Sign in to follow this  
Followers 0
K.Ahmed92

Ghair Ul Allah Say Madad

76 posts in this topic

مصطفوی میاں


پہلے اہل علم حضرات کے پوچھے گئے سوالات کا جواب تو دو۔۔


خواہ مخواہ ٹاپک میں پوسٹنگ کیے جا رہے ہو۔


موڈریٹرز اسلامی بھائیوں سے مدنی التجا ہے کہ اسے وارن کریں کہ خلط مبحث نہ کرے اور مسولہ باتوں کا جواب دے۔۔


محض دعائیں دینے سے کام نہیں چلے گا۔


محترم خلیل رانا صاحب اپنا قیمتی وقت نکال کر تمہیں دلائل کے انبار فراہم کیے جا رہے ہیں مگر تمہارے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔


نہ قبلہ علامہ سعیدی صاحب کی پوسٹ کا کوئی درست جواب دیا اور نہ عقیل احمد وقاص بھائی کے سوالوں کا۔


احمد لاہور بھائی کی پوسٹ بھی آپکے جواب کی منتظر ہے۔


مکرمی جناب خلیل صاحب کے دلائل کا جواب کون دے گا؟؟؟


یا واضح سامنے آئیں یا پورا اوجھل ہو جائین۔۔


اب اگر یہ ٹاپک لاک بھی کر دیا جائے تو مضائقہ نہیں کیونکہ تم کوئی اعتراض اٹھا نہیں سکے ہو اور نہ سوالوں کا درست جواب دیا ہے یا اسکی کوشش کی ہے۔


Share this post


Link to post
Share on other sites

ضعیف حدیث سے حضور ﷺ کی سماعت ثابت ہورہی ہے،آپ کہتے ہیں کہ یہ سماعت معجزہ ہے ، اَب آپ بتائیں کہ


اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں ایک ایسا فرشتہ ہے جسے اس نے تمام مخلوق کی آوازوں کی قوت شنوائی دے رکھی ہے۔


آپ بتائیں کہ کیا یہ قوت سماعت ہر وقت ہوتی ہے یا معجزہ اور کرامت کی طرح عارضی؟


اسی طرح ایک اور حدیث ہے


جو بندہ دُرود پڑھتا ہے خواہ وہ کہیں ہو اس آواز مجھے پہنچ جاتی ہے۔


کیا یہ سماعت معجزہ کے طور پر عارضی ہے ؟

Share this post


Link to post
Share on other sites

تمام احباب کی خدمت میں

اسلام علیکم

 

میں نے اس تھریڈ میں فتح الباری کی معجم الکبیر الطبرانی سے پیش کردہ ایک روایت جس سے صحابہ کرام کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دور سے مدد مانگنے کا ثبوت

پیش کیا جا رہا تھا پر سندا کچھ عرض کیا تھا

اصولی طور پر بات صرف روایت کے حوالے تک ہی رہنی چاہئے تھی لیکن بعض اہل علم دوستوں نے بات کو کہیں سے کہیں پہنچا دیا

اب میں یہاں فائنلی اپنا موقف اس روایت کے حوالے سے پیش کر کے اجازت چاہوں گا کیونکہ بحث برائے بحث کا کچھ حاصل نہیں

 

طبرانی کی اس روایت میں ایک راوی ہے

یحی سلیمان بن نضلہ

 

اس راوی کی تعدیل بھی موجود ہے اور اس پر جرح بھی موجود ہے

 

اس کی تعدیل کچھ یوں ہے

 

ذکرہ ابن حبان فی الثقات

قال ابن عدی ۔۔۔ أحاديث عامتها مستقيمة.

 

اس پر جرح یہ ہے

 

قال امام ابن ہیثمی ۔۔۔۔۔ ھو ضعیف

قال ابن حبان ۔۔۔۔۔ یخطی ویھم

 

قال ابو حاتم ۔۔۔۔ ليس هو بالقوى

 

امام بخاری ۔۔۔۔ منکر الحدیث

 

وقال ابن عقدة: سَمِعتُ ابن خراش يقول: لا يسوى شيئا

 

اب جو راوی ضعیف ہو ۔۔ غلطیاں کرتا ہو اور اسے وہم ہو جاتا ہو ۔۔۔۔ جو قوی بھی نہ ہو ۔۔۔ جو منکر حدیث ہو اور کسی کھاتے میں نہ ہو

 

تو ایسے راوی کی بیان کردہ روایت سے صحابہ کرام کا عقیدہ بیان کرنا بالکل بھی مناسب نہیں

 

اس کے بعد ایک اور راوی ہے

 

محمد بن نضلہ

ان کے بارے میں صرف یہ معلوم ہے کہ یہ مذکورہ بالا راوی کے چچا ہیں

 

اس کے علاوہ ان کے بارے میں کچھ معلوم نہیں کہ کیسا آدمی تھا اب اس مجہول الحال راوی کی روایت کا کیا اعتبار ؟؟

 

اس کے بعد اس روایت کے متن پر آ جائیں

 

حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میں نے آپ کو کسی انسان سے باتیں کرتے ہوئے یہ یہ کہتے سنا ہے کیا آپ کے پاس کوئی موجود تھا ؟

فھل کان معک احد ؟

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ راجز ہے ۔۔۔۔ الخ

 

اب اس سوال اور جواب کو سامنے رکھتے ہوئے خود ہی انصاف فرمائیں کہ کیا اس سوال و جواب سے حضرت میمونہ ؓ کے گمان میں بھی یہ بات آئی ہو گی کہ راجز یہاں موجود نہیں تھا بلکہ تین دن کی مسافت پر تھا ؟

اس سوال جواب کے بعد روایت میں ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے نکل کر حضرت عائشہ ؓ کے پاس گئے اور سامان جہاد کی تیاری وغیرہ کا کہا

اس کے بعد حضرت میمونہؓ فرماتی ہیں کہ

فااقمنا ثلاثا

ہم تین دن ٹھہرے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھائی تو راجز نے اشعار پڑھے 

Share this post


Link to post
Share on other sites

Janab ap k nazdeek agar yeh ravi aysay e hain to bataiye ap k nazdeek yeh Hadees Da'eef hay ya Mozoo hay ya kis darjay ke hay???

Share this post


Link to post
Share on other sites

تمام احباب کی خدمت میں

اسلام علیکم

 

میں نے اس تھریڈ میں فتح الباری کی معجم الکبیر الطبرانی سے پیش کردہ ایک روایت جس سے صحابہ کرام کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دور سے مدد مانگنے کا ثبوت

پیش کیا جا رہا تھا پر سندا کچھ عرض کیا تھا

اصولی طور پر بات صرف روایت کے حوالے تک ہی رہنی چاہئے تھی لیکن بعض اہل علم دوستوں نے بات کو کہیں سے کہیں پہنچا دیا

اب میں یہاں فائنلی اپنا موقف اس روایت کے حوالے سے پیش کر کے اجازت چاہوں گا کیونکہ بحث برائے بحث کا کچھ حاصل نہیں

 

 

 

 

اب جو راوی ضعیف ہو ۔۔ غلطیاں کرتا ہو اور اسے وہم ہو جاتا ہو ۔۔۔۔ جو قوی بھی نہ ہو ۔۔۔ جو منکر حدیث ہو اور کسی کھاتے میں نہ ہو

 

تو ایسے راوی کی بیان کردہ روایت سے صحابہ کرام کا عقیدہ بیان کرنا بالکل بھی مناسب نہیں

 

 

جناب محترم، (زیادہ) تکنیکی گفتگو آپ کے مزاج پر گراں گزرتی ہے

جائز ناجائز کے چکر میں آپ ویسے ہی نہیں پڑتے، کیونکہ آپ کا چکر غالباً مناسب اور نامناسب تک محدود ہے۔

بہرکیف، اگر نامناسب معلوم نہ ہو تو وضاحت فرما دیجئے کہ

قریب سے مدد مانگنے پر آپ کو اعتراض نہیں

دور سے سننا بطور معجزہ آپ کو قبول ہے

تو جب قریب سے مدد مانگنا درست، دور سے سن لینا بھی بطور معجزہ ممکن، پھر دور سے مدد مانگنے پر کیا آپ کا کوئی اعتراض باقی رہ جاتا ہے؟ اگر ہاں، تو اس کی بنیاد اور دلیل کیا ہے؟

Edited by Ahmad Lahore

Share this post


Link to post
Share on other sites
Wahabi Mustafvi sahab se ek muhtasar sa sawal :-

Hadees shareef parh kar btyen key kiya Allah rab ul izzat key hute huwy nabi kareem s.a.w nei Hazrat Jibraeal A.s se madad talab karna seekha rhy hain ya nhi ?? Agar han tu kiya yeh shirk hai ya nahi ?? kiya Aj kei dour mein Hazrat Jibrael a.s ku waseela bna kar madad talab karna shirk hu ga ya nahi ? aur kiya ap Iss waseely ku manty hain ?? nahi tu kiun nahi ?? Aur Agar han tu phir nabi kareem s.a.w se madad talab karne mein kiya harj hai ??

Phir bhi Aitraaz hai tu kisi Qurani ayat ya saheeh  hadees se sabit karein kei NAbi kareem se madad talab karna shirk hai Aur Allah rab ul izzat nei aur Nabi kareem s.a.w ney iss kam se mana farmaya hei, aur sahaba r.a ney bhi mana farmaya hai.

Shukriya……………….

 

 

 

 

453 - حَدَّثَنَا أَبُو اليَمَانِ الحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّهُ سَمِعَ حَسَّانَ بْنَ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيَّ، يَسْتَشْهِدُ أَبَا هُرَيْرَةَ: أَنْشُدُكَ اللَّهَ، هَلْ سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يَا حَسَّانُ، أَجِبْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، اللَّهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ القُدُسِ» قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: نَعَمْ

ش ( أجب عن رسول الله) دافع عنه وأجب الكفار على هجائهم له ولأصحابه. ( بروح القدس) هو جبريل عليه السلام

 

 

 
Narrated By Hassan bin Thabit Al-Ansari : I asked Abu Huraira "By Allah! Tell me the truth whether you heard the Prophet saying, 'O Hassan! Reply on behalf of Allah's Apostle. O Allah! Help him with the Holy Spirit." Abu Huraira said, "Yes. "

 

 

حضرت حسان بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو اس بات پر گواہ بنارہے تھے کہ میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ کیا تم نے نبی ﷺکو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا اے حسان! رسول اللہﷺکی طرف سے (کافروں کو) جواب دو، اے اللہ! روح القدس(جبریل علیہ السلام) کے ذریعہ ان کی مدد فرمادے، انہوں نے کہا: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں (رسول اللہﷺنے ایسا کہا تھا)۔
 

 

 

------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

 
فتح الباري لابن حجر
 
[453] قَوْلُهُ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ كَذَا رَوَاهُ شُعَيْبٌ وَتَابَعَهُ إِسْحَاقُ بْنُ رَاشِدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَخْرَجَهُ النَّسَائِيُّ وَرَوَاهُ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ فَقَالَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ بَدَلَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْرَجَهُ الْمُؤَلِّفُ فِي بَدْءِ الْخَلْقِ وَتَابَعَهُ مَعْمَرٌ عِنْدَ مُسْلِمٍ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ عِنْدَ النَّسَائِيِّ وَهَذَا مِنَ الِاخْتِلَافِ الَّذِي لَا يَضُرُّ لِأَنَّ الزُّهْرِيَّ مِنْ أَصْحَابِ الْحَدِيثِ فَالرَّاجِحُ أَنَّهُ عِنْدَهُ عَنْهُمَا مَعًا فَكَانَ يُحَدِّثُ بِهِ تَارَةً عَنْ هَذَا وَتَارَةً عَنْ هَذَا وَهَذَا مِنْ جِنْسِ الْأَحَادِيثِ الَّتِي يَتَعَقَّبُهَا الدَّارَقُطْنِيُّ عَلَى الشَّيْخَيْنِ لَكِنَّهُ لَمْ يَذْكُرْهُ فَلْيُسْتَدْرَكْ عَلَيْهِ وَفِي الْإِسْنَادِ نَظَرٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ وَهُوَ عَلَى شَرْطِ التَّتَبُّعِ أَيْضًا وَذَلِكَ أَنَّ لَفْظَ رِوَايَةِ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ مَرَّ عُمَرُ فِي الْمَسْجِدِ وَحَسَّانُ يُنْشِدُ فَقَالَ كُنْتُ أُنْشِدُ فِيهِ وَفِيهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ أَنْشُدُكَ اللَّهَ الْحَدِيثَ وَرِوَايَةُ سَعِيدٍ لِهَذِهِ الْقِصَّةِ عِنْدَهُمْ مُرْسَلَةٌ لِأَنَّهُ لَمْ يُدْرِكْ زمن الْمُرُور وَلكنه يُحْمَلُ عَلَى أَنَّ سَعِيدًا سَمِعَ ذَلِكَ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ بَعْدُ أَوْ مِنْ حَسَّانَ أَوْ وَقْعَ لِحَسَّانَ اسْتِشْهَادُ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرَّةً أُخْرَى فَحَضَرَ ذَلِكَ سَعِيدٌ وَيُقَوِّيهِ سِيَاقُ حَدِيثِ الْبَابِ فَإِنَّ فِيهِ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ سَمِعَ حَسَّانَ يَسْتَشْهِدُ أَبَا هُرَيْرَةَ وَأَبُو سَلَمَةَ لَمْ يُدْرِكْ زَمَنَ مُرُورِ عُمَرَ أَيْضًا فَإِنَّهُ أَصْغَرُ مِنْ سَعِيدٍ فَدَلَّ عَلَى تَعَدُّدِ الِاسْتِشْهَادِ وَيَجُوزُ أَنْ يَكُونَ الْتِفَاتُ حَسَّانَ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ وَاسْتِشْهَادُهُ بِهِ إِنَّمَا وَقَعَ مُتَأَخِّرًا لِأَنَّ ثُمَّ لَا تَدُلُّ عَلَى الْفَوْرِيَّةِ وَالْأَصْلُ عَدَمُ التَّعَدُّدِ وَغَايَتُهُ أَنْ يَكُونَ سَعِيدٌ أَرْسَلَ قِصَّةَ الْمُرُورِ ثُمَّ سَمِعَ بَعْدَ ذَلِكَ اسْتِشْهَادَ حَسَّانَ لِأَبِي هُرَيْرَةَ وَهُوَ الْمَقْصُود لِأَنَّهُ الْمَرْفُوع وَهُوَ مَوْصُول بِلَا تَرَدُّدٍ وَاللَّهُ أَعْلَمُ قَوْلُهُ يَسْتَشْهِدُ أَيْ يَطْلُبُ الشَّهَادَةَ وَالْمُرَادُ الْإِخْبَارُ بِالْحُكْمِ الشَّرْعِيِّ وَأَطْلَقَ عَلَيْهِ الشَّهَادَةَ مُبَالَغَةً فِي تَقْوِيَةِ الْخَبَرِ قَوْلُهُ أَنْشُدُكَ بِفَتْحِ الْهَمْزَةِ وَضَمِّ الشِّينِ الْمُعْجَمَةِ أَيْ سَأَلْتُكَ اللَّهَ وَالنَّشْدُ بِفَتْحِ النُّونِ وَسُكُونِ الْمُعْجَمَةِ التَّذَكُّرُ قَوْلُهُ أَجِبْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ فِي رِوَايَةِ سَعِيدٍ أَجِبْ عَنِّي فَيَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ الَّذِي هُنَا بِالْمَعْنَى قَوْلُهُ أَيِّدْهُ أَيْ قَوِّهِ وَرُوحُ الْقُدُسِ الْمُرَادُ هَنَا جِبْرِيلُ بِدَلِيلِ حَدِيثِ الْبَرَاءِ عِنْدَ الْمُصَنِّفِ أَيْضًا بِلَفْظِ وَجِبْرِيلُ مَعَكَ وَالْمُرَادُ بِالْإِجَابَةِ الرَّدُّ عَلَى الْكُفَّارِ الَّذِينَ هَجَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ وَفِي التِّرْمِذِيِّ مِنْ طَرِيقِ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْصِبُ لِحَسَّانَ مِنْبَرًا فِي الْمَسْجِدِ فَيَقُومُ عَلَيْهِ يَهْجُو الْكُفَّارَ وَذَكَرَ الْمِزِّيُّ فِي الْأَطْرَافِ أَنَّ الْبُخَارِيَّ أَخْرَجَهُ تَعْلِيقًا نَحْوَهُ وَأَتَمَّ مِنْهُ لَكِنِّي لَمْ أَرَهُ فِيهِ قَالَ بن بَطَّالٍ لَيْسَ فِي حَدِيثِ الْبَابِ أَنَّ حَسَّانَ أَنْشَدَ شِعْرًا فِي الْمَسْجِدِ بِحَضْرَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَكِنَّ رِوَايَةَ الْبُخَارِيِّ فِي بَدْءِ الْخَلْقِ مِنْ طَرِيقِ سَعِيدٍ تَدُلُّ عَلَى أَنَّ قَوْلَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَسَّانَ أَجِبْ عَنِّي كَانَ فِي الْمَسْجِدِ وَأَنَّهُ أَنْشَدَ فِيهِ مَا أَجَابَ بِهِ الْمُشْرِكِينَ.


     وَقَالَ  غَيْرُهُ يَحْتَمِلُ أَنَّ الْبُخَارِيَّ أَرَادَ أَنَّ الشِّعْرَ الْمُشْتَمِلَ عَلَى الْحَقِّ حَقٌّ بِدَلِيلِ دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَسَّانَ عَلَى شِعْرِهِ وَإِذَا كَانَ حَقًّا جَازَ فِي الْمَسْجِدِ كَسَائِرِ الْكَلَامِ الْحَقِّ وَلَا يُمْنَعُ مِنْهُ كَمَا يُمْنَعُ مِنْ غَيْرِهِ مِنَ الْكَلَامِ الْخَبِيثِوَاللَّغْوِ السَّاقِطِ.




قُلْتُ وَالْأَوَّلُ أَلْيَقُ بِتَصَرُّفِ الْبُخَارِيِّ وَبِذَلِكَ جَزَمَ الْمَازِرِيُّ.


     وَقَالَ  إِنَّمَا اخْتَصَرَ الْبُخَارِيُّ الْقِصَّةَ لِاشْتِهَارِهَا وَلِكَوْنِهِ ذَكَرَهَا فِي مَوْضِعٍ آخَرَ انْتهى وَأما مَا رَوَاهُ بن خُزَيْمَةَ فِي صَحِيحِهِ وَالتِّرْمِذِيُّ وَحَسَّنَهُ مِنْ طَرِيقِ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ تَنَاشُدِ الْأَشْعَارِ فِي الْمَسَاجِدِ وَإِسْنَادُهُ صَحِيحٌ إِلَى عَمْرٍو فَمَنْ يُصَحِّحْ نُسْخَتَهُ يُصَحِّحْهُ وَفِي الْمَعْنَى عِدَّةُ أَحَادِيثَ لَكِنَّ فِي أَسَانِيدِهَا مَقَالٌ فَالْجَمْعُ بَيْنَهَا وَبَيْنَ حَدِيثِ الْبَابِ أَنْ يُحْمَلَ النَّهْيُ عَلَى تَنَاشُدِ أَشْعَارِ الْجَاهِلِيَّةِ وَالْمُبْطِلِينَ وَالْمَأْذُونُ فِيهِ مَا سَلِمَ مِنْ ذَلِكَ وَقِيلَ الْمَنْهِيُّ عَنْهُ مَا إِذَا كَانَ التَّنَاشُدُ غَالِبًا عَلَى الْمَسْجِدِ حَتَّى يَتَشَاغَلَ بِهِ مِنْ فِيهِ وَأَبْعَدَ أَبُو عَبْدُ الْمَلِكِ الْبَوْنِيُّ فَأَعْمَلَ أَحَادِيثَ النَّهْيِ وَادَّعَى النَّسْخَ فِي حَدِيثِ الْإِذْنِ وَلَمْ يُوَافق على ذَلِك حَكَاهُ بن التِّينِ عَنْهُ وَذَكَرَ أَيْضًا أَنَّهُ طَرَدَ هَذِهِ الدَّعْوَى فِيمَا سَيَأْتِي مِنْ دُخُولِ أَصْحَابِ الْحِرَابِ الْمَسْجِد وَكَذَا دُخُول الْمُشرك ( قَوْلُهُ بَابُ أَصْحَابِ الْحِرَابِ فِي الْمَسْجِدِ) الْحِرَابُ بِكَسْرِ الْمُهْمِلَةِ جَمْعُ حَرْبَةٍ وَالْمُرَادُ جَوَازُ دُخُولِهِمْ فِيهِ وَنِصَالُ حِرَابِهِمْ مَشْهُورَةٌ وَأَظُنُّ الْمُصَنِّفَ أَشَارَ إِلَى تَخْصِيصِ الْحَدِيثِ السَّابِقِ فِي النَّهْيِ عَنِ الْمُرُورِ فِي الْمَسْجِدِ بِالنَّصْلِ غَيْرِ مَغْمُودٍ وَالْفَرْقُ بَيْنَهُمَا أَنَّ التَّحَفُّظَ فِي هَذِهِ الصُّورَةِ وَهِيَ صُورَةُ اللَّعِبِ بِالْحِرَابِ سَهْلٌ بِخِلَافِ مُجَرَّدِ الْمُرُورِ فَإِنَّهُ قَدْ يَقَعُ بَغْتَةً فَلَا يُتَحَفَّظُ مِنْهُ قَوْله فِي الْإِسْنَاد
فتح البارى لابن رجب
 
[453] حدثنا أبو اليمان الحكم بن نافع: ابنا شعيب، عن الزهري: اخبرني أبو سلمة بن عبد الرحمن، أنه سمع حسان بن ثابت يستشهد أبا هريرة: أنشدك الله، هل سمعت النبي - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يقول: ( يا حسان، أجب عن رسول الله، اللهم أيده بروح القدس) ) ؟ قال أبو هريرة: نعم.
ليس في هذه الرواية التي خرجها البخاري هاهنا إنشاد حسان في المسجد، إنما فيه ذكر مدح حسان على أجابته عن النبي - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - والدعاء له على ذلك، وكفى بذلك على فضل شعره المتضمن للمنافحة عن رسول الله - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، والرد على أعدائه والطاعنين عليه، والمساجد لا تنزه عن مثل ذلك.
ولهذا قال النبي - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: ( إن من الشعر حكمة) ) .
وقد خرجه البخاري في موضع أخر من حديث أبي بن كعب - مرفوعا.
وخرج - أيضا - من حديث البراء، أن النبي - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قال لحسان: ( اهجهم - او هاجمهم - وجبريل معك) ) .
وإنما خص النبي - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جبريل وهو روح القدس بنصرة من نصره ونافح عنه؛ لان جبريل صاحب وحي الله إلى رسله، وَهُوَ يتولى نصر رسله وإهلاك أعدائهم المكذبين لهم، كما تولى إهلاك قوم لوط وفرعون في البحر.
فمن نصر رسول الله وذب عنه أعداءه ونافح عنه كان جبريل معه ومؤيدا له كما قال لنبيه - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: { مَوْلاهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمَلائِكَةُ بَعْدَ ذَلِكَ ظَهِيرٌ} [التحريم: 4] .
وقد خرج البخاري في بدء الخلق عن ابن المديني، عن ابن عيينة، عن الزهري، عن ابن المسيب، قال: مر عمر في المسجد وحسان ينشد، فقال كنت انشد فيه، وفيه من هو خير منك ثم التفت إلى أبي هريرة، فقال: أنشدك الله، أسمعت رسول الله - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يقول: ( اجب عني، اللهم أيده بروح القدس) ) ؟ قال: نعم.
وهذا نوع إرسال من ابن المسيب؛ لأنه لم يشهد هذه القصة لعمر مع حسان عند أكثر العلماء الذين قالوا لم يسمع من عمر ومنهم من اثبت سماعه منه شيئا يسيرا.
وقد خرج هذا الحديث مسلم، عن غير واحد، عن ابن عيينة، عن الزهري، عن ابن المسيب، عن أبي هريرة، أن عمر مر بحسان - فجعل الحديث كله عن أبي هريرة متصلا.
ورواية ابن المديني اصح، وكذا رواه جماعة عن الزهري.
وروى ابن أبي الزناد، عن هشام بن عروة، عن أبيه، عن عائشة، قالت: كان رسول الله - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يضع لحسان منبرا في المسجد يقوم عليه قائما، يفاخر عن رسول الله - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أو قالت: ينافح عن رسول الله - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وتقول: قال رسول الله - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: ( أن الله يؤيد حسان بروح القدس ما يفاخر - او ينافح - عن رسول الله - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -) ) .
خرجه الترمذي.
وخرجه - أيضا - في طريق ابن أبي الزناد، عن أبيه، عن عروة، عن عائشة، عن النبي - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مثله.
وقال: حسن صحيح غريب، وهو حديث ابن أبي الزناد.
يعني أنه تفرد به.
وخرجه أبو داود من الطريقين - أيضا -.
وكذلك خرجه الإمام أحمد، وعنده: ( ينافح عن رسول الله - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بالشعر) ) .
وذكره البخاري في موضع اخرمن صحيحه - تعليقا -، فقال: وقال ابن أبي الزناد.
وخرجه الطبراني، وزاد في حديثه: ( فينشد عليه الأشعار) ) .
وروى سماك، عن جابر بن سمرة، قَالَ: شهدت رسول الله - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أكثر من مائة مرة في المسجد، وأصحابه يتذاكرون الشعر وأشياء من أمر الجاهلية، فربما تبسم معهم.
خرجه الإمام أحمد.
وخرجه النسائي، ولفظه: كان رسول الله - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إذا صلى الفجر جلس في مصلاه حتى تطلع الشمس، فيتحدث أصحابه، ويذكرون حديث الجاهلية، وينشدون الشعر، ويضحكون، ويبتسم رسول الله - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -.
وخرجه مسلم، إلا أنه لم يذكر الشعر.
وقد روى ما يخالف هذا وهو النهي عن إنشاد الأشعار في المساجد: فروى عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده، عن النبي - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أنه نهىأن ينشد في المسجد الأشعار - في حديث ذكره.
خرجه الإمام أحمد وأبو داود والنسائي وابن ماجه والترمذي، قال: حديث حسن.
وخرج أبو داود نحوه من حديث حكيم بن حزام، عن النبي - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بإسناد فيه نظر وانقطاع.
وروى أبو القاسم البغوي في معجمه من طريق ابن إسحاق، عن يعقوب بن عتبة، عن الحارث بن عبد الرحمن بن هشام، عن أبيه، قال: أتى ابن الحمامة السلمي إلى النبي - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وهو في المسجد؟ فَقَالَ: أني أثنيت عَلَى ربي تعالى ومدحتك.
قَالَ: ( امسك عليك) ) ، ثم قام رسول الله - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فخرج به من المسجد، فقال: ( ما أثنيت به على ربك فهاته، وأما مدحي فدعه عنك) ) ، فانشد حتى إذا فرغ دعا بلالاً، فأمره أن يعطيه شيئا، ثم اقبل رسول الله - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - على الناس، فوضع يده على حائط المسجد، فمسح به وجهه وذراعيه، ثم دخل.
وهذا مرسل، وفيه جواز التيمم بتراب جدار المسجد، وهو رد على من كرهه من متأخري الفقهاء، وهو من التنطع والتعمق.
وروى وكيع في كتابه عن مبارك بن فضالة، عن ظبيان بن صبيح الضبي، قال: كان ابن مسعود يكره أن ترفع الأصوات في المساجد، أو تقام فيها الحدود، أو ينشد فيها الأشعار، أو تنشد فيها الضالة.
وروى أسد بن موسى في كتاب الورع: ثنا ضمرة، عن ابن عطاء الخراساني، عن أبيه، قال: كان أهل العلم يكرهون أن ينشد الرجل ثلاثة أبيات من شعر في المسجد حتى يكسر الثالث.
وهذا تفريق بين قليل فيرخص فيه، وهو البيت والبيتان، وبين كثيرة، وهو ثلاثة أبيات فصاعدا.
وقال ابن عبد البر: إنما ينشد الشعر في المسجد غباً من غير مداومة.
قال: وكذلك كان حسان ينشد.
وجمهور العلماء على جواز إنشاد الشعر المباح في المساجد، وحمل بعضهم حديث عمرو بن شعيب على أشعار الجاهلية، وما لا يليق ذكره في المساجد، ولكن الحديث المرسل يرد ذلك.
والصحيح في الجواب: أن أحاديث الرخصة صحيحة كثيرة، فلا تقاوم أحاديث الكراهة في أسانيدها وصحتها.
ونقل حنبل، عن أحمد، قال: مسجد النبي - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خاصة لا ينشد فيه الشعر، ولا يمر فيه بقطع اللحم، يجتنب ذلك كله، كرامة لرسول الله - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -.
69 - باب أصحاب الحراب في المسجد
 

 

 

Edited by Muhammad Afan

Share this post


Link to post
Share on other sites

(bis)

مصطفوی صاحب

آپ نے راوی اور روایت کے بارے میں نقائص بتائے ہیں

اس سے روایت ضعیف ثابت کی، میں نے آپ سے سوال کیا تھاکہ

 

ضعیف حدیث سے حضور ﷺ کی سماعت ثابت ہورہی ہے،آپ کہتے ہیں کہ یہ سماعت معجزہ ہے ، اَب آپ بتائیں کہ

اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں ایک ایسا فرشتہ ہے جسے اس نے تمام مخلوق کی آوازوں کی قوت شنوائی دے رکھی ہے۔

آپ بتائیں کہ کیا یہ قوت سماعت ہر وقت ہوتی ہے یا معجزہ اور کرامت کی طرح عارضی؟

اسی طرح ایک اور حدیث ہے

جو بندہ دُرود پڑھتا ہے خواہ وہ کہیں ہو اس  کی آواز مجھے پہنچ جاتی ہے۔

کیا یہ سماعت معجزہ کے طور پر عارضی ہے ؟

اگر حضور نبی کریم ﷺ نےاللہ تعالیٰ کے عطا کردہ فضل و کمال سے اس صحابی کی پکار سن لی تو آپ کی توحید کو اس سے کیا دھکا لگ رہا ہے ؟

آپ کو حضور نبی کریم ﷺ کے فضائل وکمالات سے چڑ کیوں ہے؟

ذکر روکے فضل کاٹے نقص کا جویاں رہے

پھر کہے مردک کہ ہوں اُمت رسول اللہ کی ؟

 

 

1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites

(bis)

جناب مصطفوی صاحب

ہم نے بحث کو کہیں سے کہیں نہیں پہنچایا، بحث وہیں ہے

آپ کسی بات کا جواب تو دیں ، آپ نے دیوبندیوں والی روش اختیار کی ہے

غالباً آپ کا خیال ہے کہ راجز صحابی کا یہ عقیدہ نہیں تھا کہ رسول اللہ ﷺ سماعت فرمالیں گے

بس اُس نے ویسے ہی فریاد کی۔

آپ سے سوال ہے کہ آپ کے پاس کون سی حدیث یا حوالہ ہے جس میں صحابی کا یہ خیال لکھا ہے ؟

امام احمد رضا قادری بریلوی علیہ الرحمہ نے اللہ کی قسم کھا کر  فرمایا

واللہ وہ سُن لیں گے،فریاد کو پہنچیں گے

ایسا بھی تو ہو کوئی جو یاد کرے دل سے

آئیے اَب یہی واقعہ ایک اور سند سے پیش ہے، اس کی سند پر کلام کریں، اگر یہ سند ضعیف ہے تو دو روایتیں

مل کر یہ قوی ہوئی یا نہیں ؟اگر ضعیف نہیں تو مان لیں کہ فریاد کی جاسکتی ہے۔

اس روایت میں لبیکم کے الفاظ ہیں یعنی میں حاضر ہوں

ftohulbldan 1.jpg

ftohulbldan 2.jpg

ftohulbldan 3.jpg

Share this post


Link to post
Share on other sites

احمد لاہوری بھائی

 

چکر میں نہ پڑنے سے مراد یہ ہے کہ میں اس بحث کے چکر میں نہیں پڑتا کہ یہ شرک ہے یا نہیں یا جائز ہے یا  نہیں

 

میرے نزدیک قرآن و حدیث کی کسی صحیح مستند اور واضح دلیل سے دور سے مدد مانگنے کا کوئی ثبوت نہیں

 

برادر محمد افان

 

Hadees shareef parh kar btyen key kiya Allah rab ul izzat key hute huwy nabi kareem s.a.w nei Hazrat Jibraeal A.s se madad talab karna seekha rhy hain ya nhi ?? Agar han tu kiya

 

آپ نے ماشا،اللہ کافی محنت کی ہے لیکن سعی لا حاصل

اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت جبرائیلؑ سے مدد طلب کرنا نہیں سکھا رہے بلکہ

اللہ سے دعا کر رہے  ہیں کہ

اے اللہ اس کی روح القدس سے مدد فرما

Share this post


Link to post
Share on other sites

محترم جناب خلیل رانا صاحب

(bis)

مصطفوی صاحب

آپ نے راوی اور روایت کے بارے میں نقائص بتائے ہیں

اس سے روایت ضعیف ثابت کی، میں نے آپ سے سوال کیا تھاکہ

 

ضعیف حدیث سے حضور ﷺ کی سماعت ثابت ہورہی ہے،آپ کہتے ہیں کہ یہ سماعت معجزہ ہے ، اَب آپ بتائیں کہ

اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں ایک ایسا فرشتہ ہے جسے اس نے تمام مخلوق کی آوازوں کی قوت شنوائی دے رکھی ہے۔

آپ بتائیں کہ کیا یہ قوت سماعت ہر وقت ہوتی ہے یا معجزہ اور کرامت کی طرح عارضی؟

اسی طرح ایک اور حدیث ہے

جو بندہ دُرود پڑھتا ہے خواہ وہ کہیں ہو اس  کی آواز مجھے پہنچ جاتی ہے۔

کیا یہ سماعت معجزہ کے طور پر عارضی ہے ؟

اگر حضور نبی کریم ﷺ نےاللہ تعالیٰ کے عطا کردہ فضل و کمال سے اس صحابی کی پکار سن لی تو آپ کی توحید کو اس سے کیا دھکا لگ رہا ہے ؟

آپ کو حضور نبی کریم ﷺ کے فضائل وکمالات سے چڑ کیوں ہے؟

ذکر روکے فضل کاٹے نقص کا جویاں رہے

پھر کہے مردک کہ ہوں اُمت رسول اللہ کی ؟

 

فرشتے والی بات کا موضوع زیر بحث سے کیا تعلق بنتا ہے ؟؟

آپ نے فرشتے کے حوالے سے جو تفصیلات پوچھی ہیں مجھے ان کے بارے معلوم نہیں ہے

 

اور میرا خیال ہے کہ وہ فرشتہ درود شریف سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک بمعہ نام پہنچاتا ہے ساری مخلوق کی ساری آوازیں سننے کا علم نہیں

بہرحال وہ روایت پیش کریں گے تو معلوم ہو گا

 

نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک آواز پہنج جاتی ہے کب کیسے وغیرہ کی تفصیلات معلوم نہیں ہیں

 

معاذ اللہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل سے کیوں چڑ ہو گی ؟؟؟؟؟

 

مسئلہ زیر بحث تو دور سے مدد مانگنے کا ہے نہ کہ فضائل کا

آپ اصل موضوع کو چھوڑ کر بحث کو دوسری طرف لے جا رہے ہیں ۔

 

 

 

Edited by Mustafvi

Share this post


Link to post
Share on other sites

آئیے اَب یہی واقعہ ایک اور سند سے پیش ہے، اس کی سند پر کلام کریں، اگر یہ سند ضعیف ہے تو دو روایتیں

مل کر یہ قوی ہوئی یا نہیں ؟اگر ضعیف نہیں تو مان لیں کہ فریاد کی جاسکتی ہے۔

اس روایت میں لبیکم کے الفاظ ہیں یعنی میں حاضر ہوں

 

اس دوسری روایت میں بھی کوئی ذکر نہیں ہے کہ راجز نے تین دن کی مسافت سے پکارا تھا صرف اتنا ہے جب اس نے ندا دی نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت غسل فرما رہے تھے۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

احمد لاہوری بھائی

 

چکر میں نہ پڑنے سے مراد یہ ہے کہ میں اس بحث کے چکر میں نہیں پڑتا کہ یہ شرک ہے یا نہیں یا جائز ہے یا  نہیں

 

میرے نزدیک قرآن و حدیث کی کسی صحیح مستند اور واضح دلیل سے دور سے مدد مانگنے کا کوئی ثبوت نہیں

 

 

 

 

ماشاءاللہ۔ خوب وضاحت فرمائی آپ نے۔

چلئے جناب، یوں کہہ لیجئے کہ آپ جائز ناجائز کے چکر کے بجائے جائز ناجائز وغیرہ کی بحث کے چکر میں نہیں پڑتے۔ مگر ان دونوں باتوں میں فرق کیا ہے؟ یا پھر مقصد صرف لوگوں کو چکر دینا ہے؟ 

 

قرآن و حدیث کی کسی صحیح مستند اور واضح دلیل کے ذریعے کیا جواز یا عدم جواز کا حکم معلوم نہیں ہوا کرتا؟

آپ کے نزدیک جواز یا عدم جواز کے علاوہ کوئی اور صورت بھی ہوتی ہے حکم کی؟ مراد جواز یا عدم جواز کی دیگر اقسام یا تفصیلات نہیں، بلکہ کوئی ایسی صورت جو جواز یا عدم جواز سے جداگانہ حیثیت کی حامل ہو۔

اگر کسی عمل یا عقیدے کے حق میں قرآن و حدیث کی کوئی صحیح مستند اور واضح دلیل آپ کے بقول موجود نہ ہو، تو آپ ایسے عمل یا عقیدے کو جائز قرار دیں گے یا ناجائز، یا پھر کچھ اور؟

قریب سے مدد مانگنے پر آپ کو اعتراض نہیں۔ تو کیا آپ اسے جائز کہیں گے یا نہیں؟

دور سے سننا بطور معجزہ آپ کو قبول ہے۔ کیا اسے بھی آپ جائز مانیں گے یا نہیں؟

  اگر قریب سے مدد مانگنا اور دور سے بطور معجزہ سن لینا، دونوں ہی آپ کے نزدیک درست اور جائز ہیں، پھر دور سے مدد مانگنے کے جواز پر آپ کو تردّد کیوں ہے، کہ اس میں مدد طلب کرنے اور دور سے سن لینے کے سوا اور تو کچھ نہیں؟

اور اگر یہ دونوں باتیں آپ کے نزدیک جائز نہیں، تو آپ کے لیے قابل قبول اور درست کیوں ہیں؟ یا پھر آپ کے نزدیک یہ دونوں باتیں درست تو ہیں اور آپ انہیں قبول بھی کرتے ہیں، مگر نہ تو انہیں جائز سمجھتے ہیں، نہ ہی ناجائز؟ ایسی صورت میں پھر ان کا حکم آپ کے نزدیک کیا ہے؟

براہ کرم، محض ایک آدھ سطر پر خامہ فرسائی کے بجائے تمام باتوں کا جواب عنایت فرما دیجئے گا۔

Edited by Ahmad Lahore

Share this post


Link to post
Share on other sites

اس دوسری روایت میں بھی کوئی ذکر نہیں ہے کہ راجز نے تین دن کی مسافت سے پکارا تھا صرف اتنا ہے جب اس نے ندا دی نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت غسل فرما رہے تھے۔

 

جناب آپ یہ بتائیں کہ آپ لوگ

کتنی مسافت سے آپ (saw)  کو ندا کرنا جائز مانتے ہو

اوراُس سے زیادہ مسافت سے ناجائز مانتے ہو؟

اور اُس حدِ فاصل کی دلیل کیا ہے؟

Edited by Saeedi

Share this post


Link to post
Share on other sites

مصطفوی میاں۔


دن دیہاڑے علمی ڈاکو مت بنو ، وہ حدیث ضعیف نہیں ہے اور اگر تھی بھی سہی تو تائید علما و عمل فقہا سے قوی کیوں نہیں ہوئی؟


اگر یہ ضعیف بھی مانو تو فضائل میں پھر بھی لائق استناد ہوگی۔


تمہارے نزدیک اگر یہ ضعیف ہے تو معجزہ تو ثابت کر سکتی ہے ناں یہ حدیث ، آؤ اب معجزہ کا بھی پڑھتے چلو۔


http://www.islamimehfil.com/topic/23653-how-to-reply-on-this-objection-on-ilm-e-gaib-and-haazir-naazir/#entry101307


اللہ ہدایت دے ، یہ لوگ خود سے محدث مدقق بننے لگ جاتے ہیں۔


Share this post


Link to post
Share on other sites

https://www.youtube.com/watch?v=EeK8wjF9Jyo

 

 

 

مصطفوی صاحب طبرانی کی حدیث پر تحریری جواب بھی آرہا ہے،امام بخاری نے کس یحیی بن سلیمان کو منکر الحدیث کہا اور اس کے علاوہ آپ کت تمامی اعتراضات کا مکمل جواب ۔۔۔جلد آرہا ہے

Share this post


Link to post
Share on other sites

Mustafvi Sb ap say guzarish hay k ap nay Yahya Bin Sulaiman Nadla Sahib par jo jarrah ke hy un sab ka scan pages b dain ta k zara ap ke asliat to sab k samnay ay..Umeed hay ap mayoos nahi karain gay

Share this post


Link to post
Share on other sites

مصطفوی صاحب کیا جرح پیش کریں گے، انہیں تو راویان حدیث کے اسما کا بھی درست طور پر علم نہیں ہے۔


تقریبا ہر جگہ ’’یحیی سلیمان بن نضلۃ‘‘ لکھا ہے اس نے۔ یہ کسی کتاب اسماء الرجال سے ایسے راوی کا ثبوت تو پیش کردے۔ جنہیں راوی کا نام لکھنے کی ’’لیاقت‘‘ تک نہیں ہے ، وہ جرح و تعدیل کی بات کس منہ سے کرتے ہیں؟؟؟


Share this post


Link to post
Share on other sites

اعتزار

 

میں نے پوسٹ نمبر 53 اور ایک دو اور مقامات پر یحی بن سلیمان نضلہ پر جرح کے حوالے سے امام بخاری اور ابو حاتم کی جرح پیش کی تھی کہ

یہ منکر الحدیث اور لیس باالقوی ہے

 

لیکن یہ میری غلطی تھی یہ جرح یحی بن سلیمان نضلہ پر نہیں بلکہ اس کے ہم نام راوی یحی بن سلیمان المدنی پر ہے

 

میں اپنی غلطی کو تسلیم کرتا ہوں اور معذرت چاہتا ہوں

 

  لہذا پوسٹ نمبر 53 و دیگر مقامات پر اس جرح کو اگنور کیا جائے

اس کے ساتھ ہی میں پوسٹ نمبر 53 کے سنجیدہ اور ٹو دا پواٗنٹ جواب کا منتظر ہوں

Share this post


Link to post
Share on other sites

 

مصطفوی صاحب کیا جرح پیش کریں گے، انہیں تو راویان حدیث کے اسما کا بھی درست طور پر علم نہیں ہے۔

تقریبا ہر جگہ ’’یحیی سلیمان بن نضلۃ‘‘ لکھا ہے اس نے۔ یہ کسی کتاب اسماء الرجال سے ایسے راوی کا ثبوت تو پیش کردے۔ جنہیں راوی کا نام لکھنے کی ’’لیاقت‘‘ تک نہیں ہے ، وہ جرح و تعدیل کی بات کس منہ سے کرتے ہیں؟؟؟

 

 

 

Mustafvi Sb ap say guzarish hay k ap nay Yahya Bin Sulaiman Nadla Sahib par jo jarrah ke hy un sab ka scan pages b dain ta k zara ap ke asliat to sab k samnay ay..Umeed hay ap mayoos nahi karain gay

 

 

https://www.youtube.com/watch?v=EeK8wjF9Jyo

 

 

 

 

مصطفوی صاحب طبرانی کی حدیث پر تحریری جواب بھی آرہا ہے،امام بخاری نے کس یحیی بن سلیمان کو منکر الحدیث کہا اور اس کے علاوہ آپ کت تمامی اعتراضات کا مکمل جواب ۔۔۔جلد آرہا ہے

 

اعتزار

 

میں نے پوسٹ نمبر 53 اور ایک دو اور مقامات پر یحی بن سلیمان نضلہ پر جرح کے حوالے سے امام بخاری اور ابو حاتم کی جرح پیش کی تھی کہ

یہ منکر الحدیث اور لیس باالقوی ہے

 

لیکن یہ میری غلطی تھی یہ جرح یحی بن سلیمان نضلہ پر نہیں بلکہ اس کے ہم نام راوی یحی بن سلیمان المدنی پر ہے

 

میں اپنی غلطی کو تسلیم کرتا ہوں اور معذرت چاہتا ہوں

 

  لہذا پوسٹ نمبر 53 و دیگر مقامات پر اس جرح کو اگنور کیا جائے

مصطفوی صاحب۔

آپ نے ’’مجبورا‘‘ اپنی غلطی تسلیم کی ہے کیونکہ اب فرار کا کوئی راستہ نہیں بچا جناب کے پاس۔۔۔][؟

خالی معذرت نہ کرتے جائیں،یہ بھی تو بتائیں کہ آپکے نزدیک اب وہ روایت طبرانی کس درجے کی ہے؟

خود سے محقق بننے کی کوشش کریں گے تو انجام یہی ہوگا۔

 

 

اس کے ساتھ ہی میں پوسٹ نمبر 53 کے سنجیدہ اور ٹو دا پواٗنٹ جواب کا منتظر ہوں

 

مزید اسمیں سے جو سوال ہے آپکا، اسکی نشاندہی تو کر دیں ’’فائنلی‘‘ ورنہ کچھ دن بعد پھر اعتزار کے عنوان سے نئی ’’تنقیح‘‘ لیکر آ جائیں تو۔۔۔۔؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ویسے دیانت داری سے کام لیں تو اتنے سوالات و اعتراضات آپ پر اب بھی موجود ہیں، انکے جواب کا نام تک نہیں لیتے اور ہم سے ’’سنجیدہ جواب‘‘ کا انتظار ہے۔۔۔۔کیا کہنے آپکے!!۔

1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites

اب اس سوال اور جواب کو سامنے رکھتے ہوئے خود ہی انصاف فرمائیں کہ کیا اس سوال و جواب سے حضرت میمونہ ؓ کے گمان میں بھی یہ بات آئی ہو گی کہ راجز یہاں موجود نہیں تھا بلکہ تین دن کی مسافت پر تھا ؟

 

اس کے بعد حضرت میمونہؓ فرماتی ہیں کہ

فااقمنا ثلاثا

ہم تین دن ٹھہرے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھائی تو راجز نے اشعار پڑھے 

داد دیتا ہوں آپکی عقل کی!!۔

ہمارا استدلال کس نکتے سے ہے اس واقعہ میں سے؟؟؟؟

کبھی معجزہ کے اثبات کا کہنا شروع کر دیتے ہیں اور اب سیدتنا حضرت میمونہ رضی اللہ عنھا کے ’’گمان‘‘ کی بات شروع!!۔

یہ آپ تحقیق قطعا نہیں کر رہے۔۔۔۔۔ اتنا تو آشکار ہو چکا ہے۔

میں مزید حیران تب ہوا جب ایک دو سطر نیچے خود آپکی تحریر پڑھی کہ آپ لکھ رہے ہیں: سیدتنا میمونہ رضی اللہ عنھا نے تین دن بعد راجز کا اشعار پڑھنا سنا۔۔۔۔۔۔ تو اتنا ہی کہہ کر کیوں چپ ہو گئے، آپ سے امید تھی کہ یہاں بھی سوال کردیتے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ کیوں نہ پوچھا کہ راجز تو تین دن قبل ہی یہ اشعار پڑھ چکا ہے، اب دوبارہ کیوں؟؟!!!!!۔

خود صحابہ کرام کے ’’قطعی عقیدے‘‘ کی بات کرتے ہیں اور اب سیدتنا میمونہ رضی اللہ عنھا کے ’’گمان‘‘ پر گفتگو شروع کر دی!!۔

ہمارے سوالوں کے جواب کون دے گا؟؟

Edited by kashmeerkhan

Share this post


Link to post
Share on other sites

خالی معذرت نہ کرتے جائیں،یہ بھی تو بتائیں کہ آپکے نزدیک اب وہ روایت طبرانی کس درجے کی ہے؟

 

میرے نزدیک تو طبرانی کی روایت اب بھی ضعیف ہی ہے

 

خود سے محقق بننے کی کوشش کریں گے تو انجام یہی ہوگا۔

 

 

غلطیاں تو بڑے بڑوں سے ہو جاتی ہیں میں کس شمار میں ہوں  ؟

غلطی کا علم  ہو جائے تو اصرار نہیں کرنا چاہئے بلکہ اقرار کر لینا چاہئے جو میں نے کر لیا

اب کوئی اس کا تمسخر اڑائے تو وہ اس کا اپنا ظرف ہے

 

میں مزید حیران تب ہوا جب ایک دو سطر نیچے خود آپکی تحریر پڑھی کہ آپ لکھ رہے ہیں: سیدتنا میمونہ رضی اللہ عنھا نے تین دن بعد راجز کا اشعار پڑھنا سنا۔۔۔۔۔۔ تو اتنا ہی کہہ کر کیوں چپ ہو گئے، آپ سے امید تھی کہ یہاں بھی سوال کردیتے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ کیوں نہ پوچھا کہ راجز تو تین دن قبل ہی یہ اشعار پڑھ چکا ہے، اب دوبارہ کیوں؟؟!!!!!۔

 

محترم حیران ہونے کے علاوہ کبھی تفکر بھی فرما لیا کریں

 

ذرا طبرانی کی روایت سے وہ مقام تو دکھائیں جہاں لکھا ہو کہ حضرت میمونہؓ نے تین دن قبل بھی راجز کے اشعار سنے تھے یا راجز نے اس وقت کوئی اشعار پڑھے بھی تھے

 

روایت میں تو صرف حضرت میمونہؓ کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ سننا مذکور ہے

 

 

الصلواۃ والسلام علیک یا رسول اللہ

Edited by Mustafvi

Share this post


Link to post
Share on other sites

میرے نزدیک تو طبرانی کی روایت اب بھی ضعیف ہی ہے

1

ضعیف روایت سے ظنی عقیدہ ثابت ہو سکتا ہے یا نہیں؟

2

آپکا ایسی استمداد کے ناجائز یا غیر مشروع یا غیر ثابت ہونے کا عقیدہ قطعی ہے یا ظنی؟؟

اگر (اپنے ایسی غائبانہ استمداد کے غیر درست یا غیر ثابت ہونے کے اپنے عقیدے کو) قطعی کہتے ہو تو اس پر دلیل بھی قطعی الثبوت و الدلالت لاؤ۔

اگر اپنے عقیدے کو کہتے ہو ظنی تو ہماری ظنی دلیل سے ہمارے ظنی عقیدے کے اثبات میں کیا حرج ہے شرعا؟؟

3

شیخ عسقلانی اسے الاصابہ میں بھی ذکر کرتے اور فتح میں بھی، شیخ محقق اسے مدارج شریف میں ذکر۔مگر قبول کرتے ہیں بغیر جرح تو انکو اسکے ضعف کا علم نہیں تھا؟؟؟

 

 

غلطیاں تو بڑے بڑوں سے ہو جاتی ہیں میں کس شمار میں ہوں  ؟

غلطی کا علم  ہو جائے تو اصرار نہیں کرنا چاہئے بلکہ اقرار کر لینا چاہئے جو میں نے کر لیا

اب کوئی اس کا تمسخر اڑائے تو وہ اس کا اپنا ظرف ہے

4

اس عبارت میں بڑے بڑوں سے کیا مراد ہے آپکی؟

5

علم تو آپکو اسی دن سے ہو گیا تھا جب سے ہم نے آپ کے الزامات کو بے بنیاد کہا تھا۔مگر اعتراف اب کر رہے ہیں۔ دیکھیں کفار کو علم ہے کہ اللہ عزوجل نے اس دنیا کے علاوہ آخرت بھی بنائی ہے مگر اعتراف تب کریں گے جب موت کے فرشتے وغیرہ کو دیکھ لیں۔۔۔ ہر علم اعتراف کو

لازم تو نہیں ہے۔۔

6

میں نے تمسخر نہیں کیا بلکہ امر واقعی کی طرف اشارہ کیا ہے۔۔۔ آپ جو سمجھیں آپکا کام

 

 

محترم حیران ہونے کے علاوہ کبھی تفکر بھی فرما لیا کریں

7

تفکر کیا تو حیران ہوا۔۔۔۔ کوئی شرعی ثبوت ہے آپکے پاس کہ جب بندہ حیران ہو، اس وقت تفکر

نہیں کر رہا ہوتا، تو پیش کریں!!۔

 

 

ذرا طبرانی کی روایت سے وہ مقام تو دکھائیں جہاں لکھا ہو کہ حضرت میمونہؓ نے تین دن قبل بھی راجز کے اشعار سنے تھے یا راجز نے اس وقت کوئی اشعار پڑھے بھی تھے

8

ہم نے کب اور کہاں کہا کہ سیدتنا حضرت میمونہ رضی اللہ عنھا نے لفظا تین دن قبل براہ راست اس راجز کے اشعار سنے؟؟؟ ہمت ہے تو ثبوت لاؤ، ورنہ اپنی پچر لگانا بند کرو۔۔

شرم نام کی کوئی چیز ہے تو اسے استعمال بھی کرو۔۔۔ہر جگہ بچت اچھی نہیں!!۔

9

ہم کہتے ہیں کہ راجز نے نبی کریم ﷺ کو پکارا بھی سہی اور وہ بھی دور سے اور وہ بھی استمداد کیلئے اور ہمارے رسول پاک ﷺ نے اسے سماعت بھی فرمایا ۔۔۔۔ کبھی تم معجزہ کی بحث چھیڑ دیتے ہو، کبھی یہ کہ کیا پتہ اسکا عقیدہ کیا ہوگا؟ اور پہلے والی پوسٹ میں سیدتنا میمونہ رضی اللہ عنھا کے گمان کا تذکرہ کرنا شروع اور اب انہی سیدتنا رضی اللہ عنھا کی سماعت و عدم سماعت کی بات!!!۔ ایک بات پر کیوں نہیں رہ سکتے، کبھی ادھر کبھی ادھر۔ ایسے اپنا استمداد کے بطلان کا عقیدہ ثابت کرو گے!!۔

 

 

روایت میں تو صرف حضرت میمونہؓ کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ سننا مذکور ہے

10

سیدتنا حضرت میمونہ رضی اللہ عنھا کی سماعت مبارکہ سے ہم نے کب کہاں استدلال کیا؟؟؟

 

 

الصلواۃ والسلام علیک یا رسول اللہ

11

رسول اللہ ﷺ کو مستقل متصرف مان کر ندا کر رہے ہو یا کیسے؟؟ کیونکہ آپکی اپنی پوسٹوں کے مطابق ’’اب پتہ نہیں‘‘ آپکا کیا عقیدہ ہوگا؟؟

۔۔۔،،۔۔۔،،،۔۔۔۔،،،۔۔۔،،،۔۔۔

12

مصطفوی صاحب۔۔۔

تمہارے اندر ذرا بھی ..... باقی ہے تو ان باتوں کا جواب کیوں نہیں دیتے جو ہم تم سے پہلے ہی پوچھ چکے!۔

13

جائز ناجائز کے چکر میں تم نہیں پڑتے۔۔۔ اس راجز کے عقیدے کا تمہیں نہیں پتہ۔۔۔ معجزہ کی بحث تو چھیڑ دیتے مگر معجزہ کی مقدوریت کا پتہ نہیں۔۔۔۔ دور سے سننا کس حد فاصل سے ثابت ہے اور کس سے نہیں، کا بھی نہیں پتہ، جب کوئی راستہ نہ بچے تو اعتزار کی پوسٹ آگے کر دی، مجال ہے کسی ایک نکتے پر رہے ہو اب تک۔۔۔ نہ اپنا عقیدہ بیان کر سکے اس استمداد پر اور نہ ہمارے عقیدے کا بطلان کر سکے!!۔

14

چاہتے کیا ہو تم!! واضح الفاظ میں اپنا عقیدہ لکھو اس حوالے سے اور ہمارے عقیدے پر شریعت کا حکم واضح کرو۔۔۔ کیونکہ اگر تمہاری نظر میں ہمارا یہ عقیدہ شریعت میں درست نہیں تو اسکا بطلان بھی شریعت کی ویسی ہی نص سے کرو۔۔۔۔ صرف بونگیاں نہ مارو

....

http://www.islamimehfil.com/topic/23477-ghair-ul-allah-say-madad/page-2#entry101154

 

http://www.islamimehfil.com/topic/23477-ghair-ul-allah-say-madad/page-2#entry101143

 

http://www.islamimehfil.com/topic/23477-ghair-ul-allah-say-madad/page-2#entry101125

Edited by kashmeerkhan
1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites

مصظفوی صاحب اللہ آپ کو ہدایت کاملہ نصیب فرمائے ۔جس طرح آپ نے اپنی غلظی مانی ہے اس طرح میں آپ کو پیشگی اطلاع دے رہا ہوں کہ ہو ں کہ ہمارا دعوٰی ہے کہ یہ حدیث حسن لذاتہ ہے بس تھوڑا سا انتظار اور کر لیں ۔آپ کو پھر مشورہ ہے ایک بار پھر غور کرلیں

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!


Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.


Sign In Now
Sign in to follow this  
Followers 0

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

  • Similar Content

    • By Rehan Raza
      https://www.youtube.com/watch?v=AKaD_SQn64g
       
    • By خاکسار
      Shirk our Touheed0.pdf
       

       

       

       

       

       

       

       

       

       

       

       

       

       

       

       

       

       
       
      مکمل موضوع منسلک PDF فائل کو ڈائونلڈ کر کے پڑھیں۔ شکریہ۔
       
    • By MuhammedAli
      Introduction:


      Recently [on 09 Nov 2014 - 5:55 PM] a heretic with the name of Zia Bashir created a thread on IslamiMehfil forum titled; 'Honorable Prophet Muhammad’s Invitation To Tawheed And Shirk Of Arabs.', which you can read, here. Brother Zia Bashir basically presented the following principles to indicate how a Ilah is made – which will be presented in my own words: ‘To believe any being has control over benefit and harm, or can alleviate every type of hardship/upsetting [matter] or has the power in the kingdom of Allah (subhanahu wa ta’ala) to utilize the means in the skies and earth (i.e. such as sends rain from clouds and grows crops from earth), is elevating the being to status of God. Or to believe a being grants sustenance, or is in charge of distributing sustenance and grants to which the being wills, or believing a being grants son/daughter, or a being is part of Allah (subhanahu wa ta’ala) as son/daughter, is elevating the being to status of God. Worshiping the being in any way (i.e. invoking a being for help) or believing the being is acting attorney/disposer of all [affairs of creation] is elevating the being to status of God. To give life to the dead, to [breath] life into a clay figurine is in power of Allah (subhanahu wa ta’ala), life and death’s owner is only Allah (subhanahu wa ta’ala) and to believe this power for anyone other then Allah (subhanahu wa ta’ala) is elevating the being to status of god, it is polytheism.’ In response myself and other Muslims responded to him pointing out faults and incompatibility of his principles with teaching of Quran/Hadith. It became apparent to Muslims engaged in discussion with him that he does not understand the concepts of Islam which explain Tawheed/Shirk. Hence it was realized there is need for Islamic principles which should indicate how a creation is elevated to status of an Ilah. This effort is to fill the void felt during the discussion. Continuing, just when the tide turned against him and faults of his principles became apparent to him and strength of Islamic arguments forced him to retreat toward the principles of Muslims, he quit.
       
       
       
      1.0 - Linguistic Meaning Of The Word Ilah And Its Usage In Quran:

      Word Ilah commonly is translated to mean God but the actual meaning derived considering its root is; one deserving of worship (i.e. Mabud). Its equivalent singular ‘Ilahan’ and plural ‘Aalihatun’ have been used as synonyms for idols/idol. The evidence of this is when nation of Prophet Musa (alayhis salaam) reached a certain group of people who worshipped idols, they demanded Prophet Musa (alayhis salaam) create for them an Ilah (i.e. an idol to) which they can devout their acts of worship.[1] Also the word Ilah is synonym for Rabb (i.e. Sustainer) and Khaliq (i.e. Creator).[2]

      1.1 - Reasons Why Polytheists Took Idols As Ilah:

      The polytheists believed their idols have the power to benefit/harm and that they have the power to intercede and will intercede for them to Allah (subhanahu wa ta’ala) on the day of judgment.[3] On basis of this belief they believed their idol can be taken as an Ilah in meaning of; deserving worship. This establishes polytheists had certain belief on basis of which they believed their idols are worthy of worship.[4] In the belief of polytheists Ilah is encompassed by certain attributes and as a result they took the idols as objects of worship. Hence Ilah is not just one that is worshipped but one that possesses certain traits due to which it is worshipped.

      1.2 - Understanding Why The Muslims Take Allah (subhanahu wa ta’ala) as Ilah:

      According to some scholars the name ‘Allah’ is derivative of Al-Ilah (i.e. the God) and Allah (subhanahu wa ta’ala) is possessor of [ninety-nine] beautiful names and attributes. [5] Hence comprehensively Al-Ilah is inclusive of all ninety-nine names and attributes of Allah (subhanahu wa ta’ala) not just, Rabb and Khaliq. If the name ‘Allah’ is not derived from the word Al-Ilah as some scholars have stated even then the true Ilah must be associated with ninety-nine names and attributes. As Muslims we believe Allah (subhanahu wa ta’ala) is the Creator (i.e. Al Khaliq), the Evolver (i.e. Al Bari), and the Provider (i.e. Ar-Razzaq), and the Life-Giver (i.e. Al Mu’hayi), and the One (i.e. Al Ahad) … all the ninety-nine attributes. Belief in names and attributes of Allah (subhanahu wa ta’ala) is essentially connected with believing in Him as an Ilah. We believe Allah (subhanahu wa ta’ala) to be our Ilah and we ascribe all beautiful names/attributes to Him. Therefore true Ilah is not just Mabud (i.e. one deserving of worship) but possessor of all attributes/names established for Allah (subhanahu wa ta’ala). Due to Allah (subhanahu wa ta’ala) having mentioned attributes/names we have accepted Allah (subhanahu wa ta’ala) is deserving of worship and believe it is proper to direct acts of worship to Allah (subhanahu wa ta’ala). Hence the linguistic meaning of Ilah is to be applied in the strict sense. But considering the fact; belief [n possesses x attributes is able to harm/benefit …] must exist before appointing of an Ilah therefore [such] beliefs are fundamental part of appointing an Ilah.[6] Would anyone take a potato to be their Ilah? Or take their fridge as their Ilah? Certainly not because a person understands they do not possess godly qualities and cannot benefit or harm. Alhasil, Ilah is taken when it is believed the one taken as Ilah has ability to hear/see, is able to harm/benefit and an intelligent being will not take a creation to be Ilah if one does not expect any harm/benefit. Hence naturally if one is worshipped then belief of Ilah must pre-exist in the heart of worshipper.[7]

      1.3 - Comprehensive Meaning Of Word Ilah:

      It is important to note; the word Ilah is encompassed by the attributes/actions and it on basis of these attributes/actions an Ilah is taken. Hence linguistic meaning is applicable on every usage but attributes/actions which force a believer to choose Allah (subhanahu wa ta’ala) as his Ilah are inclusive in the meaning of Ilah.[8] Therefore in Islam the Ilah cannot be separated from His attributes/actions. Allah (subhanahu wa ta’ala) is Ilah with all of His attributes and actions. Also the Ilah of polytheists are Ilah with the attributes and actions which polytheists attributed to them.

      2.0 – Thirteen Concepts Which Explain Attributes And Actions Of Allah (subhanahu wa ta’ala):

      Allah (subhanahu wa ta’ala) is Wajib Ul Wujud and the being of Allah (subhanahu wa ta’ala) and all attributes, actions of Allah (subhanahu wa ta’ala) are to be understood in meaning of zaati (i.e. personal), qulli (i.e. total), azli/abdi (i.e. eternal), haqiqi (i.e. real), bi-ghayr izni (i.e. without permission), ghayr muntahai (i.e. unlimited), ghayr makhlooq (i.e. uncreated), muhaal al fana (i.e. impossible to annihilate), bi-ghayr misl (i.e. without comparison), and khaliqi (i.e. creator’s), akmal (i.e. perfect), mustaqil (i.e. independent). If any attribute or action of any creation is understood according to these then the creation is elevated to status of god and has been made partner with Allah (subhanahu wa ta’ala) as a god.

      2.1 – Explaining Some Concepts From Thirteen To Facilitate Better Understanding:

      When the Qull (i.e. total) is applied to Allah’s (subhanahu wa ta’ala) owner-ship then Allah (subhanahu wa ta’ala) is Malik (i.e. Owner) of all creation, in other words His Malikiyyah (i.e. owner-ship) of all creation. When it is applied to His hearing it means Allah (subhanahu wa ta’ala) hears everything and when it is applied to His Seeing it means He See’s everything. When it is connected with His Rubbubiyyah (i.e. Sustainer-ship, Provider-Ship) it means He is sustainer and provider of all creation. When Zaati (i.e. personal) is applied to Allah’s (subhanahu wa ta’ala) ownership then Allah (subhanahu wa ta’ala) is believed to be Malik by His own-self.[9] When Zaati is applied to His Hearing it means ability of Allah (subhanahu wa ta’ala) hearing is His own and non-other has given Him the power to hear. When it is applied to His seeing it means He See’s by His own self and none has given Him the ability to see. When it applied to His Lordship/Sustainer-Ship then it means Allah (subhanahu wa ta’ala) is Rabb by His self and His act of sustaining is His own. When Azli is applied to ownership of Allah (subhanahu wa ta’ala) it means He was/is Malik from eternity. When it applies to His Hearing it means Allah (subhanahu wa ta’ala) was Hearing from eternity and when it is applied to His Seeing then it means Allah (subhanahu wa ta’ala) seeing from eternity. When it is applied to Rubbubiyyah of Allah (subhanahu wa ta’ala) it means He had the ability to provide/sustain from eternity.

      3.0 - Fundamental Way A Creation Is Taken As An Ilah:

      (i) To believe a creation is an Ilah-partner with Allah (subhanahu wa ta’ala) or the Ilah then the creation has been elevated to status of an Ilah-partner with Allah (subhanahu wa ta’ala). (ii) To believe a creation has the right to be worshipped is to elevate the creation to status of an Ilah-partner with Allah (subhanahu wa ta’ala). (iii) To worship a creation, with intention of worship, without believing one being worshipped is an Ilah, is taking the being to be an Ilah-partner with Allah (subhanahu wa ta’ala).

      3.1 – Deriving Ilah-Determining Principles From Thirteen Concepts:

      (i) To believe one is wajib ul wujood (i.e. existence is essential), or the being possesses certain actions/attributes or all attributes/actions according to understanding of zaati (i.e. personal), qulli (i.e. total), azli/abdi (i.e. eternal), haqiqi (i.e. real), bi-ghayr izni (i.e. without permission), ghayr muntahai (i.e. unlimited), ghayr makhlooq (i.e. uncreated), muhaal al fana (i.e. impossible to annihilate), bi-ghayr misl (i.e. without comparison), and khaliqi (i.e. creator’s), akmal (i.e. perfect), mustaqil (i.e. independent), is elevating the creation to status of an Ilah-partner with Allah (subhanahu wa ta’ala). (ii) To believe a creation can benefit/harm, or remove hardship, or has power to utilize means in creation, or grants and distributes sustenance, or grants male/female children, or manages affairs of creation, or gives life to the dead, or sends rain from clouds, or has power over ma teht al asbab[10] (i.e. according to natural means) / ma fawq al asbab (i.e. according to supernatural means) as an Ilah-partner with Allah (subhanahu wa ta’ala) is taking the being to be an Ilah-partner with Allah (subhanahu wa ta’ala). (iii) To believe a creation  possessing atahi (i.e. bestowed), baaz (i.e. partial), waqti (i.e. transient), majazi (i.e. linguistical), bi izni (i.e. with permission), muntahai (i.e. limited), makhlooq (i.e. created), mumkin al fana (i.e. possible to annihilate), bi misli (i.e. with comparison) and makhlooqi (i.e. creations) attributes/actions no longer requires permission from Allah (subhanahu wa ta’ala) to utilize his attributes/actions, or to make use of what is provided in creation, and engages in ma teht al asbab and ma fawq al asbab without requiring permission from Allah (subhanahu wa ta’ala) is elevating the creation to status of being an Ilah besides Allah (subhanahu wa ta’ala). (iv) To believe a creation possessed all attributes/actions in according to understanding of; atahi (i.e. bestowed), baaz (i.e. partial), waqti (i.e. transient), majazi (i.e. linguistical), bi izni (i.e. with permission), muntahai (i.e. limited), makhlooq (i.e. created), mumkin al fana (i.e. possible to annihilate), bi misli (i.e. with comparison) and makhlooqi (i.e. creations), but now  has become equal to Allah (subhanahu wa ta’ala) in his one or more or all attributes/actions, or has been elevated to status of an Ilah by Allah (subhanahu wa ta’ala) is elevating the creation to status of Ilah-partner of Allah (subhanahu wa ta’ala). (v) To believe a creation  possessing atahi (i.e. bestowed), baaz (i.e. partial), waqti (i.e. transient), majazi (i.e. linguistical), bi izni (i.e. with permission), muntahai (i.e. limited), makhlooq (i.e. created), mumkin al fana (i.e. possible to annihilate), bi misli (i.e. with comparison), and makhlooqi (i.e. creations) attributes/actions can provide ma teht al asbab and ma fawq al asbab type of harm/benefit without permission and granting of Allah (subhanahu wa ta’ala) is elevating the creation to status of being god partner to Allah (subhanahu wa ta’ala). (vi) To believe a creation  possessing atahi (i.e. bestowed), baaz (i.e. partial), waqti (i.e. transient), majazi (i.e. linguistical), bi izni (i.e. with permission), muntahai (i.e. limited), makhlooq (i.e. created), mumkin al fana (i.e. possible to annihilate), bi misli (i.e. with comparison), and makhlooqi (i.e. creations) qualities can provide ma fawq al asbab (i.e. according to supernatural means) type of harm/benefit without permission and granting of Allah (subhanahu wa ta’ala) is elevating the creation to status of being god partner to Allah (subhanahu wa ta’ala).

      4.0 – Guide To Interpreting The Six Principles:

      The following principle should be used to understand and expand six principles stated in 3.1. Thumb rule is, if one, or more, or all concepts, from the thirteen mentioned, are attributed to a creation’s Zaat (i.e. being), or Sift (i.e. attribute) or some/all Sifaat (i.e. attributes), or Fehl (i.e. action) or some/all Afaal (i.e. actions), then creation is made Ilah-partner of Allah (subhanahu wa ta’ala).

      4.1 – Explaining The Thumb Rule:

      Najd says: Zahid can hear by his own self (i.e. Zaati) and Allah (subhanahu wa ta’ala) did not give him the ability to hear. Najd has attributed Zaati hearing to Zahid, therefore Najd has affirmed one concept from thirteen, for one attribute, and hence he elevated the Zahid to status of Ilah. Najd says: Zahid can hear by his own self (i.e. Zaati) and Allah (subhanahu wa ta’ala) did not give him the ability to hear and Zahid can hear absolutely everything (i.e. Qulli). This time Najd has affirmed Zaati and Qulli concepts for one attribute (i.e. hearing) of Zahid hence he has elevated Zahid to status of Ilah. Thumb rule is; if one or more concepts are attached to a attribute/action, or one concept but one or more attributes/actions are connected then creation is elevated to status of Ilah.

      4.2 – An Important Note For The Students Of Knowledge:

      Please note, mentioned six principles in 3.1 are just a guide to understanding the principles of Islam regarding Shirk. These principles do not cover every aspect of major Shirk therefore Muslims dedicated to learning should explore the thirteen concepts in light of section 4.0 and 4.1 in order to unlock more principles. In section 3.1 Zaat (i.e. being) aspect of Tawheed/Shirk is not brought into the principles.[11] If I had done so the principles would have become excessively complex and difficult for the readers to understand. Hence readers can expand on the Tawheed/Shirk of Zaat using section 4.0.

      5.0 - Interpreting 1st  Ilah-Determining Principle To Demonstrate Methodology Of Interpretation:

      (i) To believe Zahid is Wajib Ul Wujud is elevating the creation to status of an Ilah-partner with Allah (subhanahu wa ta’ala). (ii) To believe Zahid possesses Zaati attributes/actions is elevating the creation to status of an Ilah-partner with Allah (subhanahu wa ta’ala). (iii) To believe Zahid possesses Qulli attributes/actions is elevating the creation to status of an Ilah-partner with Allah (subhanahu wa ta’ala). (iv) To believe Zahid possesses Azli attributes/actions is elevating the creation to status of an Ilah-partner with Allah (subhanahu wa ta’ala). (v) To believe Zahid possesses Haqiqi attributes/actions is elevating the creation to status of an Ilah-partner with Allah (subhanahu wa ta’ala). (vi) To believe Zahid possesses bi-Ghayr Izni attributes/actions is elevating the creation to status of an Ilah-partner with Allah (subhanahu wa ta’ala). (vii) To believe Zahid possesses Ghayr Muntahai attributes/actions is elevating the creation to status of an Ilah-partner with Allah (subhanahu wa ta’ala). (viii) To believe Zahid possesses Ghayr Makhlooq attributes/actions is elevating the creation to status of an Ilah-partner with Allah (subhanahu wa ta’ala). (ix) To believe Zahid possesses Muhaal Al fana attributes/actions is elevating the creation to status of an Ilah-partner with Allah (subhanahu wa ta’ala). (x) To believe Zahid possesses bi-Ghayr Misl attributes/actions is elevating the creation to status of an Ilah-partner with Allah (subhanahu wa ta’ala). (xi) To believe Zahid possesses Khaliqi attributes/actions is elevating the creation to status of an Ilah-partner with Allah (subhanahu wa ta’ala). (xii) To believe Zahid possesses Akmal attributes/actions is elevating the creation to status of an Ilah-partner with Allah (subhanahu wa ta’ala). (xiii) To believe Zahid possesses Mustaqil attributes/actions is elevating the creation to status of an Ilah-partner with Allah (subhanahu wa ta’ala).

      5.1 – Explaining Various Interpretations Of 1st Ilah-Determining Principle:

      Here some difficult to grasp aspects will be explained to clarify them and in order to demonstrate how they are to be understood. The first interpretation of first Ilah-Determining principle is: To believe Zahid is Wajib Ul Wujud is elevating the creation to status of an Ilah-partner with Allah (subhanahu wa ta’ala). It is interpreted as: Zahid’s Zaat (i.e. being), Sifaat (i.e. attributes), Afaal (i.e. actions) are absolutely/fundamentally necessary, non-existence is impossible and to believe this is to elevate Zahid to status of Ilah because Allah (subhanahu wa ta’ala) is alone Wajib Ul Wujud and apart from his existence everything and their attributes and their action can/cannot exist. The ninth interpretation of first Ilah-Determining principle is: To believe Zahid possesses Muhaal Al Fana attributes/actions is elevating the creation to status of an Ilah-partner with Allah (subhanahu wa ta’ala). Firstly, one whose attributes/actions are Muhaal Al Fana then automatically his Zaat is also Muhaal Al Fana because the attributes/actions cannot exist without the Zaat. If Zaat can be annihilated/destroyed then attributes/actions will also be destroyed/annihilated hence Zaat of one possessing Muhaal Al Fana attributes/actions must be Muhaal Al Fana. Secondly, To believe Zahid’s abilities of hearing/seeing and his action of walking/talking cannot be annihilated/destroyed [to put is simply – to eliminate their existence from creation] is elevating Zahid to status of Ilah because only attributes/actions of Allah (subhanahu wa ta’ala) are impossible to annihilate/destroy along His Zaat everything else beside Him can be removed from state of existence into state of non-existence.

      Wama alayna ilal balaghul mubeen.
      Muhammed Ali Razavi.

      Footnote:

      - [1] “We took the Children of Israel (with safety) across the sea. They came upon a people devoted entirely to some idols they had. They said: "O Moses, design for us like unto the gods they have." He said: "Surely you’re a people without knowledge.” [Ref: 7:138]

      - [2] In the following verse words Ilah and Rabb have been used interchangeably: “Say, "I am only a man like you, to whom has been revealed that your Ilah is One Ilah. So whoever would hope for the meeting with his Rabb - let him do righteous work and not associate in the worship of his Rabb anyone.” [Ref: 18:110] Following verse uses the word Ilah in context of creating and harm/benefit: “Yet they have taken besides Him other gods (i.e. alihah) who created nothing but are themselves created, and possess neither harm nor benefit for themselves, and possess no power (of causing) death, nor (of giving) life, nor of raising the dead.” [Ref: 25:3]
       
      - [3] “Is not Allah enough for his Servant? But they try to frighten thee with other (gods) besides Him! for such as Allah leaves to stray, there can be no guide.” [Ref: 39:36] "We say nothing but that (perhaps) some of our gods may have seized thee with imbecility. “He said: "I call Allah to witness, and do ye bear witness, that I am free from the sin of ascribing, to Him." [Ref: 11:54] “And they have taken gods besides Allah that they might give them honor, power and glory.” [Ref: 19:81] "We only worship them so that they may bring us closer to Allah." [Ref: 39: 3]
      - [4] Alhasil, belief precedes the act of appointing Deity and engaging in worship.

      - [5] “And (all) the Most beautiful names belong to Allah , so call on Him by them, and leave the company of those who belie or deny (or utter impious speech against) His names. They will be requited for what they used to do.“ [Ref: 7:180]

      - [6] n possesses x, y, z attributes as well as ability to harm/benefit … hence Zahid decides n deserves worship therefore Zahid takes n as a Deity/Ilah in other words Mabud.

      - [7] Fiqhi verdict is stated in 3.0, principle 3, on the basis of Hadith; actions are determined according to intentions incase the belief of Ilah does not exist for what ever freak of nature reason but y has the intention of worshiping a creation.

      - [8] Quran is testimony to how Arabic words have evolved due to revelation of Quranic verses. Countless words in Arabic have evolved to mean something specific. In Arabic the word ‘Qibla’ means ‘direction’. The word ‘Qibla’ is used in context of facing Masjid Al Haram in prayer and as a result Muslims associate the word Qibla with direction which indicates Kabah. The word ‘Salah’ is used in meaning of ‘Dua’ (i.e. supplication) but now it has is associated with five daily prayers. Alhasil, linguistic meaning remain part of the Shar’ri meaning but depending on for whom the word is used and what context the word is used the meaning evolves. The implication here is; word Ilah linguistically means Mabud but its usage for Allah (subhanahu wa ta’ala) adds to its linguistic meaning. Therefore the names and attributes of Allah (subhanahu wa ta’ala) become part of Shar’ri meaning of Ilah.

      - [9] Creation of Allah (subhanahu wa ta’ala) is made Malik (i.e. owner) of various objects by Allah (subhanahu wa ta’ala) via means He has created. Allah (subhanahu wa ta’ala) is the Malik (i.e. Owner) by His own-self meaning none has made Him Malik over creation. He was the Creator and is the Owner of what He created.

      - [10] Ma teht al asbab  are – cure through use of medicine, strength through eating food, quenching of thirst with water, burning with fire, cutting with sharp instrument, light with bulb, walking with legs, lifting wit hands … in all these the; cure, strength, satisfying thirst, burning, cutting, light, walking, lifting is done with means available and not supernatural means. Ma fawq al asbab are actions - such as raising the dead, bringing rain from clouds, breathing life into clay bird figures, healing the blind instantly, splitting the moon, turning the staff into snake, bringing water out of fingers, growing trees from ash of seeds, rising the sun from the place of it’s setting.

      - [11] In section 5.1 Zaat aspect of Muhaal Al Fana has been discussed as a separate point even though it was not part of the first Ilah-Determining principle nor part of ninth interpretation. So you can certainly expand on this aspect to further your understanding of Tawheed with your private study.
    • By MuhammedAli
      Salam Alayqum

      In your following article; ‘Refuting Heretical Argument - Innovated Practices Are Innovations …’, under the heading following heading: ‘1.3 - Reprehensible Innovations Are Misguidance.’, you presented following Ahadith - every newly invented matter/affair is innovation and every innovation is misguidance: “And the most evil affairs are the innovations; and every innovation is misguidance." [Ref: Muslim, B4, H1885] “Avoid novelties, every novelty is an innovation and every innovation is misguidance." [Ref: Abu Dawood, B40, H4590] Anyone who reads these two Ahadith would note; the content of these to Ahadith belies your heading. Also the following Hadith records clearly states every innovation is misguidance even if people see good in it: “Abdullaah Ibn 'Umar (radiallah ta'ala anhu) said, "Every innovation is misguidance, even if the people see it as something good." [Ref: Darimi, B1, H96, Urdu Version] Clearly these Ahadith mean to say ‘every innovation is misguidance’ and not ‘every reprehensible innovation is misguidance’. There is no proof for your Takhsees and you should fear Allah (subhanahu wa ta’ala). You’re distorting the words of Prophet (sallallahu alayhi wa aalihi was’sallam) to misguide people.

      Saeed Imtiaz

      The Evidence For Takhsees and Explaining The Evidence Of Takhsees:

      First of all the evidence on which Takhsees was made based was quoted in following section: ‘1.2 - Prophetic Criterion Of Determining A [Reprehensible] Innovation.’ Unfortunately you did not contemplate on the previous section or at least not deep enough hence you did not realize the evidence. Assuming you did read the following Hadith but ignored it: “Whoever introduces an evil Sunnah that is followed after him, will bear the burden of sin for that and the equivalent of their burden of sin, without that detracting from their burden in the slightest.” [Ref: Ibn Majah, B1, H207] In the quoted Hadith word Sunnah has been used to mean innovation. Also the following Hadith was quoted: "And whoever introduces an erroneous Biddah with which Allah is not pleased nor His Messenger then he shall receive sins similar to whoever acts upon it without that diminishing anything from the sins of the people.” [Ref: Tirmadhi, B29, H2677] This part of the Hadith: “…whoever introduces an erroneous Biddah …” is evidence for Takhsees of reprehensible innovation and the following part goes on to educate how to recognize a erroneous innovation: ”… with which Allah is not pleased nor His Messenger …” In other words the Hadith of Tirmadhi and the words of Prophet (sallallahu alayhi wa aalihi was’sallam) establish; concept of reprehensible innovation is valid and it was due to it Prophet (sallallahu alayhi wa aalihi was’sallam) pointed how reprehensible innovation is to be recognized – i.e. which does not please Allah (subhanahu wa ta’ala) and Prophet (sallallahu alayhi wa aalihi was’sallam). Allah (subhanahu wa ta’ala) and Prophet (sallallahu alayhi wa aalihi was’sallam) are pleased with acts which involve, worship, charity, encouraging good and forbidding wrong, hence anything composed of these cannot be reprehensible innovation. Coming back to the subject, the words: “… with which Allah is not pleased nor His Messenger …” are extra addition and are not fundamental part of Hadith. At the fundamental level the Hadith is stating: "And whoever introduces an erroneous Biddah then he shall receive sins similar to whoever acts upon it without that diminishing anything from the sins of the people.” This is in accordance with Hadith of Ibn Majah already quoted and in also with the following:  “And whoever introduces a bad Sunnah that is followed, he will receive its sin and a burden of sin equivalent to that of those who follow it, without that detracting from their burden in the slightest.'" [Ref: Ibn Majah, B1, H203] Hence it is correct to conclude; religiously the concept of reprehensible innovation is valid.

      ‘Every Innovation’ In Context Of ‘Whoever Introduces An Erroneous Innovation’:

      It is narrated that Prophet (sallallahu alayhi wa aalihi was’sallam) said: "And whoever introduces an erroneous Biddah … then he shall receive sins similar to whoever acts upon it without that diminishing anything from the sins of the people.” [Ref: Tirmadhi, B29, H2677] According to this Hadith it is clearly established; according to Prophet (sallallahu alayhi wa aalihi was’sallam) erroneous/reprehensible innovation is sinful and not just any/every innovation and reprehensible innovation is one which does not please Allah (subhanahu wa ta’ala) and Prophet (sallallahu alayhi wa aalihi was’sallam). Hence it is only correct to interpret the words of Prophet (sallallahu alayhi wa aalihi was’sallam) according to his own words and based on this correct understanding of Ahadith you quoted would be: “And the most evil affairs are the [erroneous] innovations; and every [erroneous] innovation is misguidance." [Ref: Muslim, B4, H1885] The Hadith of avoiding novelties is to be understood with similar insertion: “Avoid [erroneous] novelties, every [erroneous] novelty is an [erroneous] innovation and every [erroneous] innovation is misguidance." [Ref: Abu Dawood, B40, H4590] Coming to the Hadith of Abdullah Ibn Umar (radiallah ta’ala anhu) in which he is reported to have said, every innovation is misguidance even if the people see good in the innovation, this Hadith should be understood exactly the same way: “Abdullah Ibn Umar said, "Every [erroneous] innovation is misguidance, even if the people see it as something good ." [Ref: Darimi, B1, H96, Urdu Version]

      Conclusion:

      The Ahadith of every innovation are about reprehensible innovation and reprehensible innovation is innovation which does not please Allah (subhanahu wa ta’ala) and such innovation is misguidance and sinful and therefore it should be avoided and remains misguidance even if people see good in it. The position of Ahle Sunnat is established from Ahadith which has been explained in detail.

      Wama alayna ilal balaghul mubeen.
      Muhammed Ali Razavi