Leaderboard


Popular Content

Showing most liked content since 07/22/2018 in Posts

  1. 3 likes
    ارغام ھاذر بجواب نقش ماہر ۔ماہنامہ فاران توحید نمبر کراچی ،شمارہ جون 1957.pdf
  2. 2 likes
    حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہ قول حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قول کے مخالف نہیں۔ کیونکہ حضرت علی کے اس قول میں حجر اسودکے بروز قیامت گواہی دینے کا ذکر ہے ظاہر ہے جو مسلمان جیسا عمل کرے گا ویسی ہی گواہی ملے گی ،اگر نیک عمل ہوگا تو حجر اسود کی گواہی پر بروز قیامت فائدہ اٹھائے گا اور اگر برا عمل ہوگا تو نقصان اٹھائے گا۔
  3. 2 likes
    حدیث پاک میں صبی کے الفاظ ہیں جو کم سن کو ظاہر کرتے ہیں۔
  4. 2 likes
    مسجد میںقربانی کی کھال، زکوٰۃ، خیرات اور صدقہ لگتا ہی نہیں مسجد میں نیک کمائی سے مدد کرسکتے ہیں بدمذہب کو چندہ دینا بد مذھبیت کو پھیلانا ہے۔ واللہ ورسولہ اعلم
  5. 2 likes
    ایک اور روایت پیش کی جاتی ہے علامہ ابن عدی کی کتاب سے حدثنا علي بن سعيد حدثنا الحسين ابن عيسى الرازي حدثنا سلمة بن الفضل ثنا حدثنا محمد بن إسحاق عن محمد بن إبراهيم التيمي عن أبي أمامة بن سهل بن حنيف عن أبيه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : ((إذا رأيتم فلاناً على المنبر فاقتلوه). (الکامل لابن عدی 6/112) اس روایت میں محمد بن اسحاق بن یسار تیسرے طبقہ کا مدلس راوی ہے اور اس روایت میں اس نے سماع کی تصریح نہیں کی عن سے روایت کر رہا ہے لہذا یہ روایت بھی ضعیف ہے۔اور اس روایت میں فلانا کا لفظ ہے نام کی تصریح موجود نہیں۔ اس کے علاوہ محمدبن اسحاق کا شاگرد سلمہ بن الفضل الأبرش بھی کثیر الغلط راوی ہے۔ ایک اور روایت بھی پیش کی جاتی ہے حديث جابر بن عبدالله روى سفيان بن محمد الفزاري عن منصور بن سلمة (ولا بأس بمنصور) عن سليمان بن بلال (ثقة) عن جعفر بن محمد (وهو ثقة) عن أبيه (ثقة) عن جابر بن عبدالله رضي الله عنه مرفوعاً (إذا رأيتم فلاناً اس روایت میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا نام نہیں فلانا کا لفظ ہے ۔اس کے علاوہ سفیان بن محمد الفزاری سخت ضعیف ہے حدثني إبراهيم بن العلاف البصري قال، سمعت سلاماً أبا المنذر يقول: قال عاصم بن بهدلة حدثني زر بن حبيش عن عبد الله بن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "إذا رأيتم معاوية بن أبي سفيان يخطب على المنبر فاضربوا عنقه أنساب الأشراف (5/130) برقم (378) اس روایت میں ابراہیم بن العلاف بصری مجہول ہے اس کی توثیق امام ابن حبان کے علاوہ کسی امام نے نہیں کی۔اور امام بن حبان کی توثیق کرنے میں متساہل ہیں۔ حدثنا يوسف بن موسى وأبو موسى إسحاق الفروي ، قالا : حدثنا جرير بن عبد الحميد ، حدثنا إسماعيل والأعمش ، عن الحسن ، قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "إذا رأيتم معاوية على منبري فاقتلوه"، فتركوا أمره فلم يفلحوا ولم ينجحوا. أنساب الأشراف (5/128) اس راویت میں اسماعیل بن ابی خالد اور امام اعمش کا سماع امام حسن بصری سے محل نظر ہے۔اس کے علاوہ یہ روایت مرسل ہے کیونکہ امام حسن بصری کا سما ع آپ علیہ السلام سے نہیں ہے۔ حدثنا الساجي قال : ثنا بندار قال : ثنا سليمان قال : ثنا حماد بن زيد قال : قيل لأيوب إن عمراً روى عن الحسن عن النبي صلى الله عليه وسلم قال [ إذا رأيتم معاوية على المنبر فاقتلوه ] قال أيوب كذب الكامل (5/103) اس راویت میں عمرو بن عبید بن باب کذاب ہے خود اسی راویت میں امام ایوب کیسان السختیانی نے جرح کی۔
  6. 2 likes
    Wa Alikum salam.. Hazrat mery naqis ilam k mutabiq ye Wahabiyon ki bohat moutbar website hy.. Social media pe Aksar wahabi isi website k andhy muqallid hain.
  7. 1 like
    نبی پاکﷺ اپنی قبر مبارک میں اپنی امت کے اعمال پر مطلع ہوتے ہیں اس مشہور روایت کی تحقیق! امام البزار اپنی مسند میں اپنی سند سے روایت بیان کرتے ہیں حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: نا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ زَاذَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حَيَاتِي خَيْرٌ لَكُمْ تُحَدِّثُونَ وَنُحَدِّثُ لَكُمْ، وَوَفَاتِي خَيْرٌ لَكُمْ تُعْرَضُ عَلَيَّ أَعْمَالُكُمْ [ص:309]، فَمَا رَأَيْتُ مِنَ خَيْرٍ حَمِدْتُ اللَّهَ عَلَيْهِ، وَمَا رَأَيْتُ مِنَ شَرٍّ اسْتَغْفَرْتُ اللَّهَ لَكُمْ ترجمہ:حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ نبی پاک ﷺنے فرمایا کہ میری حیات بھی تمہارے لیے بہتر ہے اور میری وفات بھی تمہارے لیے بہتر ہے تمہارے اعمال مجھ پر پیش کیے جاتے ہیں اگر نیک اعمال ہوں تو میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں اور اگر برے ہوں تو میں تمہارے لیے مغفرت طلب کرتا ہوں اس روایت پر متعدد متفقہ جید محدثین کی توثیق درج ذیل ہے ۱۔امام ابن عراقیؒ اس روایت کو نقل کرنے سے پہلے لکھتےہیں : وروی ابو بکر البزار فی مسندہ باسناد جید عن اب مسعود ؓقال رسولﷺ بلخ۔۔۔۔ (کتاب طرح التثریب فی شرح التقریب امام ین الدین ابی الفضل عبدالرحیم بن الحسین االعراق ، ص ۲۹۶) ۲۔ امام جلال الدین سیوطیؒ امام سیوطی اسی روایت کے بارے فرماتے ہیں اوخرج البزار بسند صحیح من حدیث ابن مسعود مثله (الخصائص الکبریٰ ص ۴۹۱) ۳۔ امام ہیثمیؒ امام الحافظ نور الدین علی بن ابو بکر الہیثمی مجمع الزوائد میں اس روایت کو نقل کرنے سے پہلے ایک باب قائم کرتے ہیں : (باب مایحصل لا مته ﷺمن استغفار بعد وفاتة) یعنی نبی پاکﷺ کا بعد از وصال استغفار کرنا اپنی امت کے لیے پھر اس روایت کو حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت نقل کر کے فرماتے ہیں رواہالبزار ورجالہ رجال الصحیح (مجمع الزوائد ص ۹۳) ۴۔امام سمہودیؒ امام سمہودی اس روایت کو نققل کرنے سے پہلے فرماتے ہیں: الحدییث وللبزار برجال الصحیح عن ابن مسعود بلخ۔۔۔ (خلاصہ الوافا با خبار دارالمصطفیٰﷺ ص ۳۵۳) اتنے بڑے جید محدثین کی تائید حاصل ہونے پر اس روایت کے رجال کی تحقیق کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی لیکن ہم اس کی سند پر تحقیق پیش کر کے ان جید محدثین کی تائید کرینگے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سند کی تحقیق! سند کا پہلا راوی : يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، یہ امام بخاری سمیت صحاح ستہ کے اماموں کے شیخ ہیں امام ابن ابی حاتم انکا ترجمہ یوں نقل کرتے ہیں: 969 - يوسف بن موسى القطان الكوفى، وأصله اهوازي روى عن جرير بن عبد الحميد وحكام بن سلم ومهران بن ابى عمر العطار وأبي زهير عبد الرحمن بن مغراء وسلمة بن الفضل وعبد الله بن ادريس ومحمد بن فضيل ووكيع وعبد الله بن نمير روى عنه أبي وأبو زرعة. نا عبد الرحمن قال سألت أبي عنه فقال: هو صدوق (الجرح والتعديل لا ابن ابی حاتم برقم ۹۶۹) امام ابن ابی حاتم فرماتے ہیں کہ ان سے میرے والد اور امام ابو زرعہؒ نے روایت کیا ہے اور میرے والد (امام ابی حاتمؒ) فرماتے ہیں یہ صدوق تھے امام خطیب بغدادیؒ انکے بارے میں فرماتے ہیں : وكان ثقة (تاریخ بغداد ج۱۶، ص ۴۵۴) مختصر یہ صحیح بخاری کا راوی ہے متفقہ ثقہ ہے سند کا دوسرا راوی: عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادَ 340 - عبد المجيد بن عبد العزيز بن أبي رواد أبو عبد الحميد المكى مولى الازد روى عن معمر وابن جريج سمعت أبى يقول ذلك، نا عبد الرحمن قال قرئ على العباس بن محمد الدوري قال سمعت يحيى بن معين يقول ابن علية عرض كتب ابن جريج على عبد المجيد بن عبد العزيز بن ابى رواد فأصلحها له فقلت ليحيى ما كنت اظن ان عبد المجيد هكذا قال يحيى كان اعلم الناس بحديث ابن جريج ولكن لم يكن يبذل نفسه للحديث، نا عبد الرحمن قال قرئ على العباس قال سمعت يحيى بن معين وسئل عن عبد المجيد بن عبد العزيز بن ابى رواد فقال ثقة (نا عبد الرحمن أنا عبد الله بن أحمد بن محمد بن حنبل فيما كتب إلى قال سئل يحيى بن معين وانا اسمع - عبد المجيد بن عبد العزيز بن ابى رواد فقال ثقة - 3) ليس به بأس نا عبد الرحمن قال سألت أبي عنه فقال ليس بالقوى يكتب حديثه كان الحميدى يتكلم فيه. (الجرح والتعدیل لا ابن ابی حاتم برقم ۳۴۰) امام ابن ابی حاتم امام یحییٰ بن معین سے بیان کرتے ہیں کہ عبدالمجید صالح تھا پھر فرمایا دو مرتببہ اسکوثقہ کہہ کر توثیق کی ہے اسکے بعد ابن ابی حاتم بیان کرتے ہیں کے میرے والد انکو لیس بالقوی قرار دیتے اور اسکی حدیث لکھی جائے اور اس میں کمزوری ہے یاد رہے امام ابن معین الحنفیؒ امام ابو حاتم وغیرہ سے بڑے محدث اور متشدد تھے تو انکی توثیق راجع قرار پائے گی 3435- عبد المجيد بن عبد العزيز بن أبي رواد عن أبيه وابن جريج وأيمن بن نابل وعنه كثير بن عبيد والزبير بن بكار قال أحمد ثقة يغلو في الارجاء وقال أبو حاتم ليس بالقوي توفي 206 م (الکاشف امام ذھبی ) امام ذھبی فرماتے ہیں اسکو امام احمد نے ثقہ فرمایا اور یہ مرجئی تھا اور ابو حاتم نے اسکے قوی ہونے کی نفی کی ہے اسکے علاوہ امام ذھبی کے نزدیک یہ راوی معتبر اور صدوق ہے جیسا کہ وہ اس راوی کو اپنی کتاب : ذكر أسماء من تكلم فيه وهو موثق میں زکر کیا ہے اور اس کتاب کے مقدمے مین انہوں نے لکھا ہے کہ اس میں ان راویان کے نام ہے جو صدوق اور حسن الحدیث ہیں لیکن ان پر جروحات بھی ہیں (لیکن راجع یہی ہے کہ وہ راوی صدوق و حسن الحدیث ہیں ) 220 - عبد المجيد بن عبد العزيز بن أبي رواد المدني (م على) : ثقة مرجىء داعية غمزه ابن حبان نیز اسکے علاوہ امام ذھبی میزان الاعتدال میں بھی اسکی توثیق فرماتے ہوئے کھتے ہیں : 5183 - عبد المجيد بن عبد العزيز [م، عو] بن أبي رواد. صدوق مرجئ كابيه. کہ عبدالمجید صدوق ہے اور مرجئی ہے امام ابن حجر عسقلانیؒ نے بھی اسکی توثیق فرمائی ہے لسان المیزان میں وہ صیغہ (هـ) استعمال کرتے ہوئے اسکی توثیق کی طرف فیصلہ دیاہے 1706 - م4 , (هـ) عبد المجيد بن عبد العزيز بن أبي رواد (2: 648/ 5183). ========= [مفتاح رموز الأسماء التي حذف ابن حجر ترجمتها من الميزان اكتفاءً بذكرها في تهذيب الكمال] رموز التهذيب: (خ م س ق د ت ع 4 خت بخ ف فق سي خد ل تم مد كن قد عس)، ثم (صح) أو (هـ): - (صح): ممن تكلم فيه بلا حجة. - (هـ): مختلف فيه والعمل على توثيقه. -ومن عدا ذلك: ضعيف على اختلاف مراتب الضعف. (لسان المیزان برقم ۱۷۰۶) اسکے علاوہ امام ابن حجر نے تقریب میں بھی اسکو صدوق یخطی قرار دیا ہے اور ابن حبان کا اس پر جرح کرنے کو باطل قرار دیا ہے 4160- عبد المجيد ابن عبد العزيز ابن أبي رواد بفتح الراء وتشديد الواو صدوق يخطىء وكان مرجئا أفرط ابن حبان فقال متروك من التاسعة مات سنة ست ومائتين م (تقریب التہذیب بررقم ۵ؤ۴۱۶۰) یعنی عبدالمجید صدوق درجے کا ہے اور یخطی ہے اور ابن حبان نے اس پر متروک کی جرح کر کے حد سے تجاوز کیا اسکی توثیق مندرجہ زیل اماموں نے کی ہے ۱۔امام ابن معین (متشدد) ۲۔امام احمد بن حنبل ۳۔ امام نسائی (متشدد) ۴۔ امام ابو داود ۵۔ امام نسائی ۶۔ امام ذھبی ۷۔ امام ابن حجر نیز یہ راوی طبقہ ثالثہ کا مدلس راوی ہے جسکی روایت عن کے ساتھ ضعیف ہوتی ہے لیکن اسکی شاہد موجود ہے جسکو امام سیوطی نے الخصائص الکبرہ میں با سند صحیح نقل کیا ہے جو کہ مرسل ہے تو اسکی تدلیس والا اعتراض یہاں بےضرر ہے جیسا کہ اس روایت کی دوسری مرسل سند ایسے ہے حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : ثنا غَالِبٌ الْقَطَّانُ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : حَيَاتِي خَيْرٌ لَكُمْ ، تُحَدِّثُونَ وَيُحَدَّثُ لَكُمْ ، فَإِذَا أَنَا مُتُّ كَانَتْ وَفَاتِي خَيْرًا لَكُمْ ، تُعْرَضُ عَلَيَّ أَعْمَالُكُمْ ، فَإِنْ رَأَيْتُ خَيْرًا حَمِدْتُ اللَّهَ ، وَإِنْ رَأَيْتُ غَيْرَ ذَلِكَ اسْتَغْفَرْتُ اللَّهَ لَكُمْ . ترجمہ : حضرت بکر بن عبدللہ المزنی سے روایت ہے،رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : 'میری حیات بهی تمہارے لئے بہتر ہے کہ تم حدیثیں بیان کرتے ہو اور تمہارے لئے حدیثیں (دین کے احکام)بیان کیے جاتے ہیں، اور میری وفات بھی تمہارے لئے بہتر ہے کہ تمہارے اعمال مجھ پر پیش کیے جاتے ہیں ، تمہارا جو نیک عمل دیکھتا ہوں اس پر الله کا شکر ادا کرتا ہوں،اور اگر برے اعمال پاتا ہوں تو تمہارے لئے اللہ سے مغفرت کی دعا کرتا ہوں ۔ (الراوي : بكر بن عبد الله المزني المحدث : الألباني - المصدر: فضل الصلاة - صفحة 26 خلاصة الدرجة : جيدة رجالها رجال مسلم . المحدث : محمد ابن عبد الهادي - المصدر: الصارم المنكي صفحة 329 خلاصة الدرجة : مرسل إسناده صحيح ) السيوطي - المصدر: الخصائص الكبرى الصفحة أو الرقم: ٢/٤٩١ خلاصة الدرجة: إسناده صحيح ۔) امام ابن سعد نے بھی مرسل روایت کی ایک اور بے غبار سند بیان کی ہے أخبرنا يونس بن محمد المؤدب، أخبرنا حماد بن زيد، عن غالب، عن بكر بن عبد الله، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «حياتي خير لكم، تحدثون ويحدث لكم، فإذا أنا مت كانت وفاتي خيرا لكم، تعرض علي أعمالكم، فإذا رأيت خيرا حمدت الله، وإن رأيت شرا استغفرت الله لكم» (طبقات ابن سعد ج ۲ ص ۱۹۴) امید ہے جناب کو اب تدلیس والے اعتراض کا کافی و شافی جواب مل گیا ہے سند کا تیسرا راوی :سفیان الثوری یہ متفقہ ثقہ اور امیر المومنین فی حدیث ہیں امام ذھبی انکا تعارف یوں کرواتے ہیں هو شيخ الإسلام، إمام الحفاظ، سيد العلماء العاملين في زمانه، أبو عبد الله الثوري، الكوفي، المجتهد، مصنف كتاب (الجامع) . (سیر اعلام النبلاء برقم 82) سند کا چوتھا راوی : عبداللہ بن سائب الکندی 303 - عبد الله بن السائب الكندي روى عن زاذان وعبد الله (6) ابن معقل وعبد الله بن قتادة المحاربي روى عنه الشيباني أبو إسحاق والأعمش وسفيان الثوري وأبو سنان [الشيباني - 7] سمعت أبي يقول ذلك. نا عبد الرحمن قال ذكره أبي عن إسحاق بن منصور عن يحيى بن معين أنه قال: عبد الله بن السائب ثقة. نا عبد الرحمن قال سمعت أبي يقول: عبد الله بن السائب الذي يروى عنه زاذان ثقة. (الجرح والتعدیل لا ابن ابی حاتم ) 891 - عبد الله بن السَّائِب الكندى ثِقَة (الثقات امام عجلی ) الغرض یہ متفقہ ثقہ امام ہیں سند کا پانچواں راوی: زاذان أبو عمر1 450- زاذان أبو عمر1: سمع من عبد الله بن مسعود، ثقة. (الثقات عجلی ) 417 - زَاذَان ثِقَة كَانَ يتَغَنَّى ثمَّ تَابَ (تاریخ الثقات ابن شاھین) 1603- زاذان أبو عمر الكندي مولاهم الضرير البزاز عن علي وابن مسعود ويقال سمع عمر وعنه عمرو بن مرة والمنهال بن عمرو ثقة توفي 82 م (امام ذھبی الکاشف) 4556- زاذان أبو عمر الكندي مولاهم سمع: علي بن أبي طالب، وعبد الله بن مسعود، وعبد الله بن عمر. روى عنه: ذكوان أبو صالح، وعبد الله بن السائب، وعمرو بن مرة، وغيرهم. وكان ثقة (تاریخ بغداد امام خطیب) 1976- زاذان أبو عمر الكندي البزاز ويكنى أبا عبد الله أيضا صدوق يرسل وفيه شيعية من الثانية مات سنة اثنتين وثمانين بخ م 4 (تقریب التہذیب امام ابن حجر) اما م ابن حجر کہتے ہین کہ یہ صدوق ہے شیعت کا عنصر پایا جاتا تھا اس میں اور ارسال بھی کرتا تھا امام ذھبی انکا ترجمہ یوں بیان کرتے ہیں : 470- زاذان 1: "م، أبو عمر الكندي، مولاهم، الكوفي، البزاز، الضرير، أحد العلماء الكبار. ولد: في حياة النبي صلى الله عليه وسلم وشهد خطبة عمر بالجابية. وكان ثقة، صادقا، روى جماعة أحاديث. (سیر اعلام النبلاء) زاذان یہ ابو عمر ہیں اور علماء میں سے تھے یہ نبی پاک کی زندگی میں پیدا ہوئے اور وہ ثقہ صدوق تھے سند کے پانچوے راوی خود صحابی رسولﷺ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ ہیں اس تحقیق سے معلووم ہوا کے اسکی سند صحیح ہے اور محدثین کی ایک جماعت نے اس حدیث کی تصحیح کی ہے دعاگو: خادم الحدیث رانا اسد الطحاوی الحنفی البریلوی )
  8. 1 like
    Wa alayqum salam, Moterma aap joh sawal pooch rahi hen is k talluq nah aap kay Islam say, nah ap kay iman say, aur nah hamaray jawab say heh, yeh aap ki pasand heh ... pasand mein nah ap nay Allah aur Rasool kay deen ka lehaz keren gi aur nah hamaray jawab ka ... mukhtasar ... Ismail Musalman nahin hen ... Namaz, Hajj, Roza, Zakat ... aur baqi kay munkir hen ... is inqar ki waja say yeh logh 100 say ziyada ayaat kay munkir hotay hen aur hukm kufr lagta heh ... aur GHAYR MUSLIM SAY AAP KA NIKKAH NAHIN HOGA ... aik maulvi kia hazaaar aa kar Nikkah kar denh Shar'ri tor par aap ka Nikkah nahin hoga ... aur Zina ki murtaqib aur haram ki ulaad peda keren gi.
  9. 1 like
    اسلام علیکم تما م اسلامی محفل کے ممبران کا کیا حال ہے اللہ پاک سب کو خوش رکھے آمین
  10. 1 like
    : وہابیہ کا چہیتا امام ابن تیمیہ اپنی کتاب منہاج السنہ، ج 4 ص 400 میں اقرار کرتاہے وطائفة وضعوا لمعاوية فضائل ورووا أحاديث عن النبي صلى الله عليه وسلم في ذلك كلها كذب لوگوں کی ایک جماعت نے معاویہ کے فضائل گھڑے اور اس سلسلے میں رسول اللہﷺ سے احادیث بیان کردیں جن میں سے سب جھوٹی ہیں ۔ کیا ابنِ تیمیہ کی یہ بات درست ہے؟
  11. 1 like
  12. 1 like
    Asalamoalikum. Janab mashallah se 14.nov.2018 ko 11:18 am pe mery ghar beti ki wiladat hue hai .is he silsily main apni beti ka naam Aliza rakhna chahta ho kuch websites pe main ne parha hai k aliza hazrat ali ki beti ka naam hay kia yrh baat sahi hay ?pls jawab jald se jald inayat farmaye. Or sath main kuch mubarak islami naam bhi bata dain .jazak Allah
  13. 1 like
  14. 1 like
    امام طبرانی ؒ اپنی کتاب المعجم الکبیر میں با سند ایک روایت نقل کرتے ہیں جسکی سند و متن یوں ہے 1052 - حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ نَضْلَةَ الْمَدِينِيُّ، ثنا عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ نَضْلَةَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي مَيْمُونَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَاتَ عِنْدَهَا فِي لَيْلَتِهَا، ثُمَّ قَامَ يَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ فَسَمِعَتْهُ يَقُولُ فِي مُتَوَضَّئِهِ: «لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ» ، ثَلَاثًا، «وَنُصِرْتُ وَنُصِرْتُ» ، ثَلَاثًا، قَالَتْ: فَلَمَّا خَرَجَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ بِأَبِي أَنْتَ سَمِعْتُكَ تَقُولُ فِي مُتَوَضَّئِكَ «لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ» ، ثَلَاثًا، «وَنُصِرْتُ نُصِرْتُ» ، ثَلَاثًا، كَأَنَّكَ تُكَلِّمُ إِنْسَانًا فَهَلْ [ص:434] كَانَ مَعَكَ أَحَدٌ؟ قَالَ: «هَذَا رَاجِزُ بَنِي كَعْبٍ يَسْتَصْرِخُنُي، وَيَزْعُمُ أَنَّ قُرَيْشًا أَعَانَتْ عَلَيْهِمْ بَنِي بَكْرٍ» ، ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَ عَائِشَةَ أَنْ تُجَهِّزَهُ وَلَا تُعْلِمُ أَحَدًا، قَالَتْ: فَدَخَلَ عَلَيْهَا أَبُوهَا فَقَالَ: يَا بُنَيَّةُ مَا هَذَا الْجِهَازُ؟ قَالَتْ: وَاللهِ مَا أَدْرِي، قَالَ: مَا هَذَا بِزَمَانِ غَزْوِ بَنِي الْأَصْفَرِ فَأَيْنَ يُرِيدُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: لَا عِلْمَ لِي، قَالَتْ: فَأَقَمْنَا ثَلَاثًا، ثُمَّ صَلَّى الصُّبْحَ بِالنَّاسِ فَسَمِعْتُ الرَّاجِزَ يَنْشُدُهُ: [البحر الرجز] يَا رَبِّ إِنِّي نَاشِدٌ مُحَمَّدًا ... حِلْفَ أَبِينَا وَأَبِيهِ الْأَتْلُدَا إِنَّا وَلَدْنَاكَ فَكُنْتَ وَلَدًا ... ثَمَّةَ أَسْلَمْنَا فَلَمْ تَنْزَعْ يَدًا إِنَّ قُرَيْشًا أَخْلَفُوكَ الْمَوْعِدَ ... وَنَقَضُوا مِيثَاقَكَ الْمُؤَكَّدَا وَزَعَمَتْ أَنْ لَسْتَ تَدْعُو أَحَدًا ... فَانْصُرْ هَدَاكَ اللهُ نَصْرًا أَلْبَدَا وَادْعُ عَبَادَ اللهِ يَأْتُوا مَدَدًا ... فِيهِمْ رَسُولُ اللهِ قَدْ تَجَرَّدَا أَبْيَضُ مِثْلُ الْبَدْرِ يُنَحِّي صُعُدًا ... لَوْ سِيمَ خَسَفَا وَجْهِهِ تَرَبَّدَا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نُصِرْتُ، ثَلَاثًا، أَوْ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ، ثَلَاثًا،» ثُمَّ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا كَانَ بِالرَّوْحَاءِ نَظَرَ إِلَى سَحَابٍ مُنْتَصِبٍ فَقَالَ: «إِنَّ هَذَا السَّحَابَ لَيَنْتَصِبُ بِنَصْرِ بَنِي كَعْبٍ» ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي نَصْرِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ عَمْرٍو أَخُو بَنِي كَعْبِ بْنِ عَمْرٍو فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ وَنُصِرَ بَنِي عَدِيٍّ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَرِبَ خَدُّكَ وَهَلْ عَدِيٌّ إِلَّا كَعْبٌ وَكَعْبٌ إِلَّا عَدِيٌّ، فَاسْتُشْهِدَ ذَلِكَ الرَّجُلُ فِي ذَاكَ السَّفَرِ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللهُمَّ عَمِّ عَلَيْهِمْ خَبَرَنَا حَتَّى نَأْخُذَهُمْ بَغْتَةً» ، ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى نَزَلَ مَرْوَ وَكَانَ أَبُو سُفْيَانَ وَحَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ وَبُدَيْلُ بْنُ وَرْقَاءَ قَدْ خَرَجُوا تِلْكَ اللَّيْلَةَ فَأَشْرَفُوا عَلَى مَرْوِ فَنَظَرَ أَبُو سُفْيَانَ إِلَى النِّيرَانِ فَقَالَ: يَا بُدَيْلُ لَقَدْ أَمْسَكَتْ بَنُو كَعْبٍ أَهْلَهُ فَقَالَ: حَاشَتْهَا إِلَيْكَ الْحَرْبُ، ثُمَّ هَبَطُوا فَأَخَذَتْهُمْ مُزَيْنَةُ وَكَانَتْ عَلَيْهِمُ الْحِرَاسَةُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ فَسَأَلُوهُمْ أَنْ يَذْهَبُوا بِهِمْ إِلَى الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَذَهَبُوا بِهِمْ فَسَأَلَهُ أَبُو سُفْيَانَ أَنْ يَسْتَأْمِنَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ بِهِمُ الْعَبَّاسُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ خَرَجَ بِهِمْ فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ: إِنَّا نُرِيدُ أَنْ نَذْهَبَ فَقَالَ: أَسْفِرُوا فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ، فَابْتَدَرَ الْمُسْلِمُونَ وُضُوءَهُ يَنْضَحُونَهُ فِي وُجُوهِهِمْ، قَالَ أَبُو سُفْيَانَ: يَا أَبَا الْفَضْلِ لَقَدْ أَصْبَحَ مُلْكُ ابْنِ أَخِيكَ عَظِيمًا، فَقَالَ: إِنَّهُ لَيْسَ بِمُلْكٍ وَلَكِنَّهَا النُّبُوَّةُ وَفِي ذَلِكَ يَرْغَبُونَ حضرت اُمّ المؤمنین میمونہؓ فرماتی ہیں انہوں نے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے وضو کرتے ہوئے تین مرتبہ لبیک لبیک لبیک کہی اور تین مرتبہ نصرت نصرت نصرت (تمہاری امداد کی گئی) فرمایا۔ میں نے عرض کیا: یارسول اللہ ﷺ! میں نے آپؐ کو تین مرتبہ لبیک اور تین مرتبہ نصرت فرماتے ہوئے سنا جیسے آپ کسی انسان سے گفتگو فرما رہے ہوں۔ کیا وضو خانے میں کوئی آپ کے ساتھ تھا؟ آپؐ نے فرمایا: یہ بنو کعب کا رِجز خواں مجھے مدد کے لئے پکار رہا تھا اور اس کا کہنا ہے کہ قریش نے ان کے خلاف بنوبکر کی امداد کی ہے۔ تین دن کے بعد آپ ؐ نے صحابہ کو صبح کی نمازپڑھائی تو میں نے سنا کہ رِجز خواں اشعار پیش کررہاتھا حالانکہ وہ (عمر بن سالم راجز) اس وقت مکہ میں تھا اور قریش کی عہد شکنی پر اس نے حضور علیہ السلام سے فریاد کی۔بنو خزاعہ جو کہ حضور علیہ السلام کے صلح حدیبیہ کے بعد حلیف بنے اور بنو قریش کے حلیف بنے اور معاہدہ ہوا کہ دس سال تک جنگ نہ کریں گے قریش نے بد عہدی کی اور بنو بکر کے ساتھ مل کر بنو خزاعہ کا قتل عام کیا اس وقت جناب راجز نے مکے میں ہی حضور علیہ السلام کو مدد کے لئے پکارا بعد ازاں حضور نے قریش پر چڑھائی کی اور مکہ فتح ہو گیا اور طرح ظاہری و باطنی امداد کا ظہور ہوا اس یہ بھی معلوم ہوا کہ صحابہ نبی پاک سے تین دن کی دوری پر بھی مدد کے امداد مانگنے کے لیے نبی پاک کو پکارتے اور نبی پاک بھی اللہ کی عطا و طاقت سے انکی پکار سنتے بھی اور امداد بھی کرتے ۔۔ جس کو آج کل غیر مقلدین نے شرک سمجھ لیا ہے ۔ صحابہ کرام نے اسکو شرک نہ سمجھا اور نہ ہی نبی پاک نے انکو یہ عمل کرنے سے روکا بلکہ انکی امداد فرمائی !!! اس روایت کو امام طبرانی کے علاوہ ایک اور محدث نے بھی نقل کیا ہے ۔ جن کا نام ہے امام محمد بن عبد الرحمن بن العباس بن عبد الرحمن بن زكريا البغدادي المخَلِّص (المتوفى: 393هـ) وہ اس روایت کو اپنی سند سے نقل کرتے ہیں جسکی سند و متن کچھ ایسے ہے 19 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ , قثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ نَضْلَةَ , عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , عَنْ مَيْمُوَنَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ , زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , بَاتَ عِنْدَهَا فِي لَيْلَتِهَا ثُمَّ قَامَ فَتَوَضَّأَ لِلصَّلاةِ فَسَمِعَتْهُ , يَقُولُ: " لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ ثَلاثًا , أَوْ نُصِرْتَ نُصِرْتَ ثَلاثًا.بلخ۔۔۔۔۔۔ (الكتاب: العاشر من الفوائد من حديث المخلص برقم الحدیث 19) اس سند کے سارے راوی ثقہ ہیں اور اس سند میں کوئی ضعف نہیں ہے ۔ لیکن غیر مقلدین کے عقائد کے خلاف جو بھی روایت انکو نظر آئے تو یہ اسکو ضعیف یا موضوع بنانے سے بعض نہیں آتے ایسا ہی کچھ وہ اپنی ویب سائٹ پر اس روایت پر کیے ہوئے ہیں ۔ خیر میں انکی ایک ایک جرح یا علت جسکو وہ بیان کر کے اپنے مسلک کے سادہ لوگوں کو پاگل بناتے ہیں تحقیق کے نام پر ۔۔ اور وہ لوگ انکی کاپی پیسٹ تحقیق کو اٹھا کر اہلسنت پر ہنستے ہیں ۔۔۔ غیر مقلدین کے اعتراضات کا رد بلیغ ۱۔امام ہیثمیؒ اس واقعہ کو نقل کرنے کے بعد رقم طراز ہیں کہ ''رواہ الطبراني في الصغير والكبير وفيه يحي سليمان بن نضلة وھو ضعيف'' (مجمع الزوائد :۶؍۱۶۴) ''اسے امام طبرانی نے المعجم الکبیر اور المعجم الصغیر میں روایت کیا ہے اور اس کی سند میں یحییٰ بن سلیمان نامی راوی ضعیف ہے۔'' امام ذہبیؒ اور حافظ ابن حجرؒ نے بھی اس راوی پر کلام کیا ہے۔ ملاحظہ ہو میزان الاعتدال : ۳؍۲۹۲ اور لسان المیزان :۶؍۲۶۱ ۲۔اس کی سند میں محمد بن عبداللہ نامی راوی کے بارے میں امام ذہبیؒ فرماتے ہیں کہ لایعرف(میزان الاعتدال :۳؍۸۳) یعنی یہ راوی مجہول ہے اور مجہول راوی کی روایت ضعیف کہلاتی ہے۔ ۳۔اس کی سند میں محمد بن نضلہ نامی راوی کے حالات کتب ِرجال سے نہیں ملتے لہٰذا یہ بھی کوئی مجہول راوی ہے۔ غیر مقلدین کی طرف سے پیش کیے گئے پہلے اعتراض کا جواب۔۔۔۔۔ امام ہیثمی نے یہاں سلیمان بن نضلة کو ضعیف کہہ دیا لیکن انکی حسب عادت کے خلاف انہوں نے یہاں کسی امام کا حوالہ نہ لکھا بلکہ بغیر کسی امام کی جرح لکھی انکو ضعیف کہہ دیا ۔ جبکہ کتب رجال میں جب آپ سلیمان بن نضلة کے بارے میں پڑھتے ہیں تو امام ابن صاعد انکے بارے میں فرماتے ہیں کہ انکا رتبہ بہت بلند و اعلیٰ تھا ۔ امام ابن حبان انکو الثقات میں درج کرتے ہیں اور لکھتے ہیں وھم بھی کر جاتا تھا ۔ (یہ کوئی جرح مفسر نہیں اور نہ ہی اس سے راوی ضعیف ہوتا ہے یہ بالکل ہلکی پھلکی بات ہے جس سے راوی حسن الحدیث درجے کا تو ضرور رہتا ہے ۔) اس راوی پر آ جا کر جرح ملتی ہے تو فقط ایک بندے سے جسکا نام ابن خراش ہے وہ کہتا ہے کہ یہ (سلیمان بن نضلة ) کسی ٹکے کا نہیں ہے پہلی بات یہ جرح کس بنیاد پر کی گئی اسکی وجہ معلوم نہیں اور یہ جرح کے کس درجے کی جرح ہے یہ بھی نہین لکھا غیر مقلدین نے۔ دوسری بات یہ جرح کرنے والا ابن خراش خود شیعہ رافضی اور کذاب ہے امام ذھبی سیر اعلام النبلاء میں اسکے ترجمہ یوں بیان کرتے ہیں ابن خراش الحافظ ، الناقد ، البارع أبو محمد ، عبد الرحمن بن يوسف بن سعيد بن خراش ، المروزي ثم البغدادي وقال ابن عدي : قد ذكر بشيء من التشيع ، وأرجو أنه لا يتعمد الكذب وقال أبو زرعة محمد بن يوسف الحافظ : خرج ابن خراش مثالب الشيخين ، وكان رافضيا امام ذھبی اس پر امام ابن عدی اور ابو زرعہ کی طرف سے رافضی شیعہ اور کذب کی جرح لکھنے کے بعد اپنا فیصلہ کچھ یوں بیان کرتے ہیں قلت : هذا معثر مخذول ، كان علمه وبالا ، وسعيه ضلالا ، نعوذ بالله من الشقاء (امام ذھبی کہتے ہیں )میں کہتا ہوں یہ بے یار و مددگار گروہ ہے انکا علم ایک وبال مصیبت ہے اور انکی کوشش گمراہی ہے ہم اللہ سے انکی بد بختی سے پناہ مانگتے ہیں ایسے شخص جو خود رافضی کذب بیانی کرنے والا ہو اسکی طرف سے کی گئی جرح سے ایک حسن الحدیث درجے کے راوی کو ضعیف مان لینا غیر مقلدین کا ہی مذہب ہو سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دوسرا عتراض غیر مقلدین سے یہ ہے کہ اسکی سند میں محمد بن عبداللہ نامی راوی مجہول ہے ۔ الجواب: اس راوی کی متابعت دوسرے راوی امام یحییٰ بن محمد بن صاعد نے کر رکھی ہے اور یہ راوی سلیمان بن نضلہ سے سماع کرنے والے ہیں او رحفاظ الحدیث میں سے ہیں ۔ امام خطیب بغدادی انکے ترجمے میں فرماتے ہیں 7489- يَحْيَى بْن مُحَمَّد بْن صاعد بْن كاتب أَبُو مُحَمَّد مولى أبي جَعْفَر المنصور كَانَ أحد حفاظ الحديث، وممن عُني بِهِ، ورحل فِي طلبه، وسمع: الْحَسَن بْن عيسى بْن ماسرجس، وَمُحَمَّد بْن سُلَيْمَان لوينًا، ويحيى بْن سُلَيْمَان بْن نضلة الخزاعي، (ج 16 ص 341) تو یہ اعتراض بھی باطل ہوا ۔۔۔۔ تیسرا اعتراض: کہ اسکی سند میں محمد بن نضلہ کے حالات کتب رجال میں نہیں ملے لہذا یہ مجہول ہے الجواب: اس روایت کا ایک اور حوالہ امام محمد بن عبد الرحمن بن العباس بن عبد الرحمن بن زكريا البغدادي المخَلِّص (المتوفى: 393هـ) کی کتاب کا دیا ہے جس میں یہ راوی موجود ہی نہیں تو غیر مقلدین کا اس راوی کی توثیق کا مطالبہ کرنا ہی بیکار ہوا تیسری اہم بات غیر مقلدین سلیمان بن نضلة کو ضعیف ثابت کرنے کے لیے فقط امام الہیثمی کا قول نقل کرتے ہیں ۔ اگر اس سند میں انکے علاوہ کوئی مجہول راوی ہوتا تو امام ہیثمی اسکا زکر پہلے کرتے پھر اس راوی کا ضعف بتاتے لیکن امام ہیثمی نے صرف ان کی ضعف کی طرف اشارہ کیا اور کسی راوی پر جرح نہیں کی یعنی انکے نزدیک طبرانی کی سند میں صرف ایک ضعف انکے نزدیک تھا کہ سلیمان بن نضلہ ضعیف ہے اور جبکہ اس پر جرح ہی مبھم ہے اور جرح کرنے والا خود رافضی ہے اور دوسرے راوی پر مجہو ل کا الزام لگایا جبکہ وہ صحابہ میں سے ہے اور اسکی دوسری سند میں یہ راوی ہی نہیں تو یہ اعتراض بھی باطل ہوا اور یہ سند کم از کم حسن الحدیث درجے کی سند ہے ۔۔۔ وہابیہ کی ایک ویب سائٹ اسلامی ویب پر بھی اس سند کو حسن قرار دیا گیا ہے جس کا عکس تمام ثبوت کے اسکین کے ساتھ نیچے موجود ہے (((((((( دعا گو۔ رانا اسد فرحان الطحاوی الحنفی ✍️ 28 اگست 2018)))))
  15. 1 like
    السلام علیکم کیا اعلیٰ حضرت رحمتہ اللہ علیہ کی تمام مطبوعہ تصنیفات کی لسٹ مل سکتی ہے؟ جزاک اللہ۔
  16. 1 like
  17. 1 like
    دیوخانی فرقے کی بدعت نماز عیدین و خطبہ کے بعد دعا خود ان کے اصولوں و قواعد سے
  18. 1 like
    پہلے ادخال السنان کے 292سوالوں کے جواب دیں۔جوامام احمدرضا کے بیٹے نے لکھے تھے اورامام احمدرضا کی وفات سے نودس سال پہلے شائع ہوئے ۔تھانوی پر قرض ہے۔اس کے وارث مناظر ادا کریں۔ امام احمدرضا کی وفات کے دوسال بعدتھانوی نے تغییرالعنوان لکھی اس سے کئی مزیدکفریات کا ارتکاب کیا جو مولانا حشمت علی خان نے قہرواجددیان میں لکھے۔مناظرصاحب ان کا جواب دیں۔ ادخال السنان.pdf ابوحنظلہ کے لئے حنظل (تمہ) کھانا آسان ہے۔مگر جواب دینا مشکل ۔
  19. 1 like
  20. 1 like
    جناب سلفی صاحب فقیر پہلے عرض کرچکا ہے کہ آپ اس کی سند امام نووی علیہ الرحمہ سے پوچھیں، کیونکہ یہ عبارت ہم نے نہیں لکھی،بلکہ امام نووی نے لکھی ہے۔ ہم نے جو پوچھا ہے کہ امام نووی علیہ الرحمہ نے یہ جو عبارت لکھی ہے کیا یہ قرآن وحدیث کے خلاف شرکیہ عقاید والی عبارت لکھی ہے؟اور کیا یہ جھوٹ لکھ دیا ؟ دوسری بات نواب صدیق حسن خاں وھابی نے جو شعر لکھا ،ہم اس کا مطلب نثر میں لکھ دیتے ہیں کہ اے قاضی شوکانی المدد ہم آپ سے یہ پوچھ رہے ہیں کہ کیا نواب صدیق حسن خاں وھابی نے یہ کہہ کر شرک کیا اور کیا وہ شرک کے مرتکب ہوۓ؟یا ایسا کہہ کر موحد ہی رہے ؟ کیا نواب صدیق حسن خاں عالم دین نہیں تھےاور کیا وہ نہیں جانتے تھے کہ ایسا کہنا شرک ہے ؟
  21. 1 like
  22. 1 like
    عدیل صاحب نے یہ واضح کر دیا کہ غیر مقلدیت جہالیت کا نام اور اپنے عالم کی تقلید کا نام ہے۔یہ زبیر علی زئی سے بڑامتاثر ہے ،اگر زیبر علی زئی کی علمی حالت دیکھنی ہو تو اپنے ہی مسلک کے عالم کی تحقیق پڑھ لو۔
  23. 1 like
  24. 1 like
    اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيْحَ عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُوْلَ اللّٰهِ ۚ وَمَا قَتَلُوْهُ وَمَا صَلَبُوْهُ وَلٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ ۭ وَاِنَّ الَّذِيْنَ اخْتَلَفُوْا فِيْهِ لَفِيْ شَكٍّ مِّنْهُ ۭ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ۚ وَمَا قَتَلُوْهُ يَقِيْنًۢا ۔بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَيْهِ ۭوَكَانَ اللّٰهُ عَزِيْزًا حَكِ۔يْمًا اور ان کے اس کہنے پر کہ ہم نے قتل کیا مسیح عیسیٰ مریم کے بیٹے کو جو رسول تھا اللہ کا اور انہوں نے نہ اس کو مارا اور نہ سولی پر چڑھایا لیکن وہی صورت بن گئی ان کے آگے اور جو لوگ اس میں مختلف باتیں کرتے ہیں تو وہ لوگ اس جگہ شبہ میں پڑے ہوئے ہیں کچھ نہیں ان کو اس کی خبر صرف اٹکل پر چل رہے ہیں اور اس کو قتل نہیں کیا بےشک بلکہ اس کو اٹھا لیا اللہ نے اپنی طرف اور اللہ ہے زبردست حکمت والا(سورہ نسا ۔۱۵۷۔۱۵۸) یہود کا یہ کہنا تھا کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ کو قتل کر دیا (نعوذ باللہ) یہاں اللہ پاک نے یہود کہ اس قول کی دو ٹوک الفاظ میں نفی کریدی اور ما قتلوہ اور ما صلبوہ کہ کر ان کے قتل مطلق کی نفی فرما دی اور یہ فرما دیا کہ بل رفعہ اللہ الیہ یعنی ، بلکہ اللہ نے اٹھا الیا اس کو اپنی طرف۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے حضرت عیسیٰ کو موت سے بچا کر اوپر آسمانوں میں اپنی طرف اٹھا لیا ۔ اب یہاں کچھ باتیں سمجھ لیجئے۔ ۱۔ بل رفعہ اللہ کی ضمیر اسی طرف راجع ہے جس طرف کہ ما قتلوہ اور ما صلبوہ کی ضمیریں راجع ہیں اور ظاہر ہے کہ ما قتلوہ اور ما صلبوہ کی ضمیر یں حضرت عیسیٰ کے جسم و جسد اطہر کی طرف راجع ہیں۔ روح بلا جسم کی طرف راجع نہیں ہیں۔اس لیے کہ قتل کرنا اور صلیب چڑھانا جسم کا ہی ممکن ہے روح کا قطعا ناممکن ہے۔لہذا بل رفعہ کی ضمیر اسی جسم کی طرف راجع ہوگی جس جسم کی طرف ما قتلوہ اور ما صلبوہ کی ضمیریں راجع ہیں۔ساتھ ہی ساتھ یہ کہ یہود روح کے قتل کے مدعی نہ تھے بلکہ جسم کو وہ قتل کرنا چاہتے تھے اور بل رفعہ اللہ میں اس کی تردید کی گئی لہذا بل رفعہ سے مراد جسم(مع روح) ہی ہو گا نہ کہ صرف روح۔ ۲۔ اگر رفع سے رفع روح بمعنی موت مراد ہے تو قتل و صلب کی نفی سےکیا فائدہ؟ کیوں کہ قتل و صلب سے غرض موت ہی ہوتی ہے اور یہاں "بل "کے بعد بصیغہ ماضی" رفعہ" کو لانے میں اس طرف اشارہ ہے کہ تمہارے قتل و صلب سے پہلے ہی ان کو ہم نے اپنی طرف اٹھا لیا۔یہی بات ہے کہ جملہ ائمہ و مفسرین اس بات پر بالکل متفق ہیں آپ کوئی بھی مستند تفسیر اٹھا کر دیکھ لیجئے (کئی ایک کہ تراجم اب نیٹ پر بھی دستیاب ہیں) کہ حضرت عیسیٰ کا یہ رفع ان کی زندگی کی حالت میں ان کے جسد عنصری کے ساتھ ہوا۔مثلا ۱۔ علامہ ابن جریر طبری تفسیر جامع البیان میں اس آیت کے تحت سدی سے بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عیسیٰ کو آسمانوں پر اٹھا لیا گیا۔نیز حضرت مجاہد سے روایت کرتے ہیں سیدنا عیسیٰ کو اللہ تعالیٰ نے زندہ اٹھا لیا۔(جامع البیان جز ۶ص ۱۴،۱۵)۲۔علامہ ابن کثیر حضرت مجاہد کی روایت کو یوں نقل فرمایا ہے"یہود نے ایک شخص کو جو مسیح کا شبیہ تھاصلیب پر لٹکایاجبکہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے زندہ آسمانوں پر اٹھالیا۔(ج۳ص۱۲)۳۔اب لفظ رفع کے بارے میں کچھ باتیں سمجھ لیجئے ۔ لفظ رفع قرآن مجید میں مختلف صیغوں کی صورت میں کل ۲۹ دفعہ استعمال ہوا ہے۔ ۱۷ مرتبہ حقیقی اور ۱۲ مرتبہ مجازی معنوں میں ۔ گو کہ رفع کے معنی اٹھانے اور اوپر لے جانے کہ ہیں لیکن وہ رفع کبھی اجسام کا ہوتا ہے کبھی معانی و اعراض کا، کبھی اقوال و افعال کا ہوتا ہے اور کبھی مرتبہ و درجہ کا۔ جہاں رفع اجسام کا ذکر ہو گا وہاں رفع جسمانی مراد ہو گی۔اور جہاں رفع اعمال و درجات کا ذکر ہو گا وہاں رفع معنوی مراد ہو گا۔یعنی جیسی شے ہو گی اس کا رفع بھی اس کے مناسب ہوگا مثال۱۔ رفع جسمانی و رفع ابویہ علی العرش (یوسف ۱۰۰) اور اونچا بٹھایا اپنے ماں باپ کو تخت پر۔ ۲۔ رفع ذکر و رفعنا لک ذکرک۔ اور ہم نے آپ ﷺ کا ذکر بلند کیا۔ ۳۔ رفع درجات ورفعنا بعضھم فوق بعض درجٰت(الزخرف ۳۲) اور بلند کر دیئے درجے بعض کے بعض پر ۔ اب یہاں جیسی شے ہے ویسے ہی اس کے مناسب رفع کی قید ہے جیسا کہ آخر میں خود ذکر و درجے کی قید موجود ہے۔ رفع کی مذکورہ تعریف اور مثالوں سمجھنے کے بعد اب یہ سمجھنا کہ قرآن میں جہاں کہیں رفع آئے گا وہ روحانی یا درجات کا ہی رفع ہوا گا محض ایک جہالت کی بات ہ۔ ۔ یہ بھی اعتراض کیا ہے کہ اس آیت میں آسمان کا لفظ تو نہیں بلکہ صرف اتنا ہے کہ اللہ پاک نے حضرت عیسیٰ کو اپنی طرف اٹھا لیا تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان کواوپر آسمانوں کی طرف اٹھا یا ہو کیونکہ اللہ پاک تو ہر جگہ موجود ہیں ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بات اچھی طرح سمجھ لی جائے کہ اللہ رب العزت کے لیے فوق و علو ہے ،گو کہ وہ جہت و مکان سے منزہ ہے لیکن انسانی تفہیم کے لیے اور کسی جہت و جگہ کی تکریم کے لیےاس نے اسے اپنی طرف منسوب بھی فرمایا ہے، انہی معنوں میں قرآن میں کہا گیا ہے: [ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِي السَّمَاۗءِ اَنْ يَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِيَ تَمُوْر(سورہ ملک ۱۶) ترجمہ: کیا تم اس سے ڈرتے نہیں جو آسمان میں ہے کہ وہ تمہیں زمین میں دھنسا دے پس یکایک وہ لرزنے لگے۔ اَمْ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِي السَّمَاۗءِ اَنْ يُّرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا ۭ فَسَتَعْلَمُوْنَ كَيْفَ نَذِيْر(سورہ ملک ۱۷) کیا تم اس سے نڈر ہو گئے ہو جو آسمان میں ہے وہ تم پر پتھر برسا دے پھر تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ میرا ڈرانا کیسا ہے۔(مرزا بشیر الدین نے ام امنتم من فی السما کا ترجمہ آسمان میں رہنے والی ہستی سے کیا ہے۔تفسیر صغیر ص ۷۶۰) اسیا ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نزول وحی کے انتظار میں باربار آسمان کی طرف دیکھا کرتےتھے۔ قَدْ نَرٰى تَ۔قَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاۗءِ(بقرہ ۱۴۴) ترجمہ: بے شک ہم دیکھتے ہیں بار بار اٹھنا تیرے منہ کا آسمان کی طرف۔ نیز یہ حدیث بھی ملاحظہ فرمایئے۔ وعن أبي الدرداء قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : " من أشتكى منكم شيئا أو اشتكاه أخ له فليقل : ربنا الله الذي في السماء تقدس اسمك أمرك في السماء والأرض كما أن رحمتك في السماء فاجعل رحمتك في الأرض اغفر لنا حوبنا وخطايانا أنت رب الطيبين أنزل رحمة من رحمتك وشفاء من شفائك على هذا الوجع . فيبرأ " . رواه أبو داود (بحوالہ مشکوٰۃ حدیث ج۲ نمبر ۳۴) ترجمہ: حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ " تم میں سے جس شخص کو کوئی بیماری ہو یا اس کا کوئی بھائی بیمار ہو تو اسے چاہئے کہ یہ دعا پڑھے۔ ہمارا پروردگار اللہ ہے، ایسا اللہ جو آسمان میں ہے، تیرا نام پاک ہے، تیری حکومت آسمان و زمین (دونوں) میں ہے، جیسی تیری رحمت آسمان میں ہے ویسی ہی تو اپنی رحمت زمین پر نازل فرما، تو ہمارے چھوٹے اور بڑے گناہ بخش دے تو پاکیزہ لوگوں کا پروردگار ہے (یعنی ان کا محب اور کا رساز ہے اور تو اپنی رحمت میں سے (جو ہر چیز پر پھیلی ہوئی ہے رحمت عظیمہ) نازل فرما، اور اس بیماری سے اپنی شفا عنایت فرما " (اس دعا کے پڑھنے سے انشاء اللہ بیمار) اچھا ہو جائے گا۔ ( ابوداؤد ) نیز مزے کی بات یہ ہے کہ خود مرزا غلام احمد قادیانی نے رفعہ اللہ کے معنی آسمان کی طرف اٹھایا جانا لکھے ہیں۔ "رافعک کے معنی یہی معنی ہیں کہ جب حضرت عیسیٰ فوت ہو چکےتو ان کی روح آسمان کی طرف اٹھائی گئی (ازالہ اوہام ص ۲۶۶، خزائن ج۳ص۲۳۴)۔ نیز حضرت مسیح تو انجیل کو ناقص کی ناقص ہی چھوڑ کرآسمانوں پر جا بیٹھے۔(حاشیہ براہیں احمدیہ ص ۳۶۱، خزائن ج۱ ص ۴۳۱)۔نیز مرزا نے مزید لکھا ہے کہ"شریعت نے دو طرفوں کو مانا ہےایک خدا کی طرف اور وہ اونچی ہے جس کا مقام انتہائی عرش ہےاور دوسری طرف شیطان کی اور بہت نیچی ہےاور اس کا انتہا زمین کا پاتال۔غرض یہ کہ تینوں شریعتوں کا متفق علیہم مسئلہ ہےکہ مومن مر کر خدا کی طرف جاتا ہے اور اس کے لیے آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں۔تحفہ گولڑویہ ص ۱۴) گویا کہ حضرت عیسیٰ کی نسبت یہ اختلاف نہیں کہ کس طرف اٹھائے گئےقادیانیوں کو بھی تسلیم ہے کہ رفع آسمانوں کی طر ف ہوا یعنی جہت رفع میں کوئی اختلاف نہیں ہاں حالت رفع میں ہے جس کی وضاحت میں نے پہلے ہی کر دی ہے۔چنانچہ بل رفعہ اللہ الیہ یعنی اللہ نے حضرت عیسیٰ کو اپنی طرف اٹھا لیا کہ معنی یہی ہیں کہ اللہ نے آسمان پر اٹھا لیا جیسا کہ تَعْرُجُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ إِلَيْهِ (معارج ۴)چڑہیں گے اس کی طرف فرشتے اور روح ۔ (اس کی طرف یعنی اللہ کیطرف) سے مراد یہی ہے کہ آسمان کی طرف چڑھتے ہی
  25. 1 like
    Har Kafir Badmazhab Hai Lakin Har Badmazahb Kafir Nahi.... Kafir...Zaruruyat E Deen K Munkir Ko kahete Hai Bad mazhab ...Zaruriyat E Ahele Sunnat K Munkir Ko Kahete Hai
  26. 1 like
    کتاب فرقہ بریلویت پاک و ہند کا تحقیقی جایز میں دیوبندی الیاس گھمن نے دجل و فریب کاری سے کام لیا ، الیاس گھمن کی اس جہالانہ تحقیق پر میثم رضوی صاحب کا مضمون پیش خدمت پے۔ https://www.scribd.com/doc/267180971/%D8%A7%D9%84%DB%8C%D8%A7%D8%B3-%DA%AF%DA%BE%D9%85%D9%86-%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A8%D9%86%D8%AF%DB%8C-%DA%A9%DB%92-%D8%AF%D8%AC%D9%84-%D9%88-%D9%81%D8%B1%DB%8C%D8%A8-%DA%A9%D8%A7-%D8%AA%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%DB%8C-%D9%88-%D8%AA%D9%86%D9%82%DB%8C%D8%AF%DB%8C-%D8%AC%D8%A7%D8%A6%D8%B2%DB%81-%D8%AD%D8%B5%DB%81-%D8%A7%D9%88%D9%84
  27. 1 like
    KHAOF NA RAKH RAZA ZARA TU TO HAI ABD E MUSTAFA TERE LIYE AMAAN HAI TERE LIYE AMAAN HAI
  28. 1 like
    Al Bahru Ala Wal Mowju Tagha Man Baykas O Tufaa Hosh Ruba Manjdhaar Me Hu Bigdi Hai Hawa Mori Nayya Paar Laga Jaana
  29. 1 like
    kya hi zauk afza shafa'at hai Tumhari( ) waah waah karz leti hai gunah parhezgaari waah waah
  30. 1 like
    http://everything4human.blogspot.com
  31. 1 like
    میں مرزا قادیانی کو مانتا ہوں قسم سے ضرور مانتا ہوں وہ کافر ہے میں مانتا ہوں
  32. 1 like
  33. 1 like
    Aslam o Alaikum, Alhumdulillah Tri-Monthly Sunni Magazine Kalma e Haq's Official Website Launched. Please Don't Forget to Visit and Share this site on facebook and every where else you can share. http://www.kalmaehaq.com/ Dua Kheir ki Appeal Ghulam Mustafa
  34. 1 like
    mien yahan per talib ilm ki hasiyat say hee ata hooon. or mera maksad yahan per ilm seekhna hee hay. or mien kisi ahle khabsee ya deogandi ko khud say kuch reply nahi kerta. bulkay app jaisay ilmi hazrat say rujoo kerta hooon. jo app boltay ho to wohi baaat agay bolta hoooon. or khud bhi samjhta hooon kay aisa kiun hay or waisa kiun hay. or jo galiyaaan day rahey hotay hien muhj say berdasht nahi hoti kay kisi sunni ko kuch bola jai. ab muhjay app say aik point mila. kay sunan abu daoon ki jo hadith hay . AHLE KHABEEES nay gahlat tajerma keeya hay. us may BAAZ QABAIL ka ziker hee nahi hay. srif QABAIL ka ziker hay. or muhjay pata hay kay mien jub ya boloon ga kay hadith may BAAZ ka word kahan say agaya to us ko sabit kernay ki koshish karien gay. kay hadith may word BAAZ hay. phir app ki rehnumai chahiya hogi. is terhan mien khud bhi seekhooon ga or un ko moo tor jawab bhi day sakooon ga. kul ko kisi rishtay daar may , dostoon may , job per koi bhi kuch bhi bolay ga atleast moo bund ker wa sakoon ga. kiun kay SHIRK SHIRK soun ker her koi tung agaya hay. ALLAH app ko jaza khair ata fermai.
  35. 1 like
  36. 1 like
    15-1 Krishn Qadyani.pdf 15-2 Mubahis-e-Qadyani.pdf 15-3 Tardeed-e-Nabuwat-e-Qadyani.pdf 15-4 Mujaddid-e-Waqt Kon Ho Sakta Hay.pdf
  37. 1 like
    سورۃ الکھف میں کل ۱۱۰ آیات ہیں۔
  38. 1 like
    ماشا اللہ توحیدی بھائی آپ نے بحث کا لب لباب بڑی اچھی طرھ واضع کیا ہے۔ اب اگر کوئی میں نہ مانوں کی رٹ لگاے تو اس کی اپنی سمجھ کا قصور ہے۔
  39. 1 like
    جزاک اللہ خیراً کثیر توحیدی بھائی اگر جمعۃ المبارک حضرت آدم علیہ السّلام کی پیدائش کی وجہ سے "یومِ عید" ہوسکتا ہے تو اور اسے کوئی بھی غلط نہیں کہہ سکتا تو پھر سارے نبیوں کے سردار، سب سے افضل و اعلیٰ اللہ کے پیارے حبیب پاک صلی اللہ علیہ وسلم جس دن دنیا میں تشریف لائے وہ "یومِ عید" کیوں نہیں ہوسکتا۔ اللہ عزّوجل صحیح معنوں میں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
  40. 1 like
  41. 1 like
    السّلام و علیکم، جزاک اللہ خیراً مغل بھائی، اللہ عزّوجل اپنے پیارے حبیبِ پاک صلّی اللہ علیہ وسلّم کے صدقے آپ کے علم و عمر میں اضافہ فرمائے اور قائم رہنے والی ڈھیر ساری خوشیاں عطا فرمائے ۔۔۔ آمین اللہ حافظ
  42. 1 like
    yeh new book nahi hay balkeh 1986 ki likhi hui book hay jab woh deobundi thay. aur ab deobundion ne ise dobara publish kr diya hay jaise yeh koi new book hau. iss book ka first edition 1986 main publish huwa tha aur iss k third edition ki date bhi book k pg.56 par 1989 likhi hay (jis k bare main likha hay k jo aap k hath main hay). jis k neeche author ne 20 feb 1986 date likhi hui hay. so jau bhi date maan lau yeh old book hay aur tm deobundion ne ise again publish kr diya hay jaise woh phr deobundi hau gaye hon woh kehte hain na k naqal k liye bhi aqal ki zarurat hoti hay. deobundion ne book tau publish kr di but uss main dates change krna bhul gaye. issi book k page 13 par author ki tarf se "Intisab" main 20 feb 2010 date likhi gai hay jb keh pg 56 pe "Arz e Muallaf" main 1986 hay. aur phr kitab k end pr bhi 20 feb 1986 likha hay so yeh koi new book nai hay siraf purani mayyat ko nai qabar main litaya hay . chk the book here
  43. 1 like
    Altabsheer Be Radd-it-Tahzeer & Altabsheer Par Etrazat k Jwabat Az Allama Syed Ahmad Saeed Kazmi رحمت اللہ علیہ: Altabsheer-full.pdf RAR FORMAT AlTabsheer-1.rar AlTabsheer-2.rar AlTabsheer-3.rar Nazria-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Tahzeer-Un-Nas Az Allama Syed Muhammad Madani Miyan Ashrafi Jeelani : NazriaKhatmeNabowatAurTahzeerunnaas.pdf التنویر لدفع ظلام التحذیر یعنی مسلہء تکفیر از علامہ غلام علی قادری اشرفی رحمت اللہ علیہ Altanweer-full.pdf Altanweer Different Print Al-Tanweer.pdf RAR FORMAT Altanweer-1.rar Altanweer-2.rar Aqeeda-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Tahzeer-Un-Nas Az Snaullah Naqshbandi Mujaddidi : Aqeeda-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Tahzeer-Un-Nas.rar Molvi Qasim NaNotvi Ka Jurm (Az Kitab: Hassam-Ul-Haramain k 100 Saal) Az Dr.Altaf Hussain Saeedi Molvi Qasim Nanotvi Ka Jurm.rar Abtal-e-Aghlat-e-Qasmia . http://www.nafseisla...glatQasmiya.htm Asar Ibn-e-Abbas Par Muhaddisana Nazar Az Allama Manzir-Ul-Islam AlAzhari : Asar Ibn-e-Abbas Par Muhadisana Nazar.rar Asar Ibn-e-Abbas Par Muhaqiqana Nazar Az Ghulam Naseer-ud-Deen Sialwi : Asar Ibn-e-Abbas Par Muhaqqiqana Nazar.rar Deobandiyat K Muhtamim-e-Awwal Ka Khatm-e-Nabuwat Say Inkar Az Allama Badr-Ud-Deen Ahmad Qadri رحمت اللہ علیہ: Deobandiyat K Muhtamim-e-Awwal Ka Khatm-e-Nabuwat Say Inkar.rar Khatmiyat-e-Muhammadi (Peace And Blessings Be Uopn Him) Aor Tahzeer-un-Nas Az Allama Abd-Ul-Hakeem Akhtar ShahJahan Poori رحمت اللہ علیہ : Khatmiyat-e-Muhammadi (Peace And Blessings Be Uopn Him) Aor Tahzeer-un-Nas.rar Masla-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Tahzeer-Un-Nas Az Allama Shareef-Ul-Haq Amjadi رحمت اللہ علیہ : Masla-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Tahzeer-Un-Nas.rar Qasim Nanotwi Aor Aqeeda-e-Khatm-e-Nabuwat Az Hazrat Allama Peer Hafiz Sultan Mahmood Daryawi : Qasim Nanotwi Aor Aqeeda-e-Khatm-e-Nabuwat.rar Taqseem-e-Nabuwat Aor Tahzeer-Un-Nas Az Allama Qadri AbdurRzaq Bhtralwi Taqseem-e-Nabuwat Aor Tahzeer-Un-Nas.rar Tahzeer-Un-Nas K Difa Ka Ta'qub Az Muhtram Khaleel Ahmad Rana Tahzeer-un-Nas k Difa Ka Ta'qub.rar
  44. 1 like
    (1) qasim nanotvi (2) rasheed gangohi (3) khalil anbethvi (4) ashraf ali thanvi jo in ki kufriya ibarat ko sahi kahe won bhi in ke hukam main dakhil hai.
  45. 1 like
    Subhan Allah Mashallah,ap ka jawab waki Ilmi maharat ki pehchan he,Saeedi bhai, me Dil se ap ki Ilmi qabiliat ka mutaraf ho gaya hon,ju Fan e Olum ap ne is Jawab e Risala me ap ne dekhai woh har Aam ki bat nahi Khas ul Khas hi is fan ko samj sakte hen, Allah apke ollum me mazeed barkat ata farmae Ameen.
  46. 1 like
  47. 1 like
  48. 1 like
  49. 1 like
    Shariq bhai pehly islamimehfil ko ghoom phir kar dekh tu lain ke yahan kiss kiss ka jawab diya gaya hai aur kiss ka nahi aur kinhon ne jawab diya aur kon forum chor kar bhagh gai. brother aghar app ko Ahl-e-Sunnat ya Ala Hazrat per ajj tak kisi aitraaz ka jawab nahi mila tu saboot ke sath aitraaz karain jawab daina humara kaam hai.
  50. 1 like
    in logo k aqaid aur nazriyat me share karoon to aap logo ko inki gandi zehniyaat ka andaza kuch na kuch to zaroor hojay ga aik baar Nighat Hashmi ki Student (bal k mureeed e khaas keh lain to byja na hoga) ny farmaya: "Nabi sirf aik messenger hain.........apko aik example dy k samjhati hun........jistarha aik school ki principal KISI PEON K ZARIYE messege bhijwati hain kisi teacher k pas..........BILKUL ISI TARHA Nabi b ALLAH ka messege hamen deny k liye bhejy gay hain" sharm uj ko magar nhe aati....... is misal ko mulahiza farmaiye.........inki soch reflect horhi hy is sy...... ALLAH ki misal k liye is ny principal ka word use kiya........ hamary meethy meeethy AAQA k liye PEON ki misal tk deny sy gurez na kiya................???? (al amaan walhafeeez) {bughz e Nabi to dekhiye.......!!! } aur apny aap ko AAQA sy b ooper ka darja ata farma diya.......aur TEACHER bun bethi.......!!! ary esy aqeeda rakhny waly to gadhon aur kuttoon sy b zaleel hain..........!!! ac gustakhi to shayad jahilon k baap (abu jahal) ny b na ki ho......!!! mujy aaj tk us gustakh k ye words yaad hain..........!!!