5 posts in this topic

As salamo Alaiqum hazraat. 

kisi ne aitraz kia hai ke JA AL HAQ me Ambia ko nisyanan gunahe kabira o sagira ka murtaqib mana gaya hai. 

maine ja al haq me aisi ibarat pdi hai jo isse milti julti hai.

 

ambia kiram kis trh gunah kr skte hai jab ke ham sunni ambia ko masoom mante hai..

 

aur bhuul kar gunaah karne ka aqeeda chahe sagira hi kyu na ho kya ye kisi dalil se sabit hai..? kya ye gustakhi nahi ? 

 

ummid hai is aitraz ka jawab jald se jald dekar confusion dur kia jayenga..

 

jazakAllah...

PicsArt_06-08-10.50.56.jpg

Share this post


Link to post
Share on other sites

Posted (edited) · Report post

شروع میں مقدمہ پڑھیے۔ اُس میں تفصیل موجود ہے۔۔ نیچے کچھ لفظ ہائلائیٹڈ ہیں۔۔

Screenshot_0.png

مفتی صاحب، صغیرہ گناہ کی دو اقسام بیاں کر رہے ہیں۔ دوسری قسم میں پھر دو نوعیتیں ہیں کہ جان بوجھ کر کیا یا غلطی سے ہوا۔ پھر آگے چل کر لکھتے ہیں کر جان بوجھ کر یا غلطی سے وہ ایک آن کیلئے بھی بدعقیدہ نہیں ہوسکتے۔ 

وہابی انبیاء علیہ السلام کی وہ لغزش جو بھول کر ہوئیں، غلطی سے ہوئیں اُن کو بیان کر کے اور بنیاد بنا کر انبیاء کرام علیہ السلام کو گناہ گار بتانا چاہتے ہیں معاذ اللہ۔۔ کیونکہ بد بخت وہابیوں کی فظرت میں گستاخی شامل ہیں۔۔ مفتی احمد یار خاں نعیمی علیہ الرحمہ اس کا رد کر رہے ہیں۔ اور جہاں اُن لغزشوں کا ذکر قرآن کریم و احادیث وغیرہ میں ہوا ہے۔ اُن کا جواب دے رہے ہیں۔

مفتی خلیل احمد قادری برکاتی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں۔

"نبی کی فطرت بہت ہی سلیم ہوتی ہے اور سلامت روی اس کا ایک ذاتی خاصہ ہوتا ہے اسی لیے جوباتیں خدا کو نا پسند ہوتی ہیں ان سے نبی کو نفرت ہوتی ہے اور اگر کوئی موقع پیغمبر کو ایسا پیش آجاتا ہے جو عام لوگوں کی لغزش کا مقام ہوتا ہے تو وہاں خدائی قدرت کسی نہ کسی صورت میں ظاہر ہو کر اسے بچالیتی ہے لہٰذا پیغمبر سے گناہ کبیرہ کا صادر ہونا ناممکن و محال ہے بلکہ ایسے افعال بھی ان سے سرزد نہیں ہوتے جو وجاہت اور مروت کے خلاف ہیں یا جو خلق کے لیے باعث نفرت ہوں۔

نبی کے قصد و ارادہ سے گناہ صغیرہ کا صادر ہونا بھی ممکن نہیں ہے خواہ قبل نبوت ہو یا بعد نبوت ۔ ہاں بھول چوک سے کوئی ایسا امر صادر ہو جائے تو اور بات ہے کہ آخر تو بشر ہیں مگر تبلیغی امور میں یہ بھی ممکن نہیں۔

انبیاء کرام علیہم السلام سے جو لغزشیں واقع ہوئیں ان کا ذکر تلاوت قرآن اور قرآت حدیث کے سوا حرام اور سخت حرام ہے۔ اللہ تعالیٰ عزوجل ان کا مالک ہے اور وہ اس کے پیارے بندے ۔ مولا کوشایاں ہے کہ وہ پانے محبوب بندوں کو جس عبادت سے اور جس طرح چاہے تعبیر فرمائے اور یہ اپنے رب کے لیے جس قدر چاہیں تواضع فرمائیں۔ دوسرا ان کلمات کو سند نہیں بنا سکتا ورنہ مردود بارگاہ ہوگا۔ بلاتشبیہ یوں خیال کرو کہ کسی باپ نے اپنے بیٹے کو کسی غلطی پر تنبیہہ کرنے کے لیے نالائق کہہ دیا تو باپ کو اختیار تھا۔ اب کوئی دوسرا ان الفاظ کو سند بنا کر یہی الفاظ کہہ سکتا ہے؟ ہر گز نہیں اور اگر کہے گا تو سخت گستاخ سمجھا جائے گا؟ جب یہاں یہ حالت ہے تو اللہ عزوجل کی ریس کرکے انبیاء علیہم السلام کی شان میں ایسے الفاظ بکنے والا کیونکر بارگاہ الٰہی سے مردود اور سخت عذاب جہنم کا مستحق نہ ہوگا؟ ایسی جگہ سخت احتیاط کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے محبوبوں کا حسن ادب عطا فرمائے."

مفتی قاسم قادری مدظلہ العالی کا یہ فتوی بھی قابل غور ہے۔

bad_batin_wahabi.GIF

 

Edited by Kilk-e-Raza

Share this post


Link to post
Share on other sites

KILK E RAZA SAHAB

Asl me yha thoda sa confusion hai. 

JA AL HAQ ME LIKHA HUA HAI KE NISYANAN GUNAHE QABIRA AMBIA SE SADIR HO SAKTE HAI..

 

fir Likha hua hai ke AMBIA SE NISYANAN SAGIRA GUNAH BHI SADIR HO SKTE HAI .

apne fir MUFTI KHALIL AHMAD ALEH RAHMA KE HAWALE SE LIKHA KE.

 لہٰذا پیغمبر سے گناہ کبیرہ کا صادر ہونا ناممکن و محال ہے

 

kya apko nahi lagta ye sari bate aps me contradict kr rhi hai..

 

agr gunahe kabira paigambar se muhal hai to ja al haq ki vo ibarat jisme likha hai ke nisyanan gunah ambia se bhi sadir ho skte hai uske khilaf nahi honga ? bhale hi bhul se ho hone ka imkan ka iqrar to hai aur mufti khalil sahab is gunah ko namumkin man rhe hai yane imkan k bhi qayil nahi hai ..

 

YA FIR MAI HI BAT NAHI SMJHA ?

 

NISYANAN yane BHUL SE AMBIA KA GUNAH KRNE KI JO BAT HAI uski koi dalil ya muhaddis ka qol ya salf salehiin ki koi wajahat to zrur hongi jo ja al haq ki ibarat se milti hongi use bhi share kare.

 

aur jo apne kaha ke wahabi bhul se huee bato ko base bana kr ambia ko gunahgar samjhte hai uske bhi hawale hoto zrue share kre .. jaise adam ale salam par shirk ki tohmat jo lagayee kitabut tohid me isk ilawa koi aur hoto vo bhi bataye...

PicsArt_06-08-10_50_56.jpg.fa0b01b5613392d2cdbee1d3f7f96a91.jpg

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!


Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.


Sign In Now

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

  • Similar Content

    • By aaftab
      Assalam alaikum
      Wahabio ka is aaitaraz ka jawab mai nay yaha parha bhe tha magar search say nahe mil raha
      Kay Quran mai ata hai jiska mafhooom darj zail hai:
      jiinhain Allah kay siwa madad kay leay etc pukara jata hai wo khajoor ki ghutli par aik bareek chilkay kay bhe malik nahe
       
      جن لوگوں کو اللہ کے سوا حاجت روا سمجھ کر پکارا جاتا ہـے۔۔۔۔۔۔۔ اللہ پاک فرماتا ہـے وہ اس چھلکے کے بھی مالک نہیں۔۔۔۔۔۔۔ *
      ”وَ الَّذِیۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖ مَا یَمۡلِکُوۡنَ مِنۡ قِطۡمِیۡرٍ۔“ (الفاطر : 13)
      "جنہیں تم اس کے سوا پکار رہـے ہـو وه تو کھجور کی گٹھلی کے چھلکے کے بھی مالک نہیں۔"
      يا اللہ ہم سب کے دلوں میں ہدایت ڈال دیں
      was salam
    • By فقیرقادری
      السلام علیکم بھائیو
      اس اعتراض کا جواب درکار ہے۔
      اخبرنی ابن رزق قال:حدیثآ                     احمد بن سلمان بن الفقیہ بالنجاد قال :حدیثآ عبداللہ بن احمد بن حنبل قال حدیثآ                        مھنی بن یحیی قال سمت احمد بن حنبل یقول ماقول ابی حنیفہ والبعر عندی الاسواء
      تاریخ بغداد 569/51 وسند صحیح
      اس کا ترجمہ جو وہابیہ نے کیا : امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں میرے نزدیک جانوروں کی گندگی اور ابو حنیفہ کا قول یکساں ہے۔
      ---------------
      الحمدُللہ۔
      فقیر نے حوالہ تلاش کر لیا ہے۔وہابی نے جھوٹ سے کام لیا ہے۔ثابت ہوا کے وہابی جھوٹا ہے۔


      -----------------
      فقیر نے جو ترجمہ  (لفظی نہیں محاورتاََ)      کیا ہے وہ یہ ہے : اسناد مھنی تک صحیح ہے۔اور مھنی ثقہ ہے،عبد اللہ رحمہ اللہ نے یہ اپنے والد محترم سے نہیں سنا۔انہوں نے یہ مھنی سے لیا۔میں عربی میں کمزور ہوں اسلامی بھائی   غلطی پر اصلاح فرمائیں۔مسئلہ تو کافی واضع ہو گیا مگر کوئی بھائی یہ بتا دے کے اسماء رجال کے تحت کیا حکم ہوگا مجھے اصول اسناد کا  بھی علم نہیں ہے۔
    • By فقیرقادری
      السلام علیکم
       
      اس کا جواب درکار ہے
       

    • By Abu Muaaz
      AZAAN E QABR SE MUTALIK EK SAWAAL KA JAWAAB BY MUFTI MUHAMMED AAQUIB QUAADRI SAQAFI SAHAB QIBLA