Sign in to follow this  
Followers 0
K.Ahmed92

Ghair Ul Allah Say Madad

76 posts in this topic

مصطفوی میاں


پہلے اہل علم حضرات کے پوچھے گئے سوالات کا جواب تو دو۔۔


خواہ مخواہ ٹاپک میں پوسٹنگ کیے جا رہے ہو۔


موڈریٹرز اسلامی بھائیوں سے مدنی التجا ہے کہ اسے وارن کریں کہ خلط مبحث نہ کرے اور مسولہ باتوں کا جواب دے۔۔


محض دعائیں دینے سے کام نہیں چلے گا۔


محترم خلیل رانا صاحب اپنا قیمتی وقت نکال کر تمہیں دلائل کے انبار فراہم کیے جا رہے ہیں مگر تمہارے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔


نہ قبلہ علامہ سعیدی صاحب کی پوسٹ کا کوئی درست جواب دیا اور نہ عقیل احمد وقاص بھائی کے سوالوں کا۔


احمد لاہور بھائی کی پوسٹ بھی آپکے جواب کی منتظر ہے۔


مکرمی جناب خلیل صاحب کے دلائل کا جواب کون دے گا؟؟؟


یا واضح سامنے آئیں یا پورا اوجھل ہو جائین۔۔


اب اگر یہ ٹاپک لاک بھی کر دیا جائے تو مضائقہ نہیں کیونکہ تم کوئی اعتراض اٹھا نہیں سکے ہو اور نہ سوالوں کا درست جواب دیا ہے یا اسکی کوشش کی ہے۔


Share this post


Link to post
Share on other sites

ضعیف حدیث سے حضور ﷺ کی سماعت ثابت ہورہی ہے،آپ کہتے ہیں کہ یہ سماعت معجزہ ہے ، اَب آپ بتائیں کہ


اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں ایک ایسا فرشتہ ہے جسے اس نے تمام مخلوق کی آوازوں کی قوت شنوائی دے رکھی ہے۔


آپ بتائیں کہ کیا یہ قوت سماعت ہر وقت ہوتی ہے یا معجزہ اور کرامت کی طرح عارضی؟


اسی طرح ایک اور حدیث ہے


جو بندہ دُرود پڑھتا ہے خواہ وہ کہیں ہو اس آواز مجھے پہنچ جاتی ہے۔


کیا یہ سماعت معجزہ کے طور پر عارضی ہے ؟

Share this post


Link to post
Share on other sites

تمام احباب کی خدمت میں

اسلام علیکم

 

میں نے اس تھریڈ میں فتح الباری کی معجم الکبیر الطبرانی سے پیش کردہ ایک روایت جس سے صحابہ کرام کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دور سے مدد مانگنے کا ثبوت

پیش کیا جا رہا تھا پر سندا کچھ عرض کیا تھا

اصولی طور پر بات صرف روایت کے حوالے تک ہی رہنی چاہئے تھی لیکن بعض اہل علم دوستوں نے بات کو کہیں سے کہیں پہنچا دیا

اب میں یہاں فائنلی اپنا موقف اس روایت کے حوالے سے پیش کر کے اجازت چاہوں گا کیونکہ بحث برائے بحث کا کچھ حاصل نہیں

 

طبرانی کی اس روایت میں ایک راوی ہے

یحی سلیمان بن نضلہ

 

اس راوی کی تعدیل بھی موجود ہے اور اس پر جرح بھی موجود ہے

 

اس کی تعدیل کچھ یوں ہے

 

ذکرہ ابن حبان فی الثقات

قال ابن عدی ۔۔۔ أحاديث عامتها مستقيمة.

 

اس پر جرح یہ ہے

 

قال امام ابن ہیثمی ۔۔۔۔۔ ھو ضعیف

قال ابن حبان ۔۔۔۔۔ یخطی ویھم

 

قال ابو حاتم ۔۔۔۔ ليس هو بالقوى

 

امام بخاری ۔۔۔۔ منکر الحدیث

 

وقال ابن عقدة: سَمِعتُ ابن خراش يقول: لا يسوى شيئا

 

اب جو راوی ضعیف ہو ۔۔ غلطیاں کرتا ہو اور اسے وہم ہو جاتا ہو ۔۔۔۔ جو قوی بھی نہ ہو ۔۔۔ جو منکر حدیث ہو اور کسی کھاتے میں نہ ہو

 

تو ایسے راوی کی بیان کردہ روایت سے صحابہ کرام کا عقیدہ بیان کرنا بالکل بھی مناسب نہیں

 

اس کے بعد ایک اور راوی ہے

 

محمد بن نضلہ

ان کے بارے میں صرف یہ معلوم ہے کہ یہ مذکورہ بالا راوی کے چچا ہیں

 

اس کے علاوہ ان کے بارے میں کچھ معلوم نہیں کہ کیسا آدمی تھا اب اس مجہول الحال راوی کی روایت کا کیا اعتبار ؟؟

 

اس کے بعد اس روایت کے متن پر آ جائیں

 

حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میں نے آپ کو کسی انسان سے باتیں کرتے ہوئے یہ یہ کہتے سنا ہے کیا آپ کے پاس کوئی موجود تھا ؟

فھل کان معک احد ؟

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ راجز ہے ۔۔۔۔ الخ

 

اب اس سوال اور جواب کو سامنے رکھتے ہوئے خود ہی انصاف فرمائیں کہ کیا اس سوال و جواب سے حضرت میمونہ ؓ کے گمان میں بھی یہ بات آئی ہو گی کہ راجز یہاں موجود نہیں تھا بلکہ تین دن کی مسافت پر تھا ؟

اس سوال جواب کے بعد روایت میں ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے نکل کر حضرت عائشہ ؓ کے پاس گئے اور سامان جہاد کی تیاری وغیرہ کا کہا

اس کے بعد حضرت میمونہؓ فرماتی ہیں کہ

فااقمنا ثلاثا

ہم تین دن ٹھہرے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھائی تو راجز نے اشعار پڑھے 

Share this post


Link to post
Share on other sites

Janab ap k nazdeek agar yeh ravi aysay e hain to bataiye ap k nazdeek yeh Hadees Da'eef hay ya Mozoo hay ya kis darjay ke hay???

Share this post


Link to post
Share on other sites

تمام احباب کی خدمت میں

اسلام علیکم

 

میں نے اس تھریڈ میں فتح الباری کی معجم الکبیر الطبرانی سے پیش کردہ ایک روایت جس سے صحابہ کرام کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دور سے مدد مانگنے کا ثبوت

پیش کیا جا رہا تھا پر سندا کچھ عرض کیا تھا

اصولی طور پر بات صرف روایت کے حوالے تک ہی رہنی چاہئے تھی لیکن بعض اہل علم دوستوں نے بات کو کہیں سے کہیں پہنچا دیا

اب میں یہاں فائنلی اپنا موقف اس روایت کے حوالے سے پیش کر کے اجازت چاہوں گا کیونکہ بحث برائے بحث کا کچھ حاصل نہیں

 

 

 

 

اب جو راوی ضعیف ہو ۔۔ غلطیاں کرتا ہو اور اسے وہم ہو جاتا ہو ۔۔۔۔ جو قوی بھی نہ ہو ۔۔۔ جو منکر حدیث ہو اور کسی کھاتے میں نہ ہو

 

تو ایسے راوی کی بیان کردہ روایت سے صحابہ کرام کا عقیدہ بیان کرنا بالکل بھی مناسب نہیں

 

 

جناب محترم، (زیادہ) تکنیکی گفتگو آپ کے مزاج پر گراں گزرتی ہے

جائز ناجائز کے چکر میں آپ ویسے ہی نہیں پڑتے، کیونکہ آپ کا چکر غالباً مناسب اور نامناسب تک محدود ہے۔

بہرکیف، اگر نامناسب معلوم نہ ہو تو وضاحت فرما دیجئے کہ

قریب سے مدد مانگنے پر آپ کو اعتراض نہیں

دور سے سننا بطور معجزہ آپ کو قبول ہے

تو جب قریب سے مدد مانگنا درست، دور سے سن لینا بھی بطور معجزہ ممکن، پھر دور سے مدد مانگنے پر کیا آپ کا کوئی اعتراض باقی رہ جاتا ہے؟ اگر ہاں، تو اس کی بنیاد اور دلیل کیا ہے؟

Edited by Ahmad Lahore

Share this post


Link to post
Share on other sites
Wahabi Mustafvi sahab se ek muhtasar sa sawal :-

Hadees shareef parh kar btyen key kiya Allah rab ul izzat key hute huwy nabi kareem s.a.w nei Hazrat Jibraeal A.s se madad talab karna seekha rhy hain ya nhi ?? Agar han tu kiya yeh shirk hai ya nahi ?? kiya Aj kei dour mein Hazrat Jibrael a.s ku waseela bna kar madad talab karna shirk hu ga ya nahi ? aur kiya ap Iss waseely ku manty hain ?? nahi tu kiun nahi ?? Aur Agar han tu phir nabi kareem s.a.w se madad talab karne mein kiya harj hai ??

Phir bhi Aitraaz hai tu kisi Qurani ayat ya saheeh  hadees se sabit karein kei NAbi kareem se madad talab karna shirk hai Aur Allah rab ul izzat nei aur Nabi kareem s.a.w ney iss kam se mana farmaya hei, aur sahaba r.a ney bhi mana farmaya hai.

Shukriya……………….

 

 

 

 

453 - حَدَّثَنَا أَبُو اليَمَانِ الحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّهُ سَمِعَ حَسَّانَ بْنَ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيَّ، يَسْتَشْهِدُ أَبَا هُرَيْرَةَ: أَنْشُدُكَ اللَّهَ، هَلْ سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يَا حَسَّانُ، أَجِبْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، اللَّهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ القُدُسِ» قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: نَعَمْ

ش ( أجب عن رسول الله) دافع عنه وأجب الكفار على هجائهم له ولأصحابه. ( بروح القدس) هو جبريل عليه السلام

 

 

 
Narrated By Hassan bin Thabit Al-Ansari : I asked Abu Huraira "By Allah! Tell me the truth whether you heard the Prophet saying, 'O Hassan! Reply on behalf of Allah's Apostle. O Allah! Help him with the Holy Spirit." Abu Huraira said, "Yes. "

 

 

حضرت حسان بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو اس بات پر گواہ بنارہے تھے کہ میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ کیا تم نے نبی ﷺکو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا اے حسان! رسول اللہﷺکی طرف سے (کافروں کو) جواب دو، اے اللہ! روح القدس(جبریل علیہ السلام) کے ذریعہ ان کی مدد فرمادے، انہوں نے کہا: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں (رسول اللہﷺنے ایسا کہا تھا)۔
 

 

 

------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

 
فتح الباري لابن حجر
 
[453] قَوْلُهُ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ كَذَا رَوَاهُ شُعَيْبٌ وَتَابَعَهُ إِسْحَاقُ بْنُ رَاشِدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَخْرَجَهُ النَّسَائِيُّ وَرَوَاهُ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ فَقَالَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ بَدَلَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْرَجَهُ الْمُؤَلِّفُ فِي بَدْءِ الْخَلْقِ وَتَابَعَهُ مَعْمَرٌ عِنْدَ مُسْلِمٍ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ عِنْدَ النَّسَائِيِّ وَهَذَا مِنَ الِاخْتِلَافِ الَّذِي لَا يَضُرُّ لِأَنَّ الزُّهْرِيَّ مِنْ أَصْحَابِ الْحَدِيثِ فَالرَّاجِحُ أَنَّهُ عِنْدَهُ عَنْهُمَا مَعًا فَكَانَ يُحَدِّثُ بِهِ تَارَةً عَنْ هَذَا وَتَارَةً عَنْ هَذَا وَهَذَا مِنْ جِنْسِ الْأَحَادِيثِ الَّتِي يَتَعَقَّبُهَا الدَّارَقُطْنِيُّ عَلَى الشَّيْخَيْنِ لَكِنَّهُ لَمْ يَذْكُرْهُ فَلْيُسْتَدْرَكْ عَلَيْهِ وَفِي الْإِسْنَادِ نَظَرٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ وَهُوَ عَلَى شَرْطِ التَّتَبُّعِ أَيْضًا وَذَلِكَ أَنَّ لَفْظَ رِوَايَةِ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ مَرَّ عُمَرُ فِي الْمَسْجِدِ وَحَسَّانُ يُنْشِدُ فَقَالَ كُنْتُ أُنْشِدُ فِيهِ وَفِيهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ أَنْشُدُكَ اللَّهَ الْحَدِيثَ وَرِوَايَةُ سَعِيدٍ لِهَذِهِ الْقِصَّةِ عِنْدَهُمْ مُرْسَلَةٌ لِأَنَّهُ لَمْ يُدْرِكْ زمن الْمُرُور وَلكنه يُحْمَلُ عَلَى أَنَّ سَعِيدًا سَمِعَ ذَلِكَ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ بَعْدُ أَوْ مِنْ حَسَّانَ أَوْ وَقْعَ لِحَسَّانَ اسْتِشْهَادُ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرَّةً أُخْرَى فَحَضَرَ ذَلِكَ سَعِيدٌ وَيُقَوِّيهِ سِيَاقُ حَدِيثِ الْبَابِ فَإِنَّ فِيهِ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ سَمِعَ حَسَّانَ يَسْتَشْهِدُ أَبَا هُرَيْرَةَ وَأَبُو سَلَمَةَ لَمْ يُدْرِكْ زَمَنَ مُرُورِ عُمَرَ أَيْضًا فَإِنَّهُ أَصْغَرُ مِنْ سَعِيدٍ فَدَلَّ عَلَى تَعَدُّدِ الِاسْتِشْهَادِ وَيَجُوزُ أَنْ يَكُونَ الْتِفَاتُ حَسَّانَ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ وَاسْتِشْهَادُهُ بِهِ إِنَّمَا وَقَعَ مُتَأَخِّرًا لِأَنَّ ثُمَّ لَا تَدُلُّ عَلَى الْفَوْرِيَّةِ وَالْأَصْلُ عَدَمُ التَّعَدُّدِ وَغَايَتُهُ أَنْ يَكُونَ سَعِيدٌ أَرْسَلَ قِصَّةَ الْمُرُورِ ثُمَّ سَمِعَ بَعْدَ ذَلِكَ اسْتِشْهَادَ حَسَّانَ لِأَبِي هُرَيْرَةَ وَهُوَ الْمَقْصُود لِأَنَّهُ الْمَرْفُوع وَهُوَ مَوْصُول بِلَا تَرَدُّدٍ وَاللَّهُ أَعْلَمُ قَوْلُهُ يَسْتَشْهِدُ أَيْ يَطْلُبُ الشَّهَادَةَ وَالْمُرَادُ الْإِخْبَارُ بِالْحُكْمِ الشَّرْعِيِّ وَأَطْلَقَ عَلَيْهِ الشَّهَادَةَ مُبَالَغَةً فِي تَقْوِيَةِ الْخَبَرِ قَوْلُهُ أَنْشُدُكَ بِفَتْحِ الْهَمْزَةِ وَضَمِّ الشِّينِ الْمُعْجَمَةِ أَيْ سَأَلْتُكَ اللَّهَ وَالنَّشْدُ بِفَتْحِ النُّونِ وَسُكُونِ الْمُعْجَمَةِ التَّذَكُّرُ قَوْلُهُ أَجِبْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ فِي رِوَايَةِ سَعِيدٍ أَجِبْ عَنِّي فَيَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ الَّذِي هُنَا بِالْمَعْنَى قَوْلُهُ أَيِّدْهُ أَيْ قَوِّهِ وَرُوحُ الْقُدُسِ الْمُرَادُ هَنَا جِبْرِيلُ بِدَلِيلِ حَدِيثِ الْبَرَاءِ عِنْدَ الْمُصَنِّفِ أَيْضًا بِلَفْظِ وَجِبْرِيلُ مَعَكَ وَالْمُرَادُ بِالْإِجَابَةِ الرَّدُّ عَلَى الْكُفَّارِ الَّذِينَ هَجَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ وَفِي التِّرْمِذِيِّ مِنْ طَرِيقِ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْصِبُ لِحَسَّانَ مِنْبَرًا فِي الْمَسْجِدِ فَيَقُومُ عَلَيْهِ يَهْجُو الْكُفَّارَ وَذَكَرَ الْمِزِّيُّ فِي الْأَطْرَافِ أَنَّ الْبُخَارِيَّ أَخْرَجَهُ تَعْلِيقًا نَحْوَهُ وَأَتَمَّ مِنْهُ لَكِنِّي لَمْ أَرَهُ فِيهِ قَالَ بن بَطَّالٍ لَيْسَ فِي حَدِيثِ الْبَابِ أَنَّ حَسَّانَ أَنْشَدَ شِعْرًا فِي الْمَسْجِدِ بِحَضْرَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَكِنَّ رِوَايَةَ الْبُخَارِيِّ فِي بَدْءِ الْخَلْقِ مِنْ طَرِيقِ سَعِيدٍ تَدُلُّ عَلَى أَنَّ قَوْلَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَسَّانَ أَجِبْ عَنِّي كَانَ فِي الْمَسْجِدِ وَأَنَّهُ أَنْشَدَ فِيهِ مَا أَجَابَ بِهِ الْمُشْرِكِينَ.


     وَقَالَ  غَيْرُهُ يَحْتَمِلُ أَنَّ الْبُخَارِيَّ أَرَادَ أَنَّ الشِّعْرَ الْمُشْتَمِلَ عَلَى الْحَقِّ حَقٌّ بِدَلِيلِ دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَسَّانَ عَلَى شِعْرِهِ وَإِذَا كَانَ حَقًّا جَازَ فِي الْمَسْجِدِ كَسَائِرِ الْكَلَامِ الْحَقِّ وَلَا يُمْنَعُ مِنْهُ كَمَا يُمْنَعُ مِنْ غَيْرِهِ مِنَ الْكَلَامِ الْخَبِيثِوَاللَّغْوِ السَّاقِطِ.




قُلْتُ وَالْأَوَّلُ أَلْيَقُ بِتَصَرُّفِ الْبُخَارِيِّ وَبِذَلِكَ جَزَمَ الْمَازِرِيُّ.


     وَقَالَ  إِنَّمَا اخْتَصَرَ الْبُخَارِيُّ الْقِصَّةَ لِاشْتِهَارِهَا وَلِكَوْنِهِ ذَكَرَهَا فِي مَوْضِعٍ آخَرَ انْتهى وَأما مَا رَوَاهُ بن خُزَيْمَةَ فِي صَحِيحِهِ وَالتِّرْمِذِيُّ وَحَسَّنَهُ مِنْ طَرِيقِ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ تَنَاشُدِ الْأَشْعَارِ فِي الْمَسَاجِدِ وَإِسْنَادُهُ صَحِيحٌ إِلَى عَمْرٍو فَمَنْ يُصَحِّحْ نُسْخَتَهُ يُصَحِّحْهُ وَفِي الْمَعْنَى عِدَّةُ أَحَادِيثَ لَكِنَّ فِي أَسَانِيدِهَا مَقَالٌ فَالْجَمْعُ بَيْنَهَا وَبَيْنَ حَدِيثِ الْبَابِ أَنْ يُحْمَلَ النَّهْيُ عَلَى تَنَاشُدِ أَشْعَارِ الْجَاهِلِيَّةِ وَالْمُبْطِلِينَ وَالْمَأْذُونُ فِيهِ مَا سَلِمَ مِنْ ذَلِكَ وَقِيلَ الْمَنْهِيُّ عَنْهُ مَا إِذَا كَانَ التَّنَاشُدُ غَالِبًا عَلَى الْمَسْجِدِ حَتَّى يَتَشَاغَلَ بِهِ مِنْ فِيهِ وَأَبْعَدَ أَبُو عَبْدُ الْمَلِكِ الْبَوْنِيُّ فَأَعْمَلَ أَحَادِيثَ النَّهْيِ وَادَّعَى النَّسْخَ فِي حَدِيثِ الْإِذْنِ وَلَمْ يُوَافق على ذَلِك حَكَاهُ بن التِّينِ عَنْهُ وَذَكَرَ أَيْضًا أَنَّهُ طَرَدَ هَذِهِ الدَّعْوَى فِيمَا سَيَأْتِي مِنْ دُخُولِ أَصْحَابِ الْحِرَابِ الْمَسْجِد وَكَذَا دُخُول الْمُشرك ( قَوْلُهُ بَابُ أَصْحَابِ الْحِرَابِ فِي الْمَسْجِدِ) الْحِرَابُ بِكَسْرِ الْمُهْمِلَةِ جَمْعُ حَرْبَةٍ وَالْمُرَادُ جَوَازُ دُخُولِهِمْ فِيهِ وَنِصَالُ حِرَابِهِمْ مَشْهُورَةٌ وَأَظُنُّ الْمُصَنِّفَ أَشَارَ إِلَى تَخْصِيصِ الْحَدِيثِ السَّابِقِ فِي النَّهْيِ عَنِ الْمُرُورِ فِي الْمَسْجِدِ بِالنَّصْلِ غَيْرِ مَغْمُودٍ وَالْفَرْقُ بَيْنَهُمَا أَنَّ التَّحَفُّظَ فِي هَذِهِ الصُّورَةِ وَهِيَ صُورَةُ اللَّعِبِ بِالْحِرَابِ سَهْلٌ بِخِلَافِ مُجَرَّدِ الْمُرُورِ فَإِنَّهُ قَدْ يَقَعُ بَغْتَةً فَلَا يُتَحَفَّظُ مِنْهُ قَوْله فِي الْإِسْنَاد
فتح البارى لابن رجب
 
[453] حدثنا أبو اليمان الحكم بن نافع: ابنا شعيب، عن الزهري: اخبرني أبو سلمة بن عبد الرحمن، أنه سمع حسان بن ثابت يستشهد أبا هريرة: أنشدك الله، هل سمعت النبي - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يقول: ( يا حسان، أجب عن رسول الله، اللهم أيده بروح القدس) ) ؟ قال أبو هريرة: نعم.
ليس في هذه الرواية التي خرجها البخاري هاهنا إنشاد حسان في المسجد، إنما فيه ذكر مدح حسان على أجابته عن النبي - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - والدعاء له على ذلك، وكفى بذلك على فضل شعره المتضمن للمنافحة عن رسول الله - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، والرد على أعدائه والطاعنين عليه، والمساجد لا تنزه عن مثل ذلك.
ولهذا قال النبي - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: ( إن من الشعر حكمة) ) .
وقد خرجه البخاري في موضع أخر من حديث أبي بن كعب - مرفوعا.
وخرج - أيضا - من حديث البراء، أن النبي - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قال لحسان: ( اهجهم - او هاجمهم - وجبريل معك) ) .
وإنما خص النبي - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جبريل وهو روح القدس بنصرة من نصره ونافح عنه؛ لان جبريل صاحب وحي الله إلى رسله، وَهُوَ يتولى نصر رسله وإهلاك أعدائهم المكذبين لهم، كما تولى إهلاك قوم لوط وفرعون في البحر.
فمن نصر رسول الله وذب عنه أعداءه ونافح عنه كان جبريل معه ومؤيدا له كما قال لنبيه - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: { مَوْلاهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمَلائِكَةُ بَعْدَ ذَلِكَ ظَهِيرٌ} [التحريم: 4] .
وقد خرج البخاري في بدء الخلق عن ابن المديني، عن ابن عيينة، عن الزهري، عن ابن المسيب، قال: مر عمر في المسجد وحسان ينشد، فقال كنت انشد فيه، وفيه من هو خير منك ثم التفت إلى أبي هريرة، فقال: أنشدك الله، أسمعت رسول الله - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يقول: ( اجب عني، اللهم أيده بروح القدس) ) ؟ قال: نعم.
وهذا نوع إرسال من ابن المسيب؛ لأنه لم يشهد هذه القصة لعمر مع حسان عند أكثر العلماء الذين قالوا لم يسمع من عمر ومنهم من اثبت سماعه منه شيئا يسيرا.
وقد خرج هذا الحديث مسلم، عن غير واحد، عن ابن عيينة، عن الزهري، عن ابن المسيب، عن أبي هريرة، أن عمر مر بحسان - فجعل الحديث كله عن أبي هريرة متصلا.
ورواية ابن المديني اصح، وكذا رواه جماعة عن الزهري.
وروى ابن أبي الزناد، عن هشام بن عروة، عن أبيه، عن عائشة، قالت: كان رسول الله - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يضع لحسان منبرا في المسجد يقوم عليه قائما، يفاخر عن رسول الله - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أو قالت: ينافح عن رسول الله - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وتقول: قال رسول الله - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: ( أن الله يؤيد حسان بروح القدس ما يفاخر - او ينافح - عن رسول الله - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -) ) .
خرجه الترمذي.
وخرجه - أيضا - في طريق ابن أبي الزناد، عن أبيه، عن عروة، عن عائشة، عن النبي - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مثله.
وقال: حسن صحيح غريب، وهو حديث ابن أبي الزناد.
يعني أنه تفرد به.
وخرجه أبو داود من الطريقين - أيضا -.
وكذلك خرجه الإمام أحمد، وعنده: ( ينافح عن رسول الله - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بالشعر) ) .
وذكره البخاري في موضع اخرمن صحيحه - تعليقا -، فقال: وقال ابن أبي الزناد.
وخرجه الطبراني، وزاد في حديثه: ( فينشد عليه الأشعار) ) .
وروى سماك، عن جابر بن سمرة، قَالَ: شهدت رسول الله - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أكثر من مائة مرة في المسجد، وأصحابه يتذاكرون الشعر وأشياء من أمر الجاهلية، فربما تبسم معهم.
خرجه الإمام أحمد.
وخرجه النسائي، ولفظه: كان رسول الله - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إذا صلى الفجر جلس في مصلاه حتى تطلع الشمس، فيتحدث أصحابه، ويذكرون حديث الجاهلية، وينشدون الشعر، ويضحكون، ويبتسم رسول الله - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -.
وخرجه مسلم، إلا أنه لم يذكر الشعر.
وقد روى ما يخالف هذا وهو النهي عن إنشاد الأشعار في المساجد: فروى عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده، عن النبي - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أنه نهىأن ينشد في المسجد الأشعار - في حديث ذكره.
خرجه الإمام أحمد وأبو داود والنسائي وابن ماجه والترمذي، قال: حديث حسن.
وخرج أبو داود نحوه من حديث حكيم بن حزام، عن النبي - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بإسناد فيه نظر وانقطاع.
وروى أبو القاسم البغوي في معجمه من طريق ابن إسحاق، عن يعقوب بن عتبة، عن الحارث بن عبد الرحمن بن هشام، عن أبيه، قال: أتى ابن الحمامة السلمي إلى النبي - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وهو في المسجد؟ فَقَالَ: أني أثنيت عَلَى ربي تعالى ومدحتك.
قَالَ: ( امسك عليك) ) ، ثم قام رسول الله - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فخرج به من المسجد، فقال: ( ما أثنيت به على ربك فهاته، وأما مدحي فدعه عنك) ) ، فانشد حتى إذا فرغ دعا بلالاً، فأمره أن يعطيه شيئا، ثم اقبل رسول الله - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - على الناس، فوضع يده على حائط المسجد، فمسح به وجهه وذراعيه، ثم دخل.
وهذا مرسل، وفيه جواز التيمم بتراب جدار المسجد، وهو رد على من كرهه من متأخري الفقهاء، وهو من التنطع والتعمق.
وروى وكيع في كتابه عن مبارك بن فضالة، عن ظبيان بن صبيح الضبي، قال: كان ابن مسعود يكره أن ترفع الأصوات في المساجد، أو تقام فيها الحدود، أو ينشد فيها الأشعار، أو تنشد فيها الضالة.
وروى أسد بن موسى في كتاب الورع: ثنا ضمرة، عن ابن عطاء الخراساني، عن أبيه، قال: كان أهل العلم يكرهون أن ينشد الرجل ثلاثة أبيات من شعر في المسجد حتى يكسر الثالث.
وهذا تفريق بين قليل فيرخص فيه، وهو البيت والبيتان، وبين كثيرة، وهو ثلاثة أبيات فصاعدا.
وقال ابن عبد البر: إنما ينشد الشعر في المسجد غباً من غير مداومة.
قال: وكذلك كان حسان ينشد.
وجمهور العلماء على جواز إنشاد الشعر المباح في المساجد، وحمل بعضهم حديث عمرو بن شعيب على أشعار الجاهلية، وما لا يليق ذكره في المساجد، ولكن الحديث المرسل يرد ذلك.
والصحيح في الجواب: أن أحاديث الرخصة صحيحة كثيرة، فلا تقاوم أحاديث الكراهة في أسانيدها وصحتها.
ونقل حنبل، عن أحمد، قال: مسجد النبي - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خاصة لا ينشد فيه الشعر، ولا يمر فيه بقطع اللحم، يجتنب ذلك كله، كرامة لرسول الله - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -.
69 - باب أصحاب الحراب في المسجد
 

 

 

Edited by Muhammad Afan

Share this post


Link to post
Share on other sites

(bis)

مصطفوی صاحب

آپ نے راوی اور روایت کے بارے میں نقائص بتائے ہیں

اس سے روایت ضعیف ثابت کی، میں نے آپ سے سوال کیا تھاکہ

 

ضعیف حدیث سے حضور ﷺ کی سماعت ثابت ہورہی ہے،آپ کہتے ہیں کہ یہ سماعت معجزہ ہے ، اَب آپ بتائیں کہ

اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں ایک ایسا فرشتہ ہے جسے اس نے تمام مخلوق کی آوازوں کی قوت شنوائی دے رکھی ہے۔

آپ بتائیں کہ کیا یہ قوت سماعت ہر وقت ہوتی ہے یا معجزہ اور کرامت کی طرح عارضی؟

اسی طرح ایک اور حدیث ہے

جو بندہ دُرود پڑھتا ہے خواہ وہ کہیں ہو اس  کی آواز مجھے پہنچ جاتی ہے۔

کیا یہ سماعت معجزہ کے طور پر عارضی ہے ؟

اگر حضور نبی کریم ﷺ نےاللہ تعالیٰ کے عطا کردہ فضل و کمال سے اس صحابی کی پکار سن لی تو آپ کی توحید کو اس سے کیا دھکا لگ رہا ہے ؟

آپ کو حضور نبی کریم ﷺ کے فضائل وکمالات سے چڑ کیوں ہے؟

ذکر روکے فضل کاٹے نقص کا جویاں رہے

پھر کہے مردک کہ ہوں اُمت رسول اللہ کی ؟

 

 

1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites

(bis)

جناب مصطفوی صاحب

ہم نے بحث کو کہیں سے کہیں نہیں پہنچایا، بحث وہیں ہے

آپ کسی بات کا جواب تو دیں ، آپ نے دیوبندیوں والی روش اختیار کی ہے

غالباً آپ کا خیال ہے کہ راجز صحابی کا یہ عقیدہ نہیں تھا کہ رسول اللہ ﷺ سماعت فرمالیں گے

بس اُس نے ویسے ہی فریاد کی۔

آپ سے سوال ہے کہ آپ کے پاس کون سی حدیث یا حوالہ ہے جس میں صحابی کا یہ خیال لکھا ہے ؟

امام احمد رضا قادری بریلوی علیہ الرحمہ نے اللہ کی قسم کھا کر  فرمایا

واللہ وہ سُن لیں گے،فریاد کو پہنچیں گے

ایسا بھی تو ہو کوئی جو یاد کرے دل سے

آئیے اَب یہی واقعہ ایک اور سند سے پیش ہے، اس کی سند پر کلام کریں، اگر یہ سند ضعیف ہے تو دو روایتیں

مل کر یہ قوی ہوئی یا نہیں ؟اگر ضعیف نہیں تو مان لیں کہ فریاد کی جاسکتی ہے۔

اس روایت میں لبیکم کے الفاظ ہیں یعنی میں حاضر ہوں

ftohulbldan 1.jpg

ftohulbldan 2.jpg

ftohulbldan 3.jpg

Share this post


Link to post
Share on other sites

احمد لاہوری بھائی

 

چکر میں نہ پڑنے سے مراد یہ ہے کہ میں اس بحث کے چکر میں نہیں پڑتا کہ یہ شرک ہے یا نہیں یا جائز ہے یا  نہیں

 

میرے نزدیک قرآن و حدیث کی کسی صحیح مستند اور واضح دلیل سے دور سے مدد مانگنے کا کوئی ثبوت نہیں

 

برادر محمد افان

 

Hadees shareef parh kar btyen key kiya Allah rab ul izzat key hute huwy nabi kareem s.a.w nei Hazrat Jibraeal A.s se madad talab karna seekha rhy hain ya nhi ?? Agar han tu kiya

 

آپ نے ماشا،اللہ کافی محنت کی ہے لیکن سعی لا حاصل

اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت جبرائیلؑ سے مدد طلب کرنا نہیں سکھا رہے بلکہ

اللہ سے دعا کر رہے  ہیں کہ

اے اللہ اس کی روح القدس سے مدد فرما

Share this post


Link to post
Share on other sites

محترم جناب خلیل رانا صاحب

(bis)

مصطفوی صاحب

آپ نے راوی اور روایت کے بارے میں نقائص بتائے ہیں

اس سے روایت ضعیف ثابت کی، میں نے آپ سے سوال کیا تھاکہ

 

ضعیف حدیث سے حضور ﷺ کی سماعت ثابت ہورہی ہے،آپ کہتے ہیں کہ یہ سماعت معجزہ ہے ، اَب آپ بتائیں کہ

اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں ایک ایسا فرشتہ ہے جسے اس نے تمام مخلوق کی آوازوں کی قوت شنوائی دے رکھی ہے۔

آپ بتائیں کہ کیا یہ قوت سماعت ہر وقت ہوتی ہے یا معجزہ اور کرامت کی طرح عارضی؟

اسی طرح ایک اور حدیث ہے

جو بندہ دُرود پڑھتا ہے خواہ وہ کہیں ہو اس  کی آواز مجھے پہنچ جاتی ہے۔

کیا یہ سماعت معجزہ کے طور پر عارضی ہے ؟

اگر حضور نبی کریم ﷺ نےاللہ تعالیٰ کے عطا کردہ فضل و کمال سے اس صحابی کی پکار سن لی تو آپ کی توحید کو اس سے کیا دھکا لگ رہا ہے ؟

آپ کو حضور نبی کریم ﷺ کے فضائل وکمالات سے چڑ کیوں ہے؟

ذکر روکے فضل کاٹے نقص کا جویاں رہے

پھر کہے مردک کہ ہوں اُمت رسول اللہ کی ؟

 

فرشتے والی بات کا موضوع زیر بحث سے کیا تعلق بنتا ہے ؟؟

آپ نے فرشتے کے حوالے سے جو تفصیلات پوچھی ہیں مجھے ان کے بارے معلوم نہیں ہے

 

اور میرا خیال ہے کہ وہ فرشتہ درود شریف سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک بمعہ نام پہنچاتا ہے ساری مخلوق کی ساری آوازیں سننے کا علم نہیں

بہرحال وہ روایت پیش کریں گے تو معلوم ہو گا

 

نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک آواز پہنج جاتی ہے کب کیسے وغیرہ کی تفصیلات معلوم نہیں ہیں

 

معاذ اللہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل سے کیوں چڑ ہو گی ؟؟؟؟؟

 

مسئلہ زیر بحث تو دور سے مدد مانگنے کا ہے نہ کہ فضائل کا

آپ اصل موضوع کو چھوڑ کر بحث کو دوسری طرف لے جا رہے ہیں ۔

 

 

 

Edited by Mustafvi

Share this post


Link to post
Share on other sites

آئیے اَب یہی واقعہ ایک اور سند سے پیش ہے، اس کی سند پر کلام کریں، اگر یہ سند ضعیف ہے تو دو روایتیں

مل کر یہ قوی ہوئی یا نہیں ؟اگر ضعیف نہیں تو مان لیں کہ فریاد کی جاسکتی ہے۔

اس روایت میں لبیکم کے الفاظ ہیں یعنی میں حاضر ہوں

 

اس دوسری روایت میں بھی کوئی ذکر نہیں ہے کہ راجز نے تین دن کی مسافت سے پکارا تھا صرف اتنا ہے جب اس نے ندا دی نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت غسل فرما رہے تھے۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

احمد لاہوری بھائی

 

چکر میں نہ پڑنے سے مراد یہ ہے کہ میں اس بحث کے چکر میں نہیں پڑتا کہ یہ شرک ہے یا نہیں یا جائز ہے یا  نہیں

 

میرے نزدیک قرآن و حدیث کی کسی صحیح مستند اور واضح دلیل سے دور سے مدد مانگنے کا کوئی ثبوت نہیں

 

 

 

 

ماشاءاللہ۔ خوب وضاحت فرمائی آپ نے۔

چلئے جناب، یوں کہہ لیجئے کہ آپ جائز ناجائز کے چکر کے بجائے جائز ناجائز وغیرہ کی بحث کے چکر میں نہیں پڑتے۔ مگر ان دونوں باتوں میں فرق کیا ہے؟ یا پھر مقصد صرف لوگوں کو چکر دینا ہے؟ 

 

قرآن و حدیث کی کسی صحیح مستند اور واضح دلیل کے ذریعے کیا جواز یا عدم جواز کا حکم معلوم نہیں ہوا کرتا؟

آپ کے نزدیک جواز یا عدم جواز کے علاوہ کوئی اور صورت بھی ہوتی ہے حکم کی؟ مراد جواز یا عدم جواز کی دیگر اقسام یا تفصیلات نہیں، بلکہ کوئی ایسی صورت جو جواز یا عدم جواز سے جداگانہ حیثیت کی حامل ہو۔

اگر کسی عمل یا عقیدے کے حق میں قرآن و حدیث کی کوئی صحیح مستند اور واضح دلیل آپ کے بقول موجود نہ ہو، تو آپ ایسے عمل یا عقیدے کو جائز قرار دیں گے یا ناجائز، یا پھر کچھ اور؟

قریب سے مدد مانگنے پر آپ کو اعتراض نہیں۔ تو کیا آپ اسے جائز کہیں گے یا نہیں؟

دور سے سننا بطور معجزہ آپ کو قبول ہے۔ کیا اسے بھی آپ جائز مانیں گے یا نہیں؟

  اگر قریب سے مدد مانگنا اور دور سے بطور معجزہ سن لینا، دونوں ہی آپ کے نزدیک درست اور جائز ہیں، پھر دور سے مدد مانگنے کے جواز پر آپ کو تردّد کیوں ہے، کہ اس میں مدد طلب کرنے اور دور سے سن لینے کے سوا اور تو کچھ نہیں؟

اور اگر یہ دونوں باتیں آپ کے نزدیک جائز نہیں، تو آپ کے لیے قابل قبول اور درست کیوں ہیں؟ یا پھر آپ کے نزدیک یہ دونوں باتیں درست تو ہیں اور آپ انہیں قبول بھی کرتے ہیں، مگر نہ تو انہیں جائز سمجھتے ہیں، نہ ہی ناجائز؟ ایسی صورت میں پھر ان کا حکم آپ کے نزدیک کیا ہے؟

براہ کرم، محض ایک آدھ سطر پر خامہ فرسائی کے بجائے تمام باتوں کا جواب عنایت فرما دیجئے گا۔

Edited by Ahmad Lahore

Share this post


Link to post
Share on other sites

اس دوسری روایت میں بھی کوئی ذکر نہیں ہے کہ راجز نے تین دن کی مسافت سے پکارا تھا صرف اتنا ہے جب اس نے ندا دی نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت غسل فرما رہے تھے۔

 

جناب آپ یہ بتائیں کہ آپ لوگ

کتنی مسافت سے آپ (saw)  کو ندا کرنا جائز مانتے ہو

اوراُس سے زیادہ مسافت سے ناجائز مانتے ہو؟

اور اُس حدِ فاصل کی دلیل کیا ہے؟

Edited by Saeedi

Share this post


Link to post
Share on other sites

مصطفوی میاں۔


دن دیہاڑے علمی ڈاکو مت بنو ، وہ حدیث ضعیف نہیں ہے اور اگر تھی بھی سہی تو تائید علما و عمل فقہا سے قوی کیوں نہیں ہوئی؟


اگر یہ ضعیف بھی مانو تو فضائل میں پھر بھی لائق استناد ہوگی۔


تمہارے نزدیک اگر یہ ضعیف ہے تو معجزہ تو ثابت کر سکتی ہے ناں یہ حدیث ، آؤ اب معجزہ کا بھی پڑھتے چلو۔


http://www.islamimehfil.com/topic/23653-how-to-reply-on-this-objection-on-ilm-e-gaib-and-haazir-naazir/#entry101307


اللہ ہدایت دے ، یہ لوگ خود سے محدث مدقق بننے لگ جاتے ہیں۔


Share this post


Link to post
Share on other sites

https://www.youtube.com/watch?v=EeK8wjF9Jyo

 

 

 

مصطفوی صاحب طبرانی کی حدیث پر تحریری جواب بھی آرہا ہے،امام بخاری نے کس یحیی بن سلیمان کو منکر الحدیث کہا اور اس کے علاوہ آپ کت تمامی اعتراضات کا مکمل جواب ۔۔۔جلد آرہا ہے

Share this post


Link to post
Share on other sites

Mustafvi Sb ap say guzarish hay k ap nay Yahya Bin Sulaiman Nadla Sahib par jo jarrah ke hy un sab ka scan pages b dain ta k zara ap ke asliat to sab k samnay ay..Umeed hay ap mayoos nahi karain gay

Share this post


Link to post
Share on other sites

مصطفوی صاحب کیا جرح پیش کریں گے، انہیں تو راویان حدیث کے اسما کا بھی درست طور پر علم نہیں ہے۔


تقریبا ہر جگہ ’’یحیی سلیمان بن نضلۃ‘‘ لکھا ہے اس نے۔ یہ کسی کتاب اسماء الرجال سے ایسے راوی کا ثبوت تو پیش کردے۔ جنہیں راوی کا نام لکھنے کی ’’لیاقت‘‘ تک نہیں ہے ، وہ جرح و تعدیل کی بات کس منہ سے کرتے ہیں؟؟؟


Share this post


Link to post
Share on other sites

اعتزار

 

میں نے پوسٹ نمبر 53 اور ایک دو اور مقامات پر یحی بن سلیمان نضلہ پر جرح کے حوالے سے امام بخاری اور ابو حاتم کی جرح پیش کی تھی کہ

یہ منکر الحدیث اور لیس باالقوی ہے

 

لیکن یہ میری غلطی تھی یہ جرح یحی بن سلیمان نضلہ پر نہیں بلکہ اس کے ہم نام راوی یحی بن سلیمان المدنی پر ہے

 

میں اپنی غلطی کو تسلیم کرتا ہوں اور معذرت چاہتا ہوں

 

  لہذا پوسٹ نمبر 53 و دیگر مقامات پر اس جرح کو اگنور کیا جائے

اس کے ساتھ ہی میں پوسٹ نمبر 53 کے سنجیدہ اور ٹو دا پواٗنٹ جواب کا منتظر ہوں

Share this post


Link to post
Share on other sites

 

مصطفوی صاحب کیا جرح پیش کریں گے، انہیں تو راویان حدیث کے اسما کا بھی درست طور پر علم نہیں ہے۔

تقریبا ہر جگہ ’’یحیی سلیمان بن نضلۃ‘‘ لکھا ہے اس نے۔ یہ کسی کتاب اسماء الرجال سے ایسے راوی کا ثبوت تو پیش کردے۔ جنہیں راوی کا نام لکھنے کی ’’لیاقت‘‘ تک نہیں ہے ، وہ جرح و تعدیل کی بات کس منہ سے کرتے ہیں؟؟؟

 

 

 

Mustafvi Sb ap say guzarish hay k ap nay Yahya Bin Sulaiman Nadla Sahib par jo jarrah ke hy un sab ka scan pages b dain ta k zara ap ke asliat to sab k samnay ay..Umeed hay ap mayoos nahi karain gay

 

 

https://www.youtube.com/watch?v=EeK8wjF9Jyo

 

 

 

 

مصطفوی صاحب طبرانی کی حدیث پر تحریری جواب بھی آرہا ہے،امام بخاری نے کس یحیی بن سلیمان کو منکر الحدیث کہا اور اس کے علاوہ آپ کت تمامی اعتراضات کا مکمل جواب ۔۔۔جلد آرہا ہے

 

اعتزار

 

میں نے پوسٹ نمبر 53 اور ایک دو اور مقامات پر یحی بن سلیمان نضلہ پر جرح کے حوالے سے امام بخاری اور ابو حاتم کی جرح پیش کی تھی کہ

یہ منکر الحدیث اور لیس باالقوی ہے

 

لیکن یہ میری غلطی تھی یہ جرح یحی بن سلیمان نضلہ پر نہیں بلکہ اس کے ہم نام راوی یحی بن سلیمان المدنی پر ہے

 

میں اپنی غلطی کو تسلیم کرتا ہوں اور معذرت چاہتا ہوں

 

  لہذا پوسٹ نمبر 53 و دیگر مقامات پر اس جرح کو اگنور کیا جائے

مصطفوی صاحب۔

آپ نے ’’مجبورا‘‘ اپنی غلطی تسلیم کی ہے کیونکہ اب فرار کا کوئی راستہ نہیں بچا جناب کے پاس۔۔۔][؟

خالی معذرت نہ کرتے جائیں،یہ بھی تو بتائیں کہ آپکے نزدیک اب وہ روایت طبرانی کس درجے کی ہے؟

خود سے محقق بننے کی کوشش کریں گے تو انجام یہی ہوگا۔

 

 

اس کے ساتھ ہی میں پوسٹ نمبر 53 کے سنجیدہ اور ٹو دا پواٗنٹ جواب کا منتظر ہوں

 

مزید اسمیں سے جو سوال ہے آپکا، اسکی نشاندہی تو کر دیں ’’فائنلی‘‘ ورنہ کچھ دن بعد پھر اعتزار کے عنوان سے نئی ’’تنقیح‘‘ لیکر آ جائیں تو۔۔۔۔؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ویسے دیانت داری سے کام لیں تو اتنے سوالات و اعتراضات آپ پر اب بھی موجود ہیں، انکے جواب کا نام تک نہیں لیتے اور ہم سے ’’سنجیدہ جواب‘‘ کا انتظار ہے۔۔۔۔کیا کہنے آپکے!!۔

1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites

اب اس سوال اور جواب کو سامنے رکھتے ہوئے خود ہی انصاف فرمائیں کہ کیا اس سوال و جواب سے حضرت میمونہ ؓ کے گمان میں بھی یہ بات آئی ہو گی کہ راجز یہاں موجود نہیں تھا بلکہ تین دن کی مسافت پر تھا ؟

 

اس کے بعد حضرت میمونہؓ فرماتی ہیں کہ

فااقمنا ثلاثا

ہم تین دن ٹھہرے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھائی تو راجز نے اشعار پڑھے 

داد دیتا ہوں آپکی عقل کی!!۔

ہمارا استدلال کس نکتے سے ہے اس واقعہ میں سے؟؟؟؟

کبھی معجزہ کے اثبات کا کہنا شروع کر دیتے ہیں اور اب سیدتنا حضرت میمونہ رضی اللہ عنھا کے ’’گمان‘‘ کی بات شروع!!۔

یہ آپ تحقیق قطعا نہیں کر رہے۔۔۔۔۔ اتنا تو آشکار ہو چکا ہے۔

میں مزید حیران تب ہوا جب ایک دو سطر نیچے خود آپکی تحریر پڑھی کہ آپ لکھ رہے ہیں: سیدتنا میمونہ رضی اللہ عنھا نے تین دن بعد راجز کا اشعار پڑھنا سنا۔۔۔۔۔۔ تو اتنا ہی کہہ کر کیوں چپ ہو گئے، آپ سے امید تھی کہ یہاں بھی سوال کردیتے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ کیوں نہ پوچھا کہ راجز تو تین دن قبل ہی یہ اشعار پڑھ چکا ہے، اب دوبارہ کیوں؟؟!!!!!۔

خود صحابہ کرام کے ’’قطعی عقیدے‘‘ کی بات کرتے ہیں اور اب سیدتنا میمونہ رضی اللہ عنھا کے ’’گمان‘‘ پر گفتگو شروع کر دی!!۔

ہمارے سوالوں کے جواب کون دے گا؟؟

Edited by kashmeerkhan

Share this post


Link to post
Share on other sites

خالی معذرت نہ کرتے جائیں،یہ بھی تو بتائیں کہ آپکے نزدیک اب وہ روایت طبرانی کس درجے کی ہے؟

 

میرے نزدیک تو طبرانی کی روایت اب بھی ضعیف ہی ہے

 

خود سے محقق بننے کی کوشش کریں گے تو انجام یہی ہوگا۔

 

 

غلطیاں تو بڑے بڑوں سے ہو جاتی ہیں میں کس شمار میں ہوں  ؟

غلطی کا علم  ہو جائے تو اصرار نہیں کرنا چاہئے بلکہ اقرار کر لینا چاہئے جو میں نے کر لیا

اب کوئی اس کا تمسخر اڑائے تو وہ اس کا اپنا ظرف ہے

 

میں مزید حیران تب ہوا جب ایک دو سطر نیچے خود آپکی تحریر پڑھی کہ آپ لکھ رہے ہیں: سیدتنا میمونہ رضی اللہ عنھا نے تین دن بعد راجز کا اشعار پڑھنا سنا۔۔۔۔۔۔ تو اتنا ہی کہہ کر کیوں چپ ہو گئے، آپ سے امید تھی کہ یہاں بھی سوال کردیتے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ کیوں نہ پوچھا کہ راجز تو تین دن قبل ہی یہ اشعار پڑھ چکا ہے، اب دوبارہ کیوں؟؟!!!!!۔

 

محترم حیران ہونے کے علاوہ کبھی تفکر بھی فرما لیا کریں

 

ذرا طبرانی کی روایت سے وہ مقام تو دکھائیں جہاں لکھا ہو کہ حضرت میمونہؓ نے تین دن قبل بھی راجز کے اشعار سنے تھے یا راجز نے اس وقت کوئی اشعار پڑھے بھی تھے

 

روایت میں تو صرف حضرت میمونہؓ کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ سننا مذکور ہے

 

 

الصلواۃ والسلام علیک یا رسول اللہ

Edited by Mustafvi

Share this post


Link to post
Share on other sites

میرے نزدیک تو طبرانی کی روایت اب بھی ضعیف ہی ہے

1

ضعیف روایت سے ظنی عقیدہ ثابت ہو سکتا ہے یا نہیں؟

2

آپکا ایسی استمداد کے ناجائز یا غیر مشروع یا غیر ثابت ہونے کا عقیدہ قطعی ہے یا ظنی؟؟

اگر (اپنے ایسی غائبانہ استمداد کے غیر درست یا غیر ثابت ہونے کے اپنے عقیدے کو) قطعی کہتے ہو تو اس پر دلیل بھی قطعی الثبوت و الدلالت لاؤ۔

اگر اپنے عقیدے کو کہتے ہو ظنی تو ہماری ظنی دلیل سے ہمارے ظنی عقیدے کے اثبات میں کیا حرج ہے شرعا؟؟

3

شیخ عسقلانی اسے الاصابہ میں بھی ذکر کرتے اور فتح میں بھی، شیخ محقق اسے مدارج شریف میں ذکر۔مگر قبول کرتے ہیں بغیر جرح تو انکو اسکے ضعف کا علم نہیں تھا؟؟؟

 

 

غلطیاں تو بڑے بڑوں سے ہو جاتی ہیں میں کس شمار میں ہوں  ؟

غلطی کا علم  ہو جائے تو اصرار نہیں کرنا چاہئے بلکہ اقرار کر لینا چاہئے جو میں نے کر لیا

اب کوئی اس کا تمسخر اڑائے تو وہ اس کا اپنا ظرف ہے

4

اس عبارت میں بڑے بڑوں سے کیا مراد ہے آپکی؟

5

علم تو آپکو اسی دن سے ہو گیا تھا جب سے ہم نے آپ کے الزامات کو بے بنیاد کہا تھا۔مگر اعتراف اب کر رہے ہیں۔ دیکھیں کفار کو علم ہے کہ اللہ عزوجل نے اس دنیا کے علاوہ آخرت بھی بنائی ہے مگر اعتراف تب کریں گے جب موت کے فرشتے وغیرہ کو دیکھ لیں۔۔۔ ہر علم اعتراف کو

لازم تو نہیں ہے۔۔

6

میں نے تمسخر نہیں کیا بلکہ امر واقعی کی طرف اشارہ کیا ہے۔۔۔ آپ جو سمجھیں آپکا کام

 

 

محترم حیران ہونے کے علاوہ کبھی تفکر بھی فرما لیا کریں

7

تفکر کیا تو حیران ہوا۔۔۔۔ کوئی شرعی ثبوت ہے آپکے پاس کہ جب بندہ حیران ہو، اس وقت تفکر

نہیں کر رہا ہوتا، تو پیش کریں!!۔

 

 

ذرا طبرانی کی روایت سے وہ مقام تو دکھائیں جہاں لکھا ہو کہ حضرت میمونہؓ نے تین دن قبل بھی راجز کے اشعار سنے تھے یا راجز نے اس وقت کوئی اشعار پڑھے بھی تھے

8

ہم نے کب اور کہاں کہا کہ سیدتنا حضرت میمونہ رضی اللہ عنھا نے لفظا تین دن قبل براہ راست اس راجز کے اشعار سنے؟؟؟ ہمت ہے تو ثبوت لاؤ، ورنہ اپنی پچر لگانا بند کرو۔۔

شرم نام کی کوئی چیز ہے تو اسے استعمال بھی کرو۔۔۔ہر جگہ بچت اچھی نہیں!!۔

9

ہم کہتے ہیں کہ راجز نے نبی کریم ﷺ کو پکارا بھی سہی اور وہ بھی دور سے اور وہ بھی استمداد کیلئے اور ہمارے رسول پاک ﷺ نے اسے سماعت بھی فرمایا ۔۔۔۔ کبھی تم معجزہ کی بحث چھیڑ دیتے ہو، کبھی یہ کہ کیا پتہ اسکا عقیدہ کیا ہوگا؟ اور پہلے والی پوسٹ میں سیدتنا میمونہ رضی اللہ عنھا کے گمان کا تذکرہ کرنا شروع اور اب انہی سیدتنا رضی اللہ عنھا کی سماعت و عدم سماعت کی بات!!!۔ ایک بات پر کیوں نہیں رہ سکتے، کبھی ادھر کبھی ادھر۔ ایسے اپنا استمداد کے بطلان کا عقیدہ ثابت کرو گے!!۔

 

 

روایت میں تو صرف حضرت میمونہؓ کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ سننا مذکور ہے

10

سیدتنا حضرت میمونہ رضی اللہ عنھا کی سماعت مبارکہ سے ہم نے کب کہاں استدلال کیا؟؟؟

 

 

الصلواۃ والسلام علیک یا رسول اللہ

11

رسول اللہ ﷺ کو مستقل متصرف مان کر ندا کر رہے ہو یا کیسے؟؟ کیونکہ آپکی اپنی پوسٹوں کے مطابق ’’اب پتہ نہیں‘‘ آپکا کیا عقیدہ ہوگا؟؟

۔۔۔،،۔۔۔،،،۔۔۔۔،،،۔۔۔،،،۔۔۔

12

مصطفوی صاحب۔۔۔

تمہارے اندر ذرا بھی ..... باقی ہے تو ان باتوں کا جواب کیوں نہیں دیتے جو ہم تم سے پہلے ہی پوچھ چکے!۔

13

جائز ناجائز کے چکر میں تم نہیں پڑتے۔۔۔ اس راجز کے عقیدے کا تمہیں نہیں پتہ۔۔۔ معجزہ کی بحث تو چھیڑ دیتے مگر معجزہ کی مقدوریت کا پتہ نہیں۔۔۔۔ دور سے سننا کس حد فاصل سے ثابت ہے اور کس سے نہیں، کا بھی نہیں پتہ، جب کوئی راستہ نہ بچے تو اعتزار کی پوسٹ آگے کر دی، مجال ہے کسی ایک نکتے پر رہے ہو اب تک۔۔۔ نہ اپنا عقیدہ بیان کر سکے اس استمداد پر اور نہ ہمارے عقیدے کا بطلان کر سکے!!۔

14

چاہتے کیا ہو تم!! واضح الفاظ میں اپنا عقیدہ لکھو اس حوالے سے اور ہمارے عقیدے پر شریعت کا حکم واضح کرو۔۔۔ کیونکہ اگر تمہاری نظر میں ہمارا یہ عقیدہ شریعت میں درست نہیں تو اسکا بطلان بھی شریعت کی ویسی ہی نص سے کرو۔۔۔۔ صرف بونگیاں نہ مارو

....

http://www.islamimehfil.com/topic/23477-ghair-ul-allah-say-madad/page-2#entry101154

 

http://www.islamimehfil.com/topic/23477-ghair-ul-allah-say-madad/page-2#entry101143

 

http://www.islamimehfil.com/topic/23477-ghair-ul-allah-say-madad/page-2#entry101125

Edited by kashmeerkhan
1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites

مصظفوی صاحب اللہ آپ کو ہدایت کاملہ نصیب فرمائے ۔جس طرح آپ نے اپنی غلظی مانی ہے اس طرح میں آپ کو پیشگی اطلاع دے رہا ہوں کہ ہو ں کہ ہمارا دعوٰی ہے کہ یہ حدیث حسن لذاتہ ہے بس تھوڑا سا انتظار اور کر لیں ۔آپ کو پھر مشورہ ہے ایک بار پھر غور کرلیں

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!


Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.


Sign In Now
Sign in to follow this  
Followers 0

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

  • Similar Content

    • By فقیرقادری
      السلام علیکم یہ اعتراض ایک جگہ دیکھا  اس کا جواب فرما دیں   " والناس فى هذا الباب- أعنى زيارة القبور- على ثلاثة أقسام: - قوم يزورون الموتى فيدعون لهم. وهذه هى الزيارة الشرعية. - وقوم يزورونهم يدعون بهم, وهؤلاء هم المشركون وجهلة العوام, والطغام من غلاتهم. - وقوم يزورونهم فيدعونهم انفسهم, وقد قال النبى صلى الله عليه وسلم " اللهم لا تجعل قبرىوثناً يعبد"...... There are three types of people who visit the graves. a) A Group that visits the dead and supplicate for them, this is Shar`ee visiting. Another group visit them and ask through them (i.e. Directly asking him, O Abdul Qadir Jelani Ask Allah for me) these people are doing shirk in Uluhiyyah and love. 1 c) A Group visits them and Ask help from them (i.e. O Sayyadi fulaan help me), this is shirk in Rububiyah. [Tajreed al-Tawhid al-Mufeed page 70]
    • By MuhammedAli
      Introduction:

      Muslims believe Prophet (sallallahu alayhi wa aalihi was’sallam) will bear witness on the day of judgment regarding actions of earlier and his own Ummah. This belief is based on established teaching of Quran; Prophet (sallallahu alayhi wa aalihi was’sallam) has witnessed the all the events regarding which he will bear witness and has been sent as a Shahid (i.e. witness). And this understanding is based on principle; a true witness is one who has witnessed with eyes/ears regarding the event/incident regarding which he/she is called to bear witness. In contrast to Islamic teaching Khawarij believe indeed Prophet (sallallahu alayhi wa aalihi was’sallam) is Shahid but he will bear witness after being informed by others what had/has transpired before/after him. In other words they believe he is Shahid without being first hand witness, or without actually witnessing anything.

      Failed Attempt To Seduce Prophet Yusuf (alayhis salam):

      Allah (subhanahu wa ta’ala) states; Prophet Yusuf (alayhis salam) was lured to home by a woman who wished to engage with him in illicit sexual activity: “And the woman in whose house he was, allured him not to restrain himself and she closed all the doors - and said, "Come! It is you I address!"; he said, "(I seek) The refuge of Allah - indeed the governor is my master - he treats me well; undoubtedly the unjust never prosper." [Ref: 12:23] Realising the intent of her Prophet Yusuf (alayhis salam) hurriedly made his way to exist the room and she chased after him in an attempt to prevent him from leaving: “And they both raced towards the door, and the woman tore his shirt from behind, and they both found her husband at the door; she said, "What is the punishment of the one who sought evil with your wife, other than prison or a painful torture?" [Ref: 12:25] Wife of the man claimed Prophet Yusuf had attempted to seduce her but Prophet Yusuf (alayhis salam) stated it was the woman who made attempt on him: “Said Yusuf, "It was she who lured me, that I may not guard myself" - and a witness from her own household testified; "If his shirt is torn from the front, then the woman is truthful and he has spoken incorrectly. And if his shirt is torn from behind, then the woman is a liar and he is truthful.” [Ref:Kunz Ul Iman, 12:26/27, by Imam Ahmad Raza rahimullah, link] There was a witness observing the events unfold. Some commentators based on Athar (i.e. statements of companions) said the witness was a child in cradle. And another group based on Athar also stated there was a righteous adult with beard who witnessed the events. And due to exceptional wisdom suggested the Kamees (i.e. shirt) is checked as mentioned in the verse. And if it was a child in the cradle then it suggests Allah (subhanahu wa ta’ala) defended His Nabi by giving a child ability to speak, wisely.[1] Note this established the innocense of Prophet Yusuf (alayhis salam): “So when the governor saw his shirt torn from behind, he said, "Indeed this is a deception of women; undoubtedly the deception of women is very great." [Ref: 12:27] And later she admitted her guilt and established Prophet Yusuf’s (alayhis salam) innocense: “The king said: "O women! What was your role when you tried to entice Yusuf?" They answered: "Purity is to Allah! We did not find any immorality in him." [And] Said the wife of the governor: "Now the truth is out; it was I who tried to entice him, and indeed he is truthful." [Ref: 12:51] Alhasil a child/adult bore witness in defence of Prophet Yusuf (alayhis salam) but there was no other witness, and therefore he suggested the investigation method. This incident establishes a true witness, a witness who had seen the events unfold, bore witness in defence of Prophet Yusuf (alayhis salam), and suggested how the innocence of Prophet Yusuf (alayhis salam) can be established. Establishing Islamic belief; a true witness is one who has witnessed the event regarding which he/she bears witness about.

      Prophet Yusuf Allegedly Devoured By Wolf:

      Step brothers of Prophet Yusuf (alayhis salam) were jealous; their father loved Prophet Yusuf (alayhis salam) and his younger brother more then them so they schemed to do away with Prophet Yusuf (alayhis salam). And to carry out their plan they came to their father and requested Prophet Yusuf (alayhis salam) is sent with them. Prophet Yaqoob (alayhis salam) anticipated their plan and foretold them the excuse they would employ. But reluctantly sent his beloved son Prophet Yusuf (alayhis salam) with brothers. And they decided to lower him in a water well instead of killing him. And a caravan traveling for Egypt came and found Prophet Yusuf (alayhis salam) in the well and pulled him out of well and sold him in Egypt as slave. After lowering him in the well they returned to their father weeping claiming a wolf devoured Prophet Yusuf (alayhis salam). Years later Prophet Yusuf had been appointed care taker of resources in Egypt to manage famine and his brothers came to Egypt to buy supplies. He recognised them and told his brothers to bring his blood brother (i.e. Yameen, Binyamen Jewish texts) if they want any supplies. They returned to their father and told him; the supplies were denied to us. When they returned with Yameen Prophet Yusuf (alayhis salam) instructed a measuring-cup is concealed Yameen’s supplies. Command was given to search all present and measuring-cup was found in Yameen’s belongings. And the step-brothers witnessed; measuring-cup was discovered from belongings of Yameen. He was detained and his brothers were told Yameen is theif and he will become a slave. Their eldest brother refuse to leave Egypt instructed them to tell their father what they witnessed: "Return to your father and then say, ‘O our father! Indeed your son has stolen; we were witness only to what we know and we were not guardians of the unseen.’” [Ref: 12:81] And to convince their father they said to Prophet Yaqub (alayhis salam): “And ask the township in which we were, and the caravan in which we came; and indeed we are truthful." [Ref: 12:82] Alhasil underlined verse establishes the principle; a true witness is one who has gained knowledge with his/her own eyes/ears. In other words, a true witness is one who has seen/heard the events regarding which he/she gives testimony. Coming back to the story when the step-brithers of Prophet Yusuf (alayhis salam) returned to their native lands Prophet Yaqoob (alayhis salam) did not believe them. He instructed them to return and search for Prophet Yusuf (alayhis salam) his brother Yameen, and the eldest brother who remained in Egypt due to fear of disappointing his father. The step-brothers returned to Egypt for supplies and Prophet Yusuf (alayhis salam) introduced himself to them and told them to take his shirt and to place it on face of their father, and bring his family with them to Egypt. They did as they were instructed, and Prophet Yaqoob (alayhis salam) met with Prophet Yusuf (alayhis salam), and thanked Allah (subhanahu wa ta’ala).

      Prophet Isa (alayhis salam) Witness Over His Ummah:

      At present Catholics, Protestant, with exception of Jehovah’s Witnesses, all churches believe Prophet Isa (alayhis salam) is god incarnate. But in Arabian Peninsula existed a sect of Christianity which had taken Prophet Isa (alayhis salam) and his mother as gods. This sect is called Collyrdianism. Historian Edward Gibbons has mentioned them in his history, The History Of The Decline And Fall Of … stated Collyrdians had given goddess status to Marry. Epiphanious the Bishop of Salamis in his Panarion written around period of 375 AD mentions a sect in Arabian held belief; Mary is goddess. With regards to belief of these people, on the judgment day, Allah (subhanahu wa ta’ala) will enquire from Prophet Isa (alayhis salam): “And when Allah will say: “O Esa, the son of Maryam! Did you say to the people, ‘Appoint me and my mother as two Gods, besides Allah?” And he will respond to Allah (subhanahu wa ta’ala) in state of humility and submission: “He will say: “Purity is to You! It is not proper for me to say something for which I do not have right. If I have said it then surely You know it; You know what lies in my heart, and I do not know what is in Your knowledge; indeed You only know all the hidden.” [Ref: 5:116] Prophe Isa (alayhis salam) further added:“I said not to them except what You commanded me; to worship Allah, my Lord and your Lord. And I was a Shahid over them as long as I was among them; but when You took me up, You were the Observer over them, and You are, over all things Shahid.” [Ref: 5:117] By saying; I was Shahid upon my followers when I was present (i.e. Hadhir) amongst them, he is implying; when I was not present amongst them I was not Shahid over them, and due to my absence and not being Shahid over them I have no knowledge of events that transpired after me. Alhasil this verse indicates; to be a Shahid (i.e. witness) one must be Hadhir (i.e. present) amongst people regarding whom one has to bear witness. And if one is not Hadhir he cannot bear witness [nor he should be held responsible]. And fundamental requirement for a present and true Shahid is first hand witnessing, with eyes and ears. This verse establishes Islamic teaching belief; a true Shahid is one who is Hadhir and has seen/heard the events regarding which he is to bear witness with his own eyes and ears.

      Conclusion:

      In the teaching of Quran, one who is Hadhir, and one who has seen the events unfold, with his own eyes, and heard the sounds relating to events, with his own ears, is a a true Shahid. And from this it is clear those who say Prophet (sallallahu alayhi wa aalihi was’sallam) will bear witness regarding the events mentioned in Quran and Ahadith after being informed by others are accusing the Prophet (sallallahu alayhi wa aalihi was’sallam) of lieing and giving testimony even though he does not fullfil the criteria of true Shahid. This Quranic evidence belies their misguided belief; Prophet (sallallahu alayhi wa aalihi was’sallam) will be presented on judgment day as a witness who has not seen/heard anything regarding which he will bear witness. How do they believe he was sent as a Shahid when they believe for him no quality of Shahid? An equivlent example would be Qadiyani’s believing in Quranic word Khatm [Un Nabiyeen] without believing it means last/final. By ascribing to it another meaning and negating its known/established meaning one is guilty of not believing in word Khatm [Un Nabiyeen] even though the person may claim to believe. And one who believes as such is not from Muslims. Alhasil in light of difference between understanding of Muslims and Khawarij it is required to establish; a true witness bearing witness about an event must be an actual hearing/seeing type of witness. And an individual who bears witness to events not witnessed by him/her as a first hand witness is not a true witness but a liar. And neither does Allah (subhanahu wa ta’ala) accept false testimoney nor will His Messenger (sallallahu alayhi wa aalihi was’sallam) will bear false witness.

      Wama alayna ilal balaghul mubeen.
      Muhammed Ali Razavi

      Footnotes:

      - [1] “And a witness of her household bore witness (saying): "If it be that his shirt is torn from the front...''  not from the back, ”… then her tale is true …“, that he tried to commit an illegal sexual act with her. Had he called her to have with him and she refused, she would have pushed him away from her and tore his shirt from the front, “But if it be that his shirt is torn from the back, then she has told a lie and he is speaking the truth!” Had Yusuf run away from her, and this is what truly happened, and she set in his pursuit, she would have held to his shirt from the back to bring him back to her, thus tearing his shirt from the back. There is a difference of opinion over the age and gender of the witness mentioned here. ‘Abdur-Razzaq recorded that Ibn `Abbas said that, “… and a witness of her household bore witness …”, "was a bearded man,'' meaning an adult male. Ath-Thawri reported that Jabir said that Ibn Abi Mulaykah said that Ibn Abbas said, "He was from the king's entourage.'' Mujahid, Ikrimah, Al-Hasan, Qatadah, As-Suddi, Muhammad bin Ishaq and others also said that the witness was an adult male. Al-Awfi reported that Ibn Abbas said about Allah's statement, “… and a witness of her household bore witness …”, "He was a babe in the cradle. '' Similar was reported from Abu Hurayrah, Hilal bin Yasaf, Al-Hasan, Sa`id bin Jubayr and Ad-Dahhak bin Muzahim, that the witness was a young boy who lived in the Aziz's house. Ibn Jarir At-Tabari preferred this view.” [Ref: Tafsir Ibn Kathir, 12:26, link]
    • By Rehan Raza
      https://www.youtube.com/watch?v=AKaD_SQn64g
       
    • By خاکسار
      Shirk our Touheed0.pdf
       

       

       

       

       

       

       

       

       

       

       

       

       

       

       

       

       

       
       
      مکمل موضوع منسلک PDF فائل کو ڈائونلڈ کر کے پڑھیں۔ شکریہ۔