجھے پسند نہیں الاکہ یہ ثقہ رواۃ سے اس کی تائید مل جائے۔۔۔۔ اس جرح کے بعد ابن حبان نے متصل جو بات کہی وہ بھی ملاحظہ کریں، ابن حبان لکھتےہیں۔ ولايجوز الاعتبار بروايته إلا فيما لم يخالف الاثبات. اور نہ اس کی روایت پر اعتبار کیا جاسکتا ہےالا یہ کہ اپنے سے زیادہ ثقہ راوی کے مخالفت نہ ہو۔ یعنی کہ جس روایت میں اپنے سے زیادہ ثقہ راوی کی مخالفت نہ ہو تو اس پر اعتبار اور اعتماد کیا جاسکتا ہے۔ اما م ابن حبان کے اس مکمل قول سے واضح ہوا کہ ابو جعفر الرازی کی منفرد روایت سے احتجاج کرنا محدث ابن حبان کو پسند نہ تھا مگر وہ روایت جس میں ابو جعفر الرازی اپنے سے ثقات راوی کی مخالفت نہ کرے اس پر اعتبار اور استدلال کیا جاسکتا ہے۔جبکہ پیش کردہ ضیاء المختارہ کی روایت میں کسی ثقہ راوی کی مخالفت ثابت نہیں بلکہ دیگر ثقہ راویوں نے20رکعت کے بیان میں ابو جعفر الرزای کی موافقت بھی کی ہے جس سے محدث ابن حبان کا ابو جعفر الرزی کا ربیع بن انس سے مرویات پر مضطرب کا اعتراض بھی رفع ہوجاتا ہے۔اس لیے یہ حدیث تو ابن حبان کے اصول کے مطابق بھی قابل حجت اور صحیح روایات ہے۔ ابو جعفر الرازی کی توثیق کرنے والے محدثین کرام کے حوالہ جات پیش خدمت ہیں۔ إمام ابن معين : ثقة ۔(تاريخ بغداد 11/146.) ، ایک دوسرے مقام پر کہا : ثقة ، وهو يغلط فيما يروي عن مغيرة ۔( الدوري4772 .) ایک دوسرے شاگرد نے رویات کیا کہ : ليس به بأس ۔ ( من كلام أبي زكريا في الرجال 82.) ایک دوسرے مقام پر کہا : صالح ۔( الجرح والتعديل 6/280.) ، ایک مقام پر کہا : يُكتب حديثه إلا أنه يخطئ۔(تاريخ بغداد 11/146.) ابن المديني: ثقة ۔(سؤالات ابن أبي شيبة 148) الساجي : صدوق ليس بمتقن ۔(تاريخ بغداد 11/146) امام ابن عمار : ثقة ۔(تاريخ بغداد 11/146) امام أبو حاتم : ثقة صدوق صالح الحديث ۔( الجرح والتعديل 6/280) . حافظ ابن حجر : صدوق سيء الحفظ خصوصاً عن مغيرة ۔(تقريب التهذيب 8019 ) حافظ ابن حجر ایک دوسرے مقام پر ابو جعفر کی روایت کے بارے میں لکھتے ہیں۔ الإسناد حسن۔( مختصر البزار 2/ 265) علامہ ذہبی۔صالح الحديث۔ (میزان الاعتدال3/320رقم6595) ابْن سعد : وكان ثقة۔(طبقات ابن سعد 7 / 380) حاكم: ثقة. (تهذيب: 12 / 57) امام ضیاء المقدسی: وَثَّقَهُ عَليّ بن الْمَدِينِيّ وَيحيى بن معِين۔( الأحاديث المختارة6/97) ضیاء المختارہ میں 13 روایات اس سند سے ہیں۔ محدث ابْن شاهين۔ ثقاته۔(البدر المنیر3/623) علامہ حازمی ۔ ثِقَة.( البدر المنیر3/623) مذکورہ بالاپیش کردہ حوالہ جات سے رابو جعفر الرزای کے بارے میں نتیجہ اخذ کرنا قارئین کرام کے علمی استعداد پر ہے۔مذکورہ بالاتحقیق سے معلوم کہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی 20 رکعت والی روایت حسن اور قابل احتجاج ہے۔اس پر کفایت اللہ سنابلی صاحب کے اعتراضات باطل و مردود ہیں۔
  2. 1 point
  3. 1 point
    Salam alaykum, Ham Deobandi kutub kay link idhar share nahin kar saktay. Hamara maqsid Sunniat ka farogh heh Deobandiat aur Wahhabiat ka farogh nahin. Aap apna taruf karwa denh aap kon hen aur kis waja say link chahtay hen aur aap ka mubgha ilm kia heh agar share karna jaiz laga toh idhar kar denh gay.
  4. 1 point
    اہل اللہ کی توھین زہر ہلاہل ہے شیخ عبد الوہاب شعرانی 973ھ علیہ الرحمہ نے عارف بالله تعالی سیدی محمد وفا رضی اللہ تعالی عنہ کے ترجمہ میں آپ کا یہ قول نقل کیا ہے:- امتهان العباد المكرمين بعد معرفتهم سم ساعة متى خالط القلب مات لوقته "اللہ تعالی کے مکرم بندوں کو پہچاننے کے بعد ان کی توہین کرنا ایک لمحہ میں اثر کرنے والا زہر ہے جیسے ہی دل میں شامل ہوا فی القور دل کی موت واقع ہو جاتی ہے"_ [الطبقات الكبرى المسمى لواقح الأنوار القدسية في مناقب العلماء والصوفية جلد2.ص.30-اردو برکات روحانی ج.2 ص.460] الامان و الحفیظ اج کل جو لوگ اولیائے کرام بلکہ جو لوگ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی توھین کر رہیں ہیں ان کے دلوں کا کیا حال ہوگا یقیناً ان کے دل گل سڑ چکے ہیں، نسأل الله العفو و العافیۃ ہم اللہ سے معافی اور سلامتی کا سوال کرتے ہیں آمین خادم علم و العلماء فقير محمد ریحان رضا النوری 29/مئی/2019 Ahlullah(Allah Walo) Ki Toheen Zahr E Halahal Hai Shaikh Abdul Wahab Sharani 973Hijri علیہ الرحمہ Ne Aarif Billah Sayyadi Muhammad Wafa رضی اللہ عنہ Ke Tarzume Mai Aapka Ye Qaul Naqal Kiya Hai:- امتهان العباد المكرمين بعد معرفتهم سم ساعة متى خالط القلب مات لوقته "Allah Tala Ke Mukarram(Mehboob,Wali Aulia)Bando Ko Pahchanne Ke Baad Un Ki Toheen Karna Ek Lamha Mai Asar Karne Wala Zahr Hai Jaise Hi Dil Mai Shamil Hua Fil-For Dil Ki Maut Waqe Ho Jati Hai"_ •[Tabqat Ul Kubra Jild.2 Safa.30(Arabic), Barkaat E Ruhani Jild.2 Safa.460(Urdu)] الامان و الحفیظ Aaj Kal Jo Log Aulia E Kiram Balke Jo Log Sahaba E Kiram رضی اللہ عنہم Ki Shan E Aqdas Mai Gustakhiya Kar Rahe Hai Unke Dilo Ka Kya Haal Hoga_ Yaqinan Unke Dil Gal Sadh Chuke Hai, نسأل الله العفو و العافیۃ Hum Allah Se Maafi Or Salamati Ka Sawal Karte Hai'n آمین
  5. 1 point
    شیعہ بدعتی راوی کی روایت اور اہل سنت کا اس سے احتجاج کا تحقیقی جائزہ عرب تفضیلی محقق احمد غماری صاحب فتح الملک العلی مترجم ص ۲۷۱ پر لکھتے ہیں: محدثین نے اس شرط [داعی الی بدعت]کا اعتبار نہیں کیا اور نہ ہی اپنے تصرفات میں اسے زینہ بنایا ہے بلکہ ثقہ شیعہ راویوں نے اپنے مذہب کی تائید میں جو بیان کی ہیں ان سے حجت پکڑی ہے۔حضرت امام بخاری اور امام مسلم رحمہما اللہ تعالیٰ نے شیعہ راویوں سے حضرت علی ؓ کے فضائل میں روایت نقل کیں ہیں۔ جیسے انت منی و انا منک تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہو۔(صحیح بخاری ،کتاب المغازی باب عمرۃ القضاۃ،رقم الحدیث:۴۰۰۵) اس حدیث کو امام بخاری نے عبیداللہ بن موسیٰ العبسی سے نقل کیا ہے جس کے بارے میں خود امام بخاری نے کہا ہے: انہ کان شدید التشیع کہ وہ تشیع میں سخت تھا۔(التہذیب:ترجمہ عبیداللہ بن موسیٰ العبسی : ج ۲ ص ۳۵) اسی طرح حدیث:لا یحبک الا مومن و لا یبغضک الا منافق(صحیح مسلم،کتاب الایمان باب الدلیل علی ان حب الانصار علی من الایمان الخ رقم الحدیث:۱۱۳)ترجمہ: تجھ سے مومن ہی محبت کرے گا اور تجھ سے منافق یہ بغض کرے گا۔اس حدیث کو امام مسلم نے عدی بن ثابت کی روایت سے نقل کیا ہے حالانکہ وہ ایک غالی اور اپنے مذہب کا داعی شیعہ ہے۔(التہذیب ترجمہ عدی بن ثابت ج ۴ ص ۱۰۷) غماری صاحب یہ مثالیں دینے کے بعد آگے ص ۲۷۲ پر لکھتے ہیں: یہ اس بات کی دلیل ہے کے کہ یہ شرط(لگانا کہ وہ روایت بدعتی کے مذہب کی تائید نہ کررہی ہو)باطل ہے اور روایت کی صحت اور قبول میں اس کا کوئی اعتبار نہیں۔اعتبار صرف راوی کے ضبط اور اتقان کا ہے۔ جواب: عرض یہ ہے کہ محدثین نے جو شیعہ راوی سے استدالال کے قواعد بنائے ہیں وہ بالکل صحیح ہیں۔بلکہ اس کو تشیع کے ساتھ مخصوص کرنا ہی جہالت ہے کیونکہ ان کے یہ اصول بدعتی کی روایت کے بارے میں ہے نہ کہ صرف ایک فرقہ سے مختص ہیں۔اب رہی یہ بات کہ امام بخاری ؒ اور امام مسلم ؒ نے شیعہ راویوں سے فضائل حضرت علی ؓ میں روایات لیں ہیں۔جو ان کے مذہب کو تقویت دیتی ہیں۔اس بارے میں عرض یہ ہے کہ یہ اعتراض اصول سے بے خبری اور جہالت کا نتیجہ ہے۔سطحی قسم کا مطالعہ ایسے سوالات اٹھانے میں کافی معاون ثابت ہوتا ہے۔لہذا انسا ن اپنی غلطی تسلیم کرنے کی بجائے محدثین کرام پر اعتراضات اٹھانا شروع کر دیتا ہے۔اس بارے میں چند معروضات پیش خدمت ہیں۔ بدعتی(شیعہ وغیرہ) اگر سچا اور صدوق ہو اور روایت اسکے مذہب کی داعی ہو یا اس کے مذہب کو تقویت پہنچا رہی ہو۔تو پھر اس شیعہ کا مذہب و عقیدہ دو اقسام پر مشتمل ہوگا۔ ۱۔شیعہ کا وہ عقیدہ جو مذہب اہل سنت کے خلاف نہیں۔[کیونکہ ہم اہل سنت فضائل حضرت علی ؓ کے قائل اور ماننے والے ہیں۔] ۲۔شیعہ کا وہ عقیدہ جو مذہب اہل سنت کے خلف ہے۔[یعنی فضیلت حضرت علی ؓ تو مانتے ہیں مگر ساتھ عظمت صحابہ کے بھی قائل ہیں۔] اگر شیعہ ایسی باتیں نقل کرے جو کہ شیعہ مذہب کے تائید میں ہو مگر اہل سنت کے اصولوں کے خلاف نہ وہ تو وہ قابل قبول ہوتی ہے۔اور اگر شیعہ ایس باتیں نقل کرے جس کے مخالف اہل سنت میں موجود ہو تو ایسی روایت شاذ اور نکارت ہوگی ،جس کو رد کر دیا جائے گااور احتجاج نہیں کیا جائے گا۔ اہم نکتہ:۔ اکثر یہ ہوتا ہے کہ بدعتی کی روایت اس کے مذہب کے موافق بظاہر نظراآتی ہے۔یہ بات سامنے آتی ہے کہ فلاں راوی شیعہ ہے اور حضرت علی المرتضیٰؓ کی فضیلت میں روایت کرتاہے۔جیسے انت منی و انا منک تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہو۔(صحیح بخاری ،کتاب المغازی باب عمرۃ القضاۃ،رقم الحدیث:۴۰۰۵)اسی طرح حدیث:لا یحبک الا مومن و لا یبغضک الا منافق(صحیح مسلم،کتاب الایمان باب الدلیل علی ان حب الانصار علی من الایمان الخ رقم الحدیث:۱۱۳)ترجمہ: تجھ سے مومن ہی محبت کرے گا اور تجھ سے منافق یہ بغض کرے گا۔جیسا کہ احمد غماری نے اعتراض کیا ہے۔ مگر عرض یہ ہے کہ ان دونو ں باتوںمیں ایک واضح فرق موجود ہوتا ہے۔اور وہ فرق یہ ہے کہ اہل سنت کی روایات میں جو حضرت علی المرتضیٰؓ کے فضائل وارد ہوئے ہیں ان میں شیخین کریمینؓ یا صحابہؓ کی شان میں تنقیص نہیں ہوتی۔اور نہ ہی اس میں غلو ہوتا ہے اورنہ ہی الفاظ رکیک ہوتے ہیں اور معانی میں ضعف نہیں ہوتا۔جیسا کہ مذکورہ بالا روایات سے ثابت ہورہا ہے۔اس لیے اس کو قبول کیا جاتا ہے۔کیونکہ محدثین سند کے ساتھ متن کا بھی جائزہ لیتے ہیں ۔ جبکہ شیعہ راویوں کی مذہب کی تقویت والی روایت میں یہ دیکھا گیا ہے کہ اس میں اکثر حضرت علی المرتضیٰؓ کے شان میں غلو اور صحابہ کرامؓ کی شان میں تنقیص ہوتی ہے۔ان کے معانی بڑے ہی ضعیف ہوتے ہیں اور الفاظ رکیک ہوتے ہیں۔ہاں یہ بات ضرور ہے کہ جب کوئی شیعہ راوی حضرت علی المرتضیٰ کی شان میں کوئی روایت بیان کرے تو اہل سنت اس کی صرف وہ روایت تسلیم کرتے ہیں جو قواعد اہل سنت کے موافق ہوں۔[ اور یہ قواعد یہ ہے کہ حضرت علی المرتضیٰ ؓ کی شان بہت بلند اور اعلیٰ ہے جیسا کہ روایات سے ثابت ہیں مگر دیگر صحابہ کرام ؓ کی تنقیص اس سے ثابت نہ ہو۔] جو ان قواعد کے دائرہ کار میں ہوں تو ہم ا س شیعہ (مفسق بدعتی) کی روایت قبول کرتے ہیں اور اس کی بدعت کو نظر انداز کر دیتے ہیںکیونکہ فضائل علی المرتضیٰ ؓ کا اعتقاد بدعت ہرگز نہیں ہے اور جو شیعہ یا رافضی اس قواعد کے خلاف روایت کرے تو ہم اس کو رد کرتے ہیں اور اس کو قبو ل نہیں کیا جاتا۔( اسکی مزید تفضیل عرب محقق کی کتاب اتحاف النبیل ابی الحسن السلیمانی ص ۲۴۷ میں ملاحظہ فرمائیں) لہذا غماری صاحب نے جو مثالیں پیش کیں ہم ان روایات کو ماننا اپنا دین اور مذہب سمجھتے ہیں۔مگر ان روایات کے ذریعے جو احتمالات اور شکوک لوگوں کے ذہنوں میں ڈالنے کی کوشش کی وہ فضول ہے۔یہ بھی یاد رہے کہ محدثین کرام صرف سند پر ہی نہیں بلکہ متن پر بھی کڑی شرائط عائد کر کے اس کو قبول کرتے تھے۔ اس کے برعکس یہ روایات مذکورہ بالالجو غماری صاحب نے اہل سنت کے اصولوں کے رد پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے وہ تو خود ان کا رد کر رہی ہیں۔کیونکہ ان روایات سے تو اہل سنت کی محبت حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے ساتھ ثابت کر رہی ہے۔اور غماری صاحب کا محدثین کرام پر یہ الزام [کہ وہ بدعتی اور غیر بدعتی کے تقسیم اس لیے کرتے ہیں کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے فضائل کا انکار کر سکیں] بھی غلط ثابت ہوجاتا ہے۔کیونکہ محدثین نے جس شاندار طریقے سے عظمت اہل بیت اور حضرت علی کرم اللہ کرم اللہ وجہہ الکریم کی شان بیان کی وہ تو قابل تحسین ہے۔اللہ تعالیٰ محدثین کرام کو جزاء خیر عطا فرمائے۔
  6. 1 point
    ان ٹاپکس میں اس اعتراض کا جواب موجود ہے۔
  7. 1 point
    حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی رمضان میں 8 رکعت والی روایت کا تحقیقی جائزہ کفایت اللہ سنابلی کی پیش کردہ پہلی حدیث کفایت اللہ سنابلی اپنی کتاب انوار التوضیح ص21 تا 106 پہلی حدیث پیش کر کے بحث کرتےہیں۔ امام بخاري رحمه الله (المتوفى256)نے کہا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ سَعِيدٍ المَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، كَيْفَ كَانَتْ صَلاَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ؟ فَقَالَتْ: «مَا كَانَ يَزِيدُ فِي رَمَضَانَ وَلاَ فِي غَيْرِهِ عَلَى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُصَلِّي أَرْبَعًا، فَلاَ تَسَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ، ثُمَّ يُصَلِّي أَرْبَعًا، فَلاَ تَسَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ، ثُمَّ يُصَلِّي ثَلاَثًا» ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں کتنی رکعتیں پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے بتلایا کہ رمضان ہو یا کوئی اور مہینہ آپ گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی چار رکعت پڑھتے، تم ان کی حسن و خوبی اور طول کا حال نہ پوچھو، پھر چار رکعت پڑھتے، ان کی بھی حسن و خوبی اور طول کا حال نہ پوچھو، آخر میں تین رکعت (وتر) پڑھتے تھے۔ میں نے ایک بار پوچھا، یا رسول اللہ! کیا آپ وتر پڑھنے سے پہلے سو جاتے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، عائشہ! میری آنکھیں سوتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا۔(صحیح البخاری( 3/ 45) :کتاب صلاة التراویح: باب فضل من قام رمضان ، رقم 2013)۔ اس حدیث سے ثابت ہوتاہے کہ تراویح کی مسنون رکعات آٹھ ہیں۔ بعض لوگ اس حدیث پرعمل نہ کرنے کا یہ بہانا بناتے ہیں کہ اس حدیث میں تہجد کی رکعات کاذکر ہے نہ کہ تراویح کی رکعات کا۔ جواب: گذارش ہے تراویح کے موضوع پر صحیح بخاری و صحیح مسلم کی روایت پر بحث خلط مبحث ہے،تراویح کے موضوع پر وضاحت حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں نماز تراویح پڑھی جانے والی روایات سے ہوتی ہے۔اس لیے مخالفین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ والی احادیث پیش کر کے تحقیق کو دوسری طرف لاجانے کی کوشش کرتے ہیں۔سنابلی صاحب نے لوگوں کو دھوکا دینے کے لیے اپنی کتاب انوار التوضیح ص21 تا 106اس حدیث کے بارے میں طویل بحث کرنی کی ناکام کوشش کی ہے اور وہ بھی اس لیے کہ عوام الناس کا دھیان اصل موضوع اور بحث سے ہٹ کر اسی طرف لگا رہے۔غیر مقلدین حضرات ایک طرف تو 8اور 11 کو مسنون کہنے پر زور لگاتے ہیں مگر خود اس کے برعکس جب روایات پیش کی جاتی ہیں تو بوکھلاہٹ کو شکار ہو کر11 سے کم رکعت کو بھی مسننون کہنی کی نفی نہیں کرتے یعنی 11 سے کم تراویح 2،3،5،6،7،8 جتنی بھی پڑھ لیں اس پر پر موصوف کفایت اللہ سنابلی صاحب انکار نہیں کرتے اس کو مسنون ہی کہتے ہیں۔مگر 11 رکعت سے زیادہ تعداد پر ان کو مسلکی تعصب یاد آجاتا ہے۔11 سے زیادہ تعداد کسی روایت میں ثابت ہو تو اسے نوافل پر محمول کرتے ہیں ۔عجب تحقیق ہے کہ 11 سے کم مسنون اور 11سے زائد تراویح پر نفل کا اطلاق؟کفایت اللہ سنابلی صاحب کادعوی پیش خدمت ہے۔ کفایت اللہ سنابلی صاحب کا دعوی: کفایت اللہ سنابلی صاحب کے نزدیک تراویح کی حد11 رکعت ہے ،ان کے نزدیک 11 رکعت سے زیادہ پڑھی نہیں جاسکتی اور 11 سے کم پر ان کو کوئی اعتراض نہیں۔ کفایت اللہ سنابلی صاحب نے اپنی کتاب انوار التوضیح ص149 پر لکھتے ہیں۔ "ہمارا موقف یہی ہے کہ گیارہ سے زائد رکعات پڑھنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے نہ رمضان میں نہ غیر رمضان میں ، البتہ گیارہ سے کم رکعات کی ہم نفی کرتے ہی نہیں ، لہٰذا اگرکسی روایت میں ملتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی روایت گیارہ سے کم تعداد میں رات کی نماز پڑھی تو یہ بات نہ تو حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا کے خلاف ہے اور نہ ہی حدیث جابر رضی اللہ عنہ کے خلاف ہے ۔" اس حوالہ سے یہ بات ثابت ہوئی کہ غیر مقلد کفایت اللہ سنابلی صاحب کے نزدیک تراویح 11 رکعت سے کم تو مسنون ہوسکتی ہے مگر11 رکعت سے زیادہ تراویح مسنون نہیں ۔جبکہ عوام الناس میں یہ دھوکا دیتے ہیں کہ تراویح پر کسی پر کوئی طعن نہیں ہے کیونکہ یہ نفلی نماز ہے اس میں کوئی عدد متعین نہیں ہے۔موصوف کا دھوکا ملاحظہ کریں کہ عوام الناس میں تراویح کو نفل نماز کہہ کر اس کی عدد پر اختلاف نہ کرنے کو کہتے ہیں جبکہ خود زیادہ سے زیادہ 11 رکعت تراویح پر بضد ہیں۔ وضاحت: مگر اس مقام پر مختصرا چند امور جاننے کی بہت اہمیت ہے۔ اول:غیر مقلدین حضرات اپنے موقف کو ثابت کرنے کے لیے کسی بھی غیر علمی بات یا تاویل تک جانے کی کوشش کرتے ہیں ۔قیام اللیل،نفل،تراویح،تہجد،اور وتر کو ویسے الگ الگ بیان کرتے ہیں مگر جس روایت میں 8 رکعت سے زیادہ تراویح ثابت ہو،اس کو تہجد،وتر ،نقل اور قیام اللیل کہہ کر رد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔قارئین کرام یہ سمجھ لیں کہ محدثین کرام کے نزدیک اعمال کی بنیادی طو ر پر 2 اقسام پیش کرتے ہیں۔ 1-فرض 2-نفل جو اعمال فرائض میں سے نہ ہو ان کو نفل کانام دیا جاتا ہے،اور غیر فرائض میں واجب،سنت موکدہ،سنت غیر موکدہ اور مستحب شامل ہوتے ہیں۔ رات کی نماز کی متعدد رکعات احادیث کی روشنی میں: آقا کریمﷺ کا رات کی نماز میں مختلف رکعات ادا کرنا ثابت ہیں جس پر کچھ دلائل ملاحظہ کریں،یہ بھی نوٹ کریں کہ پیش کردہ روایات کے تراجم انہی غیر مقلدین کے علماء کے کیے ہوئے ہیں تاکہ مخالفین یہ بھی اعتراض نہ کرسکے کہ تراجم میں گڑھ بڑھ کی ہے۔ 13رکعات نفل ہر دو رکعت کے بعد سلام اور آخر میں وتر۔ حضرت عبداللہ بن عباسhفرماتےہیں کہ 764 حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة حدثنا غندر عن شعبة ح وحدثنا بن المثنى وبن بشار قالا حدثنا محمد بن جعفر حدثنا شعبة عن أبي جمرة قال سمعت بن عباس يقول * كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي من الليل ثلاث عشرة ركعة۔ مفہوم :نبی کریم ﷺ نے رات کو 13 رکعات نماز پڑھتے تھے۔ (صحیح مسلم1803) حضرت عبداللہ بن عباس hنے ان 13 رکعات کی تفصیل بھی بتائی ہے۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ عَنْ مَالِكٍ عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ عَنْ كُرَيْبٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ مَيْمُونَةَ وَهِيَ خَالَتُهُ فَاضْطَجَعْتُ فِي عَرْضِ وِسَادَةٍ وَاضْطَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْلُهُ فِي طُولِهَا فَنَامَ حَتَّى انْتَصَفَ اللَّيْلُ أَوْ قَرِيبًا مِنْهُ فَاسْتَيْقَظَ يَمْسَحُ النَّوْمَ عَنْ وَجْهِهِ ثُمَّ قَرَأَ عَشْرَ آيَاتٍ مِنْ آلِ عِمْرَانَ ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى شَنٍّ مُعَلَّقَةٍ فَتَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي فَصَنَعْتُ مِثْلَهُ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبهِ فَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى رَأْسِي وَأَخَذَ بِأُذُنِي يَفْتِلُهَا ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ أَوْتَرَ ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى جَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الصُّبْحَ۔ ) صحیح بخاری992صحیح مسلم1788) ترجمہ :حضرت عبداللہ بن عباسh فرماتے ہیں کہ پھر میں آپﷺ کی بائیں جناب کھڑا ہوگیا ،آپﷺ نے اپنا دائیاں ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرے کان سے پکڑتے ہوئے مجھے دائیں طرف کھڑا کرد یا،پھر آپ ﷺ نے دو رکعتیں پڑھیں،پھر دو رکعتیں پڑھیں،پھر دو رکعتین پڑھیں،،پھر دو رکعتین پڑھیں،پھر دو رکعتین پڑھیں،پھر دو رکعتین پڑھیں، پھر اسے وتر کرکے نماز پڑھی،اس کے بعد آپ نے آرام فرمایا،یہاں تک کہ آپ ﷺ کے پاس موذن آگیا،پھرآپﷺ کھڑے ہوئے اور ہلکلی سی دو رکعتین ادا کیں پھر مسجد تشریف لے گئے اور نماز فجر پڑھائی۔ کفایت اللہ سنابلی صاحب ی موشگافیاں: اس حدیث میں کیونکہ 13 رکعت کا اثبات تھا اس لیے کفایت اللہ سنابلی صاحب نے ایک دوسری روایت کا کچھ متن لیا،پھر تیسری روایت کا متن لیا اور پھر قیاس کرتے ہوئے اپنی ہی ایک تطبیق پر مطمئن ہونے کی کوشش کی ۔نہ ہی وہ تطبیق بنتی ہے اور نہ اس پر زیادہ کلام کرنے کی ضرورت ہے۔ اول: صحیح بخاری رقم الحدیث 992 میں تیرہ رکعت رات کی نماز ثابت ہے۔اب اس تیرہ رکعت نماز کے بارے میں کفایت اللہ سنابلی نے انوار التوضیح ص63 پر صحیح بخاری رقم الحدیث 117 بیان کی کہ اس میں عشاء کی رکعت کا بھی ذکر ہے۔ حدثنا آدم، قال: حدثنا شعبة، قال: حدثنا الحكم، قال: سمعت سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال:" بت في بيت خالتي ميمونة بنت الحارث زوج النبي صلى الله عليه وسلم، وكان النبي صلى الله عليه وسلم عندها في ليلتها، فصلى النبي صلى الله عليه وسلم العشاء، ثم جاء إلى منزله فصلى اربع ركعات، ثم نام، ثم قام، ثم قال: نام الغليم او كلمة تشبهها، ثم قام، فقمت عن يساره فجعلني عن يمينه، فصلى خمس ركعات، ثم صلى ركعتين، ثم نام حتى سمعت غطيطه او خطيطه، ثم خرج إلى الصلاة". )صحیح بخاری رقم الحدیث117) ترجمہ :ہم سے آدم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو شعبہ نے خبر دی، ان کو حکم نے کہا کہ میں نے سعید بن جبیر سے سنا، وہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کرتے ہیں کہ ایک رات میں نے اپنی خالہ میمونہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا زوجہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گزاری اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (اس دن) ان کی رات میں ان ہی کے گھر تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز مسجد میں پڑھی۔ پھر گھر تشریف لائے اور چار رکعت پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے، پھر اٹھے اور فرمایا کہ (ابھی تک یہ) لڑکا سو رہا ہے یا اسی جیسا لفظ فرمایا۔ پھر آپ (نماز پڑھنے) کھڑے ہو گئے اور میں (بھی وضو کر کے) آپ کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دائیں جانب (کھڑا) کر لیا، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ رکعت پڑھیں۔ پھر دو پڑھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے۔ یہاں تک کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خراٹے کی آواز سنی، پھر آپ کھڑے ہو کر نماز کے لیے (باہر) تشریف لے آئے۔ صحیح بخاری رقم الحدیث 117 میں نماز کی رکعات کا بیان 4 رکعت ،5رکعت اور 2 رکعت کا ہوا۔ ز4 رکعت عشاء کی سنت 8] رکعت کا ذکر نہیں۔بقول سنابلی صاحب راوی کا ختصار ہے۔] ز5 رکعت وتر ز2 رکعت نفل یہ نوٹ کریں کہ موصوف کفایت اللہ سنابلی صاحب5 عدد رکعات وتر تسلیم کیا ہے مگر 8 رکعت تراویح کا کہیں ثبوت نہیں۔سنابلی صاحب یہ سمجھانا چارہے ہیں کہ اس روایت میں 8 رکعت تراویح ذکر نہیں کیونکہ راوی نے اختصار سے کام لیا ہے۔ نوٹ: قارئین کرام آپ اس بحث میں 5رکعت وتر کو ذہن نشین کرلیں کیونکہ یہ نکتہ اس لیے اہم ہے کہ موصوف کفایت اللہ سنابلی صاحب اپنے کتاب انوار التوضیح ص16 پر مقدمہ میں یہ بات ترجیح دیوتے ہوئے تسلیم کرتے ہیں کہ تراویح 8 مع وتر 3،کل 11رکعات کو ہی مسنون کہتے ہیں۔اب وتر کو1 یا 5 کہنا کس طرح مسنون ہوگا؟ دوم: اب جناب کفایت اللہ سنابلی صاحب نے اس اعتراض کو رفع کرنے کے لیے الزام روایت کے راوی سعید بن جبیر یا ان کے شاگرد پر ڈال دیا کہ انہوں نے روایت میں اختصار کیا ہے اور 4 رکعت عشاء کی سند کے بعد 4 رکعت نفل بعد ذکر نہیں کیا۔ [اس مقام پر بھی قارئین کرام غور کریں کہ 5 رکعت وتر پر کوئی تبصرہ نہیں] اب موصوف نے اس 4 رکعت نفل کے ذخر نہ ہونے کو رفع کرنے کے لیے سنن نسائی الکبری رقم 1342 پیش کی{ FR 11026 } اور اس میں دو دو رکعات کی کل 8 رکعات اور 5 رکعات وتر پڑھنے کا اقرار کیا۔اس بارے میں کفایت اللہ سنابلی صاحب نے لکھا کہ حضرت عبداللہ بن عباس نےان آٹھ میں 4 ابتدائی عشاء کی رکعات کا شمار کیا۔ ز8رکعت نفل[2،2رکعت نماز] ز5 رکعت وتر کفایت اللہ سنابلی صاحب نے سنن نسائی الکبری رقم 1342 کی یہ حدیث اس لیے پیش کی کہ اس میں اگرچہ 4رکعت عشاء کی سنتوں کا ذکر نہیں ہے مگر 8 رکعت کا ذکر ہے اور یہ وہ 8 رکعت ہیں جس کو صحیح بخاری میں کسی راوی نے بیان نہیں کیا۔ اب کفایت اللہ سنابلی صاحب کے اس نکتہ سے یہ بات تو ثابت ہوتی ہے کہ دن رات صرف صحیح بخاری وصحیح مسلم کی بات کرنے والوں کا اپنا موقف ثابت نہ ہوا تو سنن الکبری النسائی کا حوالہ پیش کیا۔بالفرض کفایت اللہ سنابلی صاحب کا یہ موقف مان بھی لیں تو ادھر بھی وہی نکتہ ابھی قائم ہے کہ موصوف تو 3 وترمسنون کے قائل ہیں اور ادھر 5 وتر کا اثبات ہے۔مزید یہ کہ سنن نسائی الکبری میں بھی یہ ثابت نہیں کہ وہ 8 رکعت کس نوعیت کی تھیں؟کیا ان8 میں 4 رکعت عشاء کی سنت کے نہیں ہوسکتے؟اور یہ یاد رہے کہ خود کفایت اللہ سنابلی سونے کے بعد عشاء کی رکعات کے پڑھنے کو اپنی کتاب میں تسلیم کرتا ہے۔اب احتمالات اور ممکنات پر موصوف اپنا موقف ثابت کرتے ہیں۔جناب اہل سنت کو قیاس کرنے پر مطعون کر کے خود قیاس تو کیا احتمال کی بنیاد پر اپنا دعوی ثابت کررہے ہیں؟مگر اس قیاس باطل کے باوجود بھی آپ کا موقف ثابت نہیں ہوتا کیونکہ سنن نسائی الکبری 1342 کے متن سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ 8 رکعات بطور نفل تھے؟یا بطور عشاء کی سنت ؟ اس لیے ایسے دلائل سے اپنے حوارین کو خوش کرسکتے ہیں مگر ان کا تحقیق میدان میں کوئی حیثیت نہیں۔ حضرت زید بن خالد الجھنی رضی اللہ عنہ کی روایت: حضرت زید بن خالد الجھنیh نے بھی اسی طرح 13 رکعت بغیربغیر عشاء کی نماز اور علاوہ فجر کی سنت کی حدیث بیان کی ہے۔ وحدثنا قتيبة بن سعيد عن مالك بن أنس عن عبد الله بن أبي بكر عن أبيه أن عبد الله بن قيس بن مخرمة أخبره عن زيد بن خالد الجهني أنه قال * لأرمقن صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم الليلة فصلى ركعتين خفيفتين ثم صلى ركعتين طويلتين طويلتين طويلتين ثم صلى ركعتين وهما دون اللتين قبلهما ثم صلى ركعتين وهما دون اللتين قبلهما ثم صلى ركعتين وهما دون اللتين قبلهما ثم صلى ركعتين وهما دون اللتين قبلهما ثم أوتر فذلك ثلاث عشرة ركعة۔ ترجمہ:‏ سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ آج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز دیکھوں گا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت ہلکی پڑھیں پھر دو رکعت پڑھیں اور لمبی سے لمبی اور لمبی سے لمبی پھر دو رکعت اور کہ وہ ان سے کم تھیں پھر دو اور کہ وہ ان سے بھی کم تھیں پھر دو اور کہ وہ ان سے بھی کم تھیں پھر دو اور کہ وہ ان سے بھی کم تھیں پھر وتر پڑھا یہ سب تیرہ رکعات ہوئیں۔ )صحیح مسلم1804) کفایت اللہ سنابلی صاحب کی موشگافیاں کفایت اللہ سنابلی صاحب سے اس حدیث کو کوئی جواب نہیں ہوا،اس لیے ا اپنی کتاب انوار التوضیح ص69پر لکھتے ہیں۔ اس حدیث میں یہ صراحت نہیں کہ یہ تیرہ رکعات،سنت عشاء کے علاوہ تھیں۔ جواب: گذار ش ہے کہ علمی وتحقیق میدان میں دلائل سے بات کی جاتی ہے،ایسی باتوں دعوی کا ثبوت اور مخالفین کی دلیل کا رد نہیں ہوسکتا ہے۔ویسے بھی آپ نے پوری کتاب لکھی ہی اپنی فہم سے ممکنات اور قیاس کی وجہ سے۔پوری کتاب میں آپ نے کوئی صریح دلیل پیش نہیں کی اور اب اس روایت کو صرف اپنے قیاس کی وجہ سے رد کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔جناب پیش کردہ روایت کا جواب ہے تو عوام الناس کے سامنے پیش کریں۔ایسا ہے یا ویسا ہے، سے دعوی ہرگز ثابت نہیں ہوگا۔ سنابلی صاحب کا تطبیق دینا: کفایت اللہ سنابلی صاحب انوار التوضیح ص76 پر لکھتے ہیں۔ ہمارےنزدیک راجح اور اقرب علی الصواب بات یہی ہے کہ گیار ہ اور تیرہ رکعات سے متعلق جملہ روایات میں تطبیق کی صورت یہی ہے کہ تیرہ والی روایت میں یا تو سنت عشاء یا سنت فجر کی دو رکعات بھی شمار کی گئی ہیں۔ جواب: گذارش ہے کہ آپ نے دراصل 11 کا عدد کا ثبوت دینا ہے اس لیے 13 رکعت میں اضافی دو رکعت کے بارے میں یہ تطبیق یا وضاحت دینا چاہتے ہیں کہ یہ دو رکعت یا تو فرض عشاء کے بعد کی 2 سنتیں ہیں یا پھر فرض فجر سے پہلے 2 رکعت سنت۔مگر شاید موصوف بھول گئے کہ اگر 13 رکعت میں سے 11 کو تراویح یا قیام اللیل کو مان لیا جائے توموصوف نے خود جو روایات پیش کیں ہیں اس میں وتر کی تعداد 5 ہے۔اس طرح تو تراویح کی رکعات 6 بنتی ہیں۔جبکہ آپ مسنون 8 تراویح اور 3 وتر کے قائل ہیں۔ایک ہی دعوی کے ایک حصہ کو آپ اپنی ہی پیش کردہ روایات سے غلط ثابت کررہے ہیں۔اور اگر دعوی کے دوسرے حصہ یعنی 5 رکعت وتر کو مان لیا جائے تو پھر تراویح کی 6 رکعات مسنون تسلیم کریں گے؟حالانکہ آپ کا دعوی8رکعت تراویح اور 3 رکعت وتر مسنون کا ہے۔اس لیے ایسی دلیل اپنے لوگوں کو خوش کرنے کے لیے ضرور پیش کریں مگر یاد رہے کہ ایسی دلیل کی علمی میدان میں کوئی حیثیت نہیں۔ جب کفایت اللہ سنابلی صاحب کی پیش کردوہ روایت سے ان کی دعوی ہی ثابت نہیں ہوتا تو اس پر مزید بحث کہ مذکورہ روایت کا تعلق تہجد سے ہے یا تراویح سے؟ یا تراویح اور تہجد الگ الگ ہیں یا ایک نماز؟کوئی ضروری نہیں۔البتہ رات کی نماز کے بارے میں چند مزید روایات پیش خدمت ہیں ،جن سے یہ واضح ہوتا ہے کہ رات کی نماز میںاعمال اور وتر کی تعداد غیر مقلدین حضرات کے دعوی کے برعکس ہے۔ 13 رکعات،ہر دو رکعات کے بعد سلام، آخری پانچ رکعتیں ایک ہی تشہد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ روایت بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ ہر دو رکعات کے بعد سلام،اور آخری پانچ رکعتین ایک ہی تشہد کے ساتھ۔ وحدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، وابو كريب ، قالا: حدثنا عبد الله بن نمير . ح، وحدثنا ابن نمير ، حدثنا ابي ، حدثنا هشام ، عن ابيه ، عن عائشة ، قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم، " يصلي من الليل ثلاث عشرة ركعة، يوتر من ذلك بخمس، لا يجلس في شيء إلا في آخرها ". ترجمہ:‏‏ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعت پڑھتے پانچ ان میں سے وتر ہوتیں کہ بیٹھتے مگر ان کے آخر میں۔ )صحیح مسلم1720) اس روایت سے وتر کی تعداد5 ثابت ہوتی ہے جبکہ کفایت اللہ سنابلی صاحب نے مسنون تراویح 8 رکعت اور5 رکعت وتر کا موقف لکھا ہے۔ مزید یہ کہ موصوف پیش کردہ روایت 8رکعت،5 وتر رکعات میں کس کے بارے میں یہ کہیں گے کہ اس میں عشاء کے دوسنتیں یا فجر سے قبل کی 2 سنتیں ہیں؟اور یہ یاد رہے کہ 5 رکعت وتر میں تو کوئی تخصیص اس لیے بھی نہیں ہوسکتی کہ اس میں 5 رکعات کو ایک تشہد کے ساتھ پڑھنے کا ذکر ہے۔اس لیے یہ دلیل بھی کفایت اللہ سنابلی صاحب کے خلاف ثابت ہوئی۔ 9 رکعات،تشہد صرف آخری رکعت میں پھر ایک سے وتر بنایا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے صحیح مسلم میں روایت ہے کہ ۔۔قال قلت يا أم المؤمنين أنبئيني عن وتر رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت كنا نعد له سواكه وطهوره فيبعثه الله ما شاء أن يبعثه من الليل فيتسوك ويتوضأ ويصلي تسع ركعات لا يجلس فيها إلا في الثامنة فيذكر الله ويحمده ويدعوه ثم ينهض ولا يسلم ثم يقوم فيصلي التاسعة ثم يقعد فيذكر الله ويحمده ويدعوه ثم يسلم تسليما يسمعنا ثم يصلي ركعتين بعد ما يسلم وهو قاعد فتلك إحدى عشرة ركعة يا بني فلما سن نبي الله صلى الله عليه وسلم وأخذه اللحم أوتر بسبع وصنع في الركعتين مثل صنيعه الأول۔ ترجمہ:۔۔۔ اے ام المؤمنین! خبر دیجئے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کی۔ تب انہوں نے فرمایا کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مسواک اور وضو کا پانی تیار رکھتے تھے اور اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب چاہتا اٹھا دیتا تھا رات کو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کرتے تھے اور وضو، پھر نو رکعت پڑھتے تھے نہ بیٹھتے اس میں مگر آٹھویں رکعت کے بعد اور یاد کرتے اللہ تعالیٰ کو اور اس کی حمد کرتے اور دعا کرتے (یعنی تشہد پڑھتے) پھر کھڑے ہو جاتے اور سلام نہ پھیرتے اور نویں رکعت پڑھتے پھر بیٹھتے اور اللہ کو یاد کرتے اور اس کی تعریف کرتے اور اس سے دعا کرتے اور اس طرح سلام پھیرتے کہ ہم کو سنا دیتے (تاکہ سوتے جاگ اٹھیں) پھر دو رکعت پڑھتے اس کے بعد، بیٹھے بیٹھے بعد سلام کے۔ غرض یہ گیارہ رکعات ہوئیں اے میرے بیٹے! پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر زیادہ ہو گئی اور بعد میں گوشت آ گیا، سات رکعات وتر پڑھنے لگے اور دو رکعتیں ویسی ہی پڑھتے جیسے اوپر ہم نے بیان کیں۔ غرض یہ سب نو رکعتیں ہوئیں۔ اے میرے بیٹے! (یعنی سات وتر و تہجد کی اور دو بعد وتر کے) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ جب کوئی نماز پڑھتے اس پر ہمیشگی کرتے۔(صحیح مسلم1739) 7رکعات وتر،تشہد آخر رکعت میں حضرت عائشہ روایت بیان کرتی ہیں۔ حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا محمد بن بشر ، حدثنا سعيد بن ابي عروبة ، عن قتادة ، عن زرارة بن اوفى ، عن سعد بن هشام ، قال: سالت عائشة ، قلت: يا ام المؤمنين، افتيني عن وتر رسول الله صلى الله عليه وسلم، قالت:" كنا نعد له سواكه وطهوره، فيبعثه الله فيما شاء ان يبعثه من الليل، فيتسوك ويتوضا، ثم يصلي تسع ركعات لا يجلس فيها إلا عند الثامنة، فيدعو ربه فيذكر الله ويحمده ويدعوه، ثم ينهض ولا يسلم، ثم يقوم فيصلي التاسعة، ثم يقعد فيذكر الله ويحمده ويدعو ربه ويصلي على نبيه، ثم يسلم تسليما يسمعنا، ثم يصلي ركعتين بعد ما يسلم وهو قاعد، فتلك إحدى عشرة ركعة، فلما اسن رسول الله صلى الله عليه وسلم، واخذ اللحم اوتر بسبع، وصلى ركعتين بعد ما سلم". ترجمہ :سعد بن ہشام کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: ام المؤمنین! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وتر کے بارے میں بتائیے، تو انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مسواک اور وضو کا پانی تیار رکھتے، پھر اللہ تعالیٰ جب چاہتا رات میں آپ کو بیدار کر دیتا، آپ مسواک اور وضو کرتے، پھر نو رکعتیں پڑھتے، بیچ میں کسی بھی رکعت پر نہ بیٹھتے، ہاں آٹھویں رکعت پر بیٹھتے، اپنے رب سے دعا کرتے، اس کا ذکر کرتے اور حمد کرتے ہوئے اسے پکارتے، پھر اٹھ جاتے، سلام نہ پھیرتے اور کھڑے ہو کر نویں رکعت پڑھتے، پھر بیٹھتے اور اللہ کا ذکر اور اس کی حمد و ثنا کرتے، اور اپنے رب سے دعا کرتے، اور اس کے نبی پر درود (صلاۃ) پڑھتے، پھر اتنی آواز سے سلام پھیرتے کہ ہم سن لیتے، سلام پھیرنے کے بعد بیٹھے بیٹھے دو رکعت پڑھتے، یہ سب گیارہ رکعتیں ہوئیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر زیادہ ہو گئی، اور آپ کا جسم مبارک بھاری ہو گیا، تو آپ سات رکعتیں وتر پڑھتے اور سلام پھیرنے کے بعد دو رکعت پڑھتے تھے۔صحیح ابن ماجہ1191 7 رکعت اور چھٹی رکعت میں تشہد۔ حضرت عائشہ رضی اللہ فرماتی ہیں۔ أَنَّ عَائِشَةَ سُئِلَتْ عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: «كُنَّا نُعِدُّ لَهُ سِوَاكَهُ وَطَهُورَهُ، فَيَبْعَثُهُ اللَّهُ لِمَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَهُ مِنَ اللَّيْلِ، فَيَتَسَوَّكُ وَيَتَوَضَّأُ، ثُمَّ يُصَلِّي سَبْعَ رَكَعَاتٍ، وَلَا يَجْلِسُ فِيهِنَّ إِلَّا عِنْدَ السَّادِسَةِ، فَيَجْلِسُ وَيَذْكُرُ اللَّهَ وَيَدْعُو۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے وتر کے بارے میہں پوچھا گیا ہے تو انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریمﷺ سات رکعت وتر پڑھتے مگر چھٹی رکعت پر تشہد فرماتے تھے۔(صحیح ابن حبان2441) 5 رکعات،ان میں تشہد آخری رکعت پر حضرت عائشہ رضی اللہ بیان فرماتی ہیں۔ وحدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، وابو كريب ، قالا: حدثنا عبد الله بن نمير . ح، وحدثنا ابن نمير ، حدثنا ابي ، حدثنا هشام ، عن ابيه ، عن عائشة ، قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم، " يصلي من الليل ثلاث عشرة ركعة، يوتر من ذلك بخمس، لا يجلس في شيء إلا في آخرها ". ‏‏‏‏ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعت پڑھتے پانچ ان میں سے وتر ہوتیں کہ بیٹھتے مگر ان کے آخر میں۔ )صحیح مسلم1720) اعتراض: اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ وتر پر بھی صلاۃ الیل کا اطلاق ہوا ہے کیونکہ چند روایات اس پر پیش کی جاتی ہیں۔ کچھ احادیث ملاحظہ ہوں جن سے ثابت ہوتاہے کہ پوری صلاۃ الیل پربھی وتر کا اطلاق ہواہے۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلاَةِ اللَّيْلِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ عَلَيْهِ السَّلاَمُ: «صَلاَةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خَشِيَ أَحَدُكُمُ الصُّبْحَ صَلَّى رَكْعَةً وَاحِدَةً تُوتِرُ لَهُ مَا قَدْ صَلَّى» [صحيح البخاري 2/ 24] [امام مسلم روایت کرتے ہیں] عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ خَافَ أَنْ لَا يَقُومَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ فَلْيُوتِرْ أَوَّلَهُ، وَمَنْ طَمِعَ أَنْ يَقُومَ آخِرَهُ فَلْيُوتِرْ آخِرَ اللَّيْلِ، فَإِنَّ صَلَاةَ آخِرِ اللَّيْلِ مَشْهُودَةٌ، وَذَلِكَ أَفْضَلُ»[صحيح مسلم 2/ 520] ان دونوں احادیث میں پوری صلاۃ اللیل پر وترکااطلاق ہواہے۔ جواب: گذارش ہے کہ غیر مقلدین نے 11 کا عدد ثابت کرنے کے لیے ہر اصول کی نفی ضرور کرنی ہے۔جس روایات سے وتر کا5،7،یا9 عدد ثابت ہوتا ہے۔اس کو یہ لوگ قیام الیل کے ضمن میں لانے کی کوشش کرتے ہیں۔بالفرض اگر وتر پر قیام الیل یا قیام الیل پر وتر کا اطلاق مان لیا جائے تو پھر ہماری پیش کردہ روایت میں 5،7،9 وتر پڑھنے کا طریقہ کار ہے وہ آپ کے وضع کردہ اصول کو غلط ثابت کرتا ہے۔ان روایت میں یہ ثابت ہے کہ 9 رکعات میں آخری رکعت میں تشہد کیا،7رکعات وترمیںتشہد آخر رکعت میں،7 رکعات میں چھٹی رکعت میں تشہد،5 رکعات میں تشہد آخری رکعت پر ۔ اب پیش کردہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایات تو آپ کے اعتراض اور دعوی دونوں کے برخلاف ہیں۔مزید یہ بھی کہ ان روایات میں تو جس طرح 9،یا7یا6یا5 عدد وتر اور اس کا طریقہ کار ہے وہ بھی موصوف کے موقف کے خلاف ہے کیونکہ اول تو موصوف کا دعوی ہے کہ مسنون تراویح 8 اور 3رکعت ہے۔جبکہ ان روایت میں تو وتر کی تعداد 5،6،7،9 ایک ہی سلام کے ساتھ ثابت ہے اور اگر ان وتر والی رکعات سے قیام الیل کی دلیل لینی ہے تو پھر ان رکعات کے پڑھنے کا طریقہ کار ہی آپ کے خلاف ہے۔ اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ کفایت اللہ سنابلی کی پیش کردہ روایت سے 11 رکعت تراویح مسنون ہونا ثابت نہیں ہوتا۔ رات کی نماز کی تعداد؟ یہ نکتہ بھی بہت اہم ہے کہ نبی کریمﷺ کی رات کی نماز چاہے رمضان ہو یا غیر رمضان وہ کتنی ہوتی تھی؟ تحقیق سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کفایت اللہ سنابلی کی پیش کردہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں جو 11 رکعت سے زیادہ نہ پڑھنے کی روایت ہے اس پر دیگر صحابہ کرام نے مختلف روایات بیان کی ہیں۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے صحیح مسلم میں 13 رکعت کی نماز ثابت ہے جس میں نہ تو عشاء کی نماز شامل ہے اور نہ ہی فجر سے قبل 2 رکعات سنت۔اس پر روایت پر گمان کے طور پر کوئی حکم لگانا یا قیاس کرنا غیر مقلدین حضرات کے اپنے ہی منہج کے خلاف ہے۔حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے صحیح مسلم میں روایت ہے کہ جس میں آقا کریمﷺ سے کوئی معین تعداد کی نماز کی نفی ہوتی ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت عبداللہ بن عمرسے مروی ہے۔ حدثنا محمد بن المثنى ، حدثنا محمد بن جعفر ، حدثنا شعبة ، قال: سمعت عقبة بن حريث ، قال: سمعت ابن عمر يحدث، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: " صلاة الليل مثنى مثنى، فإذا رايت ان الصبح يدركك فاوتر بواحدة "، فقيل لابن عمر: ما مثنى مثنى؟ قال: ان تسلم في كل ركعتين. ‏‏‏ترجمہ:‏ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات کی نماز دو دو رکعت ہے پھر جب تجھے معلوم ہو کہ صبح آ پہنچی تو ایک رکعت وتر پڑھ لے۔“ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ دو دو رکعت کے کیا معنی ہیں؟ انہوں نے کہا: ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرتا جائے۔صحیح مسلم1763 اس مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا کہ رات سے لے کر صبح تک قیام الیل میں نبی کریم ﷺکو جتنا وقت بھی میسر ہوتا اس میں 2،2 رکعات کر کےنماز پڑھتے،اور ہر دو رکعات کے بعد سلام پھیرتے۔اس حدیث سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ وقت میسر کے تحت قیام اللیل کی ادائیگی میں رکعات کا اضافہ ہوتا رہتا،جن صحابہ نے جو دیکھا اس کو بیان کر دیا۔مگر یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ نبی کریمﷺ سے علی الاطلاق8یا 11 کا تعین کرنا اور پھر اس تعداد کو اپنے مسلکی حمایت میں ہی مسنون کہنے پر بضد ہونا مناسب عمل نہیں۔ [صحیح مسلم رقم الحدیث 1763 میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کا یہ حصہ کہ " فإذا رايت ان الصبح يدركك فاوتر بواحدة پھر جب تجھے معلوم ہو کہ صبح آ پہنچی تو ایک رکعت وتر پڑھ لے"بھی بہت اہم ہے کیونکہ یہ روایت اس بات کی بھی وضاحت کر رہی ہے کہ ایک رکعت وتر پڑھنا کن معنوں اور کس پس منظر میں ہے،اس کی مزید تفصیل علامہ فقیر محمد جہلمی صاحب کی 3رکعات وتر والی کتاب کی تحقیق میں پیش کی جائیگی۔ان شاء اللہ۔] یہ بات یاد رہے کہ مسنون تراویح کی تعداد کا تعیین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ہوتا ہے کیونکہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جیل القدر صحابی ہونے کی حیثیت سے ان افعال کا زیادہ مشاہدہ رکھتے تھے اور انہی کے فیصلہ پر دیگر صحابہ کرام نے اتفاق کیا اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے صحیح اسانید سے 20 رکعت تراویح ثابت ہے۔ پھر جس تابعی یا تبع تابعی نے رات کےنوافل میں اضافہ کیا ،انہوں نے 20 رکعت کو مسنون مان کر ہی اس پر نوافل زائدہ کی ادائیگی کی جس کہ وجہ علامہ عینی نے البنایہ اور دیگر علماء نے پیش کی ہے۔ اس تحقیق سے یہ ثابت ہوا کہ ایک تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے ایک طرق کو پیش کر کے دیگر روایات کو نظر انداز کرنا علمی خیانت ہے۔پھر دیگر روایات سے جو رکعات اور افعال ثابت ہوئے اس پر غیر مقلدین حضرات کا بالکل ہی عمل نہیں ہے۔کفایت اللہ سنابلی صاحب نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ والی حدیث پر پیش کیے جانے والے احتمالات کے جوابات میں بہت زور لگایا مگر اس کا کوئی فائدہ نہیں۔
  8. 1 point
    اسلام علیکم بھائی موڈرہٹ ٹیم بھی اپ ڈیٹ ہونی چاہیے کچھ بھائی تو کافی عرصہ سے دیکھے ہی نہیں گے فورم۔پر
  9. 1 point
    Welcome to post on Hadith from Mishkat ul Masabeeh. This is Hadith # 203 from Kitab ul Ilm aur is ki ilm ki fazilat Source : http://eazyislaminfo.blogspot.com/search/label/Hadith
  10. 1 point
    Jazak Allah khair Chand hawalezat ke scan page agar mil jaye to aur meharbani hogi jazak Allah
  11. 1 point
    وباء میں اذانیں دینے پر اعتراض کا علمی و الزامی جواب دنیا اس وقت جس عالمی وبا یعنی کورونا وائرس کی لپٹ میں ہے۔ ہر ممکن احتیاطی تدابیر اپنائی جا رہی ہیں۔ اللہ کریم ﷻ سے دعائیں مانگی جا رہی ہیں۔ اور توبہ و استغفار کی جا رہی ہے۔ کیونکہ وبا و بلا و عذاب میں اذان دینا ایک مستحب امر جو اللہ کریم ﷻ کے غضب کو دور کرتا ہے لہذا مسلمان اپنے اپنے علاقوں میں اللہ کی توحید اور نبی کریم ﷺ کی رسالت کی گواہی اذان کے ذریعے بلند کر رہے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جو خود کو مسلمان کہتا ہے وہ اس عمل کو نہ صرف سراہتا بلکہ دعا کرتا کہ اللہ کریم ﷻ اپنے اس ذکر(یعنی اذان) کے صدقے اس وباء کو ٹال دے۔ میں ان حالات میں اس چیز پر گفتگو نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن افسوس کیساتھ کچھ لوگوں نے اذان دینے والے مسلمانوں پر فتویٰ بازی شروع کر دی اور یہ کہنا شروع کر دیا کہ معاذ اللہ وباء میں اذنیں دینا جہالت ہے ، بدعت ہے اور بدعتی جہمنی ہے۔ وبا میں اذنیں دینا ثابت نہیں۔ تو آئیے ملاحظہ کیجئے۔ کہ جب وباء عذاب کی صورت میں آ جائے تو اذان دینا مستحب و جائز ہے۔ *اذان سے وبا کے عذاب کا ٹَلنا* حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے رویت ہے کہ حضور سیّدِ عالَم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: "اِذَا اَذَّنَ فِیْ قَرِیَةٍ اٰمَنَھَا اللہُ مِنْ عَذَابِهٖ فِیْ ذٰلِكَ الْیَوْمِ" جب کسی بستی میں اذان دی جائے تو اللہ تعالی اس دن اسے اپنے عذاب سے امن دے دیتا ہےـ [المعجم الکبیر مرویات انس بن مالك، جلد 1، صفحہ257، حدیث:746، مطبوعہ المکتبة الفیصلیه بیروت] یہی وجہ ہے کہ مسلمان اس وبائی عذاب کو ٹالنے کیلئے فرمانِ مصطفٰی ﷺ کے مطابق اذنیں دے رہے ہیں۔ *وبا کی وحشت دور کرنے کیلئے اذان* ابونعیم و ابن عساکر حضرت ابوھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے راویت کرتے ہیں کہ حضور سرور عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: نَزَلَ آدَمُ بِالْھِندِ فَاسْتَوْحَشَ فَنَزَلَ جِبْرَئِیْلُ عَلَیْه الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام فَنَادیٰ بِالْاَذَاَنِ یعنی: جب آدم علیہ الصلاۃ والسلام جنت سے ھندوستان میں اترے انہیں گھبراہٹ ہوئی تو جبرئیل علیہ الصلاۃ والسلام نے اتر کر اذان دی۔ [حلیة الاولیاء مرویات عمرو بن قیس الملائی ، جلد 2، صفحہ 107، رقم:299 ، مطبوعہ دارالکتاب العربیہ بیروت] مسند الفردوس میں حضرت جناب امیرُ المومنین مولٰی المسلمین سیدنا علی مرتضی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم سے روایت ہے: قَالَ رَایٰ النَّبِیُّ صَلّٰی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْهِ وَسَلَّم حُزِیْناً فَقَالَ یَا ابْنَ اَبِیْ طَالِبٍ اِنِّیْ اَرَاكَ حُزِیْناً فَمُرْ بَعْضَ اَھْلِكَ یُؤَذِّنُ فِیْ اُذُنِكَ فَاِنَّهٗ دَرْءُ الْھَّمِ یعنی: مولا علی کہتے ہیں مجھے حضور سیّدِ عالَم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے غمگین دیکھا ارشاد فرمایا: اے علی! میں تجھے غمگین پاتا ہوں اپنے کسی گھر والے سے کہہ کہ تیرے کان میں اذان کہے، اذان غم وپریشانی کی دافع ہے۔ [مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوہ المصابیح باب الاذان ، جلد 2، صفحہ 149، مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان] اذان دینے سے جہاں وبا سے امان ملتا ہے وہاں وحشت بھی دور ہوتی ہے۔ لہذا اس ثابت شدہ امر کو بدعت و جہالت کہنا بہت بڑی زیادتی ہے۔ اور مانعین اسکے ناجائز و بدعت ہونے پر ایک بھی دلیل پیش نہیں کر سکتے۔ *محدث وھابیہ کی گواہی* صاحبو ! مانعین کہتے ہیں کہ فرض نماز کے علاوہ اذان دینا کہیں سے بھی ثابت نہیں اور بدعت و جہالت ہے۔ آئیے فرض نماز وں کے علاوہ اذانوں کا ثبوت ہم انہی کے محدث سے پیش کرتے ہیں۔ وھابی مذھب کے محدث و انکے مجدد مولوی نواب صدیق حسن خان بھوپالی لکھتے ہیں کہ: ”زید بن اسلم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ بعض معاون پر والی تھے۔ لوگوں نے کہا یہاں جن بہت ہیں۔ کثرت سے اذانیں (ایک ہی) وقت پر کہا کرو ، چنانچہ ایسے ہی کیا گیا اور پھر کسی جن کو وہاں نہ دیکھا“ [کتاب الدعاء والدواء ، صفحہ 76، مطبوعہ اسلامی کتب خانہ لاھور] وھابیہ کے محدث نے اس بات کو تسلیم کیا کہ نمازوں کے علاوہ بھی کثرت کیساتھ اکٹھی اذانیں دینے سے بلائیں بھاگ جاتی ہیں۔ تو کیا فتویٰ لگے گا آپکے محدث بھوپالی پر ؟؟ وھابیہ کے یہی محدث بھوپالی اپنی کتاب میں ھیڈنگ دے کر لکھتے ہیں ”مشکلات سے نکلنے کیلئے“ پھر اس عنوان کے تحت لکھتے ہیں کہ: ”حضرت علی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے مجھ کو مہموم (پریشان) دیکھ کر فرمایا کہ اپنے گھر والوں میں سے کسی کو حکم دے کہ وہ تیرے کان میں اذان کہہ دیں کہ یہ دواءِ ھم (یعنی پریشانی کی دواء) ہے چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا مجھ سے غم دور ہو گیا۔“ [کتاب الدعاء والدواء ، صفحہ 76، مطبوعہ اسلامی کتب خانہ لاھور] *مشکلات ٹالنے کیلئے اذان* تو وھابیہ کے محدث نے بھی تسلیم کیا کہ اذان سے غم دور ہوتا ہے۔ اور مشکلات ٹَلتی ہیں، تو سوچو جب مسلمانوں کی اذانوں کی آواز اتنے لوگوں کے کانوں میں پڑی تو کتنا سکون ملا ہو گا۔ اگر نماز کے علاوہ اذان دینا جہالت و بدعت ہے تو کیا حکم لگے گا آپکے محدث بھوپالی صاب پر ؟؟ *مرگی کے علاج کیلئے اذان* وھابیہ کے مجدد بھوپالی نے اپنی کتاب میں عنوان قائم کیا جسکا نام ”مرگی کا علاج“ اسکے تحت وہ لکھتے ہیں کہ: ”بعض علماء نے مرگی والے کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہی تھی ، وہ اچھا ہو گیا۔“ [کتاب الدعاء والدواء ، صفحہ 77، مطبوعہ اسلامی کتب خانہ لاھور] مزید عنوان دیا ”راستہ بھول جانے کا علاج“ اسکے تحت لکھا کہ: ”بعض علماء صالحین نے کہا ہے کہ آدمی جب راستہ بھول جائے اور وہ اذان کہے تو اللہ اسکی رہنمائی فرماوے گا۔“ [کتاب الدعاء والدواء ، صفحہ 76، مطبوعہ اسلامی کتب خانہ لاھور] مزید اسی کتاب میں آگے چل کر لکھتے ہیں کہ: ”جسکو شیطان خبطی کر دے یا اسکو آسیب کا سایہ ہو.... تو اسکے کان میں سات بار اذان کہےـ“ [کتاب الدعاء والدواء ، صفحہ 76،105، مطبوعہ اسلامی کتب خانہ لاھور] تو ان دلائل سے ثابت ہوا کہ مصیبت و پریشانی کے وقت اذانیں دینے سے مصیبت وبائیں اور پریشانیاں دور ہوتی ہیں۔ بس اسی جذبے تحت مسلمانوں نے کراؤنا وائرس جیسی وباء سے جھٹکارے کیلئے اللہ کے ذکر یعنی اذان کی تدبیر کی تاکہ اللہ کریم ﷻ اپنے ذکر کی برکت سے اس آفت کو ٹال سے اور مسلمانوں کو خوف وہراس سے نکال دے۔ لیکن کچھ لوگ برا مان گئے نہ صرف برا مانے بلکہ اذانوں کا یہ سلسلہ دیکھ کر مسلمانوں کو نہ صرف بدعتی بلکہ جاھل کہنا شروع کر دیا۔ الحمد للہ ہم نے اتمام حجت کیلئے نہ صرف احادیث سے اسکے جواز کے شوھد پیش کیئے بلکہ انکے اس محدث کے حوالے بھی پیش کیئے جنکے بارے میں انہوں نے لکھا کہ وہ رب سے ہمکلام ہوا کرتے تھے۔ یقیناً اذان سن کر شیطان ہی کو تکلیف ہوتی اور مسلمانوں کو جاھل کہتا ہے کیونکہ اذان سن کر کرشیطان 36 میل دور بھاگ جاتا ہے۔ امام مسلم رحمۃ اللّٰہ علیہ روایت کرتے ہیں: عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ الشَّيْطَانَ إِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ ذَهَبَ حَتَّى يَكُونَ مَكَانَ الرَّوْحَاءِ» قَالَ سُلَيْمَانُ: فَسَأَلْتُهُ عَنِ الرَّوْحَاءِ فَقَالَ: «هِيَ مِنَ الْمَدِينَةِ سِتَّةٌ وَثَلَاثُونَ مِيلًا» یعنی: حضرت جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : بلاشبہ شیطان جب اذان سنتا ہے تو ( بھاگ کر ) چلا جاتا ہے یہاں تک کہ روحاء کے مقام پر پہنچ جاتا ہے ۔ ‘ سلیمان ( اعمش ) نے کہا : میں نے ان ( اپنے استاد ابو سفیان طلحہ بن نافع ) سے روحاء کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : یہ مدینہ سے چھتیس میل ( کے فاصلے ) پر ہے ۔ [صحیح مسلم، کتاب الصلاۃ، باب فضل الأذان... إلخ، الحدیث:854، مطبوعہ دار السلام ریاض سعودیہ] لہذا کم از کم مسلمان کو اذان سن کر خوش ہونا چاہئے اور آفت ٹلنے کی دعا کرنی چاہئے نہ کہ پڑھنے والوں کو جاھل و بدعتی کہہ اپنا رشتہ شیطان سے ظاھر کرنا چاہئے۔ اللہ کریم ﷻ سے دعا ہے کہ امت کو اس وبا سے نجات عطا فرمائے اور حق کو سمجھنے کہ توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ النبی الکریم الامین ﷺ مدینے پاک کا بھکاری محمداویس رضاعطاری Sent from my Redmi Note 5 using Tapatalk
  12. 1 point
    اب ھم نے الجہدالمقل اور ابن تیمیہ کے عکس پیش کئے اور پھر لکھا کہ :۔ آپ نے (المثبتین القدرۃ و صفاتہ) لکھا ہے ۔ جبکہ محمود الحسن نے (المثبتین للقدرۃ و نفاتہ) لکھا۔ مگر ابن تیمیہ نے (المثبتین للقدر و نفاتہ) لکھا تھا۔ کہاں قدر وتقدیر کی بات اور کہاں اس کو قدرت بنا ڈالنا؟ بندوں کے ظلم وقبائح کا خالق ھونے کی بات کو تبدیل کر کے کیا سے کیا بنا دیا گیا!!! پھر "قال الجمہور ان الظلم مقدور" کی پیوند کاری اس پر مستزاد ھے۔ وہ پیوند کاری محمود الحسن نے ابن تیمیہ کی عبارت میں جھوٹ بول کر اضافہ کیا اور دیوبندی مناظر نے محمود الحسن کی نقل میں ابن تیمیہ پر جھوٹ بول دیا ۔
  13. 1 point
    یا جنید یا جنید کہنے والے واقعے پر اعتراضات کا علمی و تحقیقی محاسبہ ۔۔ جدید ایڈیشن ۔۔۔اس ایڈیشن کے آخر میں اہم حوالوں کے اسکینز بھی لگائے گے ہیں ۔ طالب دعا : احمد رضا قادری رضوی 26.03.2020 بروز جمعۃ المبارک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سکرایب سے ڈاون لوڈ کرنے کے یہ لنک https://www.scribd.com/document/453502065/Al-Burhan-Part-1-Ya-Janad-2020-Final یہاں سے ڈان لوڈ کیجیے AL BURHAN (PART 1 YA JANAD)2020 FINAL.pdf
  14. 1 point
    ASSLAM O ALYKUM
  15. 1 point
    1 ۔ علامہ خفاجی کے حوالے سے آپ نے (لا القدرۃ) کی رٹ لگاتے رہے مگر جب ھم نے عبارت سے آئینہ دکھایا خود ہی حقیقتِ ظلم کو قدرت الٰہی سے لا یتصور کہہ کر لاتعلق مان گئے ۔ اور محال عقلی اور کیا ھوتا ھے!! ھم نے علامہ خفاجی کی عبارت پیش کی جس میں خلف کو ممتنع لکھا تھا اور ساتھ ہی نقص اور منافی الوھیت بھی لکھا تھا جس سے ممتنع بالغیر کی تاویل بھی نہیں چل سکتی تو جناب منقار زیرِ پر ھو گئے 2 ۔ مسائرہ ومسامرہ کا عکس تم نے پیش کیا تو اس میں صاحبِ عمدہ علامہ نسفی حنفی کا قول ھے کہ اللہ تعالیٰ کو ظلم و سفہ و کذب پر قادر ھونے سے وصف نہ کیا جائے اور معتزلہ کے نزدیک وہ یہ سب کر سکتا ہے۔ علامہ نسفی کی بات پر بحث کرتے ہوئے علامہ کمال ابن الھمام حنفی نے کہا (کانہ انقلب مذھب المعتزلہ) (لگتا ھے کہ اس نے معتزلہ کا مذھب اُلٹ بیان کیا)۔ حالانکہ یہ کہنا تب درست ھوتا جب سب معتزلہ کا ایک ھی قول ھوتا جبکہ مزدار راہبِ معتزلہ کا قول مشہور ھے ۔ اور امام فخر الدین رازی نے بھی معتزلہ کا یہی مذھب بتایا ہے ۔ یونہی زیرِ بحث(ظلم،سفہ وکذب کر سکنے کی) بات کو مذھب اشاعرہ (مغفرت مشرکین کا ممکن بالذات اور محال بالغیر ھونا) کے الیق بتانا بھی اشاعرہ کا مذھب بتانا نہیں بلکہ ان کا لازم المذھب بتانا ہے ۔ اسی کتاب کے صفحہ 60 پر ھے کہ اشاعرہ اور ان کے غیر کا اس بات میں کوئی اختلاف نہیں کہ جو چیز بندوں کے حق میں وصف نقص ھے تو باری تعالیٰ اس سے منزہ ھے وھو محال علیہ تعالیٰ والکذب نقص فی حق العباد ۔ اسی کتاب کے صفحہ 239 پر عقیدہ اہل سنت لکھا کہ : یستحیل علیہ سبحانہ سمات النقص کالجہل والکذب۔ اللہ تعالیٰ پر عیب کی نشانیاں جیسے جہل اور کذب محال ہیں۔ 3 ۔ شرح مواقف :331 پر خوارج و معتزلہ کا اعتراض لکھا کہ کبیرہ گناہ کی معافی سے خلف فی الوعید اور کذب فی الخبر لازم آتا ہے جو محال ہے ۔ اس پر فرمایا کہ وعید میں سزا لازمًا ھونے کی بات نہ تھی، واقع ھو سکنے کی بات تھی ۔ سزا لازم ھونے کی بات کی خلاف ورزی سے خلف وکذب لازم آ سکتا تھا ۔ اب ان دونوں کا جواز لازم نہیں آتا ۔ اور وہ بھی محال ھے۔ کیوں کہ ھم کہتے ہیں کہ اس ( یعنی صاحب ِ کبیرہ کی معافی)کا محال ھونا ممنوع ہے اور کیسے نہ ھو جبکہ یہ دونوں باتیں (ظاھری خلف وعید اور صورتِ کذب) ممکنات سے ہیں اور باری تعالیٰ کی قدرت میں شامل ہیں ۔ پھر اس بات کو اگر تم حقیقت میں کذب باری مانتے ھو تو تم وقوعِ کذبِ باری کے قائل ھوئے اور وقوع کذب باری کی تکفیر کر کے تم نے اپنی ھی تکفیر کی ۔ پھر اسی شرح مواقف:114 میں ھے کہ انہ تعالیٰ یمتنع علیہ الکذب اتفاقاً ۔الله تعالیٰ پر جھوٹ بالاتفاق محال ہے (قبیح یا نقص وغیرہ ھونے کی وجہ سے)۔ پھر اسی شرح مواقف:413 میں ھے کہ معتزلہ مزداریہ کا موقف ہے کہ الله قادر علیٰ ان یکذب و یظلم ، ولو فعل لکان الھا ظالما۔ تعالی الله عما قالہ علوا کبیرا۔ یعنی اللہ جھوٹ بولنے اور ظلم کرنے پر قادر ہے، اگر ایسا کرے گا تو خدا جھوٹا اور ظالم ھو جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کی کہی ھوئی باتوں سے بہت بلند ھے۔ اب معتزلی مزداروں اور دیوبندی مرداروں میں کیا فرق رہ گیا ہے؟ نام نہاد چار صریح حوالوں پر کلام :1 ۔ کمال ابن الھمام:- مسائرہ کی زیربحث عبارت میں اشاعرہ کا مذھب مذکور نہیں بلکہ ان کے مذھب کے الیق لکھا اور یہ ظاھر بات ہے کہ لازم المذھب لیس بمذھب ۔ 2۔ حاشیہ سیالکوٹی کی زیر بحث عبارت کے بعد والی عبارت میں علم و صدق سمیت کسی بھی صفتِ کمال کی نفی کو ایسا ممتنع بتایا جیسے ذات کی نفی۔ یہ عبارت تمہاری پیش کردہ بے ربط عبارت سے معارض بھی ھے اور متاخر بھی ۔ ذات کی نفی محال عقلی ھے یا محال بالغیر ھے؟ ۔ 3۔ شرح المواقف۔(ھما من الممکنات) میں خلف وعید اور اس سے متعلقہ "کذب" مراد ہیں۔ آپ واضح کریں کہ خلف ِ وعید عقلاً ممکن اور شرعاً محال ہے یا شرعاً بھی ممکن ہے اور محض ممکن ہے یا واقع بھی ھو گا؟ اور خلف وعید سے متعلقہ کذب کا بھی وہی حکم ھے یا نہیں؟ ۔ 4۔ مسلم الثبوت کے یہ جناب کے پیش کردہ محشی کون ہیں؟ " اگر جھوٹے نبی کے ہاتھ پر معجزہ ظاہر کرنا ممکن بالذات مانتے ہو تو کیا اسے محال بالغیر بھی مانتے ھو یا نہیں؟ اگر محال بالغیر مانتے ھو تو وہ "غیر" کیا ھے؟ وہ الله کا کذب لازم آنا ھے۔ اگر کذب بھی ممکن بالذات ھے تو ایک ممکن بالذات دوسرے ممکن بالذات کو محال بالغیر کیسے بنا سکتا ہے، اس کے لئے تمہیں ماننا پڑے گا کہ کذب الله تعالیٰ کے لئے محال بالذات ھے ۔ کب تک ابن حزم اور مزدار کی پیروی کرتے رہو گے؟
  16. 1 point
    وقوع کذب باری کا قول دیوبندی کلاموں سے ثابت ھے:۔ ۔ 1۔ سرفراز کے مطابق : معبود بڑے بڑے گناہ بخش سکتا ہے مگر نہیں بخشے گا کیونکہ وقوع کذب ھو جائے گا ۔ ۔ 2۔ شئی( تین میں سے ایک زمانے میں ) فی الجملہ موجود تو ان الله علی کل شئی قدیر سے جھوٹ بولنے پر قدرت تبھی مانی جائے گی جب ایک زمانے میں کذب موجود و واقع مانا جائے ۔ ۔ 3۔ خلف وعید اگر کذب ھے تو خلف وعید کا امکان ماننا نہیں بلکہ وقوع ماننا مختلف فیہ ھو گا۔ ۔ 4۔ قدرۃ علی القبائح ماننے والے محمود الحسن نے ترجمہ میں لکھا کہ رسولوں نے گمان کیا کہ (اللہ کی طرف سے)ان سے جھوٹ بولا گیا ۔ وقوع کذب باری کا ظن رسولانِ گرامی سے؟؟
  17. 1 point
    Warning Hanfi Deobandi Sahib achay Alfaz ka istaymal krean ager koi baat krni ha tow scane page laga kr kia krean ..... اس ٹاپک کو لاک کیا کیا جارہا ہے حنفی گروپ صاحب اپنے تمام پوائنٹ کو اکھٹا ایک جگہ کر کے مجھے میسیج کردیں میں ٹاپک کھول دوں گااور اس کا جواب بھی اردو رسم الخت میں پوسٹ لر دوں گاں
  18. 1 point
    میرے پاس تو آپ کا بھی علاج نہیں ہے آپ پوائنٹ اکھٹے کر دو جواب میں لکھ دوں گا اردو میں
  19. 1 point
    جاہل کون ہے وہ سب جانتے ہیں تھانوی لعین کافر تھا اسکے کفر کے لیے اسکی باقی عبارات ہی کافی ہے اسلیے جاہل کا طعنہ کسی اور کو دیں سعیدی صاحب نے کہاں رجوع کیا؟؟کس غلطی کو مانا وہ بھی پیش کریں
  20. 1 point
  21. 1 point
    اس کتاب کا حاشیہ حمدی عبدالمجید سلفی نے لکھا ہے اس نے بھی وہی حوالہ دیا ہے امام ہیثمی کا اس نے بھی نئی کوئی بات نہیں کی۔ امام ہیثمی کی بات کا جواب اوپر ہو چکا ہے کیونکہ اس میں عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر مجہول راوی ہے اور یہ صحیح حدیث کے رجال میں سے نہیں ہے اور نہ ہی یہ ثقہ ہے۔
  22. 1 point
    ایک بات سات کتابوں میں لکھی ہوئی ہے اسی بات کا ہم کئی بات تحقیقی رد کر چکے ہیں جن کا جناب نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ارے میاں ایک ضعیف روایت ساتھ تو کیا لاکھ کتب میں ہو وہ ضعیف رہتی ہے اور وہ ایک ہی حوالہ رہتا ہے باقی اس کو کتب میں نقل کرنے سے نئی روایت نہیں بن جاتی۔ الحمدللہ جناب نے کوئی بھی نئی بات نہیں کی وہی پرانی روایت پیش کی جن کا ہم پہلے جواب دے چکے ہیں لیکن اب کی بار کتب اور تھیں لیکن روایت وہی پرانی تھی۔ لگتا ہے یہی ضعیف روایت ہی جناب کی کل کائنات ہے۔ جناب کے تمام دلائل کا رد کیا جا چکا ہے کوئی نئی بات ہو تو کریں پرانی روایات کو کتب بدل بدل کر پیش نہ کریں کیونکہ ان کاجواب پہلے ہو چکا ہے۔ شکریہ
  23. 1 point
    اس میں بھی وہی عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر مجہول راوی ہے جس کا پہلے جواب دیا چکا ہے جناب یہ بھی وہی پرانی روایت ہے جب کا تحقیقی جواب ہم اوپر دےآئے ہیں جس کا جناب نے ابھی تک جواب نہیں دیا لیکن اسے پھر پوسٹ کر دیا ہے یہ انتہائی غیر مناسب رویہ ہے جناب کا
  24. 1 point
    ارے جناب یہ کوئی نیا حوالہ نہیں وہی پرانی روایت ہے لیکن اس میں ہم نے پہلے نشان دہی کر دی تھی کہ اس میں عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر مجہول راوی ہے لیکن جناب اس کا جواب نہیں دیا پھر اسے دوبارا پوسٹ کر دی ہے اور سمجھ رہے ہیں کہ یہ نیا حوالہ ہے ارے میاں پوسٹر بنانے سے پہلے پڑھ بھی لیا کرو غور سے۔ اب جناب آپ پر لازم ہے اس راوی کی توثیق پیش کریں جمہور ائمہ اہل سنت سے؟؟
  25. 1 point
    تو ہم بھی اسی خلیفہ راشدکے بیٹے رضی اللہ عنہما کی صلح پر قائم ہیں اس لئے یہ باتیں اپنے پاس رکھے ہیں ہمیں نہ بتائیں۔ باقی ہم بنا کسی تحقیق کسی کو کیسے قاتل مان لیں ؟؟ کیا شریعت میں بنا دلیل کے کسی کو قاتل کہا جا سکتا ہے؟؟ ان سب حوالہ جات کے اوپر جواب دیئے جا چکے ہیں ان کو پھر پوسٹ کر دیا ہے حیرت ہے تھوڑی ہمت کریں جو ہم نے ان حوالہ جات کا تحقیقی طور پر جو رد کیا ہے ان کا جواب تحریر کر کے پوسٹ کریں ورنہ ان کو دوبارہ پوسٹ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔
  26. 1 point
  27. 1 point
  28. 1 point
    ارے مزے کی بات یہ ہے اس ضعیف روایت میں خود حضرت ابوالغادیہ کے قصد قتل کا روایت میں ذکر ہی نہیں ہے بلکہ افسوس کا ذکر ہے۔ اور جو قتل خطاء میں ہو جاتے ہیں ان کے بارے میں قرآن فرماتا ہے۔ ﴿وَما كانَ لِمُؤمِنٍ أَن يَقتُلَ مُؤمِنًا إِلّا خَطَـًٔا وَمَن قَتَلَ مُؤمِنًا خَطَـًٔا فَتَحريرُ رَقَبَةٍ مُؤمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلىٰ أَهلِهِ إِلّا أَن يَصَّدَّقوا فَإِن كانَ مِن قَومٍ عَدُوٍّ لَكُم وَهُوَ مُؤمِنٌ فَتَحريرُ رَقَبَةٍ مُؤمِنَةٍ وَإِن كانَ مِن قَومٍ بَينَكُم وَبَينَهُم ميثـٰقٌ فَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلىٰ أَهلِهِ وَتَحريرُ رَقَبَةٍ مُؤمِنَةٍ فَمَن لَم يَجِد فَصِيامُ شَهرَينِ مُتَتابِعَينِ تَوبَةً مِنَ اللَّهِ وَكانَ اللَّهُ عَليمًا حَكيمًا ﴿٩٢﴾ وَمَن يَقتُل مُؤمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزاؤُهُ جَهَنَّمُ خـٰلِدًا فيها وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذابًا عَظيمًا ﴿٩٣﴾... سورة النساء "کسی مومن کو دوسرے مومن کا قتل کر دینا زیبا نہیں مگر غلطی سے ہو جائے (تو اور بات ہے)، جو شخص کسی مسلمان کو بلا قصد مار ڈالے، اس پر ایک مسلمان غلام کی گردن آزاد کرنا اور مقتول کے عزیزوں کو خون بہا پہنچانا ہے۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ وه لوگ بطور صدقہ معاف کر دیں اور اگر مقتول تمہاری دشمن قوم کا ہو اور ہو وه مسلمان، تو صرف ایک مومن غلام کی گردن آزاد کرنی لازمی ہے۔ اور اگر مقتول اس قوم سے ہو کہ تم میں اور ان میں عہد و پیماں ہے تو خون بہا لازم ہے، جو اس کے کنبے والوں کو پہنچایا جائے اور ایک مسلمان غلام کا آزاد کرنا بھی (ضروری ہے)، پس جو نہ پائے اس کے ذمے دو مہینے کے لگاتار روزے ہیں، اللہ تعالیٰ سے بخشوانے کے لئےاور اللہ تعالیٰ بخوبی جاننے والا اور حکمت والا ہے" اب جناب بتائیں جناب کی ضعیف روایت سے بھی حضرت ابوالغادیہ (معاذاللہ ) جہنمی نہیں بنتے کیونکہ روایت میں قصدا قتل کا ذکر ہی نہیں اور قصدا قتل نہ کرنے بارے میں اوپر قرآن کی آیت موجود ہے۔ اس کے علاوہ بیعت رضوان کے صحابہ سے اللہ پہلے سے راضی ہے تو پھر کچھ بچا ہی نہیں ہے بحث پر۔ لَقَدْ رَضِیَ اللَّہُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُونَکَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوبِہِمْ فَأَنزَلَ السَّکِیْنَةَ عَلَیْہِمْ وَأَثَابَہُمْ فَتْحاً قَرِیْباً (الفتح : ۱۸) اور حضرت ابوالغادیہ بیعت رضوان کے صحابہ میں سے ہیں اس لئے ان کی جنت پکی ہے۔ اس کے علاوہ ضعیف روایت میں حضرت ابوالغادیہ کے افسوس کے الفاظ ہیں اور احادیث میں افسوس و ندامت کو بھی توبہ میں شمار کیا گیا ہے اب کچھ بچا ہی نہیں ہے۔ اس لئے صحابہ کو چھوڑ تم اپنی آخرت کی فکر کرو۔
  29. 1 point
  30. 1 point
    جناب نے اصول کے مطابق کوئی بھی صحیح سند ایسی روایت پیش نہیں کی جس سے واضح ہو کہ قاتل حضرت ابوالغادیہ ہے۔ باقی جو بھی قاتل ہونے کی باتیں ہیں سب ضعیف و موضوع روایت کی بنیاد پر بنے ہوئے ہیں اس لئے جن ائمہ نے بنا کسی تحقیق سے حضرت ابوالغادیہ کو قاتل کہا یہ ان کا تسامح ہے ورنہ تحقیق کے میدان میں ایسی کوئی بات صحیح سند سے ثابت نہیں۔ اللہ عزوجل ائمہ حدیث کی مغفرت فرمائے۔ آمین
  31. 1 point
    امام دارقطنی کا قول اس وقت صحیح ہو گا جب اس کی کوئی دلیل ہو گی ورنہ 271 سال کے فاصلے بعد کسی کے بارے میں بنا کسی دلیل کے قاتل کہہ دینے سے کوئی قاتل نہیں ہو جاتا نہ ہی وہ شرعی طور پر قاتل ثابت ہوتا ہے ورنہ ایسے بے اسناد اقوال صحابہ اور اہل بیت رضی اللہ عنہم کے خلاف کتب میں بھرے پڑے ہیں اس لیے بنا دلیل کے ایسے اقوال کو ماننا بھی اصول حدیث کی روشنی میں درست نہیں۔ جب ثقہ تابعین کی مرسل روایات امام دارقطنی کے اصول سے ماننا درست نہیں تو خود امام دارقطنی کا بے سند قول جنگ صفین کے بارے میں ماننا کیسے درست ہو سکتا ہے؟؟ اس لئے اس قول کی دلیل چاہیے صحیح سند کے ساتھ ۔ ان تمام باتوں کا رد میں پہلے کر چکا ہوں جن کا جناب نے جواب نہیں دیا بس وہی پرانے پوسٹر چپکائے جارہے ہیں اور کچھ نہیں ہے جناب کے پاس۔ اس لیے ہم بھی جناب کے اصول سے وہی پوسڑ چپکا دیتے ہیں
  32. 1 point
    ارے بھائی پہلی بات یہ ہے آپ کا سند پرمنکر کا حکم تھا تو اس لیے میں صرف سند پر بات کی اور کسی بات پر نہیں کی لیکن سند صحیح مان چکے ہیں تو پھر اس فائدہ نہیں کہ بحث کی ہے۔ میں پہلے بھی شافعی حنفی جھگڑوں میں پڑ پڑ کر بہت سے علمی دوستوں سے دور ہو چکا ہوں اس لیے اب مزید اس پر پھر واپس نہیں جانا چاہتا اس لئے آپ کی پوسٹ کا جواب نہیں دے رہا ہوں کیونکہ اس سے مزید فاصلے پیدا ہو جائیں گے۔ اللہ عزوجل ہم سب کو ایک دوسرے کو برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
  33. 1 point
    عسقلانی بھائی اس بندے کو صرف کاپی پیسٹ کرنا آتا ہے اسکے علاوہ اور کچھ نہیں۔۔نہ اسے محدثین کے منہج کا پتا ہے کہ جب کوئی محدث کسی حدیث کے بارے میں صحیح کا حکم لگاتا ہے تو اسکا کیا مطلب ہوتا ہے۔۔بس کاپی پیسٹ اور میک اپ کر کے عوام کو جھانسے دیتا ہے۔۔ آپ نے اسکا دجل صحیح ظاہر کیا ہے
  34. 1 point
    وعلیکم السلام ورحمةالله وبركاته مکتبہ شاملہ کا لنک مجھے بھی نہیں ملا آئی فون کے سٹور میں کچھ بھائیوں نے بتایا ہے کہ کنٹری سیٹنگ میں جا کر سیٹنگ تبدیل کرنا پڑے گی کوئی عرب ملک سیلیکٹ کرنا ہوگا تب ڈاؤنلوڈ ہو گا
  35. 1 point
    ارے جناب کچھ کہنے سے پہلے بندہ ائمہ حدیث کا منہج اور اسلوب بھی دیکھ لیتا ہے۔ امام ذہبی نے جناب نے کہا کہ امام ذہبی علیہ الرحمہ نے اپنی کتاب میں ابن ملجم لعنتی کو صحابی لکھا ہے جب کہ یہ بات ایک بہتان ہے امام ذہبی نے کہیں بھی اسے صحابی نہیں لکھا۔ اگرصرف کتاب کے نام "تجرید اسماء الصحابۃ" سے استدلال کر رہے ہیں تو یہ جناب کی کم فہمی ہے اس میں امام ذہبی نے بہت سے تابعین اور غیر تابعین کا ذکر بھی کیا ہے۔ اسی صفحہ میں چند افراد کے نام ہیں جن کی امام ذہبی نے خود تصریح کی ہے کہ ان صحبت ثابت نہیں ہے وہ یہ ہیں۔ عبد الرحمن بن معاذ بن جبل توفي مع ابيه في طاعون عمواس لا صحبة له. عبد الرحمن بن معاوية لا تصح له صحبة نزل مصر وروي عنه سويد بن قيس * مرسل * تو جناب دیکھ سکتے ہیں کہ امام ذہبی نے غیر صحابہ کا ذکر بھی کیا ہے اور خود تصریح کی ہے جب کہ ابن ملجم کا کہیں بھی نہیں لکھا کہ وہ صحابی ہے اگر صحابی والی امام ذہبی کی عبارت جناب کے پاس ہے تو پیش کریں ورنہ اس بات سے رجوع کریں۔ امام ذہبی تو ابن ملجم کے بارے میں لکھتے ہیں کہ یہ اہل ہی نہیں کہ اس سے حدیث لی جائے لیں امام ذہبی کا موقف: عبد الرحمن بن ملجم المرادي، ذاك المعثر الخارجي.ليس بأهل أن يروي عنه، وما أظن له رواية، وكان عابدا قانتا لله، لكنه ختم بشر، فقتل أمير المؤمنين عليا متقربا إلى الله بدمه بزعمه، فقطعت أربعته ولسانه، وسملت عيناه، ثم أحرق.نسأل الله العفو والعافية (میزان الاعتدال ج 4 ص 592) امید ہے اب امام ذہبی کے حوالے سے ایسی بات نہیں کریں گے۔ باقی ر ہا جناب کا یہ اعتراض: " ابن ملجم بھی مجتہد ہی تھا ۔ سیدنا عمر نے عمروبن العاص کو خط لکھا " عبدالرحمان بن ملجم کا گھر مسجد کے قریب کر دو تا کہ وہ لوگوں کو قرآن مجید اور فقہ کی تعلیم دے" تاريخ الإسلام - الإمام الذهبي جلد3 ، ص / 653 یہ اعتراض بھی باطل ہے کیونکہ امام ذہبی نے اس واقعہ کی سند نہیں لکھی بلکہ اسے امام ابن یونس کے حوالے سے لکھا ہے جو یہ ہے: وقيل: إنّ عُمَر كتب إِلَى عَمْرو بْن العاص: أنْ قَرّبْ دار عَبْد الرَّحْمَن بْن مُلْجم من المسجد ليُعَلِّم النّاس القرآن والفقه[تاریخ الاسلام (ت بشار) ج 2 ص 273]اور یہی عبارت امام ذہبی نے سیر اعلام النبلاء میں بھی نقل کی ہے جس کا ثبوت یہ ہے:وقيل: إن عمر كتب إلى عمرو بن العاص: أن قرب دار عبد الرحمن بن ملجم من المسجد ليعلم الناس القرآن والفقه،[سیر اعلام النبلاء (ط الرسالۃ) ج 2 ص 539]اس میں بندہ دیکھ سکتا ہے کہ امام ذہبی نے و قیل کے الفاظ استعمال کیے ہیں اور قیل مجہول کےصیغے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور اس کے علاوہ یہ بات امام ذہبی کی خود کی نہیں ہے بلکہ انہوں نے علامہ ابن یونس مصری کی تاریخ سے یہ بات نقل کی ہے۔ جس کا ثبوت یہ ہے:علامہ ابن یونس لکھتے ہیں:وقيل: إن عمر كتب إلى عمرو: أن قرّب دار «عبد الرحمن بن ملجم» من المسجد؛ ليعلّم الناس القرآن والفقه.(تاریخ ابن یونس المصری ج 1 ص 315) اور امام ابن حجر عسقلانی نے بھی اس بات کو بلا سند نقل کیا ہے جس کا ثبوت یہ ہے:وقيل أن عمر كتب إلى عمر وإن قرب دار عبد الرحمن بن ملجم من المسجد ليعلم الناس والقرآن والفقه(لسان المیزان ج 3 ص 440) اس بات کی کوئی سند موجود نہیں ہے یہ سب بے سند بات ہے۔ اس لیے بے سند بات کے لیے اپنے محقق فیضی صاحب کی باتیں سن لیں فیضی امام مرتضی زبیدی علیہ الرحمہ کی عبارت سے استدلال کرتے ہوئے ان کی عبارت کا ترجمہ اس طرح کرتا ہے:اور اسی طرح جب امام بخاری اپنے تمام راویوں کو گرا دیں تو ایسی حدیث کا حکم یہ ہے کہ اگر وہ صحیح بخاری میں ہو تو اور امام بخاری اسے قال یا روی سے لائے ہوں تو یہ انداز اس پر دلالت کرتا ہے کہ وہ حدیث ان کے نزدیک ثابت ہے اور اگر یذکر یا یقال سے لائے ہوں تو پھر اس میں کلام کی گنجائش ہے اور صحیح بخاری کے علاوہ ان کی کسی دوسری کتاب میں بلا سند حدیث ہو تو وہ مردود ہے اسے قبول نہیں کیا جائے گا۔آگے لکھتا ہے:لہذا سوچئے کہ التاریخ الکبیر میں درج شدہ ایک ایسی روایت کیونکر قابل قبول ہو سکتی ہے جس میں دو راویوں کے درمیان 68 یا 83 سال کا فرق ہے؟؟[الاحادیث الموضوعۃ ص 98] اپنی دوسری کتاب میں لکھتا ہے:اگرچہ ہر حدیث کا صحاح ستہ میں مذکور ہونا اس کی صحت کے لیے شرط نہیں ہے تاہم یہ تو لازمی شرط ہے کہ ہر حدیث سے پہلے سند ہو۔[شرح خصائص علی رضی اللہ عنہ ص 352] آگے لکھتا ہے: ہمارے معاصر نے بلاسند حدیث نقل کر کے یقینا بے پر کی اڑائی ہے اس لیے اس کی نقل کردہ روایت بے بنیاد مردود اور باطل ہے۔ پھرکہتا ہے:اگر یقال یا یذکر (کہا جاتا ہے، ذکر کیا جاتا ہے) یعنی صیغہ مجہول استعمال کیا ہو تو اس میں اعتراض کی گنجائش ہے۔[شرح خصائص علی رضی اللہ عنہ ص 354] اور آگے فیضی اپنی تمام بحث کا نتیجہ نکال کر کہتا ہے:خیال رہے کہ بلاسند حدیث بیان کرنے کی تردید میں ائمہ حدیث نے ضوابط و قواعد بیان کرنے میں اس عاجز نے جو محنت کی ہے اس کا باعث فقط یہ ہے کہ مجھ ایسے قارئین بھی ایسے قواعد سے آشنا ہوں ورنہ میری کوشش حکیم ظفر وغیرہ ایسے بے اصول لوگوں کے لئے نہیں ہے۔ کیونکہ عقل مند کے لئے ایسے بے اصول لوگ بالکل اسی طرح غیر اہم ہیں جس طرح بلا سند روایت۔(شرح خصائص علی رضی اللہ عنہ ص 355) امید ہے جناب ہماری بات تو مانیں گے نہیں اس لیے فیضی صاحب کی بات مان لیں کہ یہ بے سند اقوال باطل ہے اور مردود ہے اور امام ذہبی پر جو الزام لگایا ہے وہ الحمدللہ باطل ہے۔
  36. 1 point
    میرے مشفق آپ بھول رھے ھیں ۔ خلافت راشدہ خاصہ کے لئے تو پیمانے اور بھی سخت ھو جاتے ہیں ۔ جو بات عادل خلیفہ کے لئے ناجائزہ ھو تو خاص خلفائے راشدین کے لئے وہ بدرجہ اولیٰ ناجائز ھو گی۔ اگر الزام علیہ مروان کو معاویہ گورنر بنائے تو اعتراض کرتے ہو، اور مولا مرتضیٰ اگر الزام علیہ محمد بن ابوبکرؓ کو گورنر بنائیں تو چپ سادھ لیتے ھو، کیا تمہارے لینے کے باٹ اور ہیں اور دینے کے باٹ اور ہیں؟
  37. 1 point
  38. 1 point
  39. 1 point
    Pyary bhai Forum pe har koi Arbi achi tarha se nahi janta.. Ap Matlooba Ibaraton ka Tarjuma Bhi shukriya.. Jazak Allah..
  40. 1 point
    Shia kitab se saboot.. Jo Hazrat Ayesha Razi Allahu anha Ki Takfeer kary wo kafir, aur jo Unhy Maa(walida) na many wo jhoota hy.
  41. 1 point
    ویڈیو ابھی تک اپلوڈ نہیں ہوئی ۔کوشش جاری ہے جیسے ہی ملے گی اپلوڈ ہو جائے گی ۔
  42. 1 point
    aap ne mujhe abhi tak jawab nahin dya jo main ne post # 35 mein kya tha: Ab post # 40 mein jo attachment hai us ka jawab: point # 4, 5, 6 aur 7 ka saboot den phir baat karen. saboot den ke kahan RasoolAllah (peace be upon him) ki hadees ko matan bana kar awam ka khayal batlaya gaya? jab sheikh nanotvi ne khatmiat e zamani ko apna deen aur emaan keh dya hai to bas shaan saabit hogayi hai, aur jesa ke saabit hai ke unhon ne yeh baat tehzeer un naas ki taujeeh mein kahi hai, ab agar aap log bar bar, bar bar ek hi baat aur ek hi ibarat ko duhraate rahenge to yeh mehez zidd aur shaoor na hone ki daleel hai. main ne aap ko Munazra-e-Ajeebah ke hawale diye hen jo ke sheikh nanotvi ne tehzeer un naas ke aitrazaat pe likhi hai, lekin aap ne palat kar mujhe phir tehzeer un naas ka hawala dya aur apni baat pe are rahe. musannif ki khud ki taujeeh aur wazahat ke baad bhi us ki baat ko na maanna awwal darje ki bad-diyanati hai.
  43. 1 point
    کلمہ گو مشرک (جواب) کرے غیر کی کوئی پوجا تو کافر بتائے جو بیٹا خدا کا تو کافر کرے غیر کو کوئی سجدہ تو کافر نہ مانے نبی۴ کا معجزہ تو کافر نہ مانے نبی۴ کی نبوت تو کافر نہ مانے علی۴ کی ولایت تو کافر نہ مانے جو حسنی۴ خلافت تو کافر نہ مانے حسینی۴ امامت تو کافر مگر فاسقوں پر بھی آساں ہیں راہیں نبی۴ کی حدیں چاہے جتنی بنائیں نبی۴ کو فقط وہ بشر ہی بتائیں اماموں کے رُتبے کو جتنا گھٹائیں شانِ ولی کو ہنسی میں اڑائیں شہیدوں کو دنیا میں بے بس دکھائیں نہ حب ِ حسین۴ و علی۴ اس سے جائے نہ شانِ نبی۴ میں خلل کوئی آئے ہے نورِ نبی۴ جب سے آیا جہاں میں اجالا ہوا سب زمین و زماں میں جو عشق ِ نبی۴ تھا بیا ن ِ زباں میں ہاں بدلا ہے آکر ضرور ہندوستاں میں نہ سمجھو فقط ہے عمل پر ہی ایماں نہ ہو حب ِاحمد۴ تو کیسا مسلماں ؟؟ ہے عاطف نے تھامی ہوئی اُن۴ کی جالی ہیں سارے نبی۴ جن کے در کے سوالی غریبوں کے داتا، یتیموں کے والی جو دل سے پکارے نہ جائے وہ خالی ہیں سب باقی قصے حقیقت سے خالی کہے کوئی ”ذاکر“ ، لکھے کوئی ” حالی “ ۔ (محمد عاطف خان) Mughal bhai sy Request hy k jis Tarah nazam aik hindo ki faryad k Jawab ka Graphical poster bnaia tha us taraha ka is post ka bhe deeda zaib garaphical poster tyaar ker dain shukeria
  44. 1 point
  45. 1 point
  46. 1 point
    لو جناب جواب حاضر ہے۔ .زباں کچھہ اور, بوئے پیرھن کچھہ اور کہتی ہے
  47. 1 point
  48. 1 point
    بعض اولیاء کو۔۔۔ محفوظ از خطا۔۔۔۔اور۔۔۔۔الہاماً تلمیذ الرحمِن ۔۔۔ ماننا
  49. 1 point
    awwalan sab say pahli baat tu yeh hai ... keh imam hasan nay qatil ka naam bataya hi nahi jesa ke kutub main mojod hai ... qurtbi aik morrikh hain morrikh ko jo waaqiyat milte hen woh naqal kardete hen. tahqeq karna un ka kaam nahi hota .. ab us ke kuch arsa bad ka hi waqiya lai lain yazeed ki maut ka kisi bhi morrikh nay aisi wajah nahi likhi jis par sab nay ittefaq kya ho.. hadith ki tarah is main asmae rijal nahi hotay .. lakin jab khud imam hassan nay hi qatil ka naam nahi bataya .. tu baqi sab morrikho ke ya tu qayasat hain ya phir unhain is tarah ke waqiyat mile hen .. aur inhonay bagair tahqeq ke byan kardya .. kunke un ka maqsood tarekh main sihah e sittah likhna nahi hota jo baat ,maloom howi unhain byan karna hota hai..phir morrikh ne jo likha hai woh yeh bhi zaroori nahi keh is ka moqqaf hoo kunke tarekh me zaeef qaol bhi hote hen... agar waqayi ap ko zehar ap ki biwi nay dya hai tu tu is baray main bhi wazih saboot nahi hai keh hazrat ameer e mowiyah ke ima par hi howa hai ... warna imam hussain radi ALLAHOTALA Anho jab karabala main yazeed aur us ke rafeeqo ki muzammat karsakte hen tu imam hassan ke qatilo ko aap ne be niqab kyon nahi kya ...hadith main hai jo burai dekehe usay hath say rokay zuban say rokay tu karabala main aap ne hath say bhi roka zaban say bhi roka lakin yahan taqiyah ki kya hikmat posheda thhi ? yakenan jawab wahi hai keh imam hassan nay qatil ka nam hi nahi bataya .. tu imam hussain mahaz zann ki buniyad par kisi be gunah par ilzam kyon rakhte... jab ke yahan tu yeh bhi sabot nahi keh imam hussain ke zann say yeh baat guzri hoo keh ameer mowiyah ki wajah hazrat hassan shahed howe hen ... hussainiat imam hussain ke naam par ronay petne ya nachne ka naam nahi balke hussinayat imam hussain ki taleemat wa sabar jo ap ne karbala ke medan main thame rakha us ko nibahne ka naam hai .................. zamukhshari ahlesunnat ka nahi hai muatazli hai.. tafseer kashaf ka mutala zara gaur say karlete tu yeh qayas ma al fariq aap say na hota ..... ansari tilmasani bhi morrikh hai aur morrikh ke baray maine wazahat kardi hai... .......... aik aur mudahaka khaiz baat yeh hai koi bhi hawla 500 sanh hijri say pahle yani awail ke door ka nahi hai yeh sari kitabain 500 saal baad jo tareekh likhi jayeegi un ke hain.. woh bhi in wojohat ke hotay howee manna ? jo hum nay byan kardi....
  50. 1 point
×
×
  • Create New...