Leaderboard


Popular Content

Showing most liked content since 09/25/2009 in Posts

  1. 4 likes
    غیرمقلد زبیرعلی زئی اور اس کے استاد بدیع الزمان سندھی کی صحیح بخاری کی ایک سند پر تحقیقی تبصرہ گستاخ المحدثین زبیرعلی زئی غیرمقلد اپنے استادبدیع الزمان سندھی کے ایک رسالہ "منجدالمستجیز لروایۃ السنۃ والکتاب العزیز" کے بارے میں لکھتاہے۔ یہ رسالہ شاہ صاحب کی اسناد کا مجموعہ ہے جو آپ اپنے شاگردوں اور مستجیزین کو مرحمت فرماتے تھے۔آپ نے اپنے دستخطوں اور مہر کے ساتھ 8/7/1406 ھ کو یہ اجازت نامہ مجھے بھی عطا فرمایا تھا۔اس میں ایک مقام پر آپ نے صحیح بخاری کی سند درج ذیل الفاظ میں رقم کی: "فاخبرنی الشیخ عبدالحق الھاشمی قال:اخبرنا احمد بن عبداللہ بن سالم البغدادی عن عبدالرحمن بن حسن بن محمد بن عبدالوھاب عن جدہ شیخ الاسلام عن عبداللہ بن ابراھیم المدنی عن عبدالقادر التغلبی عن عبدالباقی عن احمد الوفائی عن موسی الحجازی عن احمد الشویکی عن العسکری عن الحافظ شمس الدین ابن القیم عن شیخ الاسلام الحافظ تقی الدین ابی العباس ابن تیمیۃ عن الفخرابن البخاری عن ابی ذرالھروی عن شیوخہ الثلاثۃ السرخسی والمستملی والکشمیھنی عن محمد بن یوسف الفربری عن امام الدنیا ابی عبداللہ محمدبن اسماعیل البخاری" (منجدالمستجیز ص 10-11) اس سند میں نہ شاہ ولی اللہ دہلوی ہیں اور نہ شاہ عبدالعزیز و محمداسحاق (تحقیقی، اصلاحی اور علمی مقالات ج1 ص 488-489) زبیر زئی غیرمقلدوں کے لیے ثقہ محدث ہے کیونکہ وہ جو بھی نقل کرتا ہے غیرمقلدوں کے لیے قابل اعتماد ہوتا ہے اکثر غیرمقلد اس کی ہی باتوں کو صحیح سمجھتے ہیں۔ اس لیے ہم اس زبیرعلی زئی کی تحریر پر ہی تحقیق کر کےاس کی اور اس کے استاد کی صحیح بخاری کی اس سند کو ضعیف و باطل ثابت کرتے ہیں۔ غیرمقلد زبیرعلی زئی کی پیش کردہ سند کی صحیح اسنادی تحقیق: غیرمقلد زبیر علی زئی کی پیش کردہ صحیح بخاری کی یہ سند معضل منقطع اور باطل ہے کیونکہ فخرابن بخاری کا ابوذرالہروی سے نہ ملاقات ثابت اور نہ ہی سماع بلکہ امام فخرابن بخاری کی پیدائش سے پہلے ہی امام ابوذرالہروی وفات پاچکے تھے۔ امام فخر ابن بخاری کی پیدائش کی تاریخ: امام ذہبی لکھتے ہیں: عَلِيّ بْن أَحْمَد بْن عَبْد الواحد بْن أَحْمَد، الشّيْخ الإِمَام، الصّالح، الورع، المعمّر، العالم، مُسْند العالم، فخر الدّين، أَبُو الْحَسَن ابن العلامة شمس الدّين أَبِي الْعَبَّاس المقدسيّ، الصّالحيّ، الحنبليّ، [المتوفى: 690 هـ] المعروف والده بالبُخاري. وُلِد فِي آخر سنة خمسٍ وتسعين وخمسمائة. 595ہجری سال کے آخر میں پیداہوئے۔ (تاریخ الاسلام،15/665) اور امام ذہبی نے ابن تیمیہ کو امام فخرابن بخاری کے شاگردوں میں لکھا۔اس کا ثبوت یہ ہے وقد روى عَنْهُ الدمياطيّ وقاضي القضاة ابن دقيق العيد، وقاضي القضاة ابن جماعة، وقاضي القضاة ابن صَصْرى، وقاضي القضاة تقيّ الدّين سُلَيْمَان، وقاضي القضاة سعد الدّين مَسْعُود، وأبو الحَجّاج المِزّيّ، وأبو مُحَمَّد البِرْزاليّ، وشيخنا أَبُو حفص ابن القواس، وأبو الوليد بن الحاج، وأبو بَكْر بْن القاسم التُّونسيّ المقرئ، وأبو الْحَسَن عَلِيّ بْن أيّوب المقدسيّ، وأبو الْحَسَن الختني، وأبو محمد ابن المحب، وأبو محمد الحلبي، وأبو الحسن ابن العطّار، وأبو عَبْد اللَّه العسقلاني رفيقنا، وأبو العباس البكري الشريشي، وأبو العباس ابن تيمية. (تاریخ الاسلام،15/665) بلکہ امام ذہبی نے ابن تیمیہ سے امام فخربن بخاری کی تعریف نقل کی جو یہ ہے۔ وقال شيخنا ابن تيمية: ينشرح صدري إذا أدخلت ابن البخاري بيني وبين النبي صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حديث. اور ہمارے شیخ ابن تیمیہ نے کہا: میرا سینہ کھل گیا جب میں نے (فخر) ابن بخاری کو اپنے اور نبی ﷺ کے درمیان (سند)حدیث میں داخل کیا۔ (تاریخ الاسلام،15/665) اس سے واضح ہو گیا کہ ابن تیمیہ امام فخرابن بخاری سے ہی روایت نقل کرتا ہے جن کی پیدائش 595 ہجری کو ہوئی۔ علامہ ابن رجب نے بھی امام فخر ابن بخاری کی پیدائش 795 کے آخر یا 796 ہجری کے شروع میں لکھتے ہیں جس کا ثبوت یہ ہے۔ علي بن أحمد بن عَبْد الْوَاحِد بْن أَحْمَد بْن عَبْد الرَّحْمَنِ السعدي، المقدسي الصالحي، الفقيه المحدث المعمر، سند الوقت، فخر الدين أَبُو الْحَسَن، ابْن الشيخ شمس الدين الْبُخَارِي، وَقَدْ سبق ذكر أَبِيهِ، وعمه الحافظ الضياء. ولد فِي آخر سنة خمس وسبعين وخمسمائة، أو أول سنة ست وسبعين. 575 ہجری کے آخر میں پیدا ہوئےیا 76سال کے شروع میں (ذیل طبقات الحنابلۃ4/241-242) مجھے لگتا ہے علامہ ابن رجب سے خطا ہو گئی جو انہوں نے تسعین کی جگہ سبعین لکھ دیا ۔ (واللہ اعلم) امام زرکلی نے بھی امام فخرابن بخاری کی پیدائش 595 ہجری ہی لکھی ہے یہ ہے اس کا ثبوت ابن البُخاري (595 - 690 هـ = 1199 - 1291 م) علي بن أحمد بن عبد الواحد السعدي المقدسي الصالحي الحنبلي، فخر الدين، أبو الحسن، المعروف بابن البخاري: عالمة بالحديث، نعته الذهبي بمسند الدنيا. أجاز له ابن الجوزي وكثيرون. قال ابن تيمية: ينشرح صدري إذا أدخلت ابن البخاري ببيني وبين النبي صلى الله عليه وسلم في حديث. وحدث نحوا من ستين سنة، ببلاد كثيرة بدمشق ومصر وبغداد وغيرها. (الاعلام للزرکلی 4/257) اس بات سے واضح ہو گیا کہ امام فخر ابن بخاری 595 ہجری میں ہی پیدا ہوئے۔ امام ابوذرالہروی کی وفات کی تاریخ خطیب بغدادی امام ابوذر الہروی کی وفات کے بارے میں لکھتے ہیں: ومات بمكة لخمس خلون من ذي القعدة سنة أربع وثلاثين وأربعمائة. اور مکہ میں فوت ہوئے 5 ذی القعد سن 434 ہجری کو تاريخ بغداد(12/456، رقم 5791) امام ابن عساکر امام ابوذر الہروی کی وفات 434 ہجری ہی کو لکھتے ہیں توفي أبو ذر عبد بن أحمد بن محمد الهروي الحافظ رحمه الله بمكة لخمس خلون من ذي القعدة سنة أربع وثلاثين وأربعمائة (تاریخ دمشق، ج37، ص393، رقم 4413) علامہ ابن منظور بھی امام ابو ذر الہروی کی وفات 434 ہجری کو ہی لکھتے ہیں: مات بمكة لخمس خلون من ذي القعدة سنة أربع وثلاثين وأربعمائة. (مختصر تاریخ دمشق، ج 15، ص 299) علامہ برہان الیعمری (متوفی 799ھ) امام ابوذرالہروی کی وفات 435 ہجر ی لکھتے ہیں اس کا ثبوت یہ ہے۔ توفي رحمه الله تعالى في ذي القعدة سنة خمس وثلاثين وأربعمائة. الديباج المذهب في معرفة أعيان علماء المذهب (2/132) امام ذہبی بھی امام ابوذر الہروی کی وفات 434 ہجری ہی لکھتے ہیں جس کا ثبوت یہ ہے۔ مَاتَ بِمَكَّةَ فِي ذِي القَعْدَةِ سَنَةَ أَرْبَعٍ وثَلاَثِيْنَ وَأَرْبَعِ مائَةٍ (سیر اعلام النبلاء 17/557) ان آئمہ حدیث کی تحقیق سے ثابت ہو گیا کہ امام ابوذر الہروی کی وفات 434 یا 435 ہجری میں ہوئی ہے۔اور جب امام ابوذرالہروی کی وفات ہوئی اس وقت امام فخرابن بخاری پیدا بھی نہیں ہوئے تھے کیونکہ ان کی پیدائش 595 یا 596 ہجری میں ہوئی ہے۔ امام ابوذر الہروی کی وفات اور امام فخرابن بخاری کی پیدائش میں تقریبا 160 یا 161 سال کا فاصلہ ہے ۔ پھر زبیر علی زئی اور اس کے استاد نے اپنی سند میں الفخرابن البخاری عن ابی ذرالھروی کیسے کہہ دیا؟؟؟ کم از کم دو تین اور راویوں کا فاصلہ ہے سند میں۔ لہذا ہماری بات کا خلاصہ تحقیق یہ ہے کی گستاخ المحدثین زبیرعلی زئی اور اس کے استاد کی بخاری شریف کی یہ سند معضل منقطع اور باطل ہے۔کیونکہ یہ سند متصل نہیں 160 یا161 سال کا فاصلہ ہے رواۃ میں۔ گستاخ المحدثین ز بیر علی زئی کو میرا یہ کہنا ہے کہ اس سند سے تو شاہ ولی اللہ ،شاہ عبدالعزیز سے اس لیے بچ رہا تھا کے وہ تقلید کرتے ہیں لیکن خود زبیر علی زئی اور اس کے استاد کی اس مردود سند میں بھی مقلد راوی موجودہیں ۔امام ابوذرالہروی خود امام مالک کے مقلد ہیں۔ امام ابن عساکر امام ابوذر الہروی کے بارے میں لکھتے ہیں: توفي أبو ذر عبد بن أحمد بن محمد الهروي الحافظ رحمه الله بمكة لخمس خلون من ذي القعدة سنة أربع وثلاثين وأربعمائة وكان يذكر أن مولده سنة خمس أو ست وخمسين وثلاثمائة شك في ذلك كذا ذكر شيخنا الإمام الحافظ أبو بكر الخطيب رحمه الله وكذا رأيته بخط أبي عبد الله الحميدي رحمه الله وكان أحد الحفاظ الأثبات وكان علي مذهب مالك بن أنس رحمه الله عليه في الفروع ومذهب أبي الحسن في الأصول (تاریخ دمشق، ج37، ص393، رقم 4413) امام ذہبی لکھتے ہیں امام ابوذر الہروی کے بارے میں لکھتے ہیں: وَكَانَ عَلَى مَذْهَبِ مَالِكٍ وَمَذْهب الأَشْعَرِيِّ (سیر اعلام النبلاء 17/557) جب غیرمقلد تقلید کو حرام سمجھتے ہیں تو مقلد راویوں سے سند حدیث کیوں لیتے ہیں؟؟؟ ایک آخری بات جب کوئی سنی حنفی ا مام ابوحنیفہ کو امام الاعظم کہتا ہے تو غیرمقلد فورا اعتراض شروع کر دیتے ہیں لیکن خود اپنا غیرمقلد زبیرعلی زئی اور اس کا استاد بدیع الزمان امام بخاری کو امام الدنیا لکھ رہے ہیں اپنی سند حدیث میں تو پھر غیرمقلد خاموش کیوں ہیں؟؟؟ لگتا ہے ان کے ہاں اپنوں کے لیے خصوصی رعایت ہے باقیوں کے لیے بدعت کے فتوے تیار رکھتے ہیں۔ زبیر علی زئی اور اس کے استاد کی سند کو مردود ثابت کرنے کے لئے اور بھی حوالہ جات موجود ہیں لیکن محققین حدیث کے لیے اتنے حوالہ جات بھی کافی ہیں ۔ خادم حدیث شریف الفقیر رضاءالعسقلانی
  2. 3 likes
    ارغام ھاذر بجواب نقش ماہر ۔ماہنامہ فاران توحید نمبر کراچی ،شمارہ جون 1957.pdf
  3. 3 likes
  4. 3 likes
    المعجم الاؤسط للطبرانی اردو Jild # 1 https://archive.org/download/AlMujamAlAwsatJild1/al mu'jam al awsat Jild 1.pdf Jild #2 https://archive.org/download/Al-Muajam-ul-Aosat-lil-Tabrani/AlMujamAlAwsatJild2.pdf Jild # 3 https://archive.org/download/AlMujamAlAwsatJild3/al mu'jam al awsat Jild 3.pdf Jild # 4 https://archive.org/download/AlMujamAlAwsatJild4/al mu'jam al awsat Jild 4.pdf Jild # 5 https://archive.org/download/AlMujamAlAwsatJild5/al mu'jam al awsat Jild 5.pdf Jild # 6 https://archive.org/download/AlMujamAlAwsatJild6/al mu'jam al awsat Jild 6.pdf Jild # 7 https://archive.org/download/AlMujamAlAwsatJild6/al mu'jam al awsat Jild 7.pdf
  5. 3 likes
    انکشاف حق کے رد کیلئے کتاب عجائب دیوبند سے ابتدائی چند صفحات ہی کافی ہیں۔ جب مصنف ہی معتبر نہیں اور اُس کیخلاف متفقہ فتوی ہو تو کتاب کی ہمارے نزدیک کیا حیثیت؟ انکشاف حق کے ابتدائی چند صفحات پڑھ کر ایک صحیح العقیدہ سُنی کو فوراً اندازہ ہوجائے گا کہ یہ کتاب وہابیوں کا دھوکہ ہے۔ کیونکہ مولوی خلیل دیوبندی شروع میں اعلی حضرت سے کفر کے مسئلے پر اختلاف کر رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ اس مسئلہ میں تقلید نہیں کی جائے گی اور کفر کا فتوی دینے میں احتیاط کی جائے گی اور دیوبندی اکابر اُن عبارات کا دوسرا مطلب مانتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔۔۔ مگر آگے چل کر اُس نے باقائدہ دیوبندی اکابرین کا دفاع کرنا شروع کر دیا۔ جس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ یہ مسئلہ کفر پر اختلافی بحث نہیں بلکہ دیوبندیوں کی حمایت اور اُن کے کفریہ کلام کی تاویلات کا ایک نیا منصوبہ ہے۔ اور سُنی لبادہ اوڑھ کر عوام کو گمراہ کرنے کی ایک مذموم کوشش ہے۔
  6. 3 likes
    تیجانی صاحب۔ آپ کی جہالت، کم علمی اور گندی سوچ انتہائی قابل افسوس ہے۔ آپ کی جہالت اور گندی سوچ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جن الفاظ کو آپ نے ہائی لائٹ کیا ہے وہ تماش بین کے ہیں۔ بالکل اُسی لفظ کہ نیچے لفظ تماشا لکھا ہے۔ یہ لفظ تماشا اصل فارسی کا لفظ ہے۔ جس کا اسکرین شاٹ میں نے اوپر پوسٹ کیا۔ اور اُسی تماشا کو تماشی (باہم پیدل چلنا) کا مفرس کہا گیا ہے۔ پھر بھی آپ کا اتنا ضد اور ہٹ دھرمی کہ ابھی بھی اسے اردو کا لفظ کہہ رہے ہیں۔۔ اور مزید جو اصل لفظ تماشا ہے۔ اُس کا معنی دیکھیں۔ آپ کی جہالت کی انتہا کہ اصل فارسی کا معنی نظارہ ہے۔ جیسا کہ گوگل نے ترجمہ فارسی کا کیا نہ کہ اردو کا۔۔ مذاق ٹھٹا، کھیل، ناٹک یہ سب اردو کے مزید معانی ہیں۔ اوپر والی کتاب اردو لغت ہے۔ فارسی لغت نہیں۔۔ فارسی اصل ماخد ہے اس لفظ کا۔ آپ اپنی دلیل پر فارسی لغت ڈکشنری سے اس کے مختلف معنی پیش کرتے تب بھی کچھ بات بنتی۔ آپ نے جو جہالت کا مظاہرہ کرتے ہوئے لکھا کہ یہی آپ کا اصل رد ہے۔۔ جتنے بھی صحیح اور غلط معنی لغت میں درج ہیں۔۔ وہ اردو کی لغت کے ہیں۔۔۔ مولانا حسن رضا خاں علیہ الرحمہ نے جو لفظ لکھا وہ اُس کے اصل مطلب پر لکھا۔۔۔ یعنی نظارہ کرنا۔ دوسرا آپ کی جہالت اس بات سے ثابت ہے۔ اردو زبان عربی، فارسی اور کچھ ترک الفاظ سے مل کر بنی۔۔ تو الفاظ جہاں سے لئے گئے پہلے اُس کے وہی معنی ہونگے پھر اُس کے دوسرےمعنی ہونگے۔ لفظ تماشائی کا جو مطلب آپ نے اس جگہ لکھا "تماشہ دیکھنے والا" ۔۔ یہی تو غلطی ہے۔ تماشا (فارسی) "دید، نظارہ" تماشا۔۔۔۔ئی ۔۔"نظارہ کرنے والا"۔۔۔ آپ کی علمی حیثیت کا اندازہ اس پوسٹ سے لگایا جا سکتا ہے۔ جو مجرہ کی اوپر تشریح کی ہے۔ اُسی لفظ مجرہ کے اِسی اردو لغت کی کتاب میں غلط معنی بھی درج ہیں (نوٹ: عربی لغت نہیں۔۔ اردو لغت میں مجرہ کے غلط معنی)۔ اور یہاں پر ت مربوظ کا استعمال نہیں ہے کیونکہ لفظ مجرے استعمال ہوا شعر میں۔ مجرۃ نہیں۔ اور بڑی یے اردو کے تلفظ کیلئے نہیں لگائی گئی بلکہ اصل لفظ ہی اردو میں مجرا ہے جو عربی لفظ سے اخذ کیا گیا ہے۔ آپ نے معنی کہکشاں آسماں وغیرہ کِیے ہیں۔۔ جبکہ اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے اسے اصل آداب، جھکنا، سلام والے معنی میں لکھا ہے۔ پھر سے پڑھو۔ "بیت اللہ مجرے کو جھکا"۔ یعنی جھُک کر سلام پیش کرنا۔ آداب بجا لانا۔ جیسے لفظ مجرہ کے معنی تبدیل ہوگئے اور اب اکثر غلط معنی لئے جاتے ہیں۔ بالکل یہی معاملہ یہاں ہے۔ اب بتائو ان دو میں کونسا معنی لوگے؟ جھُک کر سلام پیش کرنا ۔۔۔ یا معاذ اللہ ناچنا وغیرہ جیسے گندے معنی؟ آپ سے کوئی بعید نہیں۔ شاید اس اسکرین شاٹ کے بعد آپ علی حضرت علیہ الرحمہ کو بھی گستاخ ثابت کرنے پر تُل جائیں۔۔۔ اور اسی عربی کے کسی دوسرے لفظ کے صحیح معنی کے ساتھ غلط معنی بھی اردو میں جمع ہوجائیں تو کیا وہ عربی کا لفظ ہی غلط ہوجائے گا اور قرآن کریم میں اُس لفظ کا صحیح استعمال گستاخی بن جائے گی۔۔ نعوذ باللہ؟ مثالوں اور مختلف وقت میں مختلف چیزوں کی مختلف نوعیت کا بیان آپ کی جہالت، ہٹ دھرمی اور گندی سوچ کے آگے بالکل فضول ہے۔ چونکہ آپ اپنی جہالت اور گندی سوچ کہ مطابق بغیر فتوی لئے ایک عاشق رسول کو گستاخ ثابت کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔ اس لئے ہم اللہ تعالی کی پناہ چاہتے ہیں شیطان لعین سے اور آپ جیسے شخص سے۔
  7. 3 likes
    ایک غیر مقلد کی جہالت چیک کریں دعا کے کے سلسلے میں کفایت اللہ وہابی محدث فورم پر ایک وہابی کے سوال کے جواب میں لکھتا ہے۔ دیکھیں کتنی جہالت سےوہابی کسی اور کے دعا کے تجربے کو کہہ رہا کہ یہ بات کسی روایت میں نہیں ہےاور یقین نہ آئے تو جب جب آپ کی کوئی چیز گم ہو جائے ان الفاظ کو پڑھ کر دیکھیں۔ پتہ چل جائے گا کہ یہ نسخہ کتنا مجرب ہے۔ پھر آگے لکھتا ہے: آدمی کو چاہئے کہ قرآن و حدیث سے ثابت شدہ اذکار و ادعیہ کی پابندی کرے ا ور مجرب کے نام پر خود ساختہ ادعیہ و اذکار کی دوکان چلانے والوں سے ہوشیا ر رہے۔اگرکسی کو مسنون دعائیں یاد نہیں تو وہ اپنے الفاظ میں بھی جب چاہے اللہ سے دعاء کرسکتا ہے۔ اس وہابی کے میرے چند سوالات مندرجہ ذیل ہیں: 1۔ اگرایک بندہ قرآن وحدیث والے اذکار کو پڑھتا ہے لیکن پھر بھی اس کی دعا قبول نہ ہو تو کیا معاذاللہ قرآن و حدیث کو جھٹلا دیں ؟؟؟ 2۔اگر دو بندے ایک ہی ذکر والے کلمات کو پڑھتے ہیں ایک کی دعا قبول ہو جاتی ہے اور دوسرے کی نہیں ہوتی تو کیا اس میں دعا قبول ہونے والےشخص کے تجربے کو جھوٹا کہا جائے گا؟؟ 3۔ جب بندہ اپنی طرف بنائے ہوئےکلمات سےاللہ عزوجل سے دعا مانگ سکتا ہے توکیا کسی ولی یا کسی نیک بندے کے تجربے والی دعااللہ عزوجل سے کیوں نہیں مانگ سکتا ؟؟ مرتے دم تک کوئی وہابی ان سوالات کے جواب نہیں دے پائے گا۔(ان شاء اللہ)
  8. 3 likes
  9. 3 likes
  10. 3 likes
  11. 3 likes
    Source: dawatulquran.net/ham-naami-ka-mughalta/
  12. 2 likes
    حدیث پاک میں صبی کے الفاظ ہیں جو کم سن کو ظاہر کرتے ہیں۔
  13. 2 likes
    مسجد میںقربانی کی کھال، زکوٰۃ، خیرات اور صدقہ لگتا ہی نہیں مسجد میں نیک کمائی سے مدد کرسکتے ہیں بدمذہب کو چندہ دینا بد مذھبیت کو پھیلانا ہے۔ واللہ ورسولہ اعلم
  14. 2 likes
    اسلامی ایجوکیشن پر ترجمہ کی غلطی تھی اور ایسی مزید اغلاط بھی ہوسکتی ہیں۔ پرانے ایڈیشن میں ہرکتاب اور آرٹیکل کے نیچے وضاحت بھی موجود تھی کہ اگر مواد میں کوئی غلطی پائیں تو رابطہ کر کے آگاہ فرمائیں۔ کتابت و ترجمہ کی اغلاط کبھی بھی عقائد کے خلاف دلیل نہیں ہوتیں۔ عقائد کو ثابت کرنے کیلئے مستند روایات و علماء کے حوالے درکار ہوتے ہیں۔ اسلامی ایجوکیشن ویب سائیٹ پر غلطی کی تصحیح اور وضاحت کر دی گئی ہے۔ مولا کا وہی معنی لیا جائے گا جو کہ جمہور علمائے اہلسنت مراد لیتے ہیں۔
  15. 2 likes
    امام ابواسحاق ابراہیم بن موسیٰ الشاطبی نے اپنی معروف کتاب الاعتصام میں بدعت کی اقسام بھی بیان کی ہیں اور بدعت حسنہ کے جواز پر دلائل بھی دئیے ہیں۔
  16. 2 likes
    Wahabi Bolta Hai per Samjhta nahi . is fake fatwa Me Likha Gaya Hai K Aala Hazrat Ne Al mohannad Manazr e Aam Per Aane K Bad Takfir se Ruju Farma liya Kaha Ruju Farmaya ? jawab .. سبحان السبو ح اور تمہد ایمان میں Hasna Mana Hai ..... سبحان السبوح 1309 ھجری Me Likhi Gai تمہید ایمان 1326 ھجری Me Likhi Gai Fatwa E Kufr 1320 Me DiyaGaya..... Al monnad ...1353 Me Chapi Sarkar Aala HAZRAT رضی اللہ تعالیا Ka Wisal 1340 hij Ko Huwa Ab Sawal Y Hai K 1320 Me fatwa E Kufr De Kar Aala Hazrat Ne 1309 Wale Risale ( سبحان السبوح ) Me Yani Fatwa Dene Se 11 Sal Qabl Fatwa Se kaise Ruju Kiya Honga ? Wo Al Mohannd Ki Bina Per Jo 1353 Me Chapi Ja K Aala Hazrat Hayat Bhi Nahi The Ya Illahi Y Majra Kiya Hai ? Koi Deo Hai jo Aisa Maths Janta Ho jis Se Y Hisab Ka Kitab Ho Sake ?
  17. 2 likes
  18. 2 likes
    ایک اور روایت پیش کی جاتی ہے علامہ ابن عدی کی کتاب سے حدثنا علي بن سعيد حدثنا الحسين ابن عيسى الرازي حدثنا سلمة بن الفضل ثنا حدثنا محمد بن إسحاق عن محمد بن إبراهيم التيمي عن أبي أمامة بن سهل بن حنيف عن أبيه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : ((إذا رأيتم فلاناً على المنبر فاقتلوه). (الکامل لابن عدی 6/112) اس روایت میں محمد بن اسحاق بن یسار تیسرے طبقہ کا مدلس راوی ہے اور اس روایت میں اس نے سماع کی تصریح نہیں کی عن سے روایت کر رہا ہے لہذا یہ روایت بھی ضعیف ہے۔اور اس روایت میں فلانا کا لفظ ہے نام کی تصریح موجود نہیں۔ اس کے علاوہ محمدبن اسحاق کا شاگرد سلمہ بن الفضل الأبرش بھی کثیر الغلط راوی ہے۔ ایک اور روایت بھی پیش کی جاتی ہے حديث جابر بن عبدالله روى سفيان بن محمد الفزاري عن منصور بن سلمة (ولا بأس بمنصور) عن سليمان بن بلال (ثقة) عن جعفر بن محمد (وهو ثقة) عن أبيه (ثقة) عن جابر بن عبدالله رضي الله عنه مرفوعاً (إذا رأيتم فلاناً اس روایت میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا نام نہیں فلانا کا لفظ ہے ۔اس کے علاوہ سفیان بن محمد الفزاری سخت ضعیف ہے حدثني إبراهيم بن العلاف البصري قال، سمعت سلاماً أبا المنذر يقول: قال عاصم بن بهدلة حدثني زر بن حبيش عن عبد الله بن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "إذا رأيتم معاوية بن أبي سفيان يخطب على المنبر فاضربوا عنقه أنساب الأشراف (5/130) برقم (378) اس روایت میں ابراہیم بن العلاف بصری مجہول ہے اس کی توثیق امام ابن حبان کے علاوہ کسی امام نے نہیں کی۔اور امام بن حبان کی توثیق کرنے میں متساہل ہیں۔ حدثنا يوسف بن موسى وأبو موسى إسحاق الفروي ، قالا : حدثنا جرير بن عبد الحميد ، حدثنا إسماعيل والأعمش ، عن الحسن ، قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "إذا رأيتم معاوية على منبري فاقتلوه"، فتركوا أمره فلم يفلحوا ولم ينجحوا. أنساب الأشراف (5/128) اس راویت میں اسماعیل بن ابی خالد اور امام اعمش کا سماع امام حسن بصری سے محل نظر ہے۔اس کے علاوہ یہ روایت مرسل ہے کیونکہ امام حسن بصری کا سما ع آپ علیہ السلام سے نہیں ہے۔ حدثنا الساجي قال : ثنا بندار قال : ثنا سليمان قال : ثنا حماد بن زيد قال : قيل لأيوب إن عمراً روى عن الحسن عن النبي صلى الله عليه وسلم قال [ إذا رأيتم معاوية على المنبر فاقتلوه ] قال أيوب كذب الكامل (5/103) اس راویت میں عمرو بن عبید بن باب کذاب ہے خود اسی راویت میں امام ایوب کیسان السختیانی نے جرح کی۔
  19. 2 likes
    اس روایت کا مکمل جواب میری فیس بک ٹائم لائن پر موجود ہے یہ ہے اس کا لنک
  20. 2 likes
    Tehreef me mahir gair muqallideen ki hadees me tehreef .. Gair muqallid Alim Dawood Arshad apni kitab Deen ul haq me seene par hath bandhne ki riwayat me lafzan o ma'anan tehreef karte hue hadees o tarjuma is tarah likhte hai .. ""رايت النبى صلى الله عليه وسلم ينصرف عن يمينه وعن يساره و يضع يده على صدره Tarjuma : MAINE NABI SALLALLAHU ALAI WA SALLAM KO DEKHA K NAMAZ K IKHTETAM PAR DAYE AUR BAYE SALAAM FERTE AUR NAMAZ ME SEENE PAR HATH RAKHTE THE" ( دين الحق بجواب جاءالحق - ج١ -ص ٢١٧-٢١٨) 1) pehle to inhone hadees k alfaz me tehreef ki hai .. Jo alfaz inhone naql kiye hai ye alfaz masnad Ahmad se nikal kar dene wale ko fee- lafz 1000 rupya inam dia jayega .. 2) dusra tarjuma me Jo namaz k IKHTETAM par salaam ferna Aur namaz me seene par hath bandhne k alfaz b agar janab k apne hi upar pesh ki hui hadees k Arabi Matan se De dey to uspar b fee-lafz 1000 rupya Dr Afaque Sahab ki Tarf se inam dia jayega .. Ye hai name nihad ahlehadees ki hadees dushmani k apna MATLAB nikalne k lie ahadees b badal dete hai q k inke pas apne is masle par ek b sahih sareeh marfoo gair muallil gair muawwil riwayat Nahi hai .. Dawood Arshad Sahab agar ap ba hayat hai to meri apse ek guzarish hai k Ap jis qaum k Alim hai usi dere me rahe , Khalil aur ibn hasham banne ki koshish na kare .. Gair muqallid ki kitab aur masnad ahmad ki hadees k asal alfaz ka scan b dia Gaya hai .. Sent from my GT-I9505 using Tapatalk
  21. 2 likes
    جناب محمد علی صاحب قبلہ سعیدی صاحب کے پیرومرشد حضرت غزالئ زماں سید احمد سعید کاظمی علیہ الرحمت نے سماع کے جواز میں ایک رسالہ بھی لکھا ہے۔سماع کے جواز کے قائلین بھی کچھ صوفیاء کرام ہیں اور کچھ اس کو جائز نہیں سمجھتے۔۔اس لیے اس پر اتنے سخت الفاظ استعمال نہیں کرنے چاہیں
  22. 2 likes
    عَنْ مَعْمَرٍ , عَنِ الْكَلْبِيِّ , وَقَالَ قَتَادَةَ , {فَلَمَّا تَغَشَّاهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيفًا} [الأعراف: 189] , قَالَ: " كَانَ آدَمُ لَا يُولَدُ لَهُ وَلَدٌ إِلَّا مَاتَ فَجَاءَهُ الشَّيْطَانُ , فَقَالَ: إِنَّ شَرْطَ أَنْ يَعِيشَ وَلَدُكَ هَذَا فَسَمِّيهِ عَبْدَ الْحَارِثِ , فَفَعَلَ قَالَ: فَأَشْرَكَا فِي الِاسْمِ وَلَمْ يُشْرِكَا فِي الْعِبَادَةِ " تفسیر عبدالرزاق رقم 968 اس روایت میں ہشام الکلبی متروک اور شدید ضعیف ہے حدثنا عبد الصمد حدثنا عمر بن إبراهيم حدثنا قتادة عن الحسن عن سمرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال لما حملت حواء طاف بها إبليس وكان لا يعيش لها ولد فقال سميه عبد الحارث فإنه يعيش فسموه عبد الحارث فعاش وكان ذلك من وحي الشيطان وأمره مسنداحمد رقم 19610 حدثنا محمد بن المثنى حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث حدثنا عمر بن إبراهيم عن قتادة عن الحسن عن سمرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال لما حملت حواء طاف بها إبليس وكان لا يعيش لها ولد فقال سميه عبد الحارث فسمته عبد الحارث فعاش وكان ذلك من وحي الشيطان وأمره قال أبو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه مرفوعا إلا من حديث عمر بن إبراهيم عن قتادة ورواه بعضهم عن عبد الصمد ولم يرفعه عمر بن إبراهيم شيخ بصري جامع ترمذی رقم 3077 حدثنا أحمد بن عثمان بن يحيى الآدمي المقري ببغداد ، ثنا أبو قلابة ، ثنا عبد الصمد بن عبد الوارث ، ثنا عمر بن إبراهيم ، عن قتادة ، عن الحسن ، عن سمرة بن جندب ، عن النبي - صلى الله عليه وآله وسلم - قال : " كانت حواء لا يعيش لها ولد ، فنذرت لئن عاش لها ولد تسميه عبد الحارث ، فعاش لها ولد فسمته عبد الحارث ، وإنما كان ذلك عن وحي الشيطان " . هذا حديث صحيح الإسناد ولم يخرجاه . مستدرک رقم4056 ان تمام روایات میں قتادہ اور حسن بصری مدلس ہیں عن سے روایت کر رہے ہیں سماع کی تصریح نہیں اس لئے ضعیف ہیں امام ترمذی کا حسن اور امام حاکم کا صحیح کہنا خطا ہےلہذا اس سے استدلال کرنا باطل ہے
  23. 2 likes
    نفحة الرحمن في بعض مناقب الشيخ السيد أحمد بن السيد زيني دحلان.pdf
  24. 2 likes
  25. 2 likes
  26. 2 likes
    Wa Alikum salam.. Hazrat mery naqis ilam k mutabiq ye Wahabiyon ki bohat moutbar website hy.. Social media pe Aksar wahabi isi website k andhy muqallid hain.
  27. 2 likes
  28. 2 likes
    امام اجل محدث جلیل حضرت ابو جعفر احمد بن محمد طحاوی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے طحاوی شریف میں ان روایات کو نقل فرمایا ہے. 🕯عبیداللہ بن مقسم فرماتے ہیں: *ان ابن عمر قال لہ اذا صلیت وحدک فاقرا فی الرکعتین الاولین من الظهر و العصر بام القرآن و سودة سورة و فی الرکعتین الاخریین بام القرآن ...الخ* 📖 یعنی حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنهما نے ان سے فرمایا: جب تم تنہا نماز پڑهو تو ظہر اور عصر کی پہلی رکعتوں میں سورہ فاتحہ اور کوئی دوسری سورت پڑهو اور پچهلی دو رکعتوں میں صرف سورہ فاتحہ پڑهو ( شرح معانی الآثار المعروف طحاوی، باب القرآءة فی الظہر والعصر) اس کے علاوہ اور بهی روایات اسی باب میں موجود ہیں. 💡امام عبدالله بن محمد بن ابی شیبہ نے *مصنف* میں باب قائم کیا *من کان یقراء فی الاولیین بفاتحة الکتاب و سورة و فی الآخرين بفاتحة الکتاب* 🛢اس باب میں متعدد روایات نقل فرمائیں 🕯ابن سیرین رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں : *نبئت ان ابن مسعود کان یقراء فی الظہر والعصر فی الرکعتین الاولین بفاتحة الکتاب و ما تیسر و فی الآخریین بفاتحة الکتاب* 📖 یعنی مجهے خبر دی گئی ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ ظہر و عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ پڑهتے اور جتنا قرآن آسانی سے پڑهه سکیں ، اور بعد کی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ پڑهتے 📘 *( مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الصلوٰہ جلد 1 صفحہ 406)* 🕯اسی باب میں سیدنا فاروق اعظم، حضرت ابو درداء ، حضرت جابر ، ام المومنین سیدہ صدیقہ، شیر خدا علی المرتضی رضی اللہ تعالٰی عنهم کے معمول اور ارشادات درج ہیں جن کا خلاصہ یہی ہے کہ فرض نماز کی پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ کے ساتھ کوئی سورت یا آیات کو پڑها جائے اور بعد کی دو رکعتوں میں فقط سورہ فاتحہ
  29. 2 likes
  30. 2 likes
    salam alayqum, bhai yeh kitab das daffa yahan par pesh huwi heh aur itni dafa jawab deh chukay hen. magar keun kay mawad mukhtalif threadss mein heh ... dhoondnay say bi naahin milta ... hona yeh chahyeh kay joh joh ihtiraz thread mein ho us ka jawab wahan bi deeya jahay ... au phir ihtiraz kay mutabiq ek aur thread banaya jahay joh - radd ihtirazat - kay section mein ho aur ihtiraz ko title banaya jahay aur ihtiraz aur jawab donoon ko copy paste keeya jahay. Esa karnay kay wasteh support aur help chahyeh ... ahle ilm jawab denh ... ek aur team un ko title deh kar ihtirazaat kay jawabat kay section mein muntakil karay ... magar kohi bi banda esa karnay pwr tiyar nahin ... deen kay wastay kissi ko time nahin ... mein hoon kay pachaas mamulaat mein tangen pansahi hen aur meray pass time nahin ka esa kar sakoon ... app thori mehnat karen ... is maulvi ka naam forum seach mein dalen yaqeenan niklay ga jawaab
  31. 2 likes
    Is kitab ka musannaf Sunni nahin. Yeh ek Deobandi heh. Yeh Deobandiat ki dajjaliat ka subut heh. Ek aur kitab meray pass ek aur kitab heh Deobandiyoon ki. Is mein Deobandi nay un tamam aqahid ko Wahhabi aqahid tehraya heh joh Ahle Sunnat Wal Jammat kay hen. Aur joh aqahid o nazriat Deobandiat kay hen un ko Sunni aqeedah bataya heh ... Yehni jaga jaga likha heh, yeh aqeeda rakhnay wala Wahhabi heh halan kay yeh aqeedah Sunni ka heh, aur jaga jaga Deobandiat kay aqahid ko Sunniyon kay aqahid likha heh ... Yeh Deobandi kuch be kar saktay hen. Mujjay Hindu, Sikh, Christian, agar kissi kitab ka reference deh aur kahay is jaga yeh likha heh, shahid mein maan loon. Deobandi Maulviyoon mein kuch logh itnay baray kazzab aur dajjal hen kay Mirza ko fakhr hota hoga in ki dajjaliat dekh kar. In logoon ka itbar bilqul nah karen.
  32. 2 likes
    مفتی اکمل صاحب کے جواب میں آپ کے سوال کا جواب موجود ہے۔۔ معین بھائی کی پوسٹ کردہ ویڈیو نیچے ایمبیڈ ہے۔۔ اگر لڑکے کے ماں باپ الگ ہیں۔ اور لڑکی کے ماں باپ الگ ہیں تو ایسی صورت میں شادی ہو سکتی ہے۔ جس کو مفتی صاحب نے مثال سے واضح کیا ہے۔۔
  33. 2 likes
    خطیب بغدادی اور بہت سے ائمہ کی تحقیق کے مطابق امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ جب بغداد میں ہوتے تو حصولِ برکت کی غرض سے امامِ اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کی قبر مبارک کی زیارت کرتے۔ خطیب بغدادی رحمۃ اللہ علیہ نقل کرتے ہیں کہ امام شافعی، امام ابو حنیفہ کے مزار کی برکات کے بارے میں خود اپنا تجربہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :إنّي لأتبرّک بأبي حنيفة، وأجيء إلي قبره في کلّ يوم. يعني زائرًا. فإذا عُرضت لي حاجة صلّيت رکعتين، وجئتُ إلي قبره، و سألت اﷲ تعالي الحاجة عنده، فما تبعد عنّي حتي تقضي.’’میں امام ابو حنیفہ کی ذات سے برکت حاصل کرتا ہوں اور روزانہ ان کی قبر پر زیارت کے لیے آتا ہوں۔ جب مجھے کوئی ضرورت اور مشکل پیش آتی ہے تو دو رکعت نماز پڑھ کر ان کی قبر پر آتا ہوں اور اس کے پاس (کھڑے ہوکر) حاجت برآری کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں۔ پس میں وہاں سے نہیں ہٹتا یہاں تک کہ میری حاجت پوری ہوچکی ہوتی ہے۔‘‘
  34. 2 likes
    میرے خیال میں یہ ایک تازہ تازہ دیوبندی یا وہابی غیر مقلد ہے۔ اس لئے علمی گفتگو کی اُمید بہت ہی کم ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ بیسیوں صفحات کاپی پیسٹ کرنا شروع کردے گا۔ پھر بھی چند چھوٹے سے سوالات ہیں۔ اُمید کرتے ہیں ٹو دا پوائںٹ جواب آئے گا۔ ۱۔ قبر کو پوجنے کو کس نے جائز کہا ہے؟ ہم صرف ایک اللہ تعالی کی عبادت کرتے ہیں۔ ہمارے کسی مستند عالم کی تحریر، تقریر، عمل وغیرہ سے یہ بات ثابت کرو۔ خالی چاولیں مارنے سے تمہاری اپنی بدنامی ہوگی۔ جو کہ خیر اس پوسٹ سے ہوچکی ہے۔ ۲۔ اوپر جو لکھا ہے۔ اُس کا جواب کدھر ہے؟ ہم صاحب صحیح مسلم، اما سیوطی، صاحب فتح الباری اور دیگر جید علماء کی مانیں یا چودھویں صدی میں پیدا ایک شخص کی، جس کو اپنی پہچان بھی نہیں؟ ۳۔ اپنی کچھ پہچان پیدا کرنے کیلئے سب سے پہلا کام کرو اور اپنا عقیدہ بتائو۔۔ وہابی دیوبندی یا وہابی غیر مقلد؟ تاکہ بات کرتے ہوئے آسانی ہو۔
  35. 2 likes
    پوسٹ نمبر ۳ سے کافی لنکس کو فکس کر دیا ہے۔ کچھ لنکس بالکل کام نہیں کر رہے۔ جیسے حضرت موسی سہاگ والے اعتراض پر جوابات۔ فورم ممبرز سے گزارش ہے کہ اس سے متعلقہ ٹاپک فورم پر تلاش کرنے میں مدد کریں۔اس طرح اعلی حضرت علیہ الرحمہ پراعتراضات جوابات سے متعلق مزید ٹاپکس ہوں تو ٹیم ممبرز کو مطلع کریں تاکہ اُن کے لنکس یہاں ایڈ کیے جا سکیں۔ اعتراضات و جوابات کی ایک باقائدہ سیٹنگ ترتیب دینے کی جلد کوشش ہوگی۔ ان شاء اللہ۔تاکہ جوابات کو باآسانی تلاش کیا جا سکے۔
  36. 2 likes
    Fazayil Hazrat Ameer Moaviyyah By Allama Ghulam Mahmood Hazaravi https://archive.org/details/FazayilHazratAmeerMoaviyyahByAllamaGhulamMahmoodHazaravi Faizan E Hazrat Ameer Moaviya https://archive.org/details/FaizanEHazratAmeerMoaviya Manaqib E Ameer E Moaviyyah https://archive.org/details/ManaqibEAmeerEMoaviyyah Seerat Syeduna Ameer E Moaviyyah By Mufti Jalal Uddin Amjadi https://archive.org/details/SeeratSyedunaAmeerEMoaviyyahByMuftiJalalUddinAmjadi Fazayil E Ameer E Moaviyyah Aur Mukhalifeen Ka Muhasiba By Siddiqu Zia Naqshbandi Qadri https://archive.org/details/FazayilEAmeerEMoaviyyahAurMukhalifeenKaMuhasibaBySiddiquZiaNaqshbandiQadri Ikhtilaf e Hazrat Ali RadiAllah Anho Wa Amir MaAvia RadiAllah Anho https://archive.org/details/IkhtilafEHazratAliRadiallahAnhoWaAmirMaaviaRadiallahAnho Ikhtelafe Ali W Muaawiya By Abdul Qadir Badayuni https://archive.org/details/IkhtelafeAliWMuaawiyaByAbdulQadirBadayuni Mon Huwa Moaviyyah Moaviyyah Kon https://archive.org/details/MonHuwaMoaviyyahMoaviyyahKon Al Moaviyyah R A By Allama Muhammad Nabi Bukhsh Halwai https://archive.org/details/AlMoaviyyahRAByAllamaMuhammadNabiBukhshHalwai Manaqib e Ameer e Moaviyyah https://archive.org/details/ManaqibEAmeerEMoaviyyah.pdf_853 Manaqib Syeduna Ameer e Moaviyyah by Mufti Shafqaat Ahm https://archive.org/details/ManaqibSyedunaAmeerEMoaviyyahByMuftiShafqaatAhm Radde Rawafid Wa Difa Hazrat Ameer muaviya https://archive.org/details/RaddeRawafid Dushmanan EAmeer EMoaviyyah Ka Ilmi Muhasiba By Allama Muhammad Ali Naqshbandi vol 1& vol 2 https://archive.org/details/DushmananEAmeerEMoaviyyahKaIlmiMuhasibaByAllamaMuhammadAliNaqshbandiPart1_201704
  37. 2 likes
    جناب کاوہی حال ہے کہ اب کے مار۔۔ضد اور ہٹ دھرمی کا علاج کسی کے پاس نہیں۔۔جب ایک لفظ کے معنی ایک سے زیادہ ہوں تو کیا آپ نے لازمی وہی معنی استعمال کرنا ہے جس میں آپ کو گستاخی کا شائبہ ہو؟؟لاحول ولا قوة الا باللہ العلی العظیم کی کثرت کیجیے شاید کوئی بہتری آۓ۔۔۔
  38. 2 likes
    Link 1.. https://archive.org/details/SaeedUlHaqFeTakhreejJaAlHaqVol12 Link 2.. http://www.irshad-ul-islam.com/showthread.php?3064-Saeed-ul-Haq-fi-Takhreej-Ja-al-Haq-(Complete-2-Volumes)-Best-Book-on-Aqaid-e-Ahl-e-Sunnat-Wa-Jama-at
  39. 2 likes
  40. 2 likes
    https://telegram.me/OldNaatDawateislami Telegram Old Naat Dawateislami دعوت اسلامی کےپرانےیادگاردورکی سدابہارنعتیں حاصل کرنےکےلیےیہ چینل جوائن کریں ۔
  41. 2 likes
    وھابیوں کا محدث امام سیالکوٹی امام ابو حنیفہ کا دفا کرتے ہوئے اور ابو حنیفہ پر مرجیہ کے الزام کا رد کرتے ہوے وہابیوں کے شیخ الاسلام زبیر علی زعی کا کہنا کہ جو ابو حنیفہ کا دفاع کرتے ہوئے۔۔۔ وہابی منافق ہوتے ہیںَ۔ ہم پر شخسی تقلید پر شرک کا فتویٰ اور امام عبدلقادر جیلانی انکے نزدیک بھی حنبلی مقلد تھے تو وہ کیسے ولی ہوئے؟؟؟ امید ہے آپ متمعین ہو گئے ہونگے جوابات سے!!!
  42. 2 likes
    السلام علیکم ورحمت اللہ جناب گزارش ہے کہ یہاں کوئی ایڈمن یا ماڈریٹر کسی کو پروٹیکٹ نہیں کر رہا۔۔ عسقلانی بھائی آپ سے گزارش ہے کہ آپ فیس بک سے لاگ ان ہونے کی بجائے اسلامی محفل میں ڈائریکٹ اکاؤنٹ بنائیں تو شاید یہ مسئلہ دوبارہ نہ ہو کیوں کہ کل تک مجھے آپ کے اکاؤنٹ میں ایسا کوئی مسئلہ نظر نہیں آیا اور میں بھی آپ سب سنی بھائیوں سے یہی گزارش کروں گا کہ آپس میں فروعی اختلافات پر بحث کی بجائے بدمذہبوں کے رد پر زیادہ توجہ دی جائے۔۔جزاک اللہ خیرا
  43. 2 likes
    میں نے اس بات وضاحت کر دی ہے کہ اگر اس کی نیت انبیاءکرام علیہم السلام میں شمولیت اور حضرات شیخین رضی اللہ عنہما کی تفضیل پر نہیں تو پھر جائز ہے۔ اس نعرہ میں یہ بھی احتمال ہو سکتا ہے کہ اس مراد یہ ہو کہ سوالاکھ بار نعرہ حیدری تو اس میں کونسی شرعی قباحت ہے؟؟؟ یہ بات نعرہ لگانے کی نیت پر ہے اور نیت کا علم اللہ عزوجل ہی بہتر جانتا ہے۔ویسے یہ نعرہ لوگوں کے عقائد کے مطابق ہو گا، جیسا عقیدہ ہوگا ویسے ہی اس کی مراد ہو گی ۔ اگر نعرہ لگانے والا رافضی ہے تو اس میں آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس کی مراد حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تفضیل انبیاء کرام علیہم السلام پر اور حضرات شیخین رضی اللہ عنہما پر ہے کیونکہ یہ ان کا عقیدہ ہے۔ لیکن اگر یہ نعرہ کوئی صحیح عقائد والا سنی لگائے تو اس میں اس کی مراد یہ ہو گی کہ سوا لاکھ بار نعرہ حیدری کیونکہ کسی بھی صحیح عقائد والے سنی کا یہ عقیدہ نہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ انبیاء کرام علیہم السلام میں شامل ہیں اور نہ ہی حضرت شیخین رضی اللہ عنہما پر تفضیل والا عقیدہ ہے۔
  44. 2 likes
    محترم بھائی صاحِب!۔ اونٹ اپنی حقیقت میں شیطان یا شیطان میں سے نہیں ہے (جسکے دلائل امیجز میں ملاحظہ فرمائیں)۔ اس لیے جہاں اونٹ کو شیطان یا شیطان میں سے کہا گیا ہے وہاں اونٹ کے مزاج کی سرکشی وغیرہ کی طرف اشارہ ہے۔ اور جہاں اونٹ کے شیطان یا شیطان میں سے ہونے کی نفی ہے، وہاں اونٹ کی حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسا کہا گیا ہے۔ اور ’’پیدا ہونا‘‘ سے متعلق تفصیل نیچے والے امیج میں ملاحظہ ہو۔ اللہ عزوجل مجھے اور آپکو علم سیکھنے کی توفیق بخشے (آمین بجاہ النبی الامین ﷺ)۔
  45. 2 likes
    تمام بھائیوں نے اپنے اپنے نکات دے دیے ہیں۔ ٹاپک کو مزید بحث برائے بحث سے بچانے کے لئے لاک کیا جا رہا ہے۔ اگر کوئی ایسا نقطہ/دلیل رہ گئی ہو، جس سے ٹاپک منطقی فیصلہ تک پہنچ سکے تو انتظامیہ سے رابطہ کرکے بتائیں۔ اگر مناسب ہوا تو ٹاپک دوبارہ کھول دیا جائے گا۔
  46. 2 likes
    جزاک اللہ افضل بھائی اللہ عزوجل آپ کو اس کا اجرعظیم عطا فرمائے امین
  47. 2 likes
    فرض، واجب اور سنت مؤکدہ پڑھنا لازم ہے۔ سنت غیر مؤکدہ (اور نفل) پڑھنا لازم نہیں، مگر پڑھ لینا چاہیے۔ اگر صرف فرض، واجب اور سنتِ مؤکدہ پڑھے جائیں (یعنی سنتِ غیرِ مؤکدہ اور نفل نہ پڑھیں) تو کوئی گناہ نہیں ہے (لیکن سنتِ غیرِ مؤکدہ اور نفل کے ثواب سے محرومی ضرور ہے)۔
  48. 2 likes
    امام خطیب بغدادی کی کتاب "الرحلة في طلب الحديث" کا اردو ترجمہ۔۔ Download link.. https://archive.org/details/Rihlahfitalabalhadith
  49. 2 likes
    المستدرک للحاکم اردو جلد 1 http://www.mediafire.com/file/jr3lo4reg2i2ya9/Jild+1+%28Low+Quality%29.pdf جلد 2 http://www.mediafire.com/file/t99re0nqk82s129/Jild+2+%28Low+Quality%29.pdf جلد 3 http://www.mediafire.com/file/rrd1yog3eev5gy1/Jild+3+%28Low+Quality%29.pdf جلد 4 http://www.mediafire.com/file/dlca9ku06d3i3gp/Jild+4+%28Low+Quality%29.pdf جلد 5 http://www.mediafire.com/file/lth8uyu58vpllyx/Jild+5+%28Low+Quality%29.pdf جلد 6 https://mega.nz/#!DkwSjBzQ!TMq7afZiUppNvJ3x50f1bOt0zExMFc2UubkXdGn3EdA
  50. 2 likes
    Tamam Books ka mediafire ka link http://www.mediafire.com/folder/arxra0xnfutyw/Books jo na milay p.m ker dean wo bi upload ker du ga