Saife Raza Sunni

Barellvi Yazeedi Hain, Iska Jawab Chaiye

12 posts in this topic

آپ غالباً اصل اعتراض پوسٹ کرنا بھول گئے ہیں۔ کس کا جواب مانگ رہے ہیں؟


Share this post


Link to post
Share on other sites

مولوی عبدالستار مدرسہ انوار العلوم میں نہ مدرس رھا، نہ صدر مدرس رھا ، نہ مفتی رھا۔


 


وہ حضرت غزالی زماں کے دور میں مدرسہ میں آ کر بیٹھتا اورپھر چلا جاتا۔ اس کی نیت


 


ٹھیک نہ تھی اور غزالی زماں کے در سے  ناکام لوٹ گیا۔


 


اب اس کا خود کو مدرسہ سے منسوب ھونے کا مقصد


 


سامنے آ گیا ھے۔


Edited by Saeedi
2 people like this

Share this post


Link to post
Share on other sites

Saudi Arab kay petro dollar par is ka payt palta hoga. Jis ki waja say yeh jin khanziroon ka khata heh, uneeh kay tareek kar, yazeediat ga raha heh.

Share this post


Link to post
Share on other sites
پوسٹ عجیب  سی ہے اوپر پیر چشتی  حوالہ ہے نیچے  وہی صفحہ  عبدالستار ،نامی کی کتاب کے  حوالے سے ہے ؟؟

 

دوسرا حوالہ امام غزالی کا ہے اور نیچے حوالہ  ابن کثیر کا ہے ؟؟ 

Share this post


Link to post
Share on other sites

پیرمحمد چشتی صاحب کی کتاب کا عکس غالباً مشترکہ جلد بندی کی وجہ سے لگ گیا ہے۔


رہ گیا ابن کثیر کاحوالہ تو ابن کثیر نے بھی  امام غزالی کا فتویٰ الکیا (الہراسی) سے نقل کیا ہے ۔


اور الکیا پر باطنی  اسماعیلی شیعہ ہونے کاالزام ہے۔اور شیعہ  اہل سنت کو بدنام کرنے لئے ایسے


الزام لگاتے رہتے ہیں۔اگرچہ الکیاء سے الزام کی نفی بھی کی گئی ہے تاہم الزام سے مناسبت


والی بات قبول نہیں کی جائے گی۔ امام غزالی احیاء العلوم  ،آفات اللسان میں لکھتے ہیں کہ


ہم کہتے ہیں کہ یہ کہنا درست ہے کہ حضرت حسینؓ کے قاتل پرلعنت اگر وہ بے توبہ مرا۔


قلنا الصواب أن يقال قاتل الحسين إن مات قبل التوبة لعنه الله۔


مگر یہ منسوب فتویٰ ایسی اجازت نہیں دیتا۔


Edited by Saeedi

Share this post


Link to post
Share on other sites

کیا امام غزالی رحمہ اللہ کے اس قول کا احیاء علوم الدین کا اسکین مل سکتا ہے

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!


Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.


Sign In Now

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

  • Similar Content

    • By Tanveer Afridi

      کیا یزید کو امير المؤمنين کہنے والے پر عمربن عبدالعزیزرحمہ اللہ نے بیس کوڑے لگوائے؟
       
      امام ذھبی رحمہ اللہ نے کہا



      قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ: ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي غُنْيَةٍ، عَنْ نَوْفَلِ بْنِ أَبِي الْفُرَاتِ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، فَذَكَرَ رَجُلٌ يَزِيدَ فَقَالَ: قَالَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ: تَقُولُ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ! وَأَمَرَ بِهِ فَضُرِبَ عِشْرِينَ سَوْطًا.[تاريخ الإسلام للذهبي: 5/ 275 وھو ایضا باختلاف السند فی:تهذيب التهذيب (11/ 361) و لسان الميزان (6/ 294) ، وبدون السند فی:النجوم الزاهرة فى ملوك مصر والقاهرة (1/ 163) و شذرات الذهب في أخبار من ذهب (1/ 278) و تاريخ الخلفاء (ص: 158) والروض الباسم لابن الوزير( 1/ 57) و ينابيع المودة لذوي القربى ـ القندوزي 3 / 32 ]۔


       

      نوفل بن فرات کا کہنا ہے کہ میں عمربن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے پاس تھا اس دوران ایک شخص نے یزید کاتذکرہ کیا اورکہا: ’’امیرالمومنین یزیدبن معاویہ ‘‘ ، یہ سن کرعمربن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے کہا : تم امیرالمومنین کہتے ہو ! پھران کے حکم پر اس شخص کو بیس کوڑے لگائے گئے۔


       

      اس روایت کو بہت سارے لوگ یزید کی مذمت میں بیان کرتے ہیں حالانکہ یہ روایت ثابت ہی نہیں ، اور عمربن عبدالعزیز



      رحمہ اللہ ایسی مضحکہ خیزحرکت سے بری ہیں۔ تفصیل ملاحظہ ہو:


       

      درج بالا روایت تین علتوں کی بناپرضعیف ہے







      پہلی علت



      اس روایت کی مکمل سند نامعلوم ہے ۔امام ذہبی رحمہ اللہ نے اس روایت کو مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ سے نقل کیا ہے۔ محمد بن المتوكل المعروف بابن أبي السری کی وفات 238 ھ ہے،[الثقات لابن حبان: 9/ 88]۔ اورامام ذھبی رحمہ اللہ کی پیدائش 673 ھ ہے،[ذيل التقييد في رواة السنن والأسانيد 1/ 54]۔ یعنی درمیان میں ساڑھے چار صدی کافاصلہ ہے ۔







      تنبیہ: اس بات کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ امام ذھبی رحمہ اللہ نے مذکورہ روایت کو محمد بن أبي السري کی کتاب سے نقل کیا ہے کیونکہ امام ذہبی رحمہ اللہ نے نہ تو کتاب کا حوالہ دیا ہے اورنہ ہی اس کی طرف کوئی اشارہ کیا ہے، نیزامام ذہبی نے محمد بن أبي السري کے ترجمہ میں بھی ان کی کسی کتاب کا تذکرہ نہیں کیا ہے، اورنہ ہی کسی اورمقام پر ان کی کسی کتاب کاذکرملتاہے۔







      واضح رہے کہ امام ذہبی رحمہ اللہ اپنی کتب خصوصا’’تاریخ الاسلام‘‘ و ’’سیراعلام النبلاء‘‘ میں بہت ساری روایات کو ادھوری سند سے درج کرتے ہیں یعنی سند میں صرف مرکزی طریق کو ذکرکرتے ہیں اورسند کے ابتدائی ٹکڑے کو حذف کردیتے ہیں ، امام ذہبی رحمہ اللہ کی کتاب سے اس کی سیکڑوں سے زائد مثالیں پیش کی جاسکتیں ہی ذیل میں ہم صرف تین مثالیں وضاحت کے ساتھ پیش کرتے ہیں


       

      پہلی مثال: امام ذہبی رحمہ اللہ نے ’’تاریخ الاسلام‘‘ میں کہا



      وَقَالَ الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ: ثنا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحْرَسُ حَتَّى نَزَلَتْ وَالله يَعْصِمُكَ من النَّاسِ وَأَخْرَجَ رَأْسَهُ مِنَ الْقُبَّةِ فَقَالَ لَهُمْ: «أَيُّهَا النَّاسُ انْصَرِفُوا فَقَدْ عَصَمَنِي اللَّهُ» [تاريخ الإسلام للذهبي ت تدمري 1/ 150]۔







      اس سند کا ابتدائی ٹکڑا حذف ہے ، سنن ترمذی میں مکمل سند اس طرح ہے:امام ترمذي رحمه الله (المتوفى279)نے کہا



      حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: حَدَّثَنَا الحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ سَعِيدٍ الجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحْرَسُ حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةَ: {وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ}فَأَخْرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ مِنَ القُبَّةِ، فَقَالَ لَهُمْ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ انْصَرِفُوا فَقَدْ عَصَمَنِي اللَّهُ» حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ قَالَ: حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ،: «هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ» وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الحَدِيثَعَنِ الجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحْرَسُ» وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنْ عَائِشَةَ [سنن الترمذي ت شاكر 5/ 251]۔







      دوسری مثال: امام ذہبی رحمہ اللہ نے ’’تاریخ الاسلام‘‘ میں کہا



      وَقَالَ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي: ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا أَبُو معاوية، عن الأعمش، عن أبي سفيان، عن أنس بن مالك قال: جاء جبرئيل إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ خَارِجٌ مِنْ مَكَّةَ، قَدْ خَضَبَهُ أَهْلُ مَكَّةَ بالدّماء، قال: مالك؟ قَالَ:خَضَبَنِي هَؤُلَاءِ بِالدِّمَاءِ وَفَعَلُوا وَفَعَلُوا، قَالَ: تُرِيدُ أَنْ أُرِيَكَ آيَةً؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ادْعُ تِلْكَ الشَّجَرَةَ، فَدَعَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَتْ تَخُطُّ الْأَرْضَ حَتَّى قَامَتْ بَيْنَ يَدَيْهِ، قَالَ: مُرْهَا فَلْتَرْجِعْ إِلَى مَكَانِهَا، قَالَ: ارْجِعِي إِلَى مَكَانِكِ فَرَجَعَتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حَسْبِي. هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ [تاريخ الإسلام للذهبي ت تدمري 1/ 130]۔







      اس سند کا ابتدائی ٹکڑا حذف ہے ، دلائل النبوة للبيهقي میں مکمل سند اس طرح ہے. امام بيهقي رحمه الله (المتوفى458)نے کہا



      أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ الْإِسْفَرَايِنِيُّ بِهَا، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إسحق، قَالَ: حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: «جَاءَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عليه وآله وَسَلَّمَ وَهُوَ خَارِجٌ مِنْ مَكَّةَ قَدْ خَضَبَهُ أَهْلُ مَكَّةَ بِالدِّمَاءِ، قَالَ، مَالِكٌ قَالَ: خَضَبَنِي هَؤُلَاءِ بِالدِّمَاءِ وَفَعَلُوا وَفَعَلُوا، قَالَ تُرِيدُ أَنْ أُرِيكَ آيَةً؟ قَالَ نَعَمْ قَالَ ادْعُ تِلْكَ الشَّجَرَةَ فَدَعَاهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وآله وَسَلَّمَ فَجَاءَتْ تَخُطُّ الْأَرْضَ حَتَّى قَامَتْ بَيْنَ يَدَيْهِ قَالَ مُرْهَا فَلْتَرْجِعْ قَالَ: ارْجِعِي إِلَى مَكَانِكِ، فَرَجَعَتْ إِلَى مَكَانِهَا. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عليه وآله وسلّم:حسبي»[دلائل النبوة للبيهقي 2/ 154]۔







      تیسری مثال: امام ذہبی رحمہ اللہ نے ’’تاریخ الاسلام‘‘ میں کہا



      وَقَالَ مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ: ثنا عَوْنُ بْنُ عَمْرٍو الْقَيْسِيُّ: سَمِعْتُ أَبَا مُصْعَبٍ الْمَكِّيَّ قَالَ: أَدْرَكْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، وَأَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، وَزَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ، فَسَمِعْتُهُمْ يَتَحَدَّثُونَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْغَارِ أَمَرَ اللَّهُ بِشَجَرَةٍ فَنَبَتَتْ فِي وَجْهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَتَرَتْهُ، وَأَمَرَ اللَّهُ الْعَنْكَبُوتَ فَنَسَجَتْ فَسَتَرَتْهُ، وَأَمَرَ اللَّهُ حَمَامَتَيْنِ وَحْشِيَّتَيْنِ فَوَقَعَتَا بِفَمِ الْغَارِ، وَأَقْبَلَ فِتْيَانُ قُرَيْشٍ بِعِصِيِّهِمْ وَسُيُوفِهِمْ، فَجَاءَ رَجُلٌ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الْبَاقِينَ فَقَالَ: رَأَيْتُ حَمَامَتَيْنِ بِفَمِ الْغَارِ، فَعَلِمْتُ أَنَّهُ لَيْسَ فِيهِ أَحَدٌ [تاريخ الإسلام للذهبي ت تدمري 1/ 323]۔







      اس سند کا ابتدائی ٹکڑا حذف ہے ، دلائل النبوة لأبي نعيم الأصبهاني میں مکمل سند اس طرح ہے:امام أبو نعيم رحمه الله (المتوفى430)نے کہا



      حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَيَّانَ قَالَ: ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْخُزَاعِيُّ قَالَ: ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: ثنا عَوَيْنُ بْنُ عَمْرٍو الْقَيْسِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا مُصْعَبٍ الْمَكِّيَّ يَقُولُ: أَدْرَكْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَزَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ وَالْمُغِيرَةِ بْنَ شُعْبَةَ فَسَمِعْتُهُمْ يُحَدِّثُونَ أَنَّ النبي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْغَارِ أَمَرَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ شَجَرَةً فَنَبَتَتْ عَلَى وَجْهِ الْغَارِ فَسَتَرَتْهُ وَأَمَرَ حَمَامَتَيْنِ وَحْشِيَّتَيْنِ فَوَقَفَتَا بِفَمِ الْغَارِ وَأَقْبَلَ فِتْيَانُ قُرَيْشٍ مِنْ كُلِّ بَطْنٍ رَجُلٌ بِعِصِيِّهِمْ وَحَرْبَاتِهِمْ وَسُيُوفِهِمْ حَتَّى إِذَا كَانُوا مِنْ النبي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْرَ أَرْبَعِينَ ذِرَاعًا جَعَلَ بَعْضُهُمْ يَنْظُرُ فِي الْغَارِ فَقَالَ: رَأَيْتُ حَمَامَتَيْنِ بِفَمِ الْغَارِ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ لَيْسَ فِيهِ أَحَدٌ فَسَمِعَ النبي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَالَ فَعَرَفَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ دَرَأَ بِهِمَا فَدَعَا لَهُنَّ وَسَمَتَ عَلَيْهِنَّ وَفَرَضَ جَزَاءَهُنَّ وَنَزَلْنَ بِالْحَرَمِ[دلائل النبوة لأبي نعيم الأصبهاني ص: 325]۔







      علاوہ ازیں امام ذہبی رحمہ اللہ نے اپنی دوسری کتاب میں اسی روایت کو ان الفاظ میں پیش کیا ہے: وَرَوَى: مُحَمَّدُ بنُ أَبِي السَّرِيِّ العَسْقَلاَنِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ عَبْدِ المَلِكِ بنِ أَبِي غَنِيَّةَ، عَنْ نَوْفَلِ بنِ أَبِي الفُرَاتِ، قَالَ:كُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ بنِ عَبْدِ العَزِيْزِ، فَقَالَ رَجُلٌ: قَالَ أَمِيْرُ المُؤْمِنِيْنَ يَزِيْدُ.فَأَمَرَ بِهِ، فَضُرِبَ عِشْرِيْنَ سَوْطاً[سير أعلام النبلاء للذهبي: 4/ 40]۔







      ان تمام باتوں سے ظاہرہے کہ امام ذہبی رحمہ اللہ نے زیرتحقیق روایت کی سند مکمل ذکر نہیں کی ہے۔







      نیز اسی روایت کو حافظ ابن حجر نے بیان کیا تو محمد بن أبي السري کا نام بھی ساقط کردیا اورکہا وقال يحيى بن عبد الملك بن أبي غنية أحد الثقات ثنا نوفل بن أبي عقرب ثقة قال كنت عند عمر بن عبد العزيز فذكر رجل يزيد بن معاوية فقال أمير المؤمنين يزيد فقال عمر تقول أمير المؤمنين يزيد وأمر به فضرب عشرين سوطا[تهذيب التهذيب لابن حجر: 37/ 190، لسان الميزان لابن حجر: 6/ 294]







      اورپھراسی روایت کو امام سیوطی نے بیان کیا تو پوری سند ہی غائب کردی ، چنانچہ امام سیوطی نے کہا



      قال نوفل بن أبي الفرات: كنت عند عمر بن عبد العزيز، فذكر رجل يزيد، فقال: قال أمير المؤمنين يزيد بن معاوية، فقال: تقول أمير المؤمنين؟ وأمر به، فضرب عشرين سوطًا.[تاريخ الخلفاء ص: 158]۔







      اسی طرح سليمان بن خوجه القندوزي نے بھی کہا



      وقال نوفل بن أبي الفرات: كنت عند عمر بن عبد العزيز فقال رجل : أمير المؤمنين يزيد (بن معاوية). فقال عمر : تقول أمير المؤمنين، وأمر به فضربه عشرين سوطا.[ينابيع المودة لذوي القربى :3 / 32 ]۔







      ان تمام نقول سے ظاہر ہے کہ مذکورہ اہل علم میں سے کسی ایک نے بھی اس روایت کی مکمل سند بیان نہیں کی ہے ، لہٰذا اس روایت کے غیرثابت شدہ ہونے کی یہ پہلی علت ہے۔















      دوسری علت







      امام ذھبی رحمہ اللہ نے مذکورہ روایت جس راوی کے حوالہ سے نقل کی ہے وہ محمد بن المتوكل المعروف بابن أبي السری ہے۔اس کے بارے میں ناقدین کے اقوال مختلف ہیں اورراجح یہی ہے کہ یہ راوی ضعیف ہے۔







      معدلین کے اقوال







      امام ابن معين رحمه الله (المتوفى327)نے کہا: وسألت يحيى عن ابن ابي السري العسقلاني فقال ثقة[سؤالات ابن الجنيد لابن معين: ص: 388]۔







      امام حاكم رحمه الله (المتوفى405)نے کہا: محمد بن أبي السري العسقلاني ثقة[المستدرك على الصحيحين للحاكم: 3/ 700]۔







      امام ابن القطان رحمہ اللہ (المتوفى : 628)نے کہا: ابْن أبي السّري مُحَمَّد بن المتَوَكل ثِقَة حَافظ[بيان الوهم والإيهام في كتاب الأحكام 5/ 218]۔







      امام ذهبي رحمه الله (المتوفى748)نے کہا: لحافظ، العالم، الصادق[سير أعلام النبلاء للذهبي: 11/ 161]۔







      یعنی صرف چار ناقدین نے اس راوی کو ثقہ کہا ہے ان میں بھی امام ابن معین رحمہ اللہ کی توثیق دیانت داری کے معنی میں ہوسکتی ہے کیونکہ وہ اکثر دیانت داری کے معنی میں بھی راوی کو ثقہ کہہ دیتے ہیں.علامہ معلمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں



      وقد اختلف كلام ابن معين في جماعة ، يوثق أحدهم تارة ويضعفه أخرى ، منهم إسماعيل بن زكريا الخُلقاني ، وأشعث بن سوار ، والجراح بن مليح الرواسي ، وزيد بن أبي العالية ، والحسن بن يحيى الخُشَني ، والزبير بن سعيد ، وزهير بن محمد التميمي ، وزيد بن حبان الرقي ، وسلم العلوي ، وعافية القاضي ، وعبد الله الحسين أبو حريز ، وعبد الله بن عقيل أبو عقيل ، وعبد الله بن عمر بن حفص العمري ، وعبد الله بن واقد أبو قتادة الحراني ، وعبد الواحد بن غياث ، وعبيد الله بن عبد الرحمن بن موهب ، وعتبة بن أبي حكيم ، وغيرهم . وجاء عنه توثيق جماعة ضعفهم الأكثر ون منهم تمام بن نجيح ، ودراج ابن سمعان ، والربيع بن حبيب الملاح وعباد بن كثير الرملي ، ومسلم بن خالد الزنجي ، ومسلمة بن علقمة ، وموسى بن يعقوب الزمعي ، ومؤمل بن إسماعيل ، ويحيى بن عبد الحميد الحماني .وهذا يشعر بأن ابن معين كان ربما يطلق كلمة ((ثقة )) لا يريد بها أكثر من أن الراوي لا يتعمد الكذب .[التنكيل بما في تأنيب الكوثري من الأباطيل 1/ 164]۔







      اورامام ذہبی رحمہ اللہ نے توثیق کے ساتھ ان کی تضعیف بھی کی ہے کما سیاتی ۔











      جارحین کے اقوال


       

      امام أبو حاتم الرازي رحمه الله (المتوفى277)نے کہا: لين الحديث [الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 8/ 105]۔







      امام ابن عدي رحمه الله (المتوفى365)نے کہا: وابن أَبِي السري العسقلاني كثير الغلظ [الكامل في ضعفاء الرجال لابن عدي: 7/ 288]۔







      امام أبو علي، الغساني رحمه الله (المتوفى498)نے کہا: كثير الحفظ وكثير الغلط[تسمية شيوخ أبي داود لأبي علي الغساني: ص: 96]۔







      امام ابن القيسراني رحمه الله (المتوفى:507)نے کہا: وابن أبي السري كثير الغلط [ذخيرة الحفاظ لابن القيسراني: 4/ 1912]۔







      امام ابن الجوزي رحمه الله (المتوفى597)نے کہا: محمد بن المتوكل العسقلاني قال الرازي لين الحديث[الضعفاء والمتروكين لابن الجوزي: 3/ 95]۔







      امام ذهبي رحمه الله (المتوفى748)نے کہا: محمد بن أبي السري العسقلاني.هو ابن المتوكل.له مناكير.[ميزان الاعتدال للذهبي: 3/ 560]۔نیزکہا:ولمحمد هذا أحاديث تستنكر[ميزان الاعتدال للذهبي: 4/ 24]۔نیزکہا:حافظ وثق ولينه أبو حاتم [الكاشف للذهبي: 2/ 214]۔







      علامہ البانی فرماتے ہیں: ولذلك أشار الذهبي في " الكاشف " إلى أن التوثيق المذكور غير موثوق به، فقال : " وثق "[سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة وأثرها السيئ في الأمة 3/ 377]۔







      علامہ البانی کی اس عبارت سے معلوم ہواکہ امام ذہبی جب ’’وثق ‘‘ کہیں تو اس بات کی طرف اشارہ ہوتا ہے کہ اس راوی کی جوتوثیق کی گئی ہے وہ غیر معتبرہے ۔







      امام ابن رجب رحمه الله (المتوفى795)نے کہا: ومنها: أن مُحَمَّد بْن المتوكل لَمْ يخرج لَهُ فِي ((الصحيح)) ، وقد تكلم فِيهِ أبو حاتم الرَّازِي وغيره ولينوه، وَهُوَ كثير الوهم[فتح الباري لابن رجب: 6/ 405]۔







      حافظ ابن حجر رحمه الله (المتوفى852)نےکہا: محمد بن المتوكل بن عبد الرحمن الهاشمي مولاهم العسقلاني المعروف بابن أبي السري صدوق عارف له أوهام كثيرة[تقريب التهذيب لابن حجر: 1/ 418]۔







      امام مناوي رحمه الله (المتوفى1031)نے کہا: وفيه محمد بن المتوكل العسقلاني أورده الذهبي في الضعفاء وقال : قال أبو حاتم : لين [فيض القديرللمناوی: 6/ 293]۔







      علامہ البانی کا موقف: علامہ البانی نے بھی اس راوی کو ضعیف کہا ہے بلکہ بعض مقامات پرسخت ضعیف قراردیتے ہوئے اسے ’’متہم ‘‘ بھی قرار دیا ہے، چند حوالے ملاحظہ ہوں



      :علامہ البانی فرماتے ہیں



      وابن أبي السري هو محمد بن المتوكل وهو ضعيف حتى اتهمه بعضهم[سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة وأثرها السيئ في الأمة 3/ 162]۔



      ایک اورمقام پرفرماتے ہیں



      وهذا سند ضعيف من أجل ابن أبي السري واسمه محمد بن المتوكل العسقلاني فإنه ضعيف وقد أتهم[إرواء الغليل 4/ 244]۔



      مزیدتفصیل کے لئے دیکھئے:[معجم الرواة الذين ترجم لهم الألباني: ج ٤ص ٢٠ ، ٢١]۔







      تیسری علت







      نَوْفَلِ بنِ أَبِي الفُرَاتِ مجہول راوی ہے، کسی بھی ناقد امام سے اس کی مستند توثیق نہیں ملتی ۔







      تنبیہ اول:امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اسے ثقہ کہا ہے۔







      عرض ہے کہ جمہورمحدثین کے نزدیک ابن حبان رحمہ اللہ اگرتوثیق میں منفردہوں تو ان کی توثیق غیرمعتبرہے۔







      تنبیہ دوم : یہ عمربن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے عامل تھے ، چنانچہ: امام ابن عساكر رحمه الله (المتوفى571)نے کہا



      أخبرنا أبو القاسم بن السمرقندي أنا أبو الحسين بن النقور أنا عيسى بن علي أخبرنا عبد الله بن محمد نا داود بن عمرو نا يحيى بن عبد الملك بن حميد بن أبي غنية نا نوفل بن الفرات عامل عمر بن عبد العزيز قال وكان رجلا من كتاب الشام مأمونا[تاريخ دمشق لابن عساكر 62/ 292 واسنادہ صحیح]۔







      عرض ہے کہ عمربن عبدالعزیررحمہ اللہ کاعامل ہونا بھی ان کے ثقاہت کی دلیل نہیں ہے۔غورکریں کہ نوفل بن الفرات عمربن عبدالعزیررحمہ اللہ کے عامل تھے لیکن مالک الدار خلیفہ دوم عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے خازن تھےانہیں بھی امام ابن حبان نے ثقہ کہا ہے ، اوران سے وسیلہ کے بارے میں ایک بہت ہی منکر روایت مروی ہے۔لیکن اہل علم نے اس روایت کو ضعیف قراردیا ہے، اور مالک الدار کو مجہول قراردیا ہے۔علامہ البانی فرماتے ہیں



      عدم التسليم بصحة هذه القصة لأن مالك الدار غير معروف العدالة والضبط[التوسل للالبانی :ص: 120]۔



      علامہ البانی سے قبل بھی اہل علم نے اسے مجہول قراردیا ہے، چنانچہ:امام منذري رحمه الله (المتوفى656)نے کہا



      رَوَاهُ الطَّبَرَانِيّ فِي الْكَبِير وَرُوَاته إِلَى مَالك الدَّار ثِقَات مَشْهُورُونَ وَمَالك الدَّار لَا أعرفهُ[الترغيب والترهيب للمنذري: 2/ 29]۔



      امام هيثمي رحمه الله (المتوفى807)نے کہا



      رواه الطبراني في الكبير. ومالك الدار لم أعرفه وبقيه رجاله ثقات[مجمع الزوائد للهيثمي: 3/ 166]۔







      تنبیہ سوم :تاریخ ابن عساکر کی مذکورہ روایت میں یہ بھی ہے کہ



      وكان رجلا من كتاب الشام مأمونا[تاريخ دمشق لابن عساكر 62/ 292 واسنادہ صحیح]۔



      یعنی اس راوی کو ’’مأمون‘‘ کہا گیا ہے۔







      عرض ہے کہ ’’مأمون‘‘ سے زیادہ سے زیادہ دیانت داری کا پتہ چل سکتا ہے اس سے ثقہ ہونا لازم نہیں آتا ۔امام مسلم رحمه الله (المتوفى261)نے کہا



      حدثنا نصر بن علي الجهضمي حدثنا الأصمعي عن ابن أبي الزناد عن أبيه قال أدركت بالمدينة مائة كلهم مأمون ما يؤخذ عنهم الحديث يقال ليس من أهله[صحيح مسلم، مقدمہ: 1/ 12واسنادہ صحیح]۔



      یعنی امام ابوالزناد رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میں نے مدینہ میں سیکڑوں لوگوں کو پایا جو ’’مأمون‘‘ تھے لیکن ان سے حدیث کی روایت نہیں کی جاتی تھی کیونکہ بقول اہل علم وہ اس کے قابل نہ تھے۔







      تنبیہ چہارم : حافظ ابن حجررحمہ اللہ مذکورہ روایت کی سند میں نَوْفَلِ بنِ أَبِي الفُرَاتِکی جگہ نوفل بن أبي عقرب کانام لکھا ہے اوراسے ثقہ کہا ہے ، حافظ ابن حجررحمہ اللہ لکھتے ہیں



      قال يحيى بن عبد الملك بن أبي غنية أحد الثقات ثنا نوفل بن أبي عقرب ثقة قال كنت عند عمر بن عبد العزيز فذكر رجل يزيد بن معاوية فقال أمير المؤمنين يزيد فقال عمر تقول أمير المؤمنين يزيد وأمر به فضرب عشرين سوطا[تهذيب التهذيب لابن حجر: 37/ 190]۔







      یادرہے کہ یہ کتابت کی غلطی نہیں ہے کیونکہ حافظ ابن حجررحمہ اللہ نے اپنی دوسری کتاب ’’لسان الميزان‘‘ میں بھی یہ سند اسی طرح درج کی ہے ، ملاحظہ ہو



      قال يحيى بن عبد الملك بن أبي عتبة حدثنا نوفل بن أبي عقرب كنت عند عمر بن عبد العزيز فذكر رجل يزيد بن معاوية فقال أمير المؤمنين يزيد فقال له عمر تقول أمير المؤمنين وأمر به فضربه عشرين سوطا[لسان الميزان لابن حجر: 6/ 294]۔







      معلوم ہوا کہ حافظ ابن حجررحمہ اللہ نے اس روایت کی سند میں نَوْفَلِ بنِ أَبِي الفُرَات کی جگہ نوفل بن أبي عقرب کانام لکھا ہے











      عرض ہے کہ اس نام کے کسی بھی راوی کا نام ونشان مجھے کتب جرح وتعدیل میں نہیں مل سکا۔البتہ ’’أبو نوفل بن أبى عقرب البكرى‘‘ نام کے ایک ثقہ راوی موجود ہیں اورحافظ ابن حجررحمہ اللہ نے غالبا زیربحث راوی کویہی راوی سمجھ لیا اوراسے ثقہ کہہ دیا۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس سند میں أبو نوفل بن أبى عقرب البكرىنہیں ہے ، اورحافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے یہ سند غالبا اپنے حافظہ سے لکھی ہے اورسند میں وہم کے شکارہوگئے یا جس مرجع سے نقل کیا ہے وہیں پرغلطی تھی ، بہرحال جوبھی وجہ ہے بہرصورت اس سند میں نوفل بن أبي عقرب کے بجائے نَوْفَلِ بنِ أَبِي الفُرَاتِ ہی ہیں ، اس کے دلائل درج ذیل ہیں


       

      پہلی دلیل: امام ذہبی رحمہ اللہ نے اپنی دوکتابوں میں یہ سند نقل کی ہے اوردونوں میں نَوْفَلِ بنِ أَبِي الفُرَاتِ ہی درج کیا ہے، کما مضی۔


       

      دوسری دلیل: امام ذہبی رحمہ اللہ کے علاوہ امام سیوطی نے بھی اس سند میں نَوْفَلِ بنِ أَبِي الفُرَاتِہی کانام نقل کیا ہے، کما مضی۔


       

      تیسری دلیل: عمربن عبدالعزیزسے روایت کرنے والوں میںنوفل بن أبي عقرب کانام نہیں ملتا بلکہ نَوْفَلِ بنِ أَبِي الفُرَاتِ ہی کانام ملتاہے۔امام ابن عساكر رحمه الله (المتوفى571)نے کہا



      نوفل بن الفرات بن مسلم ويقال ابن سالم ويقال نوفل بن أبي الفرات أبو الجراح العقيلي مولى بني عقيل الجزري الرقي قدم على عمر بن عبد العزيز مع أبيه وروى عنه[تاريخ دمشق لابن عساكر 62/ 290]۔



      امام ابن حبان رحمه الله (المتوفى354)نے کہا



      نوفل بن الفرات يروى عن عمر بن عبد العزيز روى عنه مبشر بن إسماعيل الحلبي [الثقات لابن حبان: 9/ 221]۔


       

      چوتھی دلیل: يحيى بن عبد الملك بن أبي عتبة کے استاذوں میں بھی نوفل بن أبي عقرب کانام نہیں ملتا بلکہ نَوْفَلِ بنِ أَبِي الفُرَاتِ ہی کانام ملتاہے۔



      امام ابن عساكر رحمه الله (المتوفى571)نے کہا



      نوفل بن الفرات بن مسلم ۔۔۔۔۔۔۔۔ روى عنه الليث۔۔۔و۔۔ ويحيى بن عبد الملك بن أبي غنية [تاريخ دمشق لابن عساكر 62/ 290]۔







      ان دلائل سے معلوم ہوا کہ اس سند میں نَوْفَلِ بنِ أَبِي الفُرَاتِ ہی ہے اوریہ مجہول ہے۔











      عمربن عبدالعزیررحمہ اللہ نے یزید کے والد معاویہ رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہنے کو کوڑے لگائے







      امام ابن عساكر رحمه الله (المتوفى571)نے کہا



      أخبرتنا أم البهاء فاطمة بنت محمد قالت أنا أبو الفضل الرازي أنا جعفر بن عبد الله نا محمد بن هارون نا أبو كريب نا ابن المبارك عن محمد بن مسلم عن إبراهيم بن ميسرة قال ما رأيت عمر بن عبد العزيز ضرب إنسانا قط إلا إنسانا شتم معاوية فإنه ضربه أسواطا[تاريخ دمشق لابن عساكر 59/ 211 واسنادہ صحیح]۔



      ابراہیم بن میسرہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ عمربن عبدالعزیز نے کسی شخص کو ماراہو سوائے ایک شخص کے جس امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کو برابھلا کہا تو اسے عمر بن عبد العزيز رحمہ اللہ نے کئی کوڑے لگائے۔







      حافظ زبیرعلی زئی نے اس کی سند کو صحیح قراردیا ہے دیکھے:فضائل صحابہ صحیح روایات کی روشنی میں :ص :١٢٩۔











      غورفرمائیں حقیقت کیا ہے اورلوگ کیا بیان کرتے پھرتے ہیں۔


    • By Muslim Naqshbandi
      Kindly Mujhe Is Bare Main Bata Dijiye K Kya Yazeed Musalman Tha Ya Nahi??
       
      Q K Main Ne Aksar Dekha Hai K Facebook Per Yazeed K Bare Main Aik Shair Post Kiya Ja Raha Hai Jis Main Yazeed K Hawale Se Kaha Gaya Hai K Us Ne Kaha K Na Koi Nabowat Ayi etc...
       
      Or Dosri Baat Main Yeh Janna Chahta Hun K Wahabi Hazraat Yazeed K Bare Main Kehtey Hain k Ulma Ne Us Per Laan Karne Se Mana Kiya Hai?? Kya Yeh Sahi Hai... Kya Hamain Use Bura Nahi Kehna Chahiye??