Jump to content

Leaderboard

Popular Content

Showing content with the highest reputation since 09/25/2009 in Posts

  1. بسم اللہ الرحمن الرحیم ڈبل پوسٹنگ سے پرہیز کیا جائے۔ اگر کوئی اضافہ کرنا ہو تو سابقہ پوسٹ جس کے بعد کوئی ریپلائی نہیں آیا، اُسی کو ایڈیٹ کریں۔ نیچے ایڈیٹ میسج بھی لکھا جا سکتا ہے تاکہ دیکھنے والوں کو تبدیلی کا پتہ چلے۔ اگر سابقہ پوسٹ کا ایڈیٹنگ ٹائم ختم ہو چکا ہو تو پھر ڈبل پوسٹ کی جا سکتی ہے۔ آداب کو ملحوظ خاطر رکھیں۔ دو بندوں کی گفتگو کے دوران تیسرا بندہ ریپلائی نہ کرے۔ پڑھنے والے پوسٹ پر ری ایکشن دے کر اپنے تاثر کا اظہار کریں۔ کوئی مشورہ وغیرہ دینا ہو تو پرائیویٹ میسج کریں۔ کوشش کریں ٹو دا پوائنٹ بات کریں۔ ایک دوسرے کو آپ کہہ کر مخاطب کریں۔ بدتمیزی کا اسٹارٹ تو سے ہوتا ہے۔ کوئی نیوٹرل بندہ بھی آکر اس گفتگو کو چیک کرے تو اُسے پتہ چلے کہ اخلاق کے دائرہ میں بھی رہ کر بات کی جا سکتی ہے۔ شرائط پر عمل نہ کرنے یا بحث برائے بحث کی صورت میں ٹاپک کو لاک کیا جا سکتا ہے۔
    5 points
  2. نزھۃ القاری شرح صحیح بخاری فقیہ اعظم ہند مولانا مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ
    4 points
  3. تحقیق مسئلہ: اولیا ءکرام کا پانی پر چلنا مرزا محمد علی جہلمی صاحب کا اولیاء کرام کی کرامات پر ٹھٹھہ بازی تحریر:خادم اہل سنت و جماعت فیصل خان رضوی بسم اللہ الرحمن الرحیم اولیاء کرام کی عظمت و شان کی وجہ تقوی اورشریعت پر پابندی ہوتی ہے۔اہل سنت و جماعت اللہ کا ولیوں سے محبت ان کی کرامات کی وجہ سے نہیں بلکہ آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی عطا کردہ شریعت پر عمل پیرا ہونے کی وجہ سے ہے۔اولیاء سے محبت صرف اللہ او ر اللہ کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے ہوتی ہے ۔اور اسی کا شریعت مطاہرہ نے درس بھی دیا۔ Ø ایک دوست نے جناب مرزا محمد علی صاحب کی ایک ویڈیو بھیجی ،جس میں جناب کے دیگر عقلی دلائل کے ساتھ جب اولیاء کرام کے بارے میں نہایت عامیانہ لفظ "بابے "سنا تو بہت حیرانگی ہوئی اور جب وہ اپنی اس تقریر میں اپنے جذبات میں بہتے ہوئے ایک کرکٹ کے کھلاڑی کو 6 چھکے لگانے پر کرامات کا سرٹیفیکیٹ دیا تو سوچا کہ کیا جناب مرزا صاحب کے چاہنے والے ایسی باتوں پر یقین کرتے ہیں اور وہ پڑھے لکھے ہونے کی باوجود کسی کھلاڑی کی کرامت مان سکتے ہیں؟ بہرحال ایسی باتیں ہمیشہ اپنے متبعین یا چاہنے والوں کو اپنے ساتھ لگائے رکھنے کی لیے جناب مرزا محمد علی صاحب کرتے رہتے ہیں،بلکہ ان کی ایک تقریر میں جناب مرزا صاحب تو یہ بھی کہتے سنے گئے کہ" سائنسدانوں نے تو موبائل بنا دیا ہے اگر تہمارے بابے میں طاقت ہے تو اسے کہو کہ ایک موبائل ہی بنا کر دکھا دیں۔" جناب مرزا محمد علی جہلمی صاحب کو شاید یہ نہیں معلوم کہ ایک طرف جہاں ان کی دلیل میں نہ استدلالی وزن ہے اور نہ عقلی ۔ بالفرض جناب کی اس عقلی دلیل کو معتبر مان لیا جائے تو اسی طرح کے اعتراض تو دہریے خدا کی ذات پر کرتے ہیں۔آپ ان کی کتابیں خود پڑھ کر دیکھ لیں۔دہریے جب بھی خدا کی ذات پر اعتراض کرتے ہیں تو کچھ اسی قسم کا اعتراض کرتے ہوئے نظر آئیں گے۔بہرحال جناب محمد علی مرزا صاحب کے اعتراضات میں ایک نکتہ کی طرف کچھ تحریر کرنے کی جسارت ضرور کرتے ہیں تاکہ عوام الناس کو ان دلائل کی حقیقت اور اصلیت واضح ہوسکے۔ Ø جناب مرزا محمد علی جہلمی صاحب اور ان کے چند شاگردوں کی تحریروں اور تقریروں سے یہ بات سامنے واضح ہوتی ہے کہ شاید وہ یہ سمجھتے ہیں کہ کسی بھی ولی کی شان اس کی کرامت کے ساتھ ہوتی ہے،اوروہ یہ اعتراض ہم اہل سنت پر اولیاء پر اعتراضات کے ضمن میں کرتے ہیں۔مگر اس بابت کچھ عرض یہ ہے کہ اہل سنت و جماعت کا اس معاملہ پر موقف واضح ہے کہ اولیاء کی عظمت و شان ان کا شریعت کی پابندی کی وجہ سے ہی ہوتی ہے نہ کہ ان کی کرامات کی وجہ سے ان کی شان کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔مگر اس سلسلہ میں یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ ایک ولی اللہ سے اگر شریعت کی پابندی کی وجہ سے کوئی کرامت ظاہر ہوں تو اس کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔ عوام الناس کو یہ نکتہ سمجھنا چاہیے کہ اہل سنت وجماعت اولیاء کی عزت و قدر ان کی کرامات کی وجہ سے نہیں بلکہ دین و شریعت کی پابندی کی وجہ سے کرتے ہیں۔اس نکتہ کو شیخ الصوفیاء حضرت بایزید بسطامی علیہ الرحمہ بھی بیان کرتے ہیں۔ · محدث علامہ ذہبی اپنی کتاب میں حضرت بایزید بسطامی علیہ الرحمہ کا قول نقل کرتے ہیں : وَقَالَ: للهِ خَلْقٌ كَثِيْرٌ يَمْشُوْنَ عَلَى المَاءِ، لاَ قِيْمَةَ لَهُمْ عِنْدَ الله، وَلَوْ نَظَرْتُم إِلَى مَنْ أُعْطِيَ مِنَ الكَرَامَاتِ حَتَّى يَطِيْرَ، فَلاَ تَغْتَرُّوا بِهِ حَتَّى تَرَوا كَيْفَ هُوَ عِنْدَ الأَمْرِ وَالنَّهْي، وَحِفْظِ الحُدُوْدِ وَالشَّرْعِ۔ سير أعلام النبلاء13/88 ترجمہ : حضرت با یزید بسطامی علیہ الرحمہ کا فرمان ہے کہ: اللہ تعالیٰ کی بہت ساری مخلوق ایسی ہے جو پانی پر چلتی ہے ، اور اس کے باوجود اللہ کے نزدیک اس کی کوئی قدر و قیمت نہیں ، اور تم کسی ایسےشخص کو دیکھو جسےمتعدد کرامات حاصل ہیں ،حتی کہ وہ ہوا میں اڑتا ہے تو اس کی کرامات سے ہرگز دھوکا نہ کھانا ۔ اس وقت تک جب تک یہ نہ جان لو کہ وہ امر ونواہی اور شریعت کا پابند ہے "۔ حضرت بایزید بسطامی علیہ الرحمہ کے اس قول کو کچھ اضافہ کے ساتھ محدث ابونعیم نے اپن کتاب حلية الأولياء10/39 پر سنداً نقل کیا ہے۔ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي عِمْرَانَ قَالَ: سَمِعْتُ مَنْصُورَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا عِمْرَانَ مُوسَى يَقُولُ: سَمِعْتُ عُمَرَ الْبِسْطَامِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: قَالَ أَبُو يَزِيدَ:۔۔۔ تو حضرت بایزید بسطامی علیہ الرحمہ کے اس قول سے واضح ہوا کسی ولی اللہ نے اگر شریعت کی پابندی اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر ثابت ہو تو اس کی کرامات پر اعتماد ہوتا ہے ۔ اس حوالہ سے یہ نکتہ تو واضح ہوا کہ اہل سنت کے نزدیک شرف و منزلت کا دارومدار شریعت کی پابندی ہے ۔اس لیے جو لوگ صوفیاء کرام کی کرامت پر اعتراضات کرکے یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ان کی کرامات پر اعتراضات کریں گے تو ان کی شرف ومنزلت یا ان کی بزرگی پر اعتراض ثابت ہوجائے گا ،ایسا بلکل غلط اور باطل ہے۔اس لیے کرامات سے انکار کرنے سے یہ لازم نہیں کہ اس ولی اللہ کی شان میں کوئی حرف آئے گا۔اس کے برعکس اہل سنت و جماعت اولیاء صالحین کی شریعت کی پابندی اور اللہ کے نیک بندے ہونے کی وجہ سے اگر کوئی کرامات ظاہر ہو تو اس کا انکار بھی نہیں کرتے۔اولیاء صالحین کی کرامات کے منکر معتزلہ ہیں اور صوفیاء کرام کی کرامات پر یقین رکھنااہل سنت و جماعت کے عقائد میں سے ہے۔ · جب ان لوگوں کے پاس دلائل نہیں ہوتے تو ایک بات الزامی طور پر کہتے ہیں ہیں کہ صوفیاء کرام کی کرامت نہ ماننے پر کون سے شریعت کے قانون کا انکار لازم آتا ہے؟ان لوگوں سے گذارش ہے کہ اگر وہ اپنا مطالعہ وسیع کر لیں تو ان کو یہ معلوم ہوگا کہ اولیاء کرام کی کرامات کا اقرار کرنا عقائد اہل سنت کے قبیل سے ہے ۔اس پر شرعی حکم اگر کسی مفتی صاحب ہی سے پوچھ لیں تو بہتر ہوگا۔ جناب مرزا محمد علی جہلمی صاحب سے جب اولیاء کرام کی شان کے خلاف کوئی دلیل نہ ملی تو اولیاء کرام پر اعتراض کرنے کے لیے عقلی دلیل پیش کی کہ اگر کوئی ولی پانی پر چل سکتا ہے تو آج کل کوئی ایسا شخص ہے جو پانی پر چل کر دکھا سکے۔ جناب مرزا محمد علی جہلمی صاحب کی اس بات کا مقصد یہ عوام الناس کے ذہن میں یہ نکتہ راسخ کر دیا جائے کہ کیونکہ آج کوئی ولی اگر پانی پر چل نہیں سکتا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسی تمام کرامات جو کتب میں موجود ہیں وہ جھوٹی ہیں۔اور اگر ان اولیاء کرام کی کرامات جھوٹی ثابت ہوئیں تو ان کی شان و منزلت پر یقین کرنا بھی صحیح نہیں۔ مرزا محمد علی صاحب کی خدمت میں گذارش ہے کہ آپ کی دلیل عقلی و نقلی طور پر غلط ہے ،وہ اس لیے کہ 1-موجودہ کسی نیک شخص اور متقدمین اولیاء کا تقابل میں قیاس مع الفارق ہے،کیونکہ اہل سنت و جماعت نے یہ موقف واضح کیا ہے کہ ولی اللہ کے لیے کرامت کا ظہور ضرور ی نہیں،اس پر بے شمار عقائد کی کتب میں تصریحات موجود ہیں۔ 2-ولی اللہ کے لیے یہ بھی شرط نہیں کہ جب کوئی اعتراض کرے تو وہ اس کرامات کو ظہور پذیر کرنے کا پابند بھی ہو۔ 3-امت کے ولیوں میں صحابہ کرام اور تابعین و تبع تابعین کا بھی شمار ہوتا ہے،ان صحابہ کرام سے ظہور پذیر کرامات کا [جو کہ صحاح ستہ اور دیگر کتب احادیث میں مروی ہیں]اگر کوئی اس دلیل کے ساتھ رد کرے کہ ہم ان جیل القدر شخصیات کی کرامات کو تسلیم نہیں کرتے کیونکہ اگر ایسی کرامت ہوسکتی ہے تو پھر آج کا کوئی ولی ہمارے سامنے ایسی کرامات کا ظہور کر کے دکھائے۔ شاید مرزا محمد علی صاحب کو قران مجید کی ان آیات کا بغور مطالعہ کیا ہو جس میں بنی اسرائیل نے حضرت موسی علیہ السلام سے خدا کو ماننے کی شرائط رکھیں تھیں۔مرزا محمد علی جہلمی صاحب کے ان استدلال پر اتنی بات ہی بہت ہے کیونکہ قارئین کرام عقل بھی رکھتے ہیں اور شعور بھی۔ 4-جناب ایسے استدلال سے تو آپ کو صحیحین اور صحاح ستہ کی بے شمار احادیث کو غلط اور جھوٹ کہنا پڑجائے گا کیونکہ کثیر روایات میں صحابہ کرام اور تابعین و تبع تبعین کی کرامات ثابت ہیں۔ 5- اگر ان حادث صحیحہ کی کرامات کو آپ یہ کہہ کر تسلیم کرتے ہیں کہ ہم صرف اُن کرامات کو مناتے ہیں جو صحیح روایات میں منقول و ثابت ہے تو جوابا ًعرض ہے کہ پھر تو آپ کی وہ عقلی دلیل[کہ اگر پانی پر چلنا یا ہوا میں اڑنا کسی ولی سے ہو سکتا ہے تو کوئی ہمارے سامنے کر دکھائے]بھی ہبا منشور ہوجاتی ہے ،کیونکہ آپ نے کرامات کو جانچنے کا طریقہ یہ رکھا ہے کہ اگر کوئی آج کل ایسی ہی کرامت کر کے دکھا دے تو آپ اس کو مان لیں گے۔جناب مرزا صاحب،پھر تو صحابہ کرام کی ہر کرامت کو آپ کو اس وقت ماننا چاہیے جب ایسی کرامت آج کوئی آپ کے سامنے ظہور پذیر کرسکے۔ اب جناب مرزا محمد علی جہلمی صاحب خود فیصلہ کریں کہ کون سی دلیل معتبر ہے اور کون سی قابل رد۔کیونکہ آپ کے اصولوں کے مطابق اگر آپ کے سامنےظہور پذیر کرامات کو دلیل لیا جائے تو پھر کوئی بھی کرامت کیا ثابت ہو سکتی ہے؟اگر احادیث و مروایات صحیحہ کی کرامات آپ کو قبول ہیں تو دیگر اولیاء کرام کی کرامات پر انکار کیوں؟اس کا فیصلہ آپ کے چاہنے والے خود کریں تو بہتر ہوگا۔ موصوف محمد علی مرزا جہلمی صاحب کی ہر دلیل ا و رقیاس ان کے اپنے ہی خلاف جاتا ہے۔ اولیاء کرام کی کرامات تو اس تواتر سے ثابت ہیں کہ اس کا انکار کوئی ضدی یا ہٹ دھرم شخص ہی کرسکتا ہے کوئی عقل و شعور رکھنے والا ایسی بات نہیں کرسکتا۔ان کرامات کو تواتر کے ساتھ نہ صرف صوفیاء نے اپنی کتب میں بیان کیا ہے بلکہ محدثین کرام نے اولیاء کرام کی کرامات پر کتب لکھیں ہیں جن میں محدث ابن خلال اور محدث لالکائی علیہ الرحمہ کی کرامات اولیاء مشہور و معروف کتب ہیں۔ اس مقام پر مناسب ہے کہ اس امت کے اولیاء میں سے ایک ولی اللہ حضرت ابو مسلم الخولانی علیہ الرحمہ کی کرامت کا بیان کیا جائے کہ ان سے پانی پر چلنا معتبر کتب و اسانید سے محدثین کرام نے اپنی کتاب میں درج کیا ہے۔ حضرت ابو مسلم الخولانی کا پانی پر چلنا 1. امام عبداللہ سے مروی امام احمد بن حنبل نے اپنی کتاب میں حضرت ابو مسلم الخولانی کا پانی پر چلنے کا واقعہ صحیح سند کے ساتھ بیان کیا ہے۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، أَوْ غَيْرِهِ أَنَّ أَبَا مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيَّ، مَرَّ بِدِجْلَةَ وَهِيَ تَرْمِي بِالْخَشَبِ مِنْ مَدِّهَا فَمَشَى عَلَى الْمَاءِ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ: «هَلْ تَفْقِدُونَ مِنْ مَتَاعِكُمْ شَيْئًا فَتَدْعُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ»۔(الزهد أحمد بن محمد بن حنبل 1/310،رقم:2253) ترجمہ: حضرت ابو مسلم الخولانی ایک مرتبہ دجلہ کی طرف تشریف لائے،اس وقت دجلہ نے اپنے اندر تیرتی لکڑیوں کو پھینکنا شروع کردیا،اور حضرت ابو مسلم الخولانی نے پانی پر چلنا شروع کردیا اور پھر اپنے اصحاب کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا کہ اگر تمہارے سامان سے کوئی چیز کم ہوگئی تو ہم اللہ سے دعا کریں گے کہ تمہیں وہ لوٹا دے۔ 2. محدث ابو نعیم اسی روایت کو سند سے بیان کرتے ہیں۔ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ مَالِكٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، أَوْ غَيْرِهِ، أَنَّ أَبَا مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيَّ، مَرَّ بِدِجْلَةَ وَهِيَ تَرْمِي بِالْخَشَبِ مِنْ مَدِّهَا، فَمَشَى عَلَى الْمَاءِ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ: هَلْ تَفْقِدُونَ مِنْ مَتَاعِكُمْ شَيْئًا فَنَدْعُو اللهَ؟۔( حلية الأولياء وطبقات الأصفياء5/120) ترجمہ: حضرت ابو مسلم الخولانی ایک مرتبہ دجلہ کی طرف تشریف لائے،اس وقت دجلہ نے اپنے اندر تیرتی لکڑیوں کو پھینکنا شروع کردیا،اور حضرت ابو مسلم الخولانی نے پانی پر چلنا شروع کردیا اور پھر اپنے اصحاب کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا کہ اگر تمہارے سامان سے کوئی چیز کم ہوگئی تو ہم اللہ سے دعا کریں گے کہ تمہیں وہ لوٹا دے۔ 3. محدث لالکائی روایت نقل کرتے ہیں۔ أَخْبَرَنَا عَلِيٌّ، أنا الْحُسَيْنُ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ: ثنا أَبُو مُوسَى هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: ثنا أَبُو النَّضْرِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ قَالَ: انْتَهَى أَبُو مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيُّ إِلَى دِجْلَةَ وَهِيَ تَرْمِي بِالْخَشَبِ مِنْ مَدِّهَا فَمَشَى عَلَى الْمَاءِ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: هَلْ تَفْقِدُونَ شَيْئًا فَنَدْعُو اللَّهَ تَعَالَى؟ (كرامات الأولياء للالكائي: ص188،رقم149) ترجمہ: حضرت ابو مسلم الخولانی ایک مرتبہ دجلہ کی طرف تشریف لائے،اس وقت دجلہ نے اپنے اندر تیرتی لکڑیوں کو پھینکنا شروع کردیا،اور حضرت ابو مسلم الخولانی نے پانی پر چلنا شروع کردیا اور پھر اپنے اصحاب کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا کہ اگر تمہارے سامان سے کوئی چیز کم ہوگئی تو ہم اللہ سے دعا کریں گے کہ تمہیں وہ لوٹا دے۔ 4. امام ابن الدنیا اس روایت کو اپنی سندسے بیان کرتے ہیں۔ حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ قَالَ: " انْتَهَى أَبُو مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيُّ إِلَى دِجْلَةَ وَهِيَ تَرْمِي بِالْخَشَبِ مِنْ مَدِّهَا، فَمَشَى عَلَى الْمَاءِ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: هَلْ تَفْقِدُونَ شَيْئًا؟ فَتَدْعُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ "۔ (مجابو الدعوة1/68،رقم86) ترجمہ: حضرت ابو مسلم الخولانی ایک مرتبہ دجلہ کی طرف تشریف لائے،اس وقت دجلہ نے اپنے اندر تیرتی لکڑیوں کو پھینکنا شروع کردیا،اور حضرت ابو مسلم الخولانی نے پانی پر چلنا شروع کردیا اور پھر اپنے اصحاب کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا کہ اگر تمہارے سامان سے کوئی چیز کم ہوگئی تو ہم اللہ سے دعا کریں گے کہ تمہیں وہ لوٹا دے۔ 5. امام بیھقی اپنی کتاب میں روایت نقل کرکے تحریر کرتے ہیں۔ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أَنْبَأَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ السَّمُرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ السَّرَّاجُ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، أَنَّ أَبَا مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيَّ جَاءَ إِلَى الدِّجْلَةِ وَهِيَ تَرْمِي الْخَشَبَ مِنْ مَدِّهَا، فَمَشَى عَلَى الْمَاءِ وَالْتَفَتَ إِلَى أَصْحَابِهِ، وَقَالَ: هَلْ تَفْقِدُونَ مِنْ مَتَاعِكُمْ شَيْئًا فَنَدْعُوَ اللهَ. هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ۔ (دلائل النبوة6/54) ترجمہ: حضرت ابو مسلم الخولانی ایک مرتبہ دجلہ کی طرف تشریف لائے،اس وقت دجلہ نے اپنے اندر تیرتی لکڑیوں کو پھینکنا شروع کردیا،اور حضرت ابو مسلم الخولانی نے پانی پر چلنا شروع کردیا اور پھر اپنے اصحاب کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا کہ اگر تمہارے سامان سے کوئی چیز کم ہوگئی تو ہم اللہ سے دعا کریں گے کہ تمہیں وہ لوٹا دے۔امام بیھقی نے فرمایا کہ اس کی اسناد صحیح ہیں۔ صوفیاء پر سب سے زیادہ نقل کرنے والے محدث ابن الجوزی کو جب اپنی تحریر کے بارے میں احساس ہوا تو انہوں نے اپنے موقف سے رجوع کرتے ہوئے صوفیاء کرام کی کرامات کا اقرار بھی کیا اور اسے بیان بھی کیا اورصوفیاء کے حالات پر ایک تفصیلی کتاب صفوۃ الصفوۃ بھی لکھی۔ 6. محدث ابن الجوزی حضرت ابو مسلم الخولانی کے بارے میں لکھتے ہیں۔ سليمان بن المغيرة قال: جاء مسلم بن يسار إلى دجلة وهي تقذف بالزبد، فمشى على الماء ثم التفت إلى أصحابه فقال: هل تفقدون شيئاً؟. (صفة الصفوة 2/142) ترجمہ: حضرت ابو مسلم الخولانی ایک مرتبہ دجلہ کی طرف تشریف لائے،اس وقت دجلہ نے اپنے اندر تیرتی لکڑیوں کو پھینکنا شروع کردیا،اور حضرت ابو مسلم الخولانی نے پانی پر چلنا شروع کردیا اور پھر اپنے اصحاب کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا کہ کیا تم اپنے سامان کے بارے میں فکر مند ہو۔ 7. امام نووی جنہوں نے مسلم شریف کی شرح لکھی جو شرح نووی کے نام سے مشہور و معروف ہے،انہوں نے اپنی کتاب میں بھی حضرت ابو مسلم الخولانی کی کرامت کو بیان کر کے اس کو تسلیم کیا ہے۔ امام نووی فرماتے ہیں۔ ومن نفائس كراماته ما رواه الامام أحمد بن حنبل في كتاب الزهد له أن أبا مسلم الخولاني مر بدجلة وهي ترمي الخشب من برها فمشي على الماء ثم التفت إلى الصحابة فقال هل تفقدون من متاعكم شيئا فتدعوا الله عز وجل. (بستان العارفين1/71) ترجمہ: حضرت ابو مسلم الخولانی ایک مرتبہ دجلہ کی طرف تشریف لائے،اس وقت دجلہ نے اپنے اندر تیرتی لکڑیوں کو پھینکنا شروع کردیا،اور حضرت ابو مسلم الخولانی نے پانی پر چلنا شروع کردیا اور پھر اپنے اصحاب کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا کہ اگر تمہارے سامان سے کوئی چیز کم ہوگئی تو ہم اللہ سے دعا کریں گے کہ تمہیں وہ لوٹا دے۔ مذکورہ بالا تحقیق سے یہ معلوم ہوا کہ حضرت ابو مسلم الخولانی سے یہ کرامت صحیح سند کے ساتھ ثابت ہے اور محدثین کرام نے اس کرامت کو اپنی کتب میں بیان کر کے کرامت پر دلیل بھی پیش کی ہے۔ محدثین کرام کی نظر میں - اولیاء کا پانی پر چلنا صحابہ کرام و اولیاء امت سےاسانید صحیحہ سے ایسی کرامات ثابت ہی جس میں دریا کا پھٹنا،ان کا ہٹنا اور پانی پر چلنا۔دریا کا پھٹنا اور دریا کا راستہ دینا تو مرویات صحیحہ میں صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت سعدبن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور حضرت العلاء بن الحضرمی رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے۔اس کے بارے میں تفصیل کے ساتھ کتب احادیث میں روایات موجود ہیں۔ محدث علامہ سبکی کی تحقیق: · محدث علامہ سبکی علیہ الرحمہ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں۔ النَّوْع الثَّالِث انفلاق الْبَحْر وجفافه والمشى على المَاء وكل ذَلِك كثير وَقد اتّفق مثله لشيخ الْإِسْلَام وَسيد الْمُتَأَخِّرين تقى الدّين بن دَقِيق العَبْد۔ (طبقات الشافعية الكبرى2/339) ترجمہ: دریا کا پھٹ جانا،دریا کے پانی کا کم ہوجانا اور پانی پر چلنا ،ایسی کرامات بھی لاتعداد ہیں۔شیخ الاسلام سید المتاخرین حضرت تقی الدین دقیق العید سے بھی ایسی کرامات کا ظہور ہوا ہے۔ قارئین کرام کو یہ بخوبی علم ہوگا کہ علامہ سبکی ایک جلیل القدر شافعی محدث تھے،جنہوں نے ایسی کرامات کے ظہور کا نہ صرف اقرار کیا بلکہ محدث ابن دقیق العید جو کہ علامہ ذہبی کے شیخ تھےان سے بھی ایسی کرامات کے ظہور کا لکھا ہے۔ اب ہم جناب محمد علی مرزا جہلمی صاحب سے یہ پوچھنے کا حق رکھتے ہیں کہ جناب آپ تو اہل سنت و جماعت کے اکابرین کا تمسخر اڑاتے ہیں کہ" دیکھو جی ان کی کتب میں لکھا ہے کہ فلاں ولی پانی پر چلتے تھے"،ی"ہ دیکھو جی ان کے بابے"۔ان جیسے الفاظ سے جو آپ نے اولیاء امت کا ٹھٹہ اڑایا،اب آپ کا ان محدثین کرام کے بارے میں کیا رائے ہے؟پانی پر چلنے والی کرامت کا اقرار ایک عظم محدث علامہ سبکی نے کی اور اس کا ثبوت محدث ابن دقیق العید سے دیا۔ابن دونوں جیل القدر محدثین کرام کا تمسخر بھی اسی طرح اڑائیں گے یا پھر علمی روش کو اپناتے ہوئے اپنے موقف پر کوئی نظر ثانی بھی کریں گےیا نہیں؟ جناب محمد علی مرزا صاحب نے اولیا امت کی ایسی کرامات کو نقل کرنے پر نہ صرف علماء اہل سنت کو ہدف تنقید بنایا بلکہ ان ہستیوں کے ذکر کرنے پر بہت لعن طعن بھی کیا اور ان اکابرین کو اہل سنت کے "بابے" جیسے الفاظ بھی استعمال کیے۔لفظ بابے پر جناب مرزا محمد علی جہلمی صاحب یہ موقف پیش کرسکتے ہیں کہ" بابے "پنچابی کالفظ ہے اور اس کا مطلب بزرگ ہوتا ہے۔عرض یہ ہے کہ ہر لفظ کے استعمال کا جہاں موقع محل ہوتا ہے وہاں سیاق و سباق بھی لفظ کے معنی متعین کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔مرزا صاحب کی یہ تاویل قابل سماع ہر گز نہیں کیونکہ تقریر وہ اردو میں کرتے ہیں اور درمیان میں مطعون کرنے کے لیے ایسے لفظ کا استعمال یہ واضح کرتے ہیں کہ اکابرین اہل سنت اور اولیاء امت پر طعن و تشنیع مقصد ہے۔بہرحال ہو جس انداز میں گفتگو کرنا چاہیں مگر اب یہ بھی غور کریں کہ اولیاء امت کی کرامات کو ذکر کر کے محدثین کرام کو جناب محمد علی مرزا صاحب کن الفاظ سےپکاریں گے؟ قارئین کرام کی خدمت میں پہلے تو روایت صحیحہ پیش کردی گئی ہے کہ پانی پر چلنا تابعین کرام سےبھی ثابت ہے۔اب جناب محمد علی مرزا جہلمی صاحب کی خدمت میں محدثین کرام کے بے شمار حوالہ جات میں سے چند حوالے پیش خدمت ہیں۔ محدث ابن رجب حنبلی کی تحقیق: · محدث ابن رجب حنبلی اپنی کتاب میں علامہ ذہبی کے حوالہ سے فقیہ ابو الموفق ابن قدامہ کا پانی پر چلنا کا اثبات کرتے ہیں۔ وقرأت بخط الحافظ الذهبي: سمعت رفيقنا أبا طاهر أَحْمَد الدريبي سمعت الشيخ إِبْرَاهِيم بْن أَحْمَد بْن حاتم - وزرت مَعَهُ قبر الشيخ الموفق - فَقَالَ: سمعت الفقيه مُحَمَّد اليونيني شيخنا يَقُول: رأيت الشيخ الموفق يمشي عَلَى الماء. ذيل طبقات الحنابلة 3/291 ترجمہ: اپنے شیخ الفقیہ محمد الیونینی سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ میں نے شیخ الموفق کو پانی پر چلتے دیکھا۔ محدث ابن ملقن شافعی کا حوالہ: · محدث ابن ملقن شافعی ،یہ حافظ ابن حجر عسقلانی کی شیخ اور استاد ہیں ،اصول حدیث المقنع اور حدیث پر البدر المنیراور صحیح بخاری کی شرح مشہور و معروف ہیں،اپنی کتاب طبقات الاولیا میں امام ابراھیم بن سعد العلوی کے ترجمہ میں ان کا پانی پر نماز پڑھنے کا واقعہ نقل کیا ہے ۔ حكى عنه أبو الحارث، قال: " كنت معه فى البحر، فبسط كساءه على الماء وصلى عليه ". طبقات الأولياء 1/24 ترجمہ:حضرت ابو الحارث فرماتے ہیں کہ میں ایک بار سمندرمیں ان کے ساتھ تھا،آپ نے اپنا مصلی پانی پر بچھایا اور اس کے اوپر آپ نے نماز ادا کی۔ حضرت ابراھیم بن سعد العلوی کا سمندر میں پانی پرنماز پڑھنے کا واقعہ صرف محدث ابن ملقن نے ہی نہیں لکھا،بلکہ اس واقعہ کو سند کے ساتھ خطیب بغدای اور محدث ابن عساکر نے بھی روایت کیا ہے۔محدث خطیب بغدادی کا حوالہ: · محدث خطیب بغدادی لکھتے ہیں: عنه أَبُو الحارث.قَالَ: كنت معه فِي البحر فبسط كساءه عَلَى الماء وصلى عَلَيْهِ۔. تاريخ بغداد وذيوله 6/84 ترجمہ:حضرت ابو الحارث فرماتے ہیں کہ میں ایک بار سمندر میں ان کے ساتھ تھا،آپ نے اپنا مصلی پانی پر بچھایا اور اس کے اوپر آپ نے نماز ادا کی۔ محث حافظ بن عساکر کا حوالہ:· حافظ ابن عساکر لکھتے ہیں: عنه أبو الحارث قال كنت معه في البحر فبسط كساءه على الماء وصلى عليه۔( تاريخ دمشق6/401) ترجمہ:حضرت ابو الحارث فرماتے ہیں کہ میں ایک بار سمندرمیں ان کے ساتھ تھا،آپ نے اپنا مصلی پانی پر بچھایا اور اس کے اوپر آپ نے نماز ادا کی۔ مذکورہ بالا حوالہ جات محدثین کرام کی کتاب سے ہیں،کسی سنی بریلوی کی متاخر کتب سے کوئی حوالہ موجود نہیں،اب ان حوالہ جات کو پڑھ کر جناب محمد علی مرزا جہلمی صاحب کوئی نظر ثانی کا پروگرام رکھتے ہیں؟ یا پھر اہل سنت و جماعت سے ہی کوئی خاص دلی لگاو ہے۔ اس مضمون میں اگر کوئی خطاء یا غلطی ہو تو آگاہ کریں،اگر تحریر مسلک یا تعصب سے پاک لگے تو اس پر عمل کریں۔اللہ کریم سے دعا ہے کہ ہمیں حق بات کرنے اور اکابرین اہل سنت کا ادب و احترام کی توفیق عطا فرما۔
    4 points
  4. غیرمقلد زبیرعلی زئی اور اس کے استاد بدیع الزمان سندھی کی صحیح بخاری کی ایک سند پر تحقیقی تبصرہ گستاخ المحدثین زبیرعلی زئی غیرمقلد اپنے استادبدیع الزمان سندھی کے ایک رسالہ "منجدالمستجیز لروایۃ السنۃ والکتاب العزیز" کے بارے میں لکھتاہے۔ یہ رسالہ شاہ صاحب کی اسناد کا مجموعہ ہے جو آپ اپنے شاگردوں اور مستجیزین کو مرحمت فرماتے تھے۔آپ نے اپنے دستخطوں اور مہر کے ساتھ 8/7/1406 ھ کو یہ اجازت نامہ مجھے بھی عطا فرمایا تھا۔اس میں ایک مقام پر آپ نے صحیح بخاری کی سند درج ذیل الفاظ میں رقم کی: "فاخبرنی الشیخ عبدالحق الھاشمی قال:اخبرنا احمد بن عبداللہ بن سالم البغدادی عن عبدالرحمن بن حسن بن محمد بن عبدالوھاب عن جدہ شیخ الاسلام عن عبداللہ بن ابراھیم المدنی عن عبدالقادر التغلبی عن عبدالباقی عن احمد الوفائی عن موسی الحجازی عن احمد الشویکی عن العسکری عن الحافظ شمس الدین ابن القیم عن شیخ الاسلام الحافظ تقی الدین ابی العباس ابن تیمیۃ عن الفخرابن البخاری عن ابی ذرالھروی عن شیوخہ الثلاثۃ السرخسی والمستملی والکشمیھنی عن محمد بن یوسف الفربری عن امام الدنیا ابی عبداللہ محمدبن اسماعیل البخاری" (منجدالمستجیز ص 10-11) اس سند میں نہ شاہ ولی اللہ دہلوی ہیں اور نہ شاہ عبدالعزیز و محمداسحاق (تحقیقی، اصلاحی اور علمی مقالات ج1 ص 488-489) زبیر زئی غیرمقلدوں کے لیے ثقہ محدث ہے کیونکہ وہ جو بھی نقل کرتا ہے غیرمقلدوں کے لیے قابل اعتماد ہوتا ہے اکثر غیرمقلد اس کی ہی باتوں کو صحیح سمجھتے ہیں۔ اس لیے ہم اس زبیرعلی زئی کی تحریر پر ہی تحقیق کر کےاس کی اور اس کے استاد کی صحیح بخاری کی اس سند کو ضعیف و باطل ثابت کرتے ہیں۔ غیرمقلد زبیرعلی زئی کی پیش کردہ سند کی صحیح اسنادی تحقیق: غیرمقلد زبیر علی زئی کی پیش کردہ صحیح بخاری کی یہ سند معضل منقطع اور باطل ہے کیونکہ فخرابن بخاری کا ابوذرالہروی سے نہ ملاقات ثابت اور نہ ہی سماع بلکہ امام فخرابن بخاری کی پیدائش سے پہلے ہی امام ابوذرالہروی وفات پاچکے تھے۔ امام فخر ابن بخاری کی پیدائش کی تاریخ: امام ذہبی لکھتے ہیں: عَلِيّ بْن أَحْمَد بْن عَبْد الواحد بْن أَحْمَد، الشّيْخ الإِمَام، الصّالح، الورع، المعمّر، العالم، مُسْند العالم، فخر الدّين، أَبُو الْحَسَن ابن العلامة شمس الدّين أَبِي الْعَبَّاس المقدسيّ، الصّالحيّ، الحنبليّ، [المتوفى: 690 هـ] المعروف والده بالبُخاري. وُلِد فِي آخر سنة خمسٍ وتسعين وخمسمائة. 595ہجری سال کے آخر میں پیداہوئے۔ (تاریخ الاسلام،15/665) اور امام ذہبی نے ابن تیمیہ کو امام فخرابن بخاری کے شاگردوں میں لکھا۔اس کا ثبوت یہ ہے وقد روى عَنْهُ الدمياطيّ وقاضي القضاة ابن دقيق العيد، وقاضي القضاة ابن جماعة، وقاضي القضاة ابن صَصْرى، وقاضي القضاة تقيّ الدّين سُلَيْمَان، وقاضي القضاة سعد الدّين مَسْعُود، وأبو الحَجّاج المِزّيّ، وأبو مُحَمَّد البِرْزاليّ، وشيخنا أَبُو حفص ابن القواس، وأبو الوليد بن الحاج، وأبو بَكْر بْن القاسم التُّونسيّ المقرئ، وأبو الْحَسَن عَلِيّ بْن أيّوب المقدسيّ، وأبو الْحَسَن الختني، وأبو محمد ابن المحب، وأبو محمد الحلبي، وأبو الحسن ابن العطّار، وأبو عَبْد اللَّه العسقلاني رفيقنا، وأبو العباس البكري الشريشي، وأبو العباس ابن تيمية. (تاریخ الاسلام،15/665) بلکہ امام ذہبی نے ابن تیمیہ سے امام فخربن بخاری کی تعریف نقل کی جو یہ ہے۔ وقال شيخنا ابن تيمية: ينشرح صدري إذا أدخلت ابن البخاري بيني وبين النبي صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حديث. اور ہمارے شیخ ابن تیمیہ نے کہا: میرا سینہ کھل گیا جب میں نے (فخر) ابن بخاری کو اپنے اور نبی ﷺ کے درمیان (سند)حدیث میں داخل کیا۔ (تاریخ الاسلام،15/665) اس سے واضح ہو گیا کہ ابن تیمیہ امام فخرابن بخاری سے ہی روایت نقل کرتا ہے جن کی پیدائش 595 ہجری کو ہوئی۔ علامہ ابن رجب نے بھی امام فخر ابن بخاری کی پیدائش 795 کے آخر یا 796 ہجری کے شروع میں لکھتے ہیں جس کا ثبوت یہ ہے۔ علي بن أحمد بن عَبْد الْوَاحِد بْن أَحْمَد بْن عَبْد الرَّحْمَنِ السعدي، المقدسي الصالحي، الفقيه المحدث المعمر، سند الوقت، فخر الدين أَبُو الْحَسَن، ابْن الشيخ شمس الدين الْبُخَارِي، وَقَدْ سبق ذكر أَبِيهِ، وعمه الحافظ الضياء. ولد فِي آخر سنة خمس وسبعين وخمسمائة، أو أول سنة ست وسبعين. 575 ہجری کے آخر میں پیدا ہوئےیا 76سال کے شروع میں (ذیل طبقات الحنابلۃ4/241-242) مجھے لگتا ہے علامہ ابن رجب سے خطا ہو گئی جو انہوں نے تسعین کی جگہ سبعین لکھ دیا ۔ (واللہ اعلم) امام زرکلی نے بھی امام فخرابن بخاری کی پیدائش 595 ہجری ہی لکھی ہے یہ ہے اس کا ثبوت ابن البُخاري (595 - 690 هـ = 1199 - 1291 م) علي بن أحمد بن عبد الواحد السعدي المقدسي الصالحي الحنبلي، فخر الدين، أبو الحسن، المعروف بابن البخاري: عالمة بالحديث، نعته الذهبي بمسند الدنيا. أجاز له ابن الجوزي وكثيرون. قال ابن تيمية: ينشرح صدري إذا أدخلت ابن البخاري ببيني وبين النبي صلى الله عليه وسلم في حديث. وحدث نحوا من ستين سنة، ببلاد كثيرة بدمشق ومصر وبغداد وغيرها. (الاعلام للزرکلی 4/257) اس بات سے واضح ہو گیا کہ امام فخر ابن بخاری 595 ہجری میں ہی پیدا ہوئے۔ امام ابوذرالہروی کی وفات کی تاریخ خطیب بغدادی امام ابوذر الہروی کی وفات کے بارے میں لکھتے ہیں: ومات بمكة لخمس خلون من ذي القعدة سنة أربع وثلاثين وأربعمائة. اور مکہ میں فوت ہوئے 5 ذی القعد سن 434 ہجری کو تاريخ بغداد(12/456، رقم 5791) امام ابن عساکر امام ابوذر الہروی کی وفات 434 ہجری ہی کو لکھتے ہیں توفي أبو ذر عبد بن أحمد بن محمد الهروي الحافظ رحمه الله بمكة لخمس خلون من ذي القعدة سنة أربع وثلاثين وأربعمائة (تاریخ دمشق، ج37، ص393، رقم 4413) علامہ ابن منظور بھی امام ابو ذر الہروی کی وفات 434 ہجری کو ہی لکھتے ہیں: مات بمكة لخمس خلون من ذي القعدة سنة أربع وثلاثين وأربعمائة. (مختصر تاریخ دمشق، ج 15، ص 299) علامہ برہان الیعمری (متوفی 799ھ) امام ابوذرالہروی کی وفات 435 ہجر ی لکھتے ہیں اس کا ثبوت یہ ہے۔ توفي رحمه الله تعالى في ذي القعدة سنة خمس وثلاثين وأربعمائة. الديباج المذهب في معرفة أعيان علماء المذهب (2/132) امام ذہبی بھی امام ابوذر الہروی کی وفات 434 ہجری ہی لکھتے ہیں جس کا ثبوت یہ ہے۔ مَاتَ بِمَكَّةَ فِي ذِي القَعْدَةِ سَنَةَ أَرْبَعٍ وثَلاَثِيْنَ وَأَرْبَعِ مائَةٍ (سیر اعلام النبلاء 17/557) ان آئمہ حدیث کی تحقیق سے ثابت ہو گیا کہ امام ابوذر الہروی کی وفات 434 یا 435 ہجری میں ہوئی ہے۔اور جب امام ابوذرالہروی کی وفات ہوئی اس وقت امام فخرابن بخاری پیدا بھی نہیں ہوئے تھے کیونکہ ان کی پیدائش 595 یا 596 ہجری میں ہوئی ہے۔ امام ابوذر الہروی کی وفات اور امام فخرابن بخاری کی پیدائش میں تقریبا 160 یا 161 سال کا فاصلہ ہے ۔ پھر زبیر علی زئی اور اس کے استاد نے اپنی سند میں الفخرابن البخاری عن ابی ذرالھروی کیسے کہہ دیا؟؟؟ کم از کم دو تین اور راویوں کا فاصلہ ہے سند میں۔ لہذا ہماری بات کا خلاصہ تحقیق یہ ہے کی گستاخ المحدثین زبیرعلی زئی اور اس کے استاد کی بخاری شریف کی یہ سند معضل منقطع اور باطل ہے۔کیونکہ یہ سند متصل نہیں 160 یا161 سال کا فاصلہ ہے رواۃ میں۔ گستاخ المحدثین ز بیر علی زئی کو میرا یہ کہنا ہے کہ اس سند سے تو شاہ ولی اللہ ،شاہ عبدالعزیز سے اس لیے بچ رہا تھا کے وہ تقلید کرتے ہیں لیکن خود زبیر علی زئی اور اس کے استاد کی اس مردود سند میں بھی مقلد راوی موجودہیں ۔امام ابوذرالہروی خود امام مالک کے مقلد ہیں۔ امام ابن عساکر امام ابوذر الہروی کے بارے میں لکھتے ہیں: توفي أبو ذر عبد بن أحمد بن محمد الهروي الحافظ رحمه الله بمكة لخمس خلون من ذي القعدة سنة أربع وثلاثين وأربعمائة وكان يذكر أن مولده سنة خمس أو ست وخمسين وثلاثمائة شك في ذلك كذا ذكر شيخنا الإمام الحافظ أبو بكر الخطيب رحمه الله وكذا رأيته بخط أبي عبد الله الحميدي رحمه الله وكان أحد الحفاظ الأثبات وكان علي مذهب مالك بن أنس رحمه الله عليه في الفروع ومذهب أبي الحسن في الأصول (تاریخ دمشق، ج37، ص393، رقم 4413) امام ذہبی لکھتے ہیں امام ابوذر الہروی کے بارے میں لکھتے ہیں: وَكَانَ عَلَى مَذْهَبِ مَالِكٍ وَمَذْهب الأَشْعَرِيِّ (سیر اعلام النبلاء 17/557) جب غیرمقلد تقلید کو حرام سمجھتے ہیں تو مقلد راویوں سے سند حدیث کیوں لیتے ہیں؟؟؟ ایک آخری بات جب کوئی سنی حنفی ا مام ابوحنیفہ کو امام الاعظم کہتا ہے تو غیرمقلد فورا اعتراض شروع کر دیتے ہیں لیکن خود اپنا غیرمقلد زبیرعلی زئی اور اس کا استاد بدیع الزمان امام بخاری کو امام الدنیا لکھ رہے ہیں اپنی سند حدیث میں تو پھر غیرمقلد خاموش کیوں ہیں؟؟؟ لگتا ہے ان کے ہاں اپنوں کے لیے خصوصی رعایت ہے باقیوں کے لیے بدعت کے فتوے تیار رکھتے ہیں۔ زبیر علی زئی اور اس کے استاد کی سند کو مردود ثابت کرنے کے لئے اور بھی حوالہ جات موجود ہیں لیکن محققین حدیث کے لیے اتنے حوالہ جات بھی کافی ہیں ۔ خادم حدیث شریف الفقیر رضاءالعسقلانی
    4 points
  5. ایاک نعبد اور وایاک نسعین کا صحیح فہم کتب تفاسیر سے ایک آیت کی پانچ معتبر کتب تفسیر سے وضاحت کہ علماء نے اسے کیسے سمجھا اسکی تفصیل درج ذیل ہے۔ طالب دعا محمد عمران علی حیدری ✍️( درخواست ساری پوسٹ پڑھیں اور بزرگوں کو فالو کریں👏👏 ⛲أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم⛲ ⛲بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ⛲ یا اللہ جَلَّ جَلَالُہٗ یارسول ﷺ اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہ وعَلٰی اٰلِکَ وَ اَصْحٰبِکَ یَا حَبِیْبَ اللہ اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا نَبِیَّ اللّٰہ وَعَلٰی اٰلِکَ وَ اَصْحٰبِکَ یَا نُوْرَ اللّٰہ 🌹 فیض رضا جاری رہے گا⛲ اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ ترجمہ: اے پروردگار ! ) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مددچاہتے ہیں۔.. مختلف کتب سے تفاسیر پیش خدمت ہیں ھدایت اللہ نے دینی ہے بس۔۔۔ 1نمبر 📘ضیاالقرآن📕 9 ف عبادت کیا ہے ؟ آپ کو لغت و تفسیر کی ساری کتابوں میں اس کا یہ معنی ملے گا۔ اقصی غایۃ الخضوع والتذلل یعنی حددرجہ کی عاجزی اور انکسار۔ مفسرین اس کی مثال سجدہ سے دیتے ہیں۔ حالانکہ صرف سجدہ ہی عبادت نہیں بلکہ حالت نماز میں تمام حرکات و سکنات عبادت ہیں۔ ہاتھ باندھ کر کھڑے ہونا، رکوع اور رکوع کے بعد ہاتھ چھوڑ کر کھڑے ہونا، سجدہ اور اس کے بعد حالت التحیات میں دو زانو بیٹھنا، سلام کے لئے دائیں بائیں منہ پھیرنا۔ یہ سب عبادت ہیں اگر عبادت صرف تذلل و انکسار کے آخری مرتبہ کا نام ہے اور یہ آخری مرتبہ سجدہ ہی ہے تو کیا یہ باقی چیزیں عبادت نہیں۔ اس کا تو تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اور اگر یہ ساری چیزیں مطلقا عبادت ہیں تو اگر کوئی شاگرد اپنے استاد کے سامنے اور بیٹا اپنے باپ کے سامنے دو زانو ہو کر بیٹھتا ہے یا ان کی آمد پر کھڑا ہوجاتا ہے تو کیا یہ کہنا درست ہوگا کہ اس نے اپنے استاد یا باپ کی عبادت کی اور ان کو اپنا معبود بنا لیا۔ حاشاد وکلا۔ پھر وہ کونسی چیز ہے ہے جو ان حرکات و سکنات کو اگر یہ نماز میں ہوں تو عبادت بنا دیتی ہے اور یوں کھڑے ہونے کو (ہاتھ باندھے یا کھولے ہوئے) اور اس طرح بیٹھنے کو اور دائیں بائیں منہ پھیرنے کو تذلل و انکسار کے آخری مرتبہ پر پہنچا دیتی ہے۔ اور اگر یہی امور نماز سے خارج ہوں تو نہ ان میں غایتہ خضوع ہے اور نہ یہ عبادت متصور ہوتے ہیں۔ تو اس کا ممیز ایک ہی ہے اور وہ یہ کہ جس ذات کے لئے اور جس کے سامنے آپ یہ افعال کر رہے ہیں اس کے متعلق آپ کا عقیدہ کیا ہے۔ اگر آپ اس کو اللہ اور معبود یقین کرتے ہیں تو یہ سب اعمال عبادت ہیں اور سب میں غایتہ تذلل و خضوع پایا جاتا ہے لیکن اگر آپ اس کو عبد اور بندہ سمجھتے ہیں نہ خدا، نہ خدا کا بیٹا، نہ اس کی بیوی، نہ اس کا اوتار تو یہ اعمال عبادت نہیں کہلائیں گے۔ ہاں آپ ان کو احترام، اجلال اور تعظیم کہہ سکتے ہیں۔ البتہ شریعت محمدیہ علی صاحبہا اجمل الصلاۃ واطیب السلام میں غیر خدا کے لئے سجدہ تعظیمی بھی ممنوع ہے۔ یہ سمجھ لینے کے بعد اب یہ بات خود بخود واضح ہوگئی کہ اللہ تعالی کی ذات پاک کے بغیر کوئی دوسری چیز ایسی نہیں جس کی عبادت شرعا یا عقلا درست ہو۔ سب سے بالاتر اور قوی تر وہ، سب کا خالق اور سب کو اپنی تربیت سے مرتبہ کمال تک پہنچانے والا وہ لطف وکرم پیہم مینہ برسانے والا وہ، بندہ ہزار خطائیں کرے لاکھوں جرم کرے اپنی رحمت سے معاف فرمانے والا وہ، اور قیامت کے دن ہر نیک وبد کی قسمت کا فیصلہ فرمانے والا وہ، تو اسے چھوڑ کر انسان کسی غیر کی عبادت کرے تو آخر کیوں ؟ بلکہ اس کے بغیر اور ہے ہی کون جو معبود اور اللہ ہو اور اس کی پرستش کی جائے ؟ اسی لیے قرآن نے ہمیں صرف یہی تعلیم نہیں دی کہ نعبدک کہ ہم تیری عبادت کرتے ہیں کیونکہ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ہم تیری عبادت کرتے ہیں اور تیرے ساتھ اوروں کی بھی۔ بلکہ یہ سبق سکھایا کہ ایاک نعبد۔ صرف تیری ہی ہم عبادت کرتے ہیں اور کسی کی نہیں کرتے مفسرین کرام نے ایاک کو مقدم کرنے میں حصرو تخصیص کے علاوہ دیگر لطائف کا بھی ذکر فرمایا ہے۔ فرماتے ہیں یہاں تین چیزیں ہیں۔ عابد، عبادت اور معبود۔ عارف کو چاہیے کہ اس مقام پر اپنے آپ کو بھی بھول جائے۔ عبادت کو بھی مقصود نہ بنائے بلکہ اس کی نگاہ ہو تو صرف اپنے معبود حقیقی پر تاکہ اس کے انوار جمال و جلال کے مشاہدہ میں استغراق کی نعمت سے سرفراز کیا جائے۔ اس لئے فرمایا ایاک نعبد۔ عابد واحد ہے لیکن صیغہ جمع کا استعمال کر رہا ہے۔ اس میں نکتہ یہ ہے کہ اپنی ناقص عبادت کو مقربین بارگاہ صمدیت کی اخلاص ونیاز میں ڈوبی ہوئی عبادت کے ساتھ پیش کرے تاکہ ان کی برکت سے اس کی عبادت کو بھی شرف پذیرائی نصیب ہو۔ 1 ٠ ف یعنی جیسے ہم عبادت صرف تیری ہی کرتے ہیں اسی طرح مدد بھی تجھی سے طلب کرتے ہیں تو ہی کارساز حقیقی ہے تو ہی مالک حقیقی ہے ہر کام میں ہر حاجت میں تیرے سامنے ہی دست سوال دراز کرتے ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس عالم اسباب میں اسباب سے قطع نظر کرلی جائے۔ بیمار ہوئے تو علاج سے کنارہ کش، تلاش رزق کے وقت وسائل معاش سے دست بردار، حصول علم کے لئے صحبت استاد سے بیزار۔ اس طریقۂ کار سے اسلام اور توحید کو کوئی سروکار نہیں۔ کیونکہ وہ جو شافی، رزاق اور حکیم ہے اسی نے ان نتائج کو ان اسباب سے وابستہ کردیا ہے۔ اسی نے ان اسباب میں تاثیر رکھی ہے۔ اب ان اسباب کی طرف رجوع استعانت بالغیر نہیں ہوگی۔ اسی طرح ان جملہ اسباب میں سب سے قوی تر اور اثر آفریں سبب دعا ہے۔ حضور علیہ الصلوۃ والتسلیم نے فرمایا دعاء یرد القضاء کہ دعا تو تقدیر کو بھی بدل دیتی ہے۔ اور اس میں بھی کلام نہیں کہ محبوبان خدا کے ساتھ اللہ تعالی کا وعدہ ہے کہ وہ ان کی عاجزانہ اور نیاز مندانہ التجاؤں کو ضرور شرف قبول بخشے گا۔ چنانچہ حدیث قدسی جسے امام بخاری (رح) اور دیگر محدثین نے روایت کیا ہے میں مذکور ہے کہ اللہ تعالی اپنے مقبول بندوں کے متعلق ارشاد فرماتا ہے۔ لان سألنی لاعطینہ ولان استعاذنی لاعیذنہ۔ اگر میرا مقبول بندہ مجھ سے مانگے گا تو میں ضرور اس کا سوال پورا کروں گا۔ اور اگر وہ مجھ سے پناہ طلب کرے گا تو میں ضرور اسے پناہ دوں گا۔.. تو اب اگر کوئی شخص ان محبوبان الہی کی جناب میں خصوصا حبیب کبریا علیہ التحیۃ والثناء کے حضور میں کسی نعمت کے حصول یا کسی مشکل کی کشود کے لئے التماس دعا کرتا ہے تو یہ بھی استعانت بالغیر اور شرک نہیں بلکہ عین اسلام اور عین توحید ہے۔ ہاں اگر کسی ولی، شہید یا نبی کے متعلق کسی کا یہ عقیدہ ہو کہ یہ مستقل بالذات ہے اور خدا نہ چاہے تب بھی یہ کرسکتا ہے تو یہ شرک ہے اور ایسا کرنے والا مشرک ہے۔ اس حقیقت کو حضرت شاہ عبد العزیز (رح) نے نہایت بسط کے ساتھ اپنی تفسیر میں رقم فرمایا ہے۔ اور اس کا ماحصل مولانا محمود الحسن صاحب نے اپنے حاشیہ قرآن میں ان جامع الفاظ میں بیان کیا ہے :۔ ” اس آیت شریفہ سے معلوم ہوا کہ اس کی ذات پاک کے سوا کسی سے حقیقت میں مدد مانگنی بالکل ناجائز ہے۔ ہاں اگر کسی مقبول بندہ کو محض واسطہ رحمت الہی اور غیر مستعمل سمجھ کر استعانت ظاہری اس سے کرے تو یہ جائز ہے کہ یہ استعانت در حقیقت حق تعالی سے ہی استعانت ہے۔ “ اور اس طرح کی استعانت تو پاکان امت کا ہمیشہ سے معمول رہا ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ (رح) جناب رسالت مآب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں عرض کرتے ہیں ؂ وانت مجیری من ھجوم ملمۃ اذا انشبت فی القلب شر المخالب۔ بانی دار العلوم دیوبند عرض کرتے ہیں ؂ مدد کر اے کرم احمدی کہ تیرے سوا نہیں ہے قاسم بےکس کا کوئی حامی کار۔ (قصائد قاسمی دیوبندی) (محمد عمران علی حیدری) نمبر 2 📕نور العرفان📘 ف 6 ۔ نعبد کے جمع فرمانے سے معلوم ہوا کہ نماز جماعت سے پڑھنی چاہیے اگر ایک کی قبول ہو سب کی قبول ہو۔ ف 7 ۔ اس سے معلوم ہوا کہ حقیقتا مدد اللہ کی ہے جیسے حقیقتا حمد رب کی ہے خواہ واسطے سے ہو یا بلاواسطہ خیا ل رہے کہ عبادت صرف اللہ کی ہے مدد لینا حقیقتا اللہ سے مجازا اس کے بندوں سے اس فرق کی وجہ سے ان دو چیزوں کو علیحدہ جملوں میں ارشاد فرمایا، خیال رہے کہ عبادت اور مدد لینے میں فرق یہ ہے کہ مدد تو مجازی طو رپر غیر خدا سے بھی حاصل کی جاتی ہے، رب فرماتا انما ولیکم اللہ و رسولہ اور فرماتا ہے و تعاونوا علی البر والتقوی، لیکن عبادت غیر خدا کی نہیں کی جاسکتی نہ حقیقتا نہ حکما، کیونکہ عبادت کے معنی ہیں کسی کو خالق یا خالق کی ملع مان کر اس کی بندگی یا اطاعت کرنا یہ غیر خدا کے لیے شرک ہے اگر عبادت کی طرح دوسرے سے استعانت بھی شرک ہوتی تو یہاں یوں ارشاد ہوتا ، ایاک نعبد وایاک نستعین یہ بھی خیال رہے کہ دنیاوی یا دینی امور میں کبھی اسباب سے مدد لینا یہ درپردہ رب سے ہی مدد لینا ہے ، بیمار کا حکیم کے پاس جانا مظلوم کا حاکم سے فریاد کرنا ، گنہگار کا جناب محمد سے عرض کرنا اس آیت کے خلاف نہیں۔ جیسے کسی بندہ کی تعریف کرنا الحمد للہ کے عموم کے خلاف نہیں کیونکہ وہ بھی حمد بھی بالواسطہ رب ہی کی حمد ہے ، یہ بھی خیال رہے کہ اللہ کے نیک بندے بعد وفات بھی مدد فرماتے ہیں، معراج کی رات موسیٰ (علیہ السلام) نے پچاس نمازوں کی پانچ کرا دیں، اب بھی حضور کے نام کی برکت سے کافر کلمہ پڑھ کر مومن ہوتا ہے ، لہذا صالحین سے ان کی وفات کے بعد بھی مدد مانگنا اس آیت کے خلاف نہیں۔. ( محمد عمران علی حیدری) 3نمبر صراط الجنان {ایاك نعبد و ایاك نستعین:ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔} ا س سے پہلی ایات میں بیان ہوا کہ ہر طرح کی حمد و ثنا کا حقیقی مستحق اللہ تعالی ہے جو کہ سب جہانوں کا پالنے والا، بہت مہربا ن اور رحم فرمانے والا ہے اور اس ایت سے بندوں کو سکھایا جارہا ہے کہ اللہ تعالی کی بارگاہ میں اپنی بندگی کا اظہار یوں کرو کہ اے اللہ !عزوجل، ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں کیونکہ عبادت کا مستحق صرف تو ہی ہے اور تیرے علاوہ اور کوئی اس لائق ہی نہیں کہ اس کی عبادت کی جا سکے اور حقیقی مدد کرنے والا بھی تو ہی ہے۔تیری اجازت و مرضی کے بغیر کوئی کسی کی کسی قسم کی ظاہری، باطنی، جسمانی روحانی، چھوٹی بڑی کوئی مدد نہیں کرسکتا۔ عبادت اور تعظیم میں فرق: عبادت کامفہوم بہت واضح ہے، سمجھنے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ کسی کو عبادت کے لائق سمجھتے ہوئے اس کی کسی قسم کی تعظیم کرنا’’ عبادت‘‘ کہلاتاہے اور اگر عبادت کے لائق نہ سمجھیں تو وہ محض’’ تعظیم‘‘ ہوگی عبادت نہیں کہلائے گی، جیسے نماز میں ہاتھ باندھ کر کھڑا ہونا عبادت ہے لیکن یہی نماز کی طرح ہاتھ باندھ کر کھڑا ہونا استاد، پیر یا ماں باپ کے لئے ہو تومحض تعظیم ہے عبادت نہیں اوردو نوں میں فرق وہی ہے جو ابھی بیان کیاگیا ہے۔ ایت’’ایاك نعبد‘‘ سے معلوم ہونے والی اہم باتیں : ایت میں جمع کے صیغے ہیں جیسے ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ نماز جماعت کے ساتھ ادا کرنی چاہئے اور دوسروں کو بھی عبادت کرنے میں شریک کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ گناہگاروں کی عبادتیں اللہ تعالی کی بارگاہ کے محبوب اور مقبول بندوں کی عبادتوں کے ساتھ جمع ہو کر قبولیت کادرجہ پالیتی ہیں۔نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ تعالی کی بارگاہ میں اپنی حاجت عرض کرنے سے پہلے اپنی بندگی کا اظہار کرنا چاہئے۔ امام عبد اللہ بن احمد نسفیرحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں :عبادت کو مدد طلب کرنے سے پہلے ذکر کیاگیا کیونکہ حاجت طلب کرنے سے پہلے اللہ تعالی کی بارگاہ میں وسیلہ پیش کرنا قبولیت کے زیادہ قریب ہے۔ 📖(مدارک، الفاتحۃ، تحت الایۃ: ۴، ص۱۴) اللہ تعالی کی بارگاہ میں وسیلہ پیش کرنے کی برکت: ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اللہ تعالی کی بارگاہ میں کسی کا وسیلہ پیش کر کے اپنی حاجات کے لئے دعا کیا کرے تاکہ اس وسیلے کے صدقے دعا جلدمقبول ہو جائے اور اللہ تعالی کی بارگاہ میں وسیلہ پیش کرنا قران و حدیث سے ثابت ہے، چنانچہ وسیلے کے بارے میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ’’ یایها الذین امنوا اتقوا الله و ابتغوا الیه الوسیلة ‘‘ 📖( مائدہ: ۳۵) ترجمہ:اے ایمان والو!اللہ سے ڈرو اور اس کی طرف وسیلہ ڈھونڈو۔ اور ’’سنن ابن ماجہ‘‘ میں ہیکہ ایک نابینا صحابی بارگاہ رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم میں حاضر ہو کر دعا کے طالب ہوئے تو اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے انہیں اس طرح دعا مانگنے کا حکم دیا: ’’ *اللہم انی اسالک واتوجہ الیک بمحمد نبی الرحمۃ یا محمد انی قد توجہت بک الی ربی فی حاجتی ہذہ لتقضی اللہم فشفعہ فی*‘‘ اے اللہ! عزوجلمیں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیری طرف نبی رحمت حضرت محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ساتھ متوجہ ہوتا ہوں اے محمد ! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم، میں نے اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے وسیلے سے اپنے رب عزوجل کی طرف اپنی اس حاجت میں توجہ کی تاکہ میری حاجت پوری کردی جائے ، اے اللہ!عزوجل ، پس تومیرے لئے حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی شفاعت قبول فرما۔ 📖(ابن ماجہ، کتاب الصلاۃ، باب ما جاء فی صلاۃ الحاجۃ، ۲/۱۵۷، الحدیث: ۱۳۸۵) نوٹ صراط الجنان سے یا محمد کے بارے ایک چھوٹی سی وضاحت میں نے درج نہی کی جب کہ تفسیر میں موجود ہے میں نے تحریر میں درج نہی وہ مضمون کافی وضاحت طلب ہے ✍️إن شاءالله اس پر موقع کی مناسبت پر ایک تحریر لکھوں گا ۔اور ادھر درج نہ کرنے کی ایک اور وجہ موضوع سے ہٹ کی تھی یہ بات اس لیےبھی۔ اگر برا لگا تو معزرت چاھتا ہوں اللہ میری غلطیوں کا معاف کرے آمین۔۔🤲 ناچیز احقر عمران { و ایاك نستعین : اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔}اس ایت میں بیان کیاگیا کہ مدد طلب کرنا خواہ واسطے کے ساتھ ہو یا واسطے کے بغیر ہو ہر طرح سے اللہ تعالی کے ساتھ خاص ہے اور اللہ تعالی کی ذات ہی ایسی ہے جس سے حقیقی طور پر مدد طلب کی جائے ۔اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : ’’ حقیقی مدد طلب کرنے سے مراد یہ ہے کہ جس سے مدد طلب کی جائے اسے بالذات قادر،مستقل مالک اور غنی بے نیاز جانا جائے کہ وہ اللہ تعالی کی عطا کے بغیر خود اپنی ذات سے ا س کام (یعنی مدد کرنے)کی قدرت رکھتا ہے۔ اللہ تعالی کے علاوہ کسی اور کے بارے میں یہ عقیدہ رکھنا ہر مسلمان کے نزدیک’’ شرک‘‘ ہے اور کوئی مسلمان اللہ تعالی کے علاوہ کسی اور کے بارے میں ایسا ’’عقیدہ‘‘ نہیں رکھتا اور اللہ تعالی کے مقبول بندوں کے بارے میں مسلمان یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ وہ اللہ تعالی کی بارگاہ تک پہنچنے کے لئے واسطہ اور حاجات پوری ہونے کا وسیلہ اور ذریعہ ہیں تو جس طرح حقیقی وجود کہ کسی کے پیدا کئے بغیر خود اپنی ذات سے موجود ہونا اللہ تعالی کے ساتھ خاص ہے،اس کے باوجود کسی کو موجود کہنا اس وقت تک شرک نہیں جب تک وہی حقیقی وجود مراد نہ لیا جائے، یونہی حقیقی علم کہ کسی کی عطا کے بغیر خود اپنی ذات سے ہو اور حقیقی تعلیم کہ کسی چیزکی محتاجی کے بغیر از خود کسی کو سکھانا اللہ تعالی کے ساتھ خاص ہے، اس کے باوجود دوسرے کو عالم کہنا یا اس سے علم طلب کرنا اس وقت تک شرک نہیں ہو سکتا جب تک وہی اصلی معنی مقصود نہ ہوں تو اسی طرح کسی سے مدد طلب کرنے کا معاملہ ہے کہ اس کا حقیقی معنی اللہ تعالی کے ساتھ خاص ہے اور وسیلہ و واسطہ کے معنی میں اللہ تعالی کے علاوہ کے لئے ثابت ہے اور حق ہے بلکہ یہ معنی تو غیرخدا ہی کے لئے خاص ہیں کیونکہ اللہ تعالی وسیلہ اور واسطہ بننے سے پاک ہے ،اس سے اوپر کون ہے کہ یہ اس کی طرف وسیلہ ہو گا اور اس کے سوا حقیقی حاجت روا کون ہے کہ یہ بیچ میں واسطہ بنے گا۔ بدمذہبوں کی طرف سے ہونے والا ایک اعتراض ذکر کر کے اس کے جواب میں فرماتے ہیں : ’’یہ نہیں ہو سکتا کہ خدا سے توسل کر کے اسے کسی کے یہاں وسیلہ و ذریعہ بنایا جائے ، اس وسیلہ بننے کو ہم اولیاء کرام سے مانگتے ہیں کہ وہ دربار الہی میں ہمارا وسیلہ،ذریعہ اور قضائے حاجات کاواسطہ ہو جائیں ، اس بے وقوفی کے سوال کا جواب اللہ تعالی نے اس ایت کریمہ میں دیا ہے: ’’ و لو انهم اذ ظلموا انفسهم جآءوك فاستغفروا الله و استغفر لهم الرسول لوجدوا الله توابا رحیما 📖(۶۴)‘‘(النساء: ۶۴) ترجمہ:اور جب وہ اپنی جانوں پر ظلم یعنی گناہ کر کے تیرے پاس حاضر ہوں اور اللہ سے معافی چاہیں اور معافی مانگے ان کے لئے رسول ،تو بے شک اللہ کو توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں گے۔ کیا اللہ تعالی اپنے آپ نہیں بخش سکتا تھا پھر کیوں یہ فرمایا کہ اے نبی! تیرے پاس حاضر ہوں اورتو اللہ سے ان کی بخشش چاہے تویہ دولت و نعمت پائیں۔ یہی ہمارا مطلب ہے جو قران کی ایت صاف فرما رہی ہے۔ 📖(فتاوی رضویہ، ۲۱ /۳۰۴-۳۰۵۔) زیر تفسیر ایت کریمہ کے بارے میں مزید تفصیل جاننے کے لئے فتاوی رضویہ کی 21ویں جلد میں موجود اعلی حضرت امام احمد رضا خاں رحمۃاللہ تعالی علیہ کا رسالہ’’برکات الامداد لاہل الاستمداد(مدد طلب کرنے والوں کے لئے امداد کی برکتیں ) ‘‘کا مطالعہ فرمائیں۔ اللہ تعالی کی عطا سے بندوں کا مدد کرنا اللہ تعالی ہی کا مدد کرنا ہوتا ہے: یاد رہے کہ اللہ تعالی اپنے بندوں کو دوسروں کی مدد کرنے کا اختیار دیتا ہے اور اس اختیار کی بنا پر ان بندوں کا مدد کرنا اللہ تعالی ہی کا مدد کرنا ہوتا ہے، جیسے غزوۂ بدر میں فرشتوں نے اکر صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہمکی مدد کی، لیکن اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: ’’ و لقد نصركم الله ببدر و انتم اذلة ‘‘ 📖( ال عمران: ۱۲۳) ترجمہ:اور بیشک اللہ نے بدر میں تمہاری مدد کی جب تم بالکل بے سر و سامان تھے۔ یہاں فرشتوں کی مدد کو اللہ تعالی کی مدد کہا گیا، اس کی وجہ یہی ہے کہ فرشتوں کو مدد کرنے کا اختیار اللہ تعالی کے دینے سے ہے تو حقیقتا یہ اللہ تعالی ہی کی مدد ہوئی۔ یہی معاملہ انبیا ء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اور اولیاء عظام رحمۃاللہ تعالی علیہمکا ہے کہ وہ اللہ عزوجل کی عطا سے مدد کرتے ہیں اور حقیقتا وہ مدد اللہ تعالی کی ہوتی ہے، جیسے حضرت سلیمان علیہ الصلوۃ والسلامنے اپنے وزیر حضرت اصف بن برخیا رضی اللہ تعالی عنہسے تخت لانے کا فرمایا اور انہوں نے پلک جھپکنے میں تخت حاضر کردیا۔اس پر انہوں نے فرمایا: ’’ هذا من فضل ربی‘‘ترجمہ:یہ میرے رب کے فضل سے ہے۔ 📖(نمل :۴۰) اورتاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی سیرت مبارکہ میں مدد کرنے کی تو اتنی مثالیں موجود ہیں کہ اگر سب جمع کی جائیں تو ایک ضخیم کتاب مرتب ہو سکتی ہے،ان میں سے چند مثالیں یہ ہیں : (1)…صحیح بخاری میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے تھوڑے سے کھانے سے پورے لشکر کو سیر کیا۔ 📖(بخاری، کتاب المغازی، باب غزوۃ الخندق۔۔۔ الخ، ۳/۵۱-۵۲، الحدیث: ۴۱۰۱، الخصائص الکبری، باب معجزاتہ صلی اللہ علیہ وسلم فی تکثیر الطعام غیر ما تقدم، ۲/۸۵) (2)…اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے دودھ کے ایک پیالے سے ستر صحابہ کوسیراب کردیا۔(بخاری، کتاب الرقاق، باب کیف کان عیش النبی۔۔۔ الخ، ۴/۲۳۴، الحدیث: ۶۴۵۲، عمدۃ القاری، کتاب الرقاق، باب کیف کان عیش النبی۔۔۔ الخ، ۱۵/۵۳۶) (3)… انگلیوں سے پانی کے چشمے جاری کر کے چودہ سو(1400)یا اس سے بھی زائد افراد کو سیراب کر دیا۔ 📖(بخاری، کتاب المغازی، باب غزوۃ الحدیبیۃ، ۳/۶۹، الحدیث: ۴۱۵۲-۴۱۵۳) (4)… لعاب د ہن سے بہت سے لوگوں کوشفا عطا فرمائی ۔ 📖(الخصائص الکبری، باب ایاتہ صلی اللہ علیہ وسلم فی ابراء المرضی۔۔۔ الخ، ۲/۱۱۵-۱۱۸) اور یہ تمام مددیں چونکہ اللہ تعالی کی عطا کردہ طاقت سے تھیں لہذا سب اللہ تعالی کی ہی مددیں ہیں۔ اس بارے میں مزید تفصیل کے لئے فتاوی رضویہ کی30ویں جلد میں موجود اعلی حضرت،امام اہلسنت،مولاناشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن کے رسالے ’’ا لامن والعلی لناعتی المصطفی بدافع البلاء( مصطفی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو دافع البلاء یعنی بلائیں دور کرنے والا کہنے والوں کے لئے انعامات)‘‘کامطالعہ فرمائیے۔ ( محمد عمران علی حیدری) 4 نمبر 📘نور العرفان📕 ف 6 ۔ نعبد کے جمع فرمانے سے معلوم ہوا کہ نماز جماعت سے پڑھنی چاہیے اگر ایک کی قبول ہو سب کی قبول ہو۔ ف 7 ۔ اس سے معلوم ہوا کہ حقیقتا مدد اللہ کی ہے جیسے حقیقتا حمد رب کی ہے خواہ واسطے سے ہو یا بلاواسطہ خیا ل رہے کہ عبادت صرف اللہ کی ہے مدد لینا حقیقتا اللہ سے مجازا اس کے بندوں سے اس فرق کی وجہ سے ان دو چیزوں کو علیحدہ جملوں میں ارشاد فرمایا، خیال رہے کہ عبادت اور مدد لینے میں فرق یہ ہے کہ مدد تو مجازی طو رپر غیر خدا سے بھی حاصل کی جاتی ہے، رب فرماتا انما ولیکم اللہ و رسولہ اور فرماتا ہے و تعاونوا علی البر والتقوی، لیکن عبادت غیر خدا کی نہیں کی جاسکتی نہ حقیقتا نہ حکما، کیونکہ عبادت کے معنی ہیں کسی کو خالق یا خالق کی ملع مان کر اس کی بندگی یا اطاعت کرنا یہ غیر خدا کے لیے شرک ہے اگر عبادت کی طرح دوسرے سے استعانت بھی شرک ہوتی تو یہاں یوں ارشاد ہوتا ، ایاک نعبد وایاک نستعین یہ بھی خیال رہے کہ دنیاوی یا دینی امور میں کبھی اسباب سے مدد لینا یہ درپردہ رب سے ہی مدد لینا ہے ، بیمار کا حکیم کے پاس جانا مظلوم کا حاکم سے فریاد کرنا ، گنہگار کا جناب محمد سے عرض کرنا اس آیت کے خلاف نہیں۔ جیسے کسی بندہ کی تعریف کرنا الحمد للہ کے عموم کے خلاف نہیں کیونکہ وہ بھی حمد بھی بالواسطہ رب ہی کی حمد ہے ، یہ بھی خیال رہے کہ اللہ کے نیک بندے بعد وفات بھی مدد فرماتے ہیں، معراج کی رات موسیٰ (علیہ السلام) نے پچاس نمازوں کی پانچ کرا دیں، اب بھی حضور کے نام کی برکت سے کافر کلمہ پڑھ کر مومن ہوتا ہے ، لہذا صالحین سے ان کی وفات کے بعد بھی مدد مانگنا اس آیت کے خلاف نہیں. ( محمد عمران علی حیدری) نمبر 5 📕تبیان القرآن📘 اللہ تعالی کا ارشاد ہے : روز جزاء کا مالک ہے (الفاتحہ : ٣) - مالک اور ملک کی دو قراءتیں : - مالک اور ملک اس آیت میں دونوں متواتر قراءتیں ہیں ‘ امام عاصم ‘ امام کسائی اور امام یعقوب کی قراءت میں مالک ہے۔ باقی پانچ ائمہ کی قرات میں ملک ہے۔ - مالک اس شخص کو کہتے ہیں جو اپنی مملوکہ چیزوں میں جس طرح چاہے تصرف کرنے پر قادر ہو اور ملک اس شخص کو کہتے ہیں اپنی رعایا میں احکام (امر و نہی) نافذ کرتا ہو۔ - قرآن مجید کی بعض آیات مالک کی موافقت میں ہیں اور بعض ملک کی۔ - اللہ تعالی کا ارشاد ہے : - (آیت) ” قل اللہ ملک الملک تؤتی الملک من تشآء وتنزع الملک ممن تشآء وتعزمن تشآء وتذل من تشآء، بیدک الخیر۔ 📖(آل عمران : ٢٦) کہیے : اے اللہ ! ملک کے مالک ! تو جس کو چاہتا ہے ملک دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے ملک چھین لیتا ہے اور تو جس کو چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ذلت میں مبتلا کرتا ہے ‘ اور تمام بھلائی تیری ہاتھ میں ہے۔- (آیت) ” یوم لا تملک نفس لنفس شیئا، والامر یومئذ للہ . 📖(الانفطار : ١٩) یہ وہ دن ہے جس میں کوئی شخص کسی شخص کے لیے کسی چیز کا مالک نہیں ہوگا ‘ اور اس دن اللہ ہی کا ہوگا۔- ان دونوں آیتوں سے مالک کی تائید ہوتی ہے۔ - (آیت) ” قل اعوذ برب الناس ملک الناس“۔ 📖(الناس : ٢۔ ١) آپ کہیے : میں تمام لوگوں کے رب ‘ تمام لوگوں کے بادشاہ کی پناہ میں آتا ہوں۔- (آیت) ” لمن الملک الیوم ‘ للہ الواحدالقھار “۔ 📖(المومن : ١٦) آج کس کی بادشاہی ہے ؟ اللہ کی جو واحد ہے اور سب پر غالب ہے۔- (آیت) ” الملک یومئذللہ یحکم بینہم“۔ 📖(الحج : ٥٦ ). اس دن صرف اللہ ہی کی بادشاہی ہوگی ‘ وہی ان کے درمیان فیصلہ فرمائے گا۔ - اور ان دو آیتوں سے ملک کی تائید ہوتی ہے۔ - یوم کا عرفی اور شرعی معنی : - علامہ آلوسی لکھتے ہیں : - عرف میں طلوع شمس سے لے کر غروب شمس تک کے زمانہ کو یوم کہتے ہیں ‘ اور اعمش کے سو اہل سنت کے نزدیک شریعت میں طلوع فجر ثانی سے لے کر غروب شمس تک کے وقت کو یوم کہتے ہیں اور یوم قیامت اپنے معروف معنی میں حقیقت شرعیہ ہے۔ 📖(روح المعانی ج ١ ص ٨٤‘ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت)- یوم قیامت کی مقدار : - قیامت کے دن کے متعلق قرآن مجید میں ہے : - (آیت) ” تخرج الملئکۃ والروح الیہ فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنۃ. 📖(المعارج : ٤) جبرئیل اور فرشتے اس کی طرف عروج کرتے ہیں (جس دن عذاب ہوگا) اس دن کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔ - امام ابو یعلی روایت کرتے ہیں : - حضرت ابوسعید خدری (رض) روایت کرتے ہیں ‘ عرض کیا گیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قرآن مجید میں اس دن کے متعلق ہے کہ وہ پچاس ہزار برس کا ہوگا ‘ یہ کتنا لمبادن دن ہوگا ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قسم اس ذات کی جس کے قبضہ وقدرت میں (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے ! مومن پر اس دن میں تخفیف کی جائے گی ‘ حتی کہ وہ جتنی دیر میں دنیا میں فرض نماز پڑھتا تھا اس پر وہ دن اس سے بھی کم وقت میں گزرے گا۔ 📖(مسند ابو یعلی ج ٢ ص ١٣٤‘ مطبوعہ دارالمامون ترات ‘ بیروت ‘ ١٤٠٤ ھ) - ✍️( آقا و مولا نے کمال کردی پکی بات قسم کھاکے بتائی یہ غیب نہی تو کیا ہے یہ کام قیامت کو ہونا ہے لیکن پہلے بتا دیا گیا اور کیا غیب تجھ سے نہاں جب خدا ہی نہ چپا آپ سے ؟ عمران) اس حدیث کو حافظ ابن جریر 📖(جامع البیان ج ٢٩ ص ٤٥) اور حافظ ابن کثیر (تفسیر ابن کثیر ج ٧ ص ١١٣) نے بھی اپنی اپنی سندوں کے ساتھ روایت کیا ہے اور امام ابن حبان نے بھی اس کو روایت کیا ہے۔ 📖(موارد الظمان الی زاوائد ابن حبان ‘ ص ٦٣٨‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت) - امام بیہقی نے بھی اس کو روایت کیا ہے۔ - علامہ سیوطی نے بھی اس کو امام احمد ‘ امام ابویعلی ‘ امام ابن جریر ‘ امام ابن حبان ‘ اور امام بیہقی ‘ کے حوالوں سے ذکر کیا ہے۔ 📖(الدرالمنثور ج ٦ ص ٢٦٥۔ ٢٦٤‘ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ العظمی ‘ ایران) - علامہ آلوسی نے بھی اس کو مذکور الصدر حوالہ جات کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ 📖(روح المعانی ج ٢٩ ص ٥٧‘ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت)- حضرت ابوسعید خدری (رض) کی حدیث مذکور کے متعلق حافظ الہیثمی لکھتے ہیں : - اس حدیث کو امام احمد اور امام ابو یعلی نے روایت کیا ہے ‘ اس کا ایک راوی ضعیف ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ 📖(مجمع الزوائد ج ١٠ ص ٣٣٧‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ ١٤٠٢ ھ). نیز حافظ الہیثمی لکھتے ہیں : - حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لوگ رب العلمین ‘ کے سامنے آدھے دن تک کھڑے رہیں گے جو پچاس ہزار برس کا ہوگا اور مومن پر آسانی کردی جائے گی ‘ جیسے سورج کے مائل بہ غروب ہونے سے اس کے غروب ہونے تک ‘ اس حدیث کو امام ابو یعلی نے روایت کیا ہے اور یہ حدیث صحیح ہے۔ 📖(مجمع الزوائد ج ١٠ ص ٣٣٧‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ ١٤٠٢ ھ) - امام احمد روایت کرتے ہیں : - حضرت ابو سعید خدری (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں کہ کافر کے لیے قیامت کا دین پچاس ہزار برس کا مقرر کیا جائے گا کیونکہ اس نے دنیا میں نیک عمل نہیں کئے۔ 📖(مسند ج ٣ ص ٧٥‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ) - عدل و انصاف کا یہ تقاضا ہے کہ جو لوگ دنیا میں اس طرح نماز پڑھتے ہیں کہ گویا وہ نماز میں اللہ تعالی کو دیکھ رہے ہیں ‘ پھر وہ اس میں اس طرح محو ہوجاتے ہیں کہ انہیں گرد وپیش کا ہوش نہیں رہتا ‘ امام ابوحنیفہ نماز پڑھ رہے تھے کہ مسجد کی چھت سے سانپ گرپڑا ‘ افراتفری مچ گئی مگر وہ اسی محویت سے نماز پڑھتے رہے ‘ ایک انصاری صحابی کو نماز کے دوران تیر لگا ‘ خون بہتا رہا اور وہ اسی انہماک سے نماز پڑھتے رہے ‘ امام بخاری کو نماز میں تتیہ نے سترہ ڈنک مارے اور انہیں احساس تک نہ ہوا ‘ سو ایسے ہی کاملین کی یہ جزاء ہوگی کہ قیامت کے دن ان کو فی الواقع دیدار الہی عطا کیا جائے اور جب ان کو دیدار الہی عطا کیا جائے گا تو وہ اس کی دید میں ایسے مستغرق ہوں گے کہ قیامت کے ہنگامہ خیز پچاس ہزار برس گزر جائیں گے اور ان کو یوں معلوم ہوگا جیسے ایک فرض نماز پڑھنے کا وقت گزرا ہو ‘ لیکن اللہ تعالی ہم پر عدل نہیں کرم فرماتا ہے ‘ عدل کے لحاظ سے تو ہم دنیا میں بھی کسی نعمت کے مستحق نہیں ہیں ‘ اللہ تعالی دنیا میں بھی ہم کو دنیکوں کے صدقہ میں نعمتیں دیتا ہے ‘ سو آخرت میں بھی ان نیکوں کے طفیل ہم پر قیامت کا دن بہ قدر فرض نماز گزرے گا اور اپنے دیدار سے معمور فرمائے گا۔ - وقوع قیامت پر عقلی دلیل : - ہم اس دنیا میں دیکھتے رہتے ہیں کہ بعض لوگ ظلم کرتے کرتے مرجاتے ہیں اور ان کو ان کے ظلم پر کوئی سزا نہیں ملتی اور بعض لوگ ظلم سہتے سہتے مرجاتے ہیں اور ان کی مظلومیت پر کوئی جزا نہیں ملتی ‘ اگر اس جہان کے بعد کوئی اور جہان نہ ہو تو ظالم سزا کے بغیر اور مظلوم جزا کے بغیر رہ جائے گا اور یہ چیز اللہ تعالی کی حکمت کے خلاف ہے ‘ اس لیے یہ ضروری ہے کہ اس عالم کے بعد کوئی اور عالم ہو جس میں ظالم کو سزا دی جائے اور مظلوم کو جزا۔ - اور جزاء اور سزاء کے نظام کے برپا کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس عالم کو بالکلیہ ختم کردیا جائے ‘ کیونکہ جزاء اور سزا اس وقت جاری ہوسکتی ہے جب بندوں کے اعمال ختم ہوجائیں ‘ اور جب تک تمام انسان اور یہ کائنات ختم نہیں ہوجاتی لوگوں کے اعمال کا سلسلہ ختم نہیں ہوگا ‘ مثلا قابیل نے قتل کرنے کا طریقہ ایجاد کیا ‘ اب اس کے بعد جتنے قتل ہوں گے ان کے قتل کے جرم سے قابیل کے نامہ اعمال میں گناہ لکھا جاتا رہے گا ‘ اس لیے جب تک قتل کا سلسلہ ختم نہیں ہوجاتا قابیل کا نامہ اعمال مکمل نہیں ہوگا ‘ اسی طرح ہابیل نے ظالم سے بدلہ نہ لینے کی رسم ایجاد کی ‘ اب اس کے بعد جو شخص بھی یہ نیکی کرے گا اس کی نیکی میں سے ہابیل کے نامہ اعمال میں نیکی لکھی جاتی رہے گی ‘ اس لیے جب تک اس نیکی کا سلسلہ ختم نہیں ہوجاتا ہابیل کا نامہ اعمال مکمل نہیں ہوگا ‘ اسی طرح ایک شخص مسجد یا کنواں بنا کر مرجاتا ہے تو جب تک اس مسجد میں نماز پڑھی جاتی رہے گی ‘ جب تک اس کنوئیں سے پانی پیا جاتا رہے گا ‘ اس شخص کے نامہ اعمال میں نیکیاں لکھی جاتی رہیں گی اور کوئی شخص بت خانہ یا شراب خانہ بنا کر مرگیا تو جب تک وہاں بت پرستی یا شراب نوشی ہوتی رہے گی اس کے نامہ اعمال میں برائیاں لکھی جاتی رہیں گی۔ - اس لیے جب تک یہ دنیا اور اس دنیا میں انسان موجود ہیں اس وقت تک لوگوں کا نامہ اعمال مکمل نہیں ہوسکتا اور لوگوں کے نامہ اعمال کو مکمل کرنے کے لیے دنیا اور دنیا والوں کو مکمل ختم کرنا ضروری ہے اور اسی کا نام قیامت ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالی کی حکمت اس کی متقاضی ہے کہ جزا اور سزا کا نظام قائم کیا جائے اور جزا اور سزا کو نافذ کرنے سے پہلے قیامت کا قائم کرنا ضروری ہے۔ - وقوع قیامت پر شرعی دلائل :- یہ دنیا دارالامتحان ہے اور اس میں انسان کی آزمائش کی جاتی ہے اور اس امتحان کا نتیجہ اس دنیا میں ظاہر نہیں ہوتا لیکن نیک اور بد ‘ اطاعت گزار اور نافرمان ‘ موافق اور مخالف اور مومن اور کافر میں فرق کرنا ضروری ہے اور یہ فرق صرف قیامت کے دن ظاہر ہوگا۔ اللہ تعالی فرماتا ہے :۔- (آیت) ” لیجزی الذین اسآء وا بما عملوا ویجزی الذین احسنوا بالحسنی. 📖(النجم : ٣١) تاکہ برے کام کرنے والوں کو ان کی سزا دے اور نیکی کرنے والوں کو اچھی جزا دے۔ - (آیت) ” ام نجعل الذین امنوا وعملوا الصلحت کالمفسدین فی الارض ام نجعل المتقین کالفجار. 📖(ص : ٢٨) کیا ہم ایمان والوں اور نیکی کرنے والوں کو زمین میں فساد کرنے والوں کی طرح کردیں گے ؟ یا ہم پرہیزگاروں کو بدکاروں جیسا کردیں گے ؟۔ (آیت) ” ام حسب الذین اجترحوا السیات ان نجعلہم کالذین امنوا وعملوا الصلحت ‘ سوآء محیاھم ومماتھم سآء ما یحکمون. 📖 (الجاثیہ : ٢١) کیا برے کام کرنے والوں نے یہ گمان کرلیا ہے کہ ہم ان کو ان لوگوں کی طرف کردیں گے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے کہ (ان سب کی) زندگی اور موت برابر ہوجائے ؟ وہ کیسا برا فیصلہ کرتے ہیں۔ - (آیت) ” افنجعل المسلمین کالمجرمین مالکم کیف تحکمون 📖(القلم : ٣٦۔ ٣٥) کیا ہم فرمانبرداروں کو مجرموں جیسا کردیں گے تمہیں کیا ہوا ‘ تم کیسا فیصلہ کرتے ہو ؟ - دنیا میں راحت اور مصیبت کا آنا مکمل جزاء اور سزا نہیں ہے : - ہر چند کہ بعض لوگوں کو دنیا میں ہی ان کی بداعمالیوں کی سزا مل جاتی ہے۔ مثلا ان کا مالی نقصان ہوجاتا ہے ‘ یا وہ ہولناک بیماریوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں یا ان پر دشمنوں کا خوف طاری ہوجاتا ہے ‘ لیکن یہ ان کی بداعمالیوں کی پوری پوری سزا نہیں ہوتی ‘ اور ہم کتنے ہی لوگوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ ساری عمر عیش پرستی ‘ ہوس ناکیوں اور ظلم وستم کرنے میں گزار دیتے ہیں ‘ پھر اچانک ان پر کوئی مصیبت ٹوٹ پڑتی ہے اور ان کی دولت اور طاقت کانشہ کافور ہوجاتا ہے۔ لیکن ان کے جرائم کے مقابلہ میں یہ بہت کم سزا ہوتی ہے ‘ اس لیے ان کی مکمل سزا کے لیے ایک اور جہاں کی ضرورت ہے جہاں قیامت کے بعد ان کو پوری پوری سزا ملے گی۔ - (آیت) ” ولنذیقنھم من العذاب الادنی دون العذاب الاکبر لعلہم یرجعون۔ 📖(السجدہ : ٢١) اور ہم ان کو بڑے عذاب سے پہلے (دنیا میں) ہلکا عذاب ضرور چکھائیں گے تاکہ وہ باز آجائیں۔ - اس طرح بہت سے نیک بندے ساری عمر ظلم وستم سہتے رہتے ہیں اور مصائب برداشت کرتے رہتے ہیں اور انہیں اپنی زندگی میں آرام اور راحت کا بہت کم موقعہ ملتا ہے ‘ اس لیے اللہ تعالی قیامت کو قائم کرے گا اور ہر شخص کو اسکی نیکی اور بدی کی پوری پوری جزا اور سزا دے گا۔ (آیت) ” فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرا یرہ ومن یعمل مثقال ذرۃ شرا یرہ 📖(الزلزال : ٨۔ ٧) سو جو ذرہ برابر نیکی کرے گا وہ اس کی (جزا) پائے گا اور جو ذرہ برابر برائی کرے گا وہ اس کی (سزا) پائے گا۔- دین کا لغوی معنی : - علامہ زبیدی لکھتے ہیں : - دین کا معنی ہے جزا اور مکافات ‘ قرآن مجید میں (آیت) ” مالک یوم الدین “ کا معنی ہے : یوم جزاء کا مالک ‘ دین کا معنی عادت بھی ہے ‘ کہا جاتا ہے :” مازال ذالک دینی “ میری ہمیشہ سے یہ عادت ہے ‘ اور دین کا معنی اللہ تعالی کی عبادت ہے ‘ اور دین کا معنی طاعت ہے ‘ حدیث میں ہے :- یمرقون من الدین مروق السھم من الرمیۃ : وہ امام کی اطاعت سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔- (علامہ سید محمد مرتضی حسینی زبیدی حنفی متوفی ١٢٠٥‘ 📖(تاج العروس ج ٩ ص ٢٠٨۔ ٢٠٧‘ مطبوعہ المطبعۃ الخیریہ ‘ مصر ١٣٠٦ ھ) - دین ‘ شریعت اور مذہب وغیرہ کی تعریفات : میر سید شریف لکھتے ہیں : - دین ایک الہی دستور ہے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ہوتا ہے جو عقل والوں کو قبول کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ دین اور ملت متحد بالذات ہیں اور مختلف بالاعتبار ہیں کیونکہ شریعت بہ حیثیت اطاعت دین ہے اور بہ حیثیت ضبط اور تحریر ملت ہے ‘ اور جس حیثیت سے اس کی طرف رجوع کیا جائے مذہب ہے ‘ ایک قول یہ ہے کہ دین اللہ کی طرف منسوب ہے اور ملت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف منسوب ہے اور مذہب مجتہد کی طرف منسوب ہے۔ 📖(کتاب التعریفات ص ٤٧‘ مطبوعہ المطبعۃ الخیریہ ‘ مصر ١٣٠٦ ھ) - عبودیت کا التزام کرکے حکم ماننا شریعت ہے ‘ ایک قوم یہ ہے کہ شریعت دین کا ایک راستہ ہے۔ 📖 (کتاب التعریفات ص ٥٥‘ مطبوعہ المطبعۃ الخیریہ ‘ مصر ١٣٠٦ ھ) - علامہ بدرالدین عینی لکھتے ہیں : - ” شرعۃ ومنھاجا “ کی تفسیر میں قتادہ (رض) نے کہا : دین ایک ہے اور شریعت مختلف ہے۔ 📖(عمدۃ القاری ج ١ ص ١١٧‘ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ ‘ مصر ١٣٤٨ ھ) - علامہ قطبی مالکی لکھتے ہیں : - اللہ تعالی نے اہل تورات کے لیے تورات مقرر کی اور اہل انجیل کے لیے انجیل اور اہل قرآن کیلیے قرآن مقرر کیا اور یہ تقرر شریعتوں اور عبادتوں میں ہے اور اصل توحید ہے جس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ 📖 (الجامع الاحکام القرآن ج ٢ ص ٢١١ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ) - امام بخاری مجاہد سے روایت کرتے ہیں :- اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم نے آپ کو اور حضرت نوح (علیہ السلام) کو ایک ہی دین کی وصیت کی ہے۔ 📖(صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ٦ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)- قرآن مجید میں ہے : - اللہ تعالی نے تمہارے لیے اسی دین کا راستہ مقرر کیا ہے جس کا حکم اس نے نوح کو دیا تھا اور جس دین کی ہم نے آپ کی طرف وحی فرمائی ہے اور جس کا حکم ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) ، موسی (علیہ السلام) اور عیسی (علیہ السلام) کو دیا تھا کہ اسی دین کو قائم رکھو اور اس میں تفرقہ نہ دالو۔ - اس آیت سے معلوم ہوا کہ تمام انبیاء (علیہم السلام) کا دین واحد ہے اور وہ اسلام ہے۔ - (آیت) ” لکل جعلنا منکم شرعۃ ومنھا جاء “۔ (المائدہ : ٤٨) ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لیے الگ الگ شریعت اور واضح راہ عمل بنائی ہے۔ - اس آیت سے معلوم ہوا کہ ہر نبی کی شریعت الگ ہے۔ - قرآن مجید کی ان آیات اور احادیث اور عبارات علماء کا حاصل یہ ہے کہ جو عقائد اور اصول تمام انبیاء میں مشترک ہیں مثلا توحید ‘ رسالت قیامت جزاء ‘ سزا ‘ اللہ کی تعظیم اور اس کے شکر کا واجب ہونا ‘ قتل اور زنا کا حرام ہونا ‘ ان کا نام دین ہے اور ہر نبی نے اپنے زمانہ کے مخصوص حالات کے اعتبار سے عبادات اور نظام حیات کے جو مخصوص احکام بتائے وہ شریعت ہے ‘ ان کو مدون اور منضبط کرنا ملت ہے اور امام اور مجتہد نے کتاب اور سنت سے جو احکام مستنبط کیے ان کا نام مذہب ہے ‘ اور مشائخ طریقت نے جو اوراد اور وظائف کے مخصوص طریقے بتائے ان کا نام مسلک اور مشرب ہے اور کسی مخصوص درسگاہ کے نظریات کا نام مکتب فکر ہے ‘ مثلا یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہم دین کے اعتبار سے مسلمان ہیں ‘ شریعت کے اعتبار سے محمدی ہیں ‘ مذہب کے اعتبار سے ماتریدی اور حنفی ہیں اور مسلک اور مشرب کے اعتبار سے قادری ہیں اور مکتب فکر کے لحاظ سے بریلوی ہیں۔ - اللہ ‘ رب ‘ رحمن ‘ رحیم اور مالک یوم الدین میں وجہ ارتباط :- سورة فاتحہ کے شروع میں اللہ تعالی نے اپنے پانچ اسماء ذکر کئے ہیں : اللہ ‘ رب ‘ رحمن ‘ رحیم اور مالک یوم الدین اور ان میں ارتباط اس طرح ہے کہ ” اللہ “ کے تقاضے سے اس نے انسان کو پیدا کیا ‘ ” رب “ کے تقاضے سے اس نے غیر متناہی نعمتوں سے انسان کی پرورش کی ‘ ” رحمن “ کے تقاضے سے انسان کے گناہوں پر پردہ رکھا ‘” رحیم “ کے تقاضے سے انسان کی توبہ قبول کرکے اس کو معاف فرمایا اور (آیت) ” مالک یوم الدین“ کے تقاضے سے انسان کو اس کے اعمال صالحہ کی جزاء عطا فرمائی۔ - اگر یہ سوال ہو کہ ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ میں بھی اللہ تعالی کی صفت رحمن و رحیم کا ذکر ہے اور سورة فاتحہ کی ابتداء میں پھر ان صفات کا ذکر ہے ‘ اس کی کیا وجہ ہے کہ رحمن اور رحیم کو دو مرتبہ ذکر کیا ہے اور باقی اسماء کا دو مرتبہ ذکر نہیں ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ہوسکتا ہے کہ اس میں یہ اشارہ ہو کہ اللہ تعالی پر رحمت کا غلبہ ہے اس لیے بندہ کو اس سے مایوس نہیں ہونا چاہیے اور ہر وقت اس کی رحمت پر نظر رکھنی چاہیے ‘ اس کے بعد (آیت) ” مالک یوم الدین “ فرمایا کہ کہیں اس کی رحمت سے دھوکا کھا کر انسان گناہوں پر دلیر نہ ہوجائے کیونکہ وہ ” مالک یوم الدین “ بھی ہے۔ - جس طرح اس آیت میں فرمایا ہے :- غافر الذنب وقابل التوب شدید العقاب ذی الطول۔ (المومن : ٤٠) وہ گناہ بخشنے والا اور توبہ قبول کرنے والا ‘ بہت سخت عذاب دینے والا قدرت والا ہے۔ - ” الحمد للہ “ میں مسند الیہ مقدم ہے اور خبر معرفہ ہے اور عربی قواعد کے مطابق ایسی ترکیب مفید حصر ہوتی ہے ‘ نیز اللہ تعالی کی صفات رب ’ رحیم ‘ اور (آیت) ” *مالک یوم الدین* “ بہ منزلہ علت ہیں ‘ اس اعتبار سے معنی یہ ہے کہ اللہ تعالی کے سوا اور کوئی حمد کا مستحق نہیں ہے کیونکہ وہی رب ہے ‘ وہی رحمن، رحیم اور مالک روز جزاء ہے ‘ اور اس میں یہ رمز ہے کہ جس میں یہ صفات نہ ہوں وہ تو ستائش کے لائق بھی نہیں ہے چہ جائیکہ وہ پرستش کا مستحق ہو اور جب یہ معلوم ہوگیا کہ اللہ ہی حمد وثناء کے لائق ہے اور وہی عبادت کا مستحق ہے تو ہم سے یہ کہلوایا : اے پروردگار ! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں۔.۔ ( دعاؤں کا طلبگار محمد عمران علی حیدری ) (post5) 20.04.2021 7.رمضان المبارک1443ھ
    3 points
  6. Salam Mirza jahannumi ka jawab toh nahin likha magr mirza jaisay likhay huway material ka jawab complete keeya heh 100A4 pages kay qareeb heh. Agay walay kuch dinoon mein paste kar doon ga. English mein heh. Mirza ka mawad research paper 3 English mein bi heh ... Inshallah ... Abhi ki masrofiyat say farigh ho kar is ka tafsili jawab likh doon ga. Mirza ka kuch researxh nahin heh yeh wohi purani wahhabiat ko aur uneeh dalahil ko research ka naam deeya heh. Jaisay bhuddi kanjri make-up kar ka jawan 16 sala larki ka drama karti heh ... Yahi mirza kay research ki haqiqat heh.
    3 points
  7. المہند پر تقریظات لینے کے لئے دیوبندی عالم کا علمائے حرمین سے دجل و فریب.....!!! اصل حقیقت یہ ہے کہ علمائے حرمین نے علمائے دیوبند سے کوئی سوالات نہیں پوچھے جب کہ المہند کے جعلی سوالات حسین احمد کانگریسی دیوبندی نے لکھے اور اسکے جعلی جوابات خلیل احمد انبیٹھوی دیوبندی نے دیئے پھر عاشق الہی میرٹھی دیوبندی نے ان کو عرب لے گیا اور وہاں کے علماء سے یہ جھوٹ بولا کہ یہ کتاب وہابی فرقہ کے رد میں لکھی گئی ہے اس لئے اس کو اس کتاب پر انکی تقریظ چاہئے۔ اس کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے: دیوبندی مفتی اعظم ہندو پاک محمود حسن لکھتا ہے: "اسی زمانے میں مولانا حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ بھی وہیں تھے حجاز مقدس میں۔ انہوں نے اٹھائیس سوالات لکھ کر بھیجے سہارنپور حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوری رحمۃ اللہ علیہ کے پاس ان ہی مسائل سے متعلق جو حسام الحرمین میں تھے۔ مولانا خلیل احمد صاحب نے عربی میں ان جوابات لکھے اور بہت سارے علماء کے اس پر دستخظ کرائے۔ مولانا عاشق الہی میرٹھی اس کو لے کر گئے حجاز مقدس وہاں سے شام گئے ۔ وہاں کے علماء سے اس پر دستخط کروائے۔" [مسلک علماء دیوبند ص 46] اس سے واضح ہوگیا ہے کہ المہند کے سوالات علمائے حرمین و عرب کے نہیں ہیں بلکہ خود دیوبندیوں کے اپنے ہیں ۔ اب آتے ہیں ان علمائے عرب کی طرف جن سے دھوکہ کر کے تقریظ لی گئی کہ المہند وہابی فرقہ کے رد میں لکھی گئی ہے۔ المہند میں علامہ شیخ مصطفی بن احمد شطی حنبلی کی تقریظ میں اس طرح عبارت ہے جس کا ترحمہ دیوبندیوں نے اس طرح کیا ہے: "انہیں خاصان خدا میں سے عالم، فاضل فہیم، عقیل، کامل اس رسالہ کے مولف بھی ہیں جو چند شرعی مسئلوں اور شریف علمی بحثوں پر مشتمل ہے وہابی فرقہ کی تردید کے لئے علماء حنبلی کے مذہب کے موافق بعض مسائل میں اور یہ رد انشاءاللہ اپنے موقع پر ہے۔" [المہند علی المفند(مترجم) ص 114] اور شیخ محمود رشید العطار الشامی کی تقریظ میں عبارت اس طرح ہے: "امابعد پس میں مطلع ہوا اس تالیف جلیل پر پس پایا اس کو جامع ہر باریک و باعظمت مضمون کا جس میں رد ہے بدعتی وہابیوں کے گروہ پر، مولف جیسے علماء کو حق زیادہ کرے۔" [المہند علی المفند(مترجم) ص 115] اب تحریر پڑھنے والے حضرات خود اندازہ لگائیں دیوبندی علماء نے کتنا کذب بیانی کی ہے المہند کے سوالات لکھتے وقت اور علمائے حرمین و عرب سےتقریظ لیتے وقت۔ اس لئے حقیقت یہی ہے المہند کتاب دجل و فریب کا ایک مجموعہ ہے جس میں علمائے عرب سے دھوکہ و فریب کرکے تقریظات لیں گئیں۔ اللہ عزوجل ایسے مکار و کذاب لوگوں سے سب مسلمانوں کو محفوظ رکھے۔ آمین
    3 points
  8. نعمتہ الباری فی شرح بخاری علامہ غلام رسول سعیدی علیہ الرحمہ صفحہ نمبر 138 کے آخر میں آپ کی مطلوبہ روایت ہے
    3 points
  9. Salam alaykum, Pedaish say pehlay ka waqt Quran mein zamana maut mein ginna gaya heh. Nabi e kareem ka wasila qabal az-paidaish Quran say sabat heh. is leyeh wafat qabal padaish aur wafat bad az-wafat RasoolAllah ka wasila jaiz heh. Allah farmata heh: “They will say: "Our Lord! Twice hast Thou made us without life, and twice hast Thou given us Life! Now have we recognized our sins: Is there any way out (of this)?" [Ref: 40:11] “How can you disbelieve in Allah Seeing that you were dead and He gave you life. Then He will give you death, then again will bring you to life and then unto Him you will return.'' [Ref: 2:28] Hasil huwa zamana pedaish say pehlay maut ka thah aur pedaish baad rooh ka jism baghayr hona bi maut heh. Abh agar sabat ho jahay kay donoon mein say kissi aik mein bi wasila banahay gay to halat e wafat mein Wasila sabat heh. Allah farmata heh: “And when there comes to them a Book from Allah, confirming what is with them,- although from of old they had prayed for victory against those without Faith,- when there comes to them that which they (should) have recognized, they refuse to believe in it but the curse of Allah is on those without Faith." [Ref: 2:89] Aur is ayaat ki Tafsir istera heh: "(“…though before that they were asking for a signal triumph over those who disbelieved…”). Said Ibn 'Abbas: “The Jews of Khaybar were at war with Ghatafan, and whenever the two parties used to meet, Khaybar ended up in defeat. For this reason they devised the following supplication: 'O Allah! We beseech You by the truth of the unlettered Prophet whom You promised to send forth to us at the end of time to give us victory over them'. And so whenever they said this supplication, Ghatafan was defeated. But when the Prophet, Allah bless him and give him peace, was sent forth, they disbelieved in him. It is due to this that Allah, exalted is He, revealed ...” [by: Tafsir Asbab Un Nuzul, Al Wahidi] "When there came to them a Book from God, confirming what was with them, in the Torah, that is the Qur’ān — and they formerly, before it came, prayed for victory, for assistance, over the disbelievers, saying: ‘God, give us assistance against them through the Prophet that shall be sent at the end of time’; but when there came to them what they recognized, as the truth, that is, the mission of the Prophet, they disbelieved in it, out of envy and for fear of losing leadership (the response to the first lammā particle is indicated by the response to the second one); and the curse of God is on the disbelievers." [Ref: Tafsir Jalalayn] "(“And when there cometh unto them a Scripture from Allah, confirming that in their possession”) which accords with that which is in their possession (“though before that”) before Muhammad (“they were asking for a signal triumph”) through Muhammad and the Qur'an (“over those who disbelieved”) of their enemies: the tribes of Asad, Ghatafan, Muzaynah, and Juhaynah (“and when there cometh unto them that which they knew”) of his traits and description in their Book (they disbelieved therein) they denied it was him. (“The curse of Allah”) His wrath and torment (“is on disbelievers”) the Jews." [Ref: Tafsir Ibn Abbas] "(although aforetime they had invoked Allah (for coming of Muhammad ) in order to gain victory over those who disbelieved) meaning, before this Messenger came to them, they used to ask Allah to aid them by his arrival, against their polytheistic enemies in war. They used to say to the polytheists, "A Prophet shall be sent just before the end of this world and we, along with him, shall exterminate you, just as the nations of `Ad and Iram were exterminated.'' Also, Muhammad bin Ishaq narrated that Ibn `Abbas said, "The Jews used to invoke Allah (for the coming of Muhammad) in order to gain victory over the Aws and Khazraj, before the Prophet was sent. When Allah sent him to the Arabs, they rejected him and denied what they used to say about him. Hence, Mu`adh bin Jabal and Bishr bin Al-Bara' bin Ma`rur, from Bani Salamah, said to them, `O Jews! Fear Allah and embrace Islam. You used to invoke Allah for the coming of Muhammad when we were still disbelievers and you used to tell us that he would come and describe him to us,' Salam bin Mushkim from Bani An-Nadir replied, `He did not bring anything that we recognize. He is not the Prophet we told you about." [Ref: Tafsir Ibn Kathir] Quran ki ayaat aur Tafasir say sabat huwa kay Yahood RasoolAllah (sallallahu alayhi wa aalihi was'sallam) ka Wasila say Fatah mangtay thay. Pedaish say pehlay waqt maut aur is zamana maut mein Wasilah banay lehaza wasila faut shuda ka jaiz heh.
    3 points
  10. ~*"از قلم غلامِ احمد رضا علی حیدر سنی حنفی بریلوی*"~ مزارات پر ہونے والی خرافات اورفعلِ جہلاء کا رد *أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ* *الرَّجيـم* *بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ۞* *الصلوة والسلام علیک* *یارسول اللہ* *السلام علیکم* *گفتگو:* کچھ جاہل لوگ بسبب اپنی جہالت کے یہ اعتراض کرتے رہتے ہیں کہ بریلوی یعنی سنی ہمیشہ مزارات پر ناچتے گاتے ڈھول بجاتے ہیں اور عورتوں کو وہاں بے پردہ لیے پھرتے ہیں قبروں کو سجدے اور طواف کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ یہ تمام بریلوی قبر پرست ہیں اور اسطرح وہ کئی قسم کی ویڈیوز اور تصاویر وغیرہ شئیر کرتے رہتے ہیں مختلف مقامات پر اور جب ہم جواب میں کہتے ہیں کہ ایسے گناہ اور خرافات کرنے والے اسکے ذمہ دار خود ہیں اس سے ہمارے مسلک کا کیا تعلق جہلاء کا فعل کبھی شریعت کیلیے حجت نہیں ہوسکتا ہے ایسے گناہ کرنے والوں کو اپنے ان گناہوں کا بوجھ خود کرنے والے کو اٹھانا پڑیگا کیونکہ اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے کہ *وَ لَا تَکۡسِبُ کُلُّ نَفۡسٍ اِلَّا عَلَیۡہَا ۚ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰی* ترجمہ اور جو کوئی کچھ کمائے وہ اسی کے ذمہ ہے ، اور کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گی سورت الانعام 164 اب ذرا دیکھتے ہیں کہ مزارات پرہونے والی ان تمام خرافات کے بارے میں سنی علماء کرام کی تحریرات اور فتوے *{سب سے پہلے فتویٰ رضویہ سے* *غیر خدا کو سجدے کے بارے میں تحقیق}* *نوٹ* : اعلیحضرت امام احمد رضا خان بریلویؓ نے غیر خدا کوسجدہ حرام ہونے کے متعلق ایک رسالہ لکھا ہے جو کہ *الزبدتہ الزکیہ لتحریم سجود التحیہ* کے نام سے فتویٰ رضویہ میں موجود ہے فتویٰ رضویہ جدید جلد 22،ص 425تا537 قدیم جلد 9, نصفِ آخر،ص212 تا247 مکتبہ رضویہ، جلد10, نصف آخر،ص212تا247 *یہ رسالہ قریباً 112 صفحات پر مشتمل ہے* اور اسمیں اعلیححضرت نے تین فصل قائم کی ہیں فصل اول: قرآن قریم سے سجدہ تحیت کی تحریم فصل دوم: چالیس حدیثوں سے تحریم سجدہ تحیت کا ثبوت فصل سوم: ڈیڑھ سو یعنی کہ 150 نصوص فقہ سے سجدہ تحیت کے حرام ہونے کا ثبوت اس رسالہ کے نام سے ہی واضح ہے کہ اعلیحضرت نے کسطرح سجدہ تعظیمی کے حرام ہونے پر کلام کیا ہے صرف رسالہ کے نام سے ہی سجدہ تعظیمی کا حرام ہونا ثابت ہوتا ہے اتنی بڑی اور عمدہ تحقیق موجود ہے اعلیحضرت کی لیکن میں صرف مختصر یہاں بیان کروں گا ان شاء اللہ اعلیحضرت نقل فرماتے ہیں کہ شریعت میں اس کے سوا کسی غیر کو سجدہ حرام ہوگیا مسلمان اے مسلمان! اے شریعت مصطفوی کے تابع فرمان جان اور یقین جان کہ سجدہ حضرت عزت جلالہ کے سوا کسی کے لئے نہیں۔اس کے غیر کو سجدہ عبادت یقینا اجماعا شرك مہین و کفر مبین اور سجدہ تحیت حرام وگناہ کبیرہ بالیقین ہے جلد 22 صفحہ 429 سجدہ تحیت ایسا سخت حرام ہے کہ مشابہ کفر ہے والعیاذ باﷲ تعالٰی صحابہ کرام نے حضور کو سجدہ تحیت کی اجازت چاہی اس پر ارشاد ہوا کیا تمھیں کفر کا حکم دیں،معلوم ہوا کہ سجدہ تحیت ایسی قبیح چیز ایسا سخت حرام ہے جسے کفر سے تعبیر فرمایا:جب حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے لئے سجدہ تحیت کا یہ حکم ہے پھر اوروں کا کیا ذکر۔واﷲ الھادی۔ جلد 22 صفحہ 437 لایجوز السجود الا اﷲ تعالٰی [3]۔ سجدہ غیر خدا کے لئے جائز نہیں۔ غیر خدا کو سجدہ تحیت شراب پینے اور سوئر کھانے سے بھی بدتر ہے والعیاذ باﷲ تعالٰی جلد22 ص 467 ثابت ہوا کہ غیر خدا کے لئے سجدہ حرام ہے بیشك محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے دین میں اﷲ عزوجل کے سوا سجدہ کسی کے لئے حلال نہیں *{پیروں کو سجدہ کرنا}* السجد حرام لغیرہ سبحانہ تعالٰی [3]۔ غیر خدا کو سجدہ حرام وہ جو بہت ظالم جاہل پیروں کو سجدہ کرتے ہیں یہ ہر حال میں حرام قطعی ہے چاہے قبلہ کی جانب ہو یا اور طرف اور چاہے خدا کو سجدہ کی نیت کرے یا اس نیت سے غافل ہو پھر اس کی بعض صورتیں تو مقتضی کفر ہیں اﷲ تعالٰی ہمیں اس سے پناہ دے۔ جلد22 ص 468 بیشك آئمہ نے تصریح فرمائی کہ پیروں کو سجدہ کہ جاہل صوفی کرتے ہیں حرام اور اس کی بعض صورتیں حکم کفر لگاتی ہے۔ سجدہ کہ بعض جاہل صوفی اپنے پیر کےآگے کرتے ہیں نرا حرام اور سب سے بدتر بدعت ہے وہ جبرًا اس سے باز رکھیں جائیں۔ یہاں سے معلوم ہوا کہ سجدہ کہ جہال اپنے سرکش پیروں کو کرتے اور اسے پائگاہ کہتے ہیں بعض مشائخ کے نزدیك کفر ہے اور گناہ کبیرہ تو بالاجماع ہے پس اگرا اسے اپنے پیر کے لئے جائز جانے تو کافر ہے اور اگر اس کے پیرنے اسے سجدہ کا حکم کیا اور اسے پسند کرکے اس پر راضی ہوا تو وہ شیخ نجدی خود بھی کافر ہوا اگر کبھی مسلمان تھا بھی۔ *{اعلیحضرت خود فرماتے ہیں}* اقول:(میں کہتاہوں)یعنی ایسے متکبر خدا فراموش خود پسند اپنے لئے سجدے کے خوہشمند غالبا شرع سے آزاد بے قید وبند ہوتے ہیں یوں تو آپ ہی کافر ہیں اور اگر کبھی ایسے نہ بھی تھے تو حرام قطعی یقینی اجماعی کو اچھا جان کو اب ہوئے والعیاذ باﷲ تعالٰی۔ الحمد ﷲ یہ نفس سجدہ تحیت کے حکم میں ستر نص ہیں کہ سجدہ اﷲ واحد قہار ہی کے لئے ہے اور اس کے غیر کے لئے مطلقًا کسی نیت سے ہو حرام حرام حرام کبیرہ کبیرہ کبیرہ۔ جلد22ص496 :سجدہ تو سجدہ زمین بوسی حرام ہے عالموں اور بزرگون کے سامنے چومنا حرام ہے اور چومنے والا اور اس پر راضی ہونے والا دونوں گنہ گار۔ کافی وکفایہ وغایۃ وتبیین ودرو مجمع وابوالسعود وجواہرنے زائد کیا۔لانہ یشبہ عبادۃ الوثن [2]اس لئے کہ وہ بت پرستی کے مشابہ ہے۔ طوری کے لفظ یہ ہیں لانہ اشبہ بعبدۃ الاوثان [3]۔ایسا کرنے والا بت پرستوں سے نہایت مشابہ ہے۔ نص ۸۷:علامہ سید احمد مصری طحطاوی جلد ۴ ص زیر قول مذکور در: یشبہ عبادۃ الوثن لانہ فیہ صورۃ السجود لغیر اﷲ تعالٰی [4]۔ زمین بوسی اس لئے بت پرستی کے مشابہ ہے کہ اس میں غیر خدا کو سجدہ کی صورت ہے جلد22ص 470 اقول:(میں کہتاہوں)زمین بوسی حقیقۃ سجدہ نہیں کہ سجدہ میں پیشانی رکھنی ضروری ہے جب یہ اس وجہ سے حرام مشابہ ہے پرستی ہوئی کہ صورۃ قریب سجدہ ہے تو خود سجدہ کس درجہ سخت حرام اور بت پرستی کا مشابہ تام ہوگا۔والعیاذ باﷲ تعالٰی۔ عالم کے سامنے تحیت کی نیت سے زمین بوسی حرام ہے۔زمین چومنا اور جھکنا جائز نہیں بلکہ حرام ہے۔ زمین بوسی بطور تحیت حرام اور بروجہ تعظیم کفر ہے۔زمین چومنا سجدے کے قریب ہے اور حین یا رخسارہ زمین پر رکھنا اس سے بھی زیادہ فحش وقبیح ہے۔ قسم سوم: زمین بوسی بالائے طاق رکوع کے قریب تك جھکنا منع ہے جلد22 ص 471 سلام میں رکوع کے قریب تك جھکنا بھی مثل سجدہ ہے۔نہ بوسہ دے نہ جھکے کہ دونوں مکروہ ہیں۔ سلام کے وقت جھکنا منع فرمایا گیا اور وہ مجوسی کا فعل ہے۔ سلام میں نہ جکھے کہ بادشاہ ہو یا کوئی کسی کے لئے جھکنے کی اجازت نہیں اور ایك وجہ ممانعت یہ ہے کہ وہ یہود ونصارٰی کا فعل ہے۔ معلوم رہے کہ جو اکابر میں کسی سے ملتے وقت اس کے لئے سر یاپیٹھ جھکائے اگر چہ اس میں مبالغہ کرے اس کا ارادہ تحیت و تعظیم ہی کا ہوتا ہے نہ کہ اس کی عبادت کا تو اس فعل سے کافرنہ ہوجائیگا۔ جلد22ص 472 ۱۱۰:امام اجل عزالدین بن عبدالسلام(۱۱۱)ان سے امام ابن حجر مکی فتاوٰی کبرٰی میں جلد ۴ ص ۲۴۷(۱۱۲)ان سے امام عارف نابلسی حدیقہ ص ۳۸۱میں: حد رکوع تك کوئی کسی کے لئے نہ جھکے جیسے سجدہ اور اس قدر سے کم میں حرج نہیں کہ کسی اسلامی عزت والے کے لئے جھکے۔ جلد22ص473 مزارات کو سجدہ یا ان کے سامنے زمین چومنا حرام اورحد رکوع تك جھکنا ممنوع۔ ۱۲۸: منسك متوسط علامہ رحمۃ اﷲ تلمیذ امام ابن الہمام (۱۲۹)مسلك متقسط شرح ملاعلی قاری ص ۲۹۳: زیارت روضہ انور سید اطہر صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم(رزقنا اﷲ العود المیھاد بقبولہ) ہمیں اﷲ تعالٰی دوبارہ روضہ اطہر کی زیارت نصیب فرمائے بشرطیکہ قبولیت ہو)کے وقت نہ دیوار کریم کو ہاتھ لگائے،نہ چومے،نہ اس سے چمٹے،نہ طواف کرے نہ جھکے نہ زمین چومے کہ یہ سب بدعت قبیحہ ہیں۔ اقول:(میں کہتاہوں)بوسہ میں اختلاف ہے اور چھونا چمٹنا اس کے مثل اور احوط منع اور علت خلاف ادب ہوناہے۔ وہ بات نہیں جو ملا علی قاری سے بوسہ دینے کے بارے میں صادر ہوئی کہ وہ بعض ارکان قبلہ کے خواص میں سے ہے اور یہ کیسے ہوسکتا ہے اس لئے کہ ائمہ کرام نے مصحف شریف اور علمائے کرام کے ہاتھ پاؤں چومنے کے مستحسن ہونے کی تصریح فرمائی۔نیز روٹی کو بوسہ دینے کی صراحت فرمائی۔(ت) اور جھکنے سے مرادبدستور تاحد رکوع،اور طواف سے یہ کہ نفس طواف بغرض تعظیم مقصود ہو کما حققناہ فی فتاوٰی بما لا مزید علیہ (جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوٰی میں بڑی تفصیل سے اس کی تحقیق کردی کہ جس پر اضافہ نہیں ہوسکتا۔ت) جلد22ص474تا475 *"قبروں کو چومنا"* کسی قبر کو سجدہ تو کجا آپ نے تو والدین کی قبر تک کو بوسہ دینا مکروہ بتایا ہے چنانچہ جب اعلیحضرت سے یہ مسئلہ پوچھا گیا کہ بوسہ قبر کا کیا حکم ہے تو اسکے جواب میں اعلیحضرت نے فرمایا کہ بعض علماء اجازت دیتے ہیں اور بعض روایات بھی نقل کرتے ہیں، کشف الغطاء میں ہے : کفایۃ الشعبی میں قبر والدین کو بوسہ دینے کے بارے میں ایك اثر نقل کیا ہے اورکہا ہے کہ اس صورت میں کوئی حرج نہیں۔ اور شیخ بزرگ نے بھی شرح مشکوٰۃ میں بعض آثار میں اس کے وارد ہونے کا اشارہ کیا اور اس پر کوئی جرح نہ کی ۔ مگر جمہور علماء مکروہ جانتے ہیں، تو اس سے احتراز ہی چاہئے اشعۃ اللمعات میں ہے : قبر کو ہاتھ نہ لگائے، نہ ہی بوسہ دے ۔ کشف الغطاء میں ہے: ایسا ہی عامۃ کُتب میں ہے۔ مدارج النبوۃ میں ہے : قبر والدین کو بوسہ دینے کے بارے میں ایك روایت بیہقی ذکر کرتے ہیں مگر صحیح یہ ہے کہ ناجائز ہے فتاویٰ رضویہ جلد9 ص528تا529 اسی جلد22ص251تا269تک بوسہ دست و پائوں قبر طواف قبر اور سجدہ تعظیمی وغیرہ کی بحث موجود ہے اتنے دلائل کے بعد بھی مخالفین کچھ جہلاء کے فعل مسلک اعلیحضرت کے خلاف بطورِ دلیل پیش کرتے ہیں یہ بڑے افسوس کی بات ہے آئیے اب ذرا دیکھتے ہیں کہ شریعت کے خلاف عمل کرنے والے جہلاء کے بارے میں اعلیحضرت کسطرح رد فرماتے ہیں *سوال* *(۳)یہ کہنا کہ عرب شریف اسلام کا گھر ہے وہاں کے لوگ داڑھی کٹواکر چھوٹا کرلیتے ہیں اگر اور کوئی ش خص داڑھی کتروائے* *تو کیا مضائقہ ہے۔ایسے کہنے والے شخص کی* *نسبت کیا حکم ہے؟* *جواب* شریعت پر کسی کا قول وفعل حجت نہیں۔اﷲ ورسول سب پر حاکم ہیں اﷲ ورسول پرکوئی حاکم نہیں،یہ فعل وہاں کے جاہلوں کا ہے اور جاہلوں کا فعل سند نہیں ہوسکتا کہیں کے ہوں،ایسا کہنے والا اگر جاہل ہے اسے سمجھا دیا جائے او ر اگر ذی علم ہو کر ایسا کہتا ہے یاسمجھانے کے بعد بھی نہ مانے اصرار کئے جائے وہ سخت فاسق وگمراہ ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم فتویٰ رضویہ جلد 22 صفحہ 609 اب انصاف کریں کہ اعلیحضرت نے کسطرح فرمایا ہے کہ جاہلوں کا فعل سند نہیں بن سکتا ہےاور سمجھانے کے بعد بھی اگر کوئی نہ مانے اور جہلاء کا فعل کو شریعت کے خلاف حجت مانے تو وہ فاسق معلن اور سخت گمراہ ہے *سوال* *(۲)مسلمان کو مونچھ بڑھانا یہاں تك کہ منہ میں آئے کیاحکم ہے؟ زید کہتاہے ترکی لوگ بھی* *مسلمان ہیں وہ کیوں* *مونچھ بڑھاتے ہیں؟* *الجواب* فوجی جاہل ترکوں کا فعل حجتہے۔یا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد۔واﷲ تعالٰی اعلم جلد 22 صفحہ 688 یہاں پر بھی اعلیحضرت وہی بات بیان فرمائی کہ جاہلوں کا فعل حجت نہیں *سوال* کیافرماتے ہیں علمائے دینومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں،اس ملك کے مولوی صاحبان کہتے ہیں کہ ہارمونیم بجانااور سننا اور گراموفون بجانا یاسننا قطعی حرام ہے،اگردرحقیقت حرام ہے تو اکثربلادمیں بہت سے علماء ہند نے اس کوجائز رکھاہے او دیدہ دانستہ گناہ کے مرتکب ہوتےہیں اس کی کیاوجہ،کیاوہ لوگ علم دین سے واقف نہیں ہیں یعنی اجمیرشریف،پھلواریشریف،بغدادشریف وغیرہ میں زمانہ عرس میں قوالی سنتے ہیں اس کے سامنے ہارمونیموستارضرورہوتاہے اس کی کیاوجہ ہے، ازراہ مہربانی اس کے بارہ میں جیساحکم ہو کس کسطریقہ والے کے نزدیك جائزہے اور کس کس کے نزدیك ناجائزہے؟ جواب سے مطلعفرمائیں۔فقط۔ *الجواب* : ہارمونیم ضرورحرامہے،بغدادشریف میں تو اس کانشان بھی نہیں،نہ اجمیرشریف میں دیکھنے میں آیا،نہ فاسقوں کافعل حجت ہو سکتا ہے،نہ کسی عالم نے اسے حلال کہا،اگرکسی نے حلال کہا ہوتو وہ عالم نہ ہوگا ظالم ہوگا۔گراموفون سے قرآن مجید کاسننا ممنوع ہے کہ اسےلہوولعب میں لانابے ادبی ہے،اور ناچ یاباجے یاناجائز گانے کی آواز بھی سننا ممنوعہے،اور اگرجائزآواز ہو کہ نہ اس میں کوئی منکر شرعی نہ وہ کچھ محل ادب،تو اس کےسننے میں فی نفسہٖ حرج نہیں،ہاں لہو کاجلسہ ہوتو اس میں شرکت کی ممانعت ہے،اورتفصیل کامل ہمارے *رسالہ الکشف شافیا* میں ہے جلد 24 صفحہ 134 اب اس سے تو صاف واضح ہوگیا کہ خلاف شرع امور میں کسی کی پیروی جائیز نہیں ہے اگر کسی نے عالم ہونے کے باوجود بھی ان منکرات کو جائیز قراردیا تو اعلیحضرت فرماتے ہیں کہ وہ عالم نہیں بلکہ ظالم ہے *سوال* گاناقوالی مع ساز اورنااہللوگوں کاجمع ہونا جوصوم صلوٰۃ کے پابند نہ ہوں خصوصًا مستورات کاجمع ہونا جائزہےیاناجائز؟ *الجواب* : گانا مع مزامیر مطلقً ناجائیز ہے ناکہ ان منکرات کیساتھ جلد 24 صفحہ 135 اعلیحضرت نے تو گانے بجانے کو مطلقً ناجائیز قرار دیا ہے اور لوگ انہی تمام منکرات کو مسلک بریلوی کیطرف بڑی بے شرمی کیساتھ منسوب کردیتے ہیں اللہ بچائے ان فتنہ گروں سے *{مزارات پر حاضری کا طریقہ}* *سوال* حضرت کی خدمت میں عرض یہ ہے کہبزرگوں کے مزار پر جائیں تو فاتحہ کس طرح سے پڑھا کریں ا ور فاتحہ میں کون کون سیچیزیں پڑھا کریں؟ *الجواب:* مزار شریفہ پر حاضرہونے میں پائنتی کی طرف سے جائے اور کمازکم چار ہاتھ کے فاصلے پر مواجہہ میں کھڑا ہو اور متوسط آواز بادب عرض کرے السّلام علیك یا سیدی ورحمۃ اﷲوبرکاتہ پھر درودغوثیہ تین بار، الحمد شریف ایك بار ، آیۃ الکرسی ایك بار، سورہ اخلاصسات بار، پھر درود غوثیہ سات بار ، اور وقت فرصت دے تو سورہ یٰسں او رسورہ ملك بھیپڑھ کر اﷲ عزوجل سے دعا کرے کہ الہی ! اس قرأت پر مجھے اتنا ثواب دے جو تیرے کرمکے قابل ہے، نہ اتنا جو میرے عمل کے قابل ہے او راسے میری طرف سے اس بندہ مقبول کونذر پہنچا، پھر اپنا جو مطلب جائز شرعی ہو ا س کے لیے دعا کرے اورصاحب مزار کی روحکو اﷲ عزوجل کی بارگاہ میں اپنا وسیلہ قراردے ، پھر اس طرح سلام کرکے واپس آئے،مزار کو نہ ہاتھ لگائے نہ بوسہ دے اور طواف بالاتفاق ناجائز ہے اور سجدہ حرام ۔واﷲ تعالٰی اعلم جلد9ص 524تا525 فتاویٰ فخرازہر جلد2ص427تا428 اور بیٹھنا چاہے تو اتنے فاصلہ سے بیٹھے کہ اس کے پاس زندگی میں نزدیک یا دور جتنے فاصلہ پر بیٹھ سکتا تھا۔ (5) (ردالمحتار) بہارشریعت حصہ چہارم 852 مزار شریف پر سر رکھنا بھی منع ہے ہرگز ایسا نہ کریں فتاویٰ علیمیہ ص364 *{عورتوں کا مزار پر جانا}* (۲) عورتوں کو مقابر اولیاء ومزارات عوام دونوں پر جانے کی ممانعت ہے۔ جلد9ص 538 نوٹ: اعلیحضرت نے عورتوں کو زیارت قبور سے ممانعت پر ایک رسالہ لکھا ہے جسکا نام *(جمل النور فی نھی النساء عن زیارت القبور)* ہے جو فتویٰ رضویہ جدید جلد9ص541 تا564 قدیم جلد4ص166تا176 پر موجود ہے اور اسکے علاوہ عورتوں کے بے پردہ نکلنے کے بارے میں بھی رسالہ لکھا جسکا نام ہے *مروج النجاءلخروج النساء* جلد 22 ص221تا251 اہلسنت والجماعت بریلوی علمائے کرام کے فتوے {غیر اللہ کو سجدہ حرام ہے} 1:علامہ ممتاز تیمور قادری صاحب(کنزلا ایمان اور مخالفین ص 403 2:علامہ منیر احمد یوسفی (قبروں کی تعظیم و احترام حکم اسلام قبروں کو سجدہ مطلقً حرام 3: مولانا محمد شاہد القادری صاحب تاج الشریعہ کے حوالے سے نقل کرتے ہیں قبر کو سجدہ اور طواف ناجائیز و ممنوع ہے اور جو لوگ ایسا کرتے ہیں سخت گناہگار ہیں انہیں امام بنانا گناہ اور انکے پیچھے نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ کہ پڑھنی گناہ اور پھیرنی واجب تعلیمات تاج الشریعہ ص 47 بحوالہ بتاویٰ تاج الشریعہ جلد سوم ص 414 اسی کتاب کے ص 37 پر ہے کہ غیر اللہ کے آگے سجدہ اگر بہ نیت عبادت ہو تو معاذ اللہ شرک جلی وکفر صریح ہے اور اگر بہ نیت تعظیم ہوتو اشد حرام و گناہ کبیرہ ہے بحوالہ فتاویٰ تاج الشریعہ جلد دوم ص 577 اسی کے ص 14 پر ہے کہ انبیاء اولیاء کو سجدہ تحیت ناجائیز وحرام ہے بحوالہ فتاویٰ تاج الشریعہ جلد اول ص269 4:مفتی جلال الدین احمدالامجدی صاحب فتاویٰ فیض الرسول جلد2 ص496تا504 پر پوری تحقیق سے ثا بت کیا ہے ہیکہ غیراللہ کو سجدہ ہر صورت ناجائیز ہے اور اسی کتاب کے صفحہ 490تا 491 پر ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ خدائے تعالیٰ کے علاوہ کسی کو سجدہ کرنا جائیز نہیں چاہے وہ صنم ہو یا غیر صنم اللہ کے علاوہ دوسرے کو سجدہ حرام ہے سلام کی نیت سے بھی سجدہ کرنا جائیز نہیں چاہے وہ بادشاہ ہو یا شیخ جسنے بطور سلام بادشاہ کو سجدہ کیا اسکے سامنے زمین چومی تو وہ ارتکاب کبیرہ کے سبب گنہگار ہوا۔اور جو شخص غیر خدا کو سجدہ جائیز بتائے وہ گمراہ ہے اس سے مرید ہونا بھی جائیز نہیں ہے ص 490_ 491 اسی میں ہے کہ کسی بزرگ کی تعظیم کیلیے اسکی قبر کا طواف کیا جائے ناجائیز ہے کہ تعظیم بالطواف مخصوص بخانئہ کعبہ ہے ص 561بحوالہ فتوی رضویہ مزید لکھتے ہیں کہ مزار کو بطور عبادت سجدہ کرنے والا کافر و مرتد ہےاور اگر سجدہ عظیمی ہوتو سجدہ کرنے والا فعل حرام وگناہ کبیرہ کا مرتکب ہے اور سجدہ فقہی کو جائیز قبر کیلیئے جائیز ماننے والا گمراہ و فاسق ہے اور سجدہ عقیدت بہر صورت ناجائیز و حرام ہے ص 598 5:مفتی شریف الحق امجدی صاحب ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی مخلوق کو سجدہ جائیز نہیں مخلوق کیلیے سجدہ عبادت کفر اور سجدہ تحیت حرام قطعی ہے اور سجدہ تحیت کو جائیز بتانا زید کا غلط عقیدہ ہے فتاویٰ شارح بخاری جلد دوم ص 344 اور یہی بات ص 339تا 340 پر بھی اسیطرح موجود ہے 6: علامہ محمد اختر حسین قادری صاحب فتاویٰ علیمیہ میں جواب دیتے ہوئےلکھتے ہیں کہ مزارات مقدسہ کاطلب شفا کی نیت سے طواف کرنا یعنی چکر لگانا راجح قول کے مطابق ممنوع ہے اور اس سے بچنا چاہئے جلد1 ص344 7:مفتی جلال الدین احمد امجدی صاحب فتاویٰ مرکز تربیت افتاء میں لکھتے ہیں کہ جاہل عوام کا درخت کو سجدہ کرنا یہ بھی حرام ہے جبکہ بروجہ عبادت نہ ہو اگر بروجہ عبادت ہوتو قطعاً یقیناً اجماعاً کفر ہے جلد اول ص 391 مزید لکھتے ہیں کہ مزار کا طواف صرف تعظیم کی نیت سے بھی ناجائیز ہے کہ تعظیم بالطواف صرف خانہ کعبہ کے ساتھ خاص ہے ص 365 8:مفتی امجد علی اعظمی بہارشریعت میں لکھتے ہیں کہ مسئلہ ۴۸: نماز اﷲ ہی کے لیے پڑھی جائے اور اسی کے لیے سجدہ ہو نہ کہ کعبہ کو، اگر کسی نے معاذ اﷲ کعبہ کے لیے سجدہ کیا، حرام و گناہ کبیرہ کیا اور اگر عبادت کعبہ کی نیت کی، جب تو کھلا کافر ہے کہ غیر خدا کی عبادت کفر ہے۔ (1) (درمختار و افاداتِ رضویہ) بہار شریعت حصہ سوم ص 489 ایک مقام پر لکھا کہ مسئلہ ۱۵: سجدہ تحیت یعنی ملاقات کے وقت بطورِ اکرام کسی کو سجدہ کرنا حرام ہے اور اگر بقصد عبادت ہو تو سجدہ کرنے والا کافر ہے کہ غیر خدا کی عبادت کفر ہے۔ (2) (ردالمحتار) مسئلہ ۱۶: بادشاہ کو بروجہ تحیت سجدہ کرنا یا اس کے سامنے زمین کو بوسہ دینا کفر نہیں ، مگر یہ شخص گنہگار ہو ااور اگر عبادت کے طور پر سجدہ کیا تو کفر ہے۔ عالم کے پاس آنے والا بھی اگر زمین کو بوسہ دے، یہ بھی ناجائز و گناہ ہے، کرنے والا اور اس پر راضی ہونے والا دونوں گنہگار ہیں ۔ (3) (عالمگیری) مسئلہ ۱۷: ملاقات کے وقت جھکنا منع ہے۔ (4) (عالمگیری) یعنی اتنا جھکنا کہ حدِ رکوع تک ہوجائے۔ بہار شریعت حصہ شانزدہم ص476 بلکہ روضہ انور کے حوالہ سے بھی یہاں تک فرمایا کہ (۳۹) روضۂ انور کا نہ طواف کرو، نہ سجدہ، نہ اتنا جھکنا کہ رکوع کے برابر ہو۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی تعظیم اُن کی اطاعت میں ہے۔ بہار شریعت حصہ ششم ص1222 9:احکام شریعت ص241 10:ارشادات اعلیحضرت ص56تا57 11:عوامی غلط فہمیاں اور ان کی اصلاح ص29 12:امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ مزار کا طواف کہ محض بہ نیت تعظیم کیا جائے ناجائز ہے کہ تعظیم بالطواف مخصوص خانہ کعبہ ہے۔ مزار شریف کو بوسہ نہیں دینا چاہئے۔ علماء کا اس مسئلے میں اختلاف ہے مگر بوسہ دینے سے بچنا بہتر ہے اور اسی میں ادب زیادہ ہے۔ آستانہ بوسی میں حرج نہیں اور آنکھوں سے لگانا بھی جائز کہ اس سے شرعzafir میں ممانعت نہ آئی اور جس چیز کو شرح نے منع نہ فرمایا وہ منع نہیں ہوسکتی۔ اﷲ تعالیٰ کا فرمان ’’ان الحکم الا اﷲ‘‘ ہاتھ باندھے الٹے پاؤں آنا ایک طرز ادب ہے اور جس ادب سے شرح نے منع نہ فرمایا اس میں حرج نہیں۔ ہاں اگر اس میں اپنی یا دوسرے کی ایذا کا اندیشہ ہو تو اس سے احتراز (بچا) کیا جائے (فتاویٰ رضویہ جلد چہارم ص 8‘ مطبوعہ رضا اکیڈمی ممبئی) *روضہ انور پر حاضری کا صحیح طریقہ* امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں کہ خبردار جالی شریف (حضورﷺ کے مزار شریف کی سنہری جالیوں) کو بوسہ دینے یا ہاتھ لگانے سے بچو کہ خلافِ ادب ہے بلکہ (جالی شریف) سے چار ہاتھ فاصلہ سے زیادہ قریب نہ جاؤ۔ یہ ان کی رحمت کیا کم ہے کہ تم کو اپنے حضور بلایا‘ اپنے مواجہ اقدس میں جگہ بخشی‘ ان کی نگاہ کرم اگرچہ ہر جگہ تمہاری طرف تھی اب خصوصیت اور اس درجہ قرب کے ساتھ ہے (فتاویٰ رضویہ جدید جلد 10 ص 765‘ مطبوعہ جامعہ نظامیہ لاہور) *روضہ انور پر طواف و سجدہ منع ہے* امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں روضہ انور کا طواف نہ کرو‘ نہ سجدہ کرو‘ نہ اتنا جھکنا کہ رکوع کے برابر ہو۔ حضور کریمﷺ کی تعظیم ان کی اطاعت میں ہے۔ (فتاویٰ رضویہ شریف جدید جلد 10ص 769 مطبوعہ جامعہ نظامیہ لاہور) معلوم ہوا کہ مزارات پر سجدہ کرنے والے لوگ جہلا میں سے ہیں اور جہلاء کی حرکت کو تمام اہلسنت پر ڈالنا سراسر خیانت ہے‘ اور امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ کی تعلیمات کے خلاف ہے *مزارات پر عورتوں کا جانا ممنوع ہے* تمام حوالہ جات درج ذیل ہیں 1:فتوی رضویہ جلد9ص535 2:بہار شریعت حصہ چہارم852 3:فتاویٰ فخرازہر جلددوم ص312تا313 4:قبروں کی تعظیم واحترام حکم اسلام قبروں کو سجدہ مطلقاً حرام ص 7 5:تعلیمات تاج الشریعہ ص12 6:فتاویٰ تاج الشریعہ جلد1ص203 7:وقارالفتاویٰ جلد3ص376 8:فتاویٰ فیض الرسول جلد ص 529 9:فتاویٰ فیض الرسول جلد2 ص 613تا614 10:فتاویٰ فیض الرسول جلد1 ص 456 11:فتاویٰ مفتی اعظم جلد 3 ص 282 12:فتاویٰ فقیہ ملت جلد1ص278 پر دوفتوے موجود ہیں 13:فتاویٰ مصطفویہ ص453 14:فتاویٰ بریلی شریف میں تو یہاں تک لکھا ہیکہ مزارات اولیاء پر عورتوں کا جاناناجائیزوحرام ہے جب تک وہ اپنے گھروں کو واپس نہیں ہوجاتیں فرشتے ان پر لعنت بھیجتے ہیں ص205 15:فتاویٰ بریلی شریف ص121 16:فتاویٰ افریقہ ص66 17:احکام شریعت ص167 18:فتاویٰ عبیدیہ ص 213 19:ملفوظات شریف ص 240 20:ارشادات اعلیحضرت ص45 21:عوامی غلط فہمیاں اور انکی اصلاح ص 29 مزامیر۔ مروجہ قوالی۔مروجہ تعزیہ داری۔ گانابجانا۔ ڈھول تاشے سارنگ۔ ناچ ورقص۔ موسیقی۔شراب چرس اور بھانگ وغیرہ پینا۔ تاش ۔ جوا۔ قوالی سننے کے ساتھ پیسہ لٹانا۔روپیہ کامالاپہنانا۔ عورتوں کا جلوس میں شامل ہونا۔ اور ایسی تمام اشیاء اور افعال ناجائیز و حرام ہیں 1: اعلیحضرت نے ان تمام امور کے رد میں ایک پورا راسالہ لکھا جسکانام درج ذیل ہے لہو ولعب کھیل تماشہ۔ میلہ۔ مزاح۔ ناچ۔ گانا۔ قوالی۔ مزامیر۔راگ۔ سماع۔ موسیقی وغیرہ سے متعلق فتویٰ رضویہ جلد24ص76تا167پرموجودہے فتویٰ رضویہ میں یہ رسالہ قریباً90صفحات پر مشتمل ہے 2:اسی طرح بہارشریعت کے بعض مقامات مزامیر کیساتھ قوالی وغیرہ کی مذمت کی گئی ہے حصہ1ص160اور276 حصہ9 ص467 حصہ16ص 514تا515وغیرہ 3:فتاویٰ فخرازہرجلددوم ص363تا364اورص332تا333 4:تعلیمات تاج الشریعہ ص51 ص39ص36ص30 فتاویٰ مفتی اعظم جلداول ص 299تا300 5:فتاویٰ فیض الرسول جلددوم ص487تا488اورص512 ص508تا510ص518تا519 ص 545ص533 تا534 ص563تا564ص611 6:فتاویٰ نعیمیہ ص10ص134 7:مختصرفتاویٰ اہلسنت ص196 8:وقارالفتاویٰ ص163تا 167 9: فتاویٰ شارح بخاری جلددوم ص 498 10:فتاویٰ مفتی اعظم جلدپنجم ص 184 11:فتاویٰ مفتی اعظم جلددوم ص125 12:فتاویٰ فقیہ ملت جلددوم ص 337تا342اورص296تا297 13:فتاویٰ اکبریہ جلداول ص493ص 490 14:فتاویٰ شرعیہ جلددوم ص442 15:فتاویٰ افریقہ ص129 16:فتاویٰ مرکزتربیت افتاء جلد دوم ص 478تا 479ص379 17:تفسیرصراط الجنان سورہ المائدة آیت 77 سورة لُقْمٰن آیت 6 18:فتاویٰ مسعودی ص542 نوٹ: اعلیحضرت نے شادیوں کی رسومات کے تعلق سے بھی ایک الگ رسالہ لکھا جسمیں تمام تمام امور غیر شرعیہ کا رد کرکے امت کی اصلاح کی گئی ہے ۔رسالہ کانام ہے *ھادی الناس فی رسوم الاعراس* فتویٰ رضویہ جلد23ص 278تا324 یہ رسالہ قریباً44صفحات کاہے تعزیہ *مروجہ تعزیہ داری کےناجائز و حرام ہونے پر علمائے اہلسنت کے 110فتاوے* (1) فتاوی عزیزی، ص184 (2) ایضاً، ص186 (3) ایضاً، ص188 (4) ایضاً، ص189 (5) فتاوی رضویہ، ج29، ص238 (6) ایضاً، ج24، ص142 (7) ایضاً، ص145 (8) ایضاً، ص490 (9) ایضاً، ص493 (10) ایضاً، ص498 (11) ایضاً، ص499 (12) ایضاً، ص500 (13) ایضاً، ص501 (14) ایضاً، ص502 (15) ایضاً، ص503 (16) ایضاً، ص504 (17) ایضاً، ص505 (18) ایضاً، ص507 (19) ایضاً، ص508 (20) ایضاً، ص513 (21) ایضاً، ص525 (22) ایضاً، ص558 (23) ایضاً، ج21، ص168 (24) ایضاً، ص221 (25) ایضاً، ص246 (26) ایضاً، ص247 (27) ایضاً، ص423 (28) ایضاً، ج16، ص121 (29) ایضاً، ص155 (30) ایضاً، ج15، ص263 (31) ایضاً، ج8، ص455 (32) ایضاً، ج6، ص442 (33) ایضاً، ص608 (34) فتاوی شرعیہ، ج2، ص612 (35) ایضاً، ج2، ص442 (36) فتاوی بحر العلوم، ج1، ص188 (37) ایضاً، ص320 (38) ایضاً، ج4، ص293 (39) ایضاً، ج5، ص238 (40) ایضاً، ص247 (41) ایضاً، ص268 (42) ایضاً، ص301 (43) ایضاً، ص442 (44) ایضاً، ص443 (45) ایضاً، ص452 (46) ایضاً، ص453 (47) ایضاً، ص456 (48) ایضاً، ج6، ص173 (49) فتاوی دیداریہ، ص120 (50) ایضاً، ص132 (51) فتاوی مفتی اعظم راجستھان، ص135 (52) فتاوی خلیلیہ، ج1، ص79 (53) فتاوی اجملیہ، ج4، ص15 (54) ایضاً، ص42 (55) ایضاً، ص68 (56) ایضاً، ص83 (57) ایضاً، ص105 (58) ایضاً، ص128 (59) ایضاً، ص88 (60) فتاوی شارح بخاری، ج2، ص454 (61) فتاوی ضیاء العلوم، ص39 (62) فتاوی ملک العلماء، ص463 (63) فتاوی اجملیہ، ج4، ص15 (64) فتاوی فقیہ ملت، ج1، ص54 (65) ایضاً، ج2، ص155 (66) کیا آپ کو معلوم ہے، ح1، ص215 (67) فتاوی مسعودی، ص83 (68) فتاوی نعیمیہ، ص55 (69) فتاوی اویسیہ، ص464 (70) فتاوی تاج الشریعہ، ج1، ص293 (71) ایضاً، ص427 (72) ایضاً، ج2، ص103 (73) ایضاً، ص341 (74) ایضاً، ص511 (75) ایضاً، ص561 (76) ایضاً، ص597 (77) ایضاً، ص619 (78) تعزیہ بازی (79) ملفوظات اعلی حضرت، ص286 (80) اعلی حضرت کے بعض نئے فتاوی، ص86 (81) فتاوی منظر اسلام نمبر، ص218 (82) ایضاً، ص219 (83) ایضاً، ص235 (84) ایضاً، ص237 (85) ایضاً، ص239 (86) ایضاً، ص246 (87) فتاوی رضا دار الیتامی، ص285 (88) عرفان شریعت، ص10 (89) فتاوی شرعیہ، ج3، ص272 (90) ایضاً، ص531 (91) فتاوی امجدیہ، ج4، ص167 (92) ایضاً، ص185 (93) ایضاً، ص206 (94) تعزیہ اور ماتم (95) تعزیہ علماے اہل سنت کی نظر میں (96) رسومات محرم اور تعزیہ داری (97) مروجہ تعزیہ داری کا شرعی حکم (98) بہار شریعت، ح16 (99) خطبات محرم، ص464 (100) محرم میں کیا جائز کیا ناجائز (101) محرم الحرام کے بارے میں 50 سوالات اور علماے اہل سنت کے جوابات (102) ماہ محرم اور بدعات (103) قانون شریعت (104) فتاوی فیض الرسول، ج1، ص247 ‌(105) ایضاً، ص249 (106) ایضاً، ص250 (107) فتاوی فیض الرسول، ج2، ص518 (108) ایضاً، ص533 (109) ص563 (110) ایضاً، ص646 *متبرک مقام کی مٹی بغرض تبرک کھاناجائیز ہے* 1:مٹی کھانا مکروہ ہے۔کیونکہ اس سے بیماری پیدا ہوتی ہےعورتوں اور بچوں کوبھی اس سےمنع کرناچاہیے۔ متبرک مقام کی مٹی بغرض تبرک کبھی کھالیں تواس میں مضائقہ نہیں ہے۔ لیکن نہ کھانابہتر ہے کیونکہ جواہرالفتاویٰ وغیرہ کتب میں ہے کہ کراہت عام ہے خواہ کہیں کی بھی مٹی ہو الحاوی میں امام ابوالقاسم سے روایت ہے کہ مٹی کھانا احمقوں کا فعل ہے عقلاء کا نہیں۔محیط میں ہے اگر عورت مٹی کھانے کی عادت بنالے تو اسے روکاجائے کیونکہ اسمیں صحت و جمال کا نقصان ہےاور فائدہ کچھ نہیں تلخیص فتاویٰ نظامیہ ص 126تا127 2:عام مٹی کھانا مکروہ ہے بلکہ فقہاء کرام سے حرام تک کا قول وارد ہے کیونکہ اس سے انسانی صحت کو خطرہ و نقصان پہنچنے کا قوی امکان ہے قاضی خان میں ہے"یکرہ اکل الطین لان ذلک یضرہ فیصیرقاتلاًنفسة" البتہ اگر ہلکا سا چاٹ لیاجائے تاکہ خواہش پوری ہوجائے تو کوئی حرج نہیں زیادہ کھانا نقصان سے خالی نہیں فتاویٰ فخرازہر جلددوم ص497 3:فقیہ الہند حضرت شاہ محمد مسعود محدث دہلوی فرماتے ہیں کہ واضح ہوکہ مٹی کھانا مطلقاً حرام نہیں ہے کیونکہ مٹی پاک ہے اور پھر تفسیر کبیر سورة النساء زیر آیت 43 اور مسلم شریف کی حدیث سے پھر شرح صحیح مسلم امام نووی کے حوالہ سے یہ ثابت کیا ہیکہ مٹی پاک اور حلال ہے پھر لکھتے ہیں کہ جب آیت اور حدیث سے ثابت ہوا کہ مٹی پاک اور حلال ہے تو کھانا بھی مطلقاً جائیز ہوا خواہ مدینہ منورہ کی ہو خواہ غیر اسکے پھر فرماتے ہہیں البتہ عادة نہ پکڑے اور کثرت سے نہ کھائے کہ موجب بیماری کا ہے اس لیے فقہاء مٹی کھانے پر عادة پکڑنے کو مکروہ تنزیہی لکھتے ہیں بجہت بیماری اور نقصان جسم اور جمال کے، نہ کہ بجہت حرمت اور ناپاکی کے، اور اگر گاہے گاہے کھالے یا قلیل ہوتو درست اور جائیز ہے چنانچہ مدینہ منورہ کی مٹی گاہے قلیل کھانا درست ہے فتاویٰ مسعودی ص586تا587 4:اعلیحضرت خودفرماتے ہیں مسئلہ: مٹی کھاناحرام ہے یعنی زیادہ کہ مضر ہے خاکِ شفا شریف سے تبرکًا قدرے چکھ لینا جائز ہے فتاویٰ رضویہ جلد4ص727 وضاحت: ان تمام حوالہ جات سے یہ بات ثابت ہوئی کہ جو لوگ مزارات پر جاکر برکت کیلیے وہاں کی مٹی سے تھوڑی سی مٹی چاٹ لیں تو اس میں کچھ حرج نہیں مگر اتنی مٹی کھالینا کہ جس سے انسان کی صحت بگڑے اس صورت میں مٹی کھانا مکروہ ہے بلکہ فقہاء کرام سے حرام تک کا قول وارد ہے *دیوبندیوں سے گزارش:* جب کوئی سنی مسلمان تبرک کے طور پر کسی ولی کی مزار سے نمک یامٹی وغیرہ اٹھاکر چاٹ لے یا برکت کیلیے گھروالوں میں تقسیم کردے تو دیوبندی کفر و شرک کے فتوے لگانا شروع کردیتے ہیں حالانکہ اسطرح کارنامے خود دیوبندیوں کے بزرگوں سے ثابت ہیں *پہلا حوالہ:* اشرف علی تھانوی صاحب لکھتے ہیں : مولوی معین الدین صاحب حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب کے سب سے بڑے صاحبزادے تھے وہ حضرت مولانا کی ایک کرامت(جو بعد وفات واقع ہوئی) بیان فرماتے تھے کہ ایک مرتبہ ہمارے نانوتہ میں جاڑہ بخار کی بہت کثرت ہوئی ۔ سو جو شخص مولانا (محمدیعقوب) کی قبر سے مٹی لے جا کر باندھ لیتا اسے ہی آرام ہوجاتا ۔ بس اس کثرت سے مٹی لے گئے کہ جب ڈلوائوں تب ہی ختم ۔ کئی مرتبہ ڈال چکا ۔ پریشان ہو کر ایک دفعہ مولانا کی قبر پر جا کر کہا ۔ یہ صاحبزادے بہت تیز مزاج تھے۔ آپ کی تو کرامت ہو گئی اور ہماری مصیبت ہو گئی ۔ یاد رکھو کہ اگر اب کے کوئی اچھا ہوا توہم مٹی نہ ڈالیں گے ایسے ہی پڑے رہیو ۔ لوگ جوتہ پہنے تمھارے اوپرایسے ہی چلیں گے ۔ بس اس دن سے پھر کسی کو آرام نہ ہوا ۔ جیسے شہرت آرام کی ہوئی تھی ویسے ہی یہ شہرت ہوگئی کہ اب آرام نہیں ہوتا ۔ پھر لوگوں نے مٹی لے جانا بند کر دیا ۔ (ارواحِ ثلاثہ صفحہ نمبر ۲۵۷،چشتی) *دوسرا حوالہ:* اشرف علی تھانوی صاحب لکھتے ہیں کہ ایک بزرگ نے خواب میں حضور علیہ السلام کی زیارت کی کہ حضور علیہ السلام ان کو فرمارہے ہیں کہ اگر تم یہ چاہتے ہو کہ اللّٰہ تعالیٰ تم پر علم کھول دے تو ضررِ کی قبر کی مٹی میں سے کچھ لو اور اسکو نہار منہ نگل جائو ان فقیہ نے ایساہی کیااور اسکی برکتیں ظاہرہوگئیں جمال الاولیاء ص 105 *تیسرا حوالہ:* _بقول تھانوی قبرکی مٹی باعث شفا بن گئی_ تھانوی صاحب نے اپنی کتاب جمال الاولیاء میں حضرت محمد بن حسن المعلم باعلوی کے متعلق لکھا ہے کہ ایک چور نے آپ کے کھجور کے درختوں پر سے کچھ پھل چوری کرلیا تھا تو اس کے بدن میں ذخم ہوگئے اور اس قدر تکلیف کہ نیند حرام کردی صبح ہوئی وہ حضرت شیخ کی خدمت میں معذرت کیلیے حاضر ہوا آپ نے فرمایاکہ فلاں صاحب کی قبر پرجائو اور اس قبر کی مٹی اپنے زخم پر لگالو اس نے ایسا کیا اور اچھا ہوگیا۔جمال الاولیاء ص157 ان تین حوالوں سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ اولیاء کرام کی مزارات والی مٹی میں بھی اللہ تعالیٰ نے برکت اور شفاء رکھی ہے ۔اب کوئی دیوبندی جرت کرکے فتویٰ لگائے *"چندجہالتوں اور جعلی پیروں کا بھرپور رد"* *نیم کے درختوں کو غوث پاک کی طرف منسوب کرنا وہاں نیاز و فاتحہ دلانا سلام کرنا نذر ماننا کیسا ہے؟* جواب: اس درخت کو کو سیدنا غوث پاک کی طرف منسوب کرکے وہاں نیاز و فاتحہ دلانا اس کو سلام کرنا نذر ماننا وغیرہ محض خرافات ہیں فتاویٰ مرکز تربیت افتاء جلد دوم ص 376تا377 اس نیم کے درخت کو غوث پاک کی نشانی قراردینا یا فرضی مزار بنالینا پھر اس پر فاتحہ پڑھنا اور پھول ڈالنا اور اسکی زیارت کو جانا اور عرس منانا اور ناچ گانے مزامیر کیساتھ غوث پاک کے نام پر صندل نکالنا اور اسمیں مردوں عورتوں کا مخلوط ہوکر ایک ساتھ گشت کرنا یہ سارے کام حرام و گناہ ہیں رہ گیا جاہل عوام کا اس درخت کے سامنے سجدہ کرنا تو یہ بھی حرام ہےجبکہ بروجہ عبادت نہ ہو اور اگر بروجہ عبادت ہوتو قطعاً یقیناً اجماعاً کفر ہے جلد دوم ص 390تا391 زید کا پانی اور تیل مزار شریف کی دیوار سے لگاکر دم کرنا اور یہ کہنا کہ سرکار صاحب مزار کا دم کیا ہوا ہے نیز یہ کہنا کہ آج چلے جائو سرکار صاحب مزار نے ایک دودن یا ہفتہ کے بعد بلایا ہے یہ جھوٹ معلوم ہوتا ہے اور جھوٹ گناہ ہے الا یہ کہ صاحب کشف ہو اور بطور کشف دم کرکے اور مرضی معلوم کرکے یہ بتائے واللہ تعالیٰ اعلم جلددوم ص 399 لوگوں کا یہ کہنا کہ جو کچھ کرتے ہیں سرکار صاحب مزار ہی کرتے ہیں صحیح نہیں اسطرح کی بولی سے احتراز چاہیے بلکہ یوں کہے کہ جو کچھ اولیاء کرام کرتے ہیں وہ اللہ کی عطا اور توفیق ہی سے کرتے ہیں جلد دوم ص400 "مزارات کا دھاگہ ہاتھوں میں باندھنا کیسا ہے"؟ جواب: اجمیر شریف یا کسی بھی جگہ کا دھاگہ ہاتھ میں باندھنا جائیز نہیں ہے کہ اس میں مشرکین سے مشابہت ہے وہ بھی اپنے تیرتھ استھا نوں سے اسی قسم کے دھاگے لاکر باندھتے ہیں نیز انکا ایک تہوار کشا بندھن ہے جسمیں اسی قسم کے دھاگے باندھے جاتے ہیں اور تشبہ بالغیر ناجائیز و گناہ ہے حضور بخاری مفتی محمد شریف الحق صاحب امجدی فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کو یہ جائیز نہیں کہ دھاگہ ہاتھ میں باندھے اسمیں مشرکین کیساتھ تشبہ ہے اور حدیث میں ہے من تشبہ بقوم فھو منھم فتاویٰ مرکز تربیت افتاء جلددوم ص 436 حضرت خضر علیہ السلام کی فاتحہ کیلیے عورتوں تالاب وغیرہ پر جانا اور کشتی چھوڑنا جہالت اور تشبیہ ہنود ہے اس سے بچنا لازم ہےاور انکی فاتحہ کیلیے تالاب یا ندی کے کنارے نہ جائیں بلکہ گھر ہی پر فاتحہ دلائیں۔فتاویٰ فقیہ ملت جلداول ص 492 *"ایک جعلی پیربابا کارد"* کسی مکار اور فریب کار بابا کا یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ ہم کو شہیدوں ولیوں اور بڑے پیروں وغیرہ کی سواری آتی ہے ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا البتہ شیطان اور اسکی ذریات اسپر مکمل طور سے ضرور مسلط ہیں ورنہ وہ ایسی بکواس ہرگز نہ کرتا شہید ولی اور بڑے پیر تو اللہ تعالیٰ کے محبوب بندے ہیں انکو ایک بے نمازی فاسق و فاجر اور مکار بنے ہوئے بابا سے کیا تعلق اور اسکا یہ کہنا بھی سراسر جھوٹ ہے کہ یسین نے ہمیں بشارت دی ہے۔ مسلمانوں پر لازم ہے کہ ایسے جھوٹے بابا سے دور رہیں اور اسکو اپنے قریب نہ آنے دیں اسکے کہنے پر جو فرضی مزار بنایا گیا ہے اسے کھود کر پھینک دیں ورنہ اسے صحیح مزار سمجھ کر لوگ اسکی زیارت کریں گے اور مستحق لعنت ہوں گے ۔اور جس نے اللہ کے نام کی جگہ یسین بابا کا نام لیکر مرغا ذبح کیا مسلمانوں کو حرام مرداری گوشت کھلایا اسے کلمہ پڑھا کر اعلانیہ توبہ و استغفار کرایا جائے اور بیوی والا ہوتو دوبارہ اسکا نکاح پڑھایاجائے اور اس سے عہد لیا جائے کہ آئندہ پھر کبھی بسم اللہ اللہ اکبر کی بجائے دوسرا نام لیکر کوئی جانور ذبج نہیں کریگا اور جن لوگوں نے جان بوجھ کر اس مرداری مرغے کا گوشت کھایا نیز یسین کے گھر والے اور وہ تمام لوگ جو چادرگاکرکے جلوس وغیرہ میں شریک رہے سب کو توبہ کرایا جائے اور ان سے عہد لیا جائے کہ آئندہ پھر اسطرح کا کوئی پروگرام ہرگز نہیں کریں گے فتاویٰ فقیہ ملت جلد1ص293 *"بے نمازی پیر اور مرید"* ایسا نام نہاد پیر جو نماز نہیں پڑھتا اور کہتا ہے کہ ہم نماز عشق پڑھتے ہیں ظاہری نماز کی ہمیں فرصت نہیں وہ حضور علیہ السلام کی پیروی کی بجائے شیطان کی اتباع کررہا ہے اور سارے مسلمانوں کا راستہ چھوڑ کر دوسرا راستہ نکال رہا ہے اسکا ٹھکانا جہنم ہے۔ لہذا مسلمان ایسے نام نہاد پیر اور اسکے ماننے والوں سے دور رہیں اور خنزیر یعنی سور سے بھی زیادہ ان سے نفرت کریں کہ وہ لوگوں کو گمراہ نہیں کرتا اور یہ گمراہ کرتے ہیں۔ فتاویٰ فقیہ ملت جلد2ص408 *"پیر سے پردہ لازم"* عورت کو غیر محرم پیر سے پردہ کرنا ضروری ہےپیر پردے کے معاملہ میں باپ کے مانند نہیں ہے۔البتہ مرتبے میں باپ کے مانند بلکہ باپ سے بڑا اور افضل ہے۔ اعلیحضرت فرماتے ہیں کہ پیر سے پردہ واجب ہے جبکہ محرم نہ ہو فتاویٰ رضویہ جلد نہم نصف آخر ص304 اور مفتی اعظم فرماتے ہیں کہ عورت پر ہر غیر محرم سے پردہ فرض ہے پیر استاد محرم نہیں ہوتا محض اجنبی ہے جو بزرگان دین ہیں وہ پردے کو لازم ہی جانتے ہیں۔شرعاً اجانب سے پردہ لازم ہے حضرت علی کاری فرماتے ہیں کہ جو عورتیں خود بے پردہ پھرتی ہیں انکو ہدایت کرنا پیر کا کام ہے فتاویٰ مصطفویہ ص 490 بحوالہ فتاویٰ فقیہ ملت جلد دوم ص 428 *پیر سے پردہ* مرید ہونے کے بعد بھی پیر عورت کیلیے نامحرم ہے اور کسی عورت کا پیر کے سامنے بے پردہ آنا جائیز نہیں اور جسم کو چھونا خاص سر یا پائوں وغیرہ دبانا حرام ہے وقار الفتاویٰ ص 170 جو اپنے سامنے عورتوں کو بے پردہ بلاتا ہو اور ہاتھ پائوں وغیرہ تنہائی میں دبواتاہو وہ پیر نہیں ہے شیطان ہے اس بیعت ہونا تو بڑی بات ہے اسکے پاس بیٹھنا بھی جائیز نہیں ہے حضور علیہ السلا نے بھی بیعت کرتے وقت کسی عورت کا ہاتھ پکڑ کر بیعت نہ لی تھی تو ان پیروں کو یہ اجازت کیسے ہوجائے گی کہ ان کا جسم عورتیں دبائیں اور وہ بے پردہ پیر کے سامنے آئیں مرید ہونے کے بعد بھی عورت نامحرم رہتی ہے اور اس کو اپنے پیر سے اسی طرح پردہ کرنا لازمی ہے جس طرح دوسرے لوگوں سے پردہ کرنا ضروری ہے۔ کسی پیر کا اپنی بیعت شدہ نوجوان خواتین کو اپنی محفل میں بلانا۔اور رات کو محفل کے بعد اپنے کمرہ میں بلاکر ان کے ساتھ شب باشی کرنا۔اور اس مقصد کیلیے مخصوص رضاعی بنواناجوکہ بیک وقت دس یا پندرہ اشخاص کیلیے کافی ہو یہ تمام باتیں حرام ہیں ایسے جاہل بدعمل اور شیطان صفت نام نہاد پیروں کے واقعات اخبارات میں آتے رہتے ہیں کہ وہ اپنی مرید عورتوں کو لیکر فرار بھی ہوجاتے ہیں وقارالفتاوی ص171 غیر محرم پیر سے عورت کو پردہ واجب ہے پردہ کے باب میں پیرو غیر پیر ہر اجنبی کا حکم یکسا ہے جوان لڑکی کوچہرہ کھول کر بھی سامنے آنا منع ہے درمختار میں ہے کہ جوان عورت کو اندیشہ فتنہ کی وجہ سے مردوں کے سامنے چہرہ کشائی سے روکاجائے پیرومرشد اگر نامحرم ہے تو عورت کا ان سے بھی پردہ کرنا واجب ہے اور بڑھیا اگر سِنّ ایاس کو پہنچی ہوئی ہو جس سے احتمال فتنہ نہ ہوتو حجاب عرفی ضروری نہیں مگر حجاب شرعی بوڑھی عورت کیلیے بھی واجب ہے فتویٰ رضویہ جلد 22ص205 جوپیراسلامی پردے کا لحاظ اور شرعی احتیاط نہ رکھے وہ فاسق ہیں ان سے بیعت جائیز نہیں ایسے پیر سے مرید ہونا نہ چاہیے۔حاجت شرعیہ ہو اور اندیشہ فتنہ نہ ہواور خلوت بھی نہ ہو تو پردے کیساتھ بعض نامحرم سے ضرورتاً کلام جائیز ہے فتاویٰ رضویہ جلد22ص243 بحوالہ فتاویٰ قادریہ ص58 نوٹ: علامہ فیض احمد اویسی نے ایک کتاب لکھی ہے جسکانام *جاہل پیر اور جاہل مرید ہے* *"عورتوں کا تعویزات کیلیے آئمہ اور پیروں کے پاس جانا"* عالم ہو یا پیر کسی کے سامنے غیر محرم عوتوں کا بے پردہ جانا جائیز نہیں ہے اور جو شخص بے حجاب عورتوں کے آنے پر راضی ہے وہ گناہگار ہےاسکو امام بنانا بھی ناجائیز ہے وقارالفتاویٰ جلد3ص155 سوال جسطرح مرد کوہاتھ پکڑ کر مرید کرتے ہیں اسی طرح عورتوں کو بھی ہاتھ پکڑوا کر مرید کرتے ہیں اور پیر کا اپنی مریدنی کو اپنے بستر پر آرام کرانا،اپنی گدی پر بیٹھانا،اپنے سرپر تیل مالش کرانا اور ہاتھ پیر کمر وغیرہ دبوانا کیسا ہے جواب غیر عورتوں کا ہاتھ پکڑنا حرام،بدکام بدانجام ہے اور غیر محرم کیساتھ خلوت میں رہنا ہی حرام اور ہاتھ پیر دبوانا ساتھ سوناتوحرام درحرام ہےاور ایسا شخص پیر گناہگار مستوجب نار مستحق غضب جبار ہے اور نالائق پیری ہے اور اگر ان محرمات کو جائیز سمجھتا ہے تو مسلمان ہی نہیں اور اس سے بیعت ہونا حرام اور اسکی صحبت سخت زہر اشد حرام فتاویٰ تاج الشریعہ جلد2ص24بحوالہ تعلیمات تاج الشریعہ ص22تا23 "پیر سے بھی پردہ ضروری ہے" "عورتوں سے خلط ملط رکھنے والے پیر کی بیعت نہ ہوں" احکام شریعت ص190 *"ولی وبزرگ کی تصاویرکاحکم"* کسی ولی یا بزرگ کی تصویر کے سامنے کھڑے ہوکر دعا مانگنے والا شخص سخت جاہل ہے ایسا شخص توبہ کرے اور تجدید ایمان بھی کرے اور بیوی رکھتا ہو تو تجدید نکاح بھی کرے۔ فتاویٰ تاج الشریعہ جلد دوم ص 574بحوالہ تعلیمات تاج الشریعہ ص 27 *"خانقاہ میں یاگھرمیں اپنے پیرکی تصویر لگانا"* حرام اشدحرام،بدکام بدانجام بلکہ کفرنماکام ہے کیونکہ پیر کی تصویر کے عموماًوہی آداب،تعظیم و توسل و اعتقاد برزخیت ہوتا ہوگا جو پیر کے ساتھ ہوتا ہے اور حرام کو حلال ماننا کفر ہے لہذاتوبہ و احتراز فرض ہے۔ فتاویٰ تاج الشریعہ جلددوم ص26 بحوالہ تعلیمات تاج الشریعہ ص 23 *پیر کی تصویر گھرمیں لٹکانا* "پیر اور مرید کا شریعت کی "خلاف ورزی کرنافوٹوکھنچوانا" تصویر اپنے پیر کی ہویا کسی بھی انسان یاجاندار کی اسے اپنے گھرمیں آویزاں کرناجائز نہیں فتاویٰ مرکزتربیت افتاء جلد دوم ص 570 مسئلہ: کسی پیر کا فوٹو کھچوانا اپنی محفل میں فوٹوبازی اور ویڈیو فلم بنانے سے منع نہ کرنا بلکہ اس فعل پر رضامند ہونا۔ اور پیر کوباوجود اختیار ہونے کے خلاف شرع امور سےاپنے مریدین کو نہ روکنا ۔ پیر کا اپنی محفل میں داڑھی منڈے لوگوں سے نعت خوانی کروانا وغیرہ کیسا ہے؟ جواب: اسلام میں بزرگی کا دارومدار تقویٰ اور پرہیزگاری پرہےمحرمات یعنی حرام چیزوں کا مرتکب ولی نہیں ہوسکتاہے فوٹو کھچوانا حرام ہے، علامہ شامی نے اسے گناہ کبیرہ بتایا ہے اور احادیث میں اسپر سخت وعیدیں آئی ہیں لہذا جو شخص تصویریں کھچواتا ہے اور لوگوں کو یااپنے مریدوں کو بھی اس سے منع نہیں کرتا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ تصویر کو جائیز سمجھتا ہے وہ کسی طرح بزرگ نہیں ہوسکتا،اس کو پیر کہنا ہی غلط ہے اور اس سے مریدہوناناجائز ہے۔ جو شخص اپنے مریدوں کو برائی سے نہ روکے وہ پیر ہی کیسا اور دیگر جو باتیں سوال میں لکھی ہیں سب ناجائز ہیں وقارالفتاوی ص 174 *"فرضی مزار یا فرضی چلا بنانا اور اسکے ساتھ اصل جیسے معاملات کرنا"* 1:فرضی مزار بنانا جائیز نہیں اور اسکی زیارت کرنے والوں پر خدائے تعالیٰ کی لعنت ہے فتاویٰ عزیزیہ جلد اول ص 144 فتاویٰ فیض الرسول جلد2ص611 اور اسی فتاویٰ میں ہے کہ جب تک ثبوت صحیح شرعی سے کسی بزرگ کا مزار ہونا ثابت نہ ہوجائے وہاں خیال قائم کرنے اور غیر معتبر لوگوں کے کہنے سے یہ جائیز نہ ہوگا کہ وہاں بزرگ کا مزار مان لیں ص686 لہذا جسطرح فرضی مزار بنانا جائیز نہیں ہے اور اسکی زیارت کرنے والوں پر خدا تعالیٰ کی لعنت ہے اسی طرح کسی بزرگ کے نام سے فرضی چلہ بنانا بھی جائیز نہیں اسلیے اسکو ہٹانا نہایت ضروری ہے تاکہ لوگ اندھی عقیدت میں بہکنے سے بچیں اب تو جگہ جگہ نئے نئے چلے سننے میں آرہے ہیں حیرت کی بات تو یہ ہے کہ وہ بزرگان دین جنکا ان جگہوں پر کبھی گزر نہیں ہوا مگر انکے نام کے چلے موجود ہیں حالانکہ عرف عام میں چلہ گاہ اس مقام کو کہتے ہیں جہاں پر اللہ تعالیٰ کے کسی ولی نے کچھ دیر عبادت یا قیام کیا ہو مگر اب تو دنیا پرست لوگوں نے پیٹ بھرنے نوٹ بٹورنے کیلیے جگہ جگہ چلے بنائے دھونی سلگائے مورچھل لیکر بیٹھے ہیں صورت مستفسرہ میں ان مصنوعی فرضی چلہ گاہوں پر جانا درست نہیں اور ایسے فرضی چلہ کو ہٹانانہایت ضروری ہے فتاویٰ فخرازہر جلد2ص483 2:اعلیحضرت فتاویٰ رضویہ کی جلد 4ص115 پر تحریر فرماتے ہیں کہ قبر بلا مقبور کی زیارت کیلیے وہ افعال کرنا گناہ ہے اورجب کہ وہ اسپر اڑے ہوئے ہوں اور باعلان اسے کررہے ہوں تو وہ فاسق معلن ہیں اس جلسہ زیارت میں شرکت جائیز نہیں ۔اس معاملہ سے جو خوش ہیں خصوصاً وہ جو خرافات میں مددگار و حمایتی ہیں سب گناہ گار بلکہ وہ بھی جوباوجود قدرت و طاقت خاموش ہیں مگر ان میں کوئی بات کفر نہیں کہ اس سے ایمان و نکاح باطل ہو بہرحال فرضی قبر بنانا اور اسکے ساتھ اصل جیسا معاملہ کرنا ناجائیز و بدعت ہے فتاویٰ فخرازہر جلد2ص350تا351 3:فرضی کربلا بنانا حرام ہے فتاویٰ تاج الشریعہ جلد4ص 421 بحوالہ تعلیمات تاج الشریعہ ص 60 4: فتاویٰ تاج الشریعہ جلد اول ص 444 بحوالہ تعلیمات تاج الشریعہ ص19 5:فتاویٰ فیض الرسول جلد2ص543اورص611 6: *پہلا فتویٰ* فاسقوں کی خبر کی بنیاد پر کسی فرضی قبر کو ولی کی قبر مان کر اس قبر پر عرس کرانا اور اسکی زیارت کرنا سخت ناجائیزوحرام ہے *دوسرا فتویٰ* مصنوعی قبر کی زیارت حرام ہے اور حدیث میں لعنت آئی ہے جو بزرگ کی قبر ہونے کا مدعی ہو وہ دلیل شرعی سے ثابت کرے بلادلیل شرعی قبر بتانا بھی ناجائیز گناہ ہے *تیسرا فتویٰ* بیشک جب تک ثبوت صحیح شرعی سے کسی بزرگ کا مزار ہونا ثابت نہ ہوجائے وہاں محض خیال قائم کرنے اور غیر معتمد لوگوں کے کہنے سے یہ جائیز نہ ہوگا کہ وہاں بزرگ کا مزار مان لیں خصوصاً فساق کا بیان حال قال اللہ تعالیٰ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ جَآءَکُمۡ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوۡۤا سورة الحجراة آیة "6" ترجمہ: اے ایمان والو اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کرلو بزرگ کا مزار ہونا تو بزرگ کا مزار ہے وہاں عرس کرنا اور چڑھانا کا وہاں مسلم کی قبر ہے جب تک ثابت نہ ہوجائے وہاں جانا نیز سمجھنا اور وہاں پڑھنا اسکی بھی اجازت نہ ہوگی فتاویٰ فیض الرسول جلد دوم ص 686تا687 7:فتاویٰ علیمیہ جلداول ص 365 تا 366 پر اعلیحضرت کی بات نقل کی جو پہلے حوالے میں بیان ہوئی اور آخر میں لکھتے ہیں اور جو لوگ عدم علم کی بنا پر ایسے فرضی مزار پر چلے جائیں تو ان پر الزام نہیں مگر بعد علم توبہ کریں 8:جس قبر کایہ بھی حال معلوم نہ ہو کہ یہ مسلمان کی ہے یا کافر کی، ا س کی زیارت کرنی، فاتحہ دینی ہرگز جائز نہیں کہ قبر مسلمان کی زیارت سنت ہے اور فاتحہ مستحب، اور قبر کافرکی زیارت حرام ہے او راسے ایصال ثواب کاقصد کفر، فتویٰ رضویہ جلد 9 ص535 9:بغیر ثبوت کسی مزار کی زیارت کو نہیں جانا چاہئے فتاویٰ علیمیہ جلد1ص365 فتاویٰ علیمیہ جلد1ص362 10:ایسی مصنوعی قبر جسمیں صاحب قبر کا کوئی ثبوت نہیں صرف گائوں کے بڑے بوڑھوں کے کہنے سے کہ انہوں نے اپنے باپ دادا سے سنا ہے کہ رات میں اس قبر کی جگہ کوئی سفید چیز نظرآرہی تھی کہ جس سے معلوم ہورہاتھا کوئی شخص سفید لباس پہنے ہوئے کھڑا ہےتو صبح کے وقت لوگوں نے اس جگہ تھوڑی سی مٹی رکھ کر اس جگہ کو ملنگ بابا کے تھان کے نام سے یاد کرنے لگے اور اس جگہ فاتحہ دلانا شروع کردیے ہھر وہاں پختہ قبر بنوادی اور اسپر چادریں چڑھانا وغیرہ یہ سب واہیات،خرافات اور جاہلانہ حماقتیں ہیں انکا ازالہ لازم ہے شرع میں اسکی کچھ اصل نہیں محض روشنی اور سفید چیز کے نظر آنے سے قبر کا ثبوت نہیں ہوتا اور فرضی قبر کی زیارت کرنے والوں پر اللہ کی لعنت ہے نیاز و فاتحہ دلانا سب ناجائیز اور کسی بزرگ کی جانب اسکی نسبت محض افترا ہے۔ اس قبر کو بنوانے والے اور مجاوری کرنے والے سب کے سب گنہگار ہوئے ان پر توبہ لازم اور بنانے والے نے اگر بغیر اجرت بنایا تو اسکو بھی توبہ کرنا ضروری ہے۔ فتاویٰ فقیہ ملت جلد1ص295تا 296اورص293 11:فتاویٰ مرکز تربیت افتاء جلد1ص377ص391ص413 12:فتاویٰ مرکز تربیت افتاء جلد2ص378 "مزارات پر چادر چڑھانا" امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں :جب چادر موجود ہو اور ہنوز پرانی یا خراب نہ ہوئی کہ بدلنے کی حاجت ہو تو بیکار چادر چڑھانا فضول ہے بلکہ جو دام اس میں صرف کریں اﷲ تعالیٰ کے ولی کی روح مبارک کو ایصال ثواب کے لئے محتاج کو دیںں احکام شریعت حصہ اول ص42 امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں :جب چادر موجود ہو اور ہنوز پرانی یا خراب نہ ہوئی کہ بدلنے کی حاجت ہو تو بیکار چادر چڑھانا فضول ہے بلکہ جو دام اس میں صرف کریں اﷲ تعالیٰ کے ولی کی روح مبارک کو ایصال ثواب کے لئے محتاج کو دیں احکام شریعت حصہ اول ص 42 بحوالہ فتاویٰ فخر ازہر جلد دوم ص 285 بقصد تبرک مزارات پر چادر ڈالنا مستحسن ہے خواہ ایک ڈالی جائے یادوچند مگران سب چادروں کو ان پرچھوڑانہ جائے بلکہ صرف ایک چادر رہنے دیں کہ مقصود قلوب عوام میں مزارات مبارکہ کی عظمت پیدا کرنا ہے اور وہ ایک سے حاصل ہے فتاویٰ علیمیہ جلد1ص365 چادر چڑھانے کے لیے بعض لوگ تاشے باجے کے ساتھ جاتے ہیں یہ ناجائز ہے مزار پر چادر ڈالنے کی منت ماننا کوئی شرعی منت نہیں ہے۔مگر یہ کام منع نہیں کرے تو اچھاہے بہار شریعت حصہ نہم ص320 نوٹ: مزارات پر چادریں ڈالنے کی مکمل تفصیل کیلیے علامہ عبدالغنی نابلسی کی کتاب "کشف النورعن اصحاب القبور" کا مطالعہ کریں جسکا ترجمہ علامہ عبدالحکیم قادری نے کیا ہے یہ مضمو ن سلسلہ اشاعت نمبر 92 میں ہے *مزارات و قبور کا بوسہ لینا* مزارات و قبورکا بوسہ لینانہ فرض ہے نہ واجب و مسنون بلکہ اگرعوام اس سے اجتناب کریں تو بہتر ہے فتاویٰ شرعیہ جلد2ص443 *"قبر رسول سے متصل جالی کو مس کرنا اور چومنا"* اعلیحضرت فرماتے ہیں کہ جالی شریف کےبوسہ ومس سے دور رہ کہ خلاف ادب ہے فتویٰ رضویہ جلد10ص825 خبردار جالی شریف کو بوسہ دینے یا ہاتھ لگانے سے بچو کہ خلاف ادب ہے بلکہ چار ہاتھ فاصلہ سے زیادہ قریب نہ جاؤ یہ ان کی رحمت کیا کم ہے کہ تم کوا پنے حضور بلایا اور اپنے مواجہہ اقدس میں جگہ بخشی، ان کی نگاہ کریم اگر چہ تمھاری طرف تھی اب خصوصیت اور اس درجہ قرب کے ساتھ ہے والحمد ﷲ ۔ فتاویٰ رضویہ جلد10ص765 یہی بات مفتی امجد علی اعظمی نے بیان فرمائی بہارشریعت حصہ ششم ص1219 اور ایک مقام پر تو اعلیحضرت نے قبررسول کو چومنے کے متعلق سارا مسئلہ ہی حل کردیا چنانچہ اعلیحضرت نے فرمایاکہ فی الواقع بوسہ قبر میں علماءکا اختلاف ہے۔اور تحقیق یہ ہے کہ وہ ایك امر ہے دو چیزوں داعی و مانع کے درمیاندائر،داعی محبت ہے اور مانع ادب،تو جسے غلبہ محبت ہو اس سے مواخذہ نہیں کہ اکابرصحابہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے ثابت ہے اور عوام کے لئے منع ہی احوط ہے۔ہمارے علماءتصریح فرماتے ہیں کہ مزار کابر سے کم از کم چار ہاتھ کے فاصلے سے کھڑا ہو پھرتقبیل کی کیا سبیل۔ فتویٰ رضویہ جلد22 ص405 یہی بات فتاویٰ مرکز تربیت افتاء جلددوم ص 399 پر بھی موجود ہے *اسیطرح یہی بات* فتاویٰ یورپ ص336 پر ہے *نوٹ* بوسہ قبور کی تفصیل کیلیے علامہ فیض احمداویسی کی کتاب *مزارات کوچومنا* کا مطالعہ کریں *پیرکواللہ ورسول کہنا* یہ کہنا کہ میراپیرمیرا اللہ میرا رسول ہے یہ جملہ کفر صریح ہے کہنے والے پر اس سے توبہ وتجدیدایمان فرض ہے اور شادی شدہ ہے تو تجدیدنکاح بھی ضروری ہے فتاویٰ تاج الشریعہ جلد1ص294 بحوالہ تعلیمات تاج الشریعہ ص15 *قشقہ لگانا شعار ہنود ہے* ہندوجوپیشانیوں پرصندل کاقشقہ تلک لگاتے ہیں یہ صرور انکامذہبی شعارہے مسلمانوں کو قشقہ لگاناحرام،بدکام بدانجام بلکہ کفر ہے کہ یہ کفار سے پوری مشابہت ہے کما فی الحدیث من تشبةبقوم فھومنھم جو جس قوم سے مشابہت کرے وہ انہیں میں سے ہے فتاویٰ تاج الشریعہ جلد2ص139 بحوالہ تعلیمات تاج الشریعہ ص 27 *مزارات پرچڑھے ہوئے سندل کا تلک لگانا* مزارات پر چڑھائے ہوئے صندل کا قشقہ تلک مسلمانوں کو لگانا حرام ہے اور جو اس کو جائز بتائے اس پرتوبہ وتجدیدایمان و نکاح لازم ہے اور ایسا کہنے والے کوامام بناناحرام اشد حرام اور مقتدائے دین، عالم شرع سمجھناکفراوراس سے مسائل پوچھناحرام ہے۔ بے توبہ لائق امات نہیں۔فتاویٰ تاجاالشریعہ جلد دوم ص139 بحوالہ تعلیمات تاج الشریعہ ص 28 *سوال* دف بجاکر قصائد نعت اور حالت قیام میلاد شریف میں صلاة وسلام پڑھناجائز ہے یاناجائزہے اور دف مع جھانج ہوتو کیاحکم ہے *جواب* ہرگز نہ چاہیے ظاہر ہے کہ یہ سخت سوء ادب ہے اور اگر جھانج بھی ہوں یا اسطرح بجایاجائے کہ گت پیداہوفن کے قواعد پر جب توحرام اشدحرام ہے۔حرام درحرام ہے *سوال* *کسی بزرگ کے قدیم جھنڈے پر پھول چڑھانا دف بجاکرقصائد نعت وتوسل پڑھتے ہوئے اس کاجلوس نکالناپھراس جھنڈے کو بہ نیت تبرک مجلس میلاد شریف میں رکھنااوربعدختم میلادشریف ان پھولوں کوتبرک کے طورپرلوٹناجائزہےیاناجائزہے*؟ *جواب* یہ بھی نہ چاہیے جھنڈے پر پھول چڑھانامحض بےمعنی۔ دف بجاکر نعت و منقبت پڑھنے کاحکم اوپر گذرا۔ان پھولوں کو تبرک بنانا نری ہوس خام ہے جھنڈے کی کسی بزرگ کی طرف نسبت ہی کے کیا معنی یہ ایسا ہی ہے جیسے تعزیہ دار فتح نشان کی عظمت حضرت امام عالی مقام کی جانب فرضی نسبت سے کرتے ہیں فرضی نسبت کیا کارآمد ہے پھر اگر نسبت فرضی نہ ہو مثلاً کسی پیرکے مریداسکی خانقاہ کے جھنڈے کی ایسی تعظیم کرتے ہوں اس پر پھول چڑھاکر انہیں لوٹتے ہوں جب بھی کہ یہ غلو ہے اور اللہ پاک غلوسے منع فرماتاہے۔ ارشاد قرآن ہے لاتغلوافی دینکم محض جھنڈے کا جلوس نکالنا بھی ایسا ہی ہے فتاویٰ مصطفویہ ص487تا488 *قبرپر اگربتی سلگانا* خاص قبر پر اگر بتی سلگانا ممنوع ہے ہاں اگر قبر سے ہٹ کر خالی جگہ پر سلگائیں تو کوئی حرج نہیں مگر یہ اس صورت میں ہے جب کہ وہاں کچھ لوگ موجودہوں ورنہ اگر میت کو خوشبو پہنچانے کی نیت سے ہوتو فضول ہے کہ میت کو اس سے کچھ فائدہ نہیں پہنچتا *اعلیحضرت فرماتے ہیں* اگر بتی قبر کے اوپررکھ کر نہ جلائی جائے کہ اسمیں سوء ادب اور بدفالی ہے فتاویٰ رضویہ جلد 4ص185 بحوالہ فتاویٰ مرکزتربیت افتاء جلد اول ص 377 مسئلہ (۳): اَحکامِ شرعیّہ کی پابندی سے کوئی ولی کیسا ہی عظیم ہو، سُبکدوش نہیں ہوسکتا۔(1) بعض جہال جو یہ بک دیتے ہیں کہ شریعت راستہ ہے، راستہ کی حاجت اُن کو ہے جو مقصود تک نہ پہنچے ہوں ، ہم تو پہنچ گئے، سیّد الطائفہ حضرت جُنید بغدادی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے انھیں فرمایا: ’’صَدَقُوا لَقَدْ وَصَلُوا وَلکِنْ إِلٰی أَیْنَ؟ إِلَی النّارِ۔‘‘(2) ’’وہ سچ کہتے ہیں ، بیشک پہنچے، مگر کہاں ؟ جہنم کو۔‘‘ البتہ! اگر مجذوبیت(3) سے عقلِ تکلیفی زائل ہو گئی ہو، جیسے غشی والا تو اس سے قلمِ شریعت اُٹھ جائے گا(4)،مگر یہ بھی سمجھ لو! جو اس قسم کا ہوگا، اُس کی ایسی باتیں کبھی نہ ہوں گی، شریعت کا مقابلہ کبھی نہ کرے گا۔بہارشریعت حصہ اول ص167 ’’ملفوظات‘‘ اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ میں ہے : ’’سچے مجذوب کی یہ پہچان ہے کہ شریعت مطہرہ کا کبھی مقابلہ نہ کریگا‘‘۔ ’’ملفوظاتِ اعلی حضرت بریلوی‘‘، حصّہ دوم، ص۲۴۰۔ بحوالہ بہارشریعت کوئی ولی کتنا ہی عظیم ہو شریعت کی پابندی سے آذاد نہیں ہوسکتا جب تک ہوش و حواس باقی ہیں شریعت کی پابندی لازم ہے۔ اور جو پیر کہے کہ ہم طریقت والے ہیں شریعت والے الگ ہیں تو ایسا شخص جھوٹا اور مکار ڈھونگی گمراہ آور گمراہ گر ہے ایسے شخص سے مرید ہونا قطعاً جائیز نہیں اور اس پیر کا یہ کہنا کہ نماز پڑھنے کی ضرورت نہیں تو اس جملے سے نماز کا صاف انکار معلوم ہوتا ہے اور نماز کا منکر کافر ہے لہذا شخص مذکور پر توبہ و تجدید ایمان لازم ہے۔نماز کا انکار یقیناً کفر ہے لیکن نہ پڑھنے والے پر حکم کفر تو عائد نہیں ہوگا۔لیکن فاسق معلن مستحق قہرغضب وباعث لعنت و ملامت ہے فتاویٰ فخر ازہرجلد472تا473 جو پیر امام اور علمائے اہلسنت کی توہین کرے سخت فاسق و فاجر ہے ایسا شخص پیری کے لائق نہیں ہے۔ ایضاً۔ص302 *فاسق معلن پیر سے بیعت* جو پیر داڑھی بالکل نہیں رکھتا ہے یعنی منڈایاکرتا ہے اور اجنبی عورتوں سے اختلاط میں کوئی عار نہیں سمجھتا تووہ فاسق وفاجر،مرتکب حرام و گناہ کبیرہ ہے اس سے مرید ہونا جائز نہیں کیونکہ شرائط پیری سے یہ بھی ہے کہ پیر فاسق معلن نہ ہو۔ اور پھر مریدوں کا یہ کہنا کہ ہمارے حضرت ظاہر میں ایسے ہیں کبھی کبھی ان کی داڑھی بوقت ضرورت ظاہر ہوتی ہے سراسر حماقت اور گمراہ گری ہے فتاویٰ مرکزتربیت جلد2ص345 *مسئلہ:کسی پیرومرشدکی نماز* *معاف ہے یانہیں؟یہ بھی* *صاف لکھیں کہ* *پیرومرشدپرنماز* *باجماعت فرض ہے یانہیں؟تیس* *قدم کے فاصلے پرایک* *پیرصاحب تھے لیکن جمعہ* *پڑھنے نہیں آئے ان کے بارے میں* *کیاحکم ہے* جواب: کسی پیرپرہرگز نماز معاف نہیں ہےجوپیر نمازوجماعت سے لاپرواہ ہووہ پیرنہیں *شیطان* ہے اس سے مرید ہونایااس کی صحبت میں بیٹھنا حرام حرام اشدحرام ہے۔جماعت کی پابندی واجب ہے جان بوجھ کربے عذر شرعی جماعت کاچھوڑنے والا بھی شرعاً فاسق وفاجرہے اور جماعت سنت موکدہ ہے ایسے ہی ہمارے عام مشائخ نے کہاکہ وہ واجب ہے اگرپیرمذکور نےبےعذرشرعی نمازجمعہ کوترک کیاتوشرعاًوہ ضرورقابل مواخذہ وملامت ہے فتاویٰ شرعیہ جلد3ص718 "کسی شخص پر کسی بزرگ یا ولی کاآنا" یہ سب مکروفریب ہےکوئی بزرگ کسی پر نہیں آتا اس پر اعتماد کرنا جائیز نہیں ہاں خبیث ہمزاد اور جنات آتے ہیں فتاویٰ شارح بخاری جلد2ص147 "کسی عورت پر پیر کا آنا" یہ اس عورت کا مکر ہے اور پیشہ ور پیروں عاملوں کا ڈھکوسلہ ہے کوئی اللہ کا ولی کسی عورت پر کبھی نہیں آسکتا ہاں جن اور ہمزاد یہ کسی بھی مرد یا عورت کو خبط الحواس کرکے اس سے جو چاہیں کرائیں فتاویٰ شارح بخاری جلد 2ص304 *نیم کے درخت کو غوث پاک کی طرف منسوب کر کے وہاں نیاذ و فاتحہ دلانا سلام کرنانذرمانناکیسا ہے* اس درخت کو غوث پاک کی طرف منسوب کرکے وہاں نیاز و فاتحہ دلانا اسکو سلام کرنا نذر مانناوغیرہ محض خرافات ہیں *اعلیحضرت فرماتے ہیں* یہ عقیدہ رکھنا کہ فلاں درخت پر شہید مرد رہتے ہیں اور اس عقیدے کے تحت وہاں فاتحہ دلانا مرادیں مانگناوغیرہ محض واہیات، خرافات اور جاہلانہ حماقات ہیں احکام شریعت جلد1ص32 بحوالہ فتاویٰ مرکزتربیت افتاء جلد دوم ص 378 *بزرگ کی سواری آنا* کسی مرد یاعورت پرکسی بزرگ کی سواری نہیں آتی یہ دعویٰ فریب ہے صرف جنات کا ثرہوتاہے وہ بھی کسی کسی پر مگر ان جنات سے سوال کرنایاآئندہ کا حال معلوم کرنا ناجائز ہے وقارالفتاویٰ ص 177 کسی عورت یا مرد پر کوئی پیر، بابا،یاولی شہیدوغیرہ نہیں آتے ہیں یہ تمام خرافات وخیالات و اوہام عوام ہیں ان باتوں پر اعتماد جائز نہیں فتاویٰ تاج الشریعہ ص جلد1ص 501 بحوالہ تعلیمات تاج الشریعہ19 "بزرگوں کے نام پر چراغ 16چراغ جلانا" بزرگوں کے نام پر سولہ چراغ جلانا یابتیس چراغ جلانا یہ سب بے اصل و من گھڑت اور وضع جہال ہے اور اپنے مال کو ضائع کرنا ہے اور فضول خرچی ہے۔فتاویٰ فخرازہرجلد2ص493 *کسی بزرگ کی مزار پر بال اتارنے کی منت ماننا* کسی بزرگ کے مزار پر بال اتارنے کی منت ماننا جہالت ہے فتاویٰ فقیہ ملت جلد2ص292 *سرپر چوٹی رکھنے کی منت ماننا* لڑکے کے سر پر چوٹی رکھنا ناجائیز ہے اور لڑکے کے سر پر بھی ایسی چوٹی رکھنا ناجائز ہے جو ہندئوں کی چوٹیاں ہوں فتاویٰ مفتی اعظم جلد پنجم ص 130 فتاویٰ مصطفویہ ص 467 *اعلیحضرت فرماتے ہیں* جو بعض جاہل عورتوں میں دستور ہے کہ بچے کے سرپر بعض اولیاء کرام کے نام کی چوٹی رکھتی ہیں اور اس کی کچھ میعاد مقرر کرتی ہیں اس میعاد تک کتنے ہی بار بچے کا سر منڈے وہ چوٹی برقرار رکھتی ہیں پھر میعاد گزار کر مزار لیجاکر وہ بال اتارتی ہیں تو یہ ضرور محض بےاصل و بدعت ہے فتاویٰ افریقہ ص 68 *مسئلہ* یہ منت ماننا کیسا ہے کہ اگر مجھے فلاں ولی کی دعا سے بیٹا پیدا ہوا تو میں اپنے بیٹے کے بال اس ولی کی درگاہ پر آکر منڈائوں گا؟ *جواب* بال وہاں اتروانا فضول اور اسکی منت باطل ہے فتاویٰ افریقہ ص148 مسئلہ ۲۰: بعض جاہل عورتیں لڑکوں کے کان ناک چھدوانے اور بچوں کی چوٹیا رکھنے کی منّت مانتی ہیں یا اور طرح طرح کی ایسی منتیں مانتی ہیں جن کا جواز کسی طرح ثابت نہیں اولاً ایسی واہیات(3) منتوں سے بچیں اور مانی ہوتوپوری نہ کریں اور شریعت کے معاملہ میں اپنے لغو خیالات (4) کو دخل نہ دیں نہ یہ کہ ہمارے بڑے بوڑھے یوہیں کرتے چلے آئے ہیں اور یہ کہ پوری نہ کرینگے تو بچہ مرجائیگا بچہ مرنے والا ہوگا تو یہ ناجائز منتیں بچا نہ لیں گی۔ منّت مانا کرو تو نیک کام نماز، روزہ، خیرات، دُرود شریف، کلمہ شریف، قرآن مجید پڑھنے، فقیروں کو کھانا دینے، کپڑا پہنانے وغیرہ کی منّت مانو اور اپنے یہاں کے کسی سنی عالم سے دریافت بھی کرلو کہ یہ منّت ٹھیک ہے یا نہیں ، وہابی سے نہ پوچھنا کہ وہ گمراہ بے دین ہے وہ صحیح مسئلہ نہ بتائے گا بلکہ ایچ پیچ (5) سے جائز امر کو ناجائز کہہ دیگا۔ بہار شریعت حصہ نہم ص 321 *اولیاءکرام کا عرس ضروری سمجھ کر منانا* اولیاء کرام کا عرس جائز ہے ضروری نہیں۔ اور کوئی مسلمان اسے ضروری نہیں کہتا ہے بلکہ جائز ہی کہتاہے۔لہذا زید کا یہ کہنا کہ عرس ضروری سمجھ کر کیاجاتاہے مسلمانوں پر بدگمانی ہے۔اور بدگمانی حرام ہے فتاویٰ فیض الرسول ص672 نوٹ: تمام حوالہ جات کہیں پر مختصر درج کیے گئے ہیں کہیں پر سوال اور جواب کو اکٹھا لکھدیا ہے اور کہیں پر مکمل سوال و جواب درج کردیے ہیں تو کہیں پر صرف جواب لکھ دیا گیا ہے *_ختم شدہ_* ~*ازقلم غلامِ احمد رضا*~ ~*علی حیدر تنیو سنی حنفی بریلوی*~
    3 points
  11. 20 رکعت تراویح پرحضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی روایت کا تحقیقی جائزہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی روایت أخبرنَا أَبُو عبد الله مَحْمُود بن أَحْمد بن عبد الرَّحْمَن الثَّقَفِيُّ بِأَصْبَهَانَ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي الرَّجَاءِ الصَّيْرَفِي أخْبرهُم قِرَاءَة عَلَيْهِ أَنا عبد الْوَاحِد بن أَحْمد الْبَقَّال أَنا عبيد الله بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ أَنا جَدِّي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ جَمِيلٍ أَنا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ أَنا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى نَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ أَنَّ عُمَرَ أَمَرَ أُبَيًّا أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فِي رَمَضَانَ فَقَالَ إِنَّ النَّاسَ يَصُومُونَ النَّهَار وَلَا يحسنون أَن (يقرؤا) فَلَوْ قَرَأْتَ الْقُرْآنَ عَلَيْهِمْ بِاللَّيْلِ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ هَذَا (شَيْءٌ) لَمْ يَكُنْ فَقَالَ قَدْ عَلِمْتُ وَلَكِنَّهُ أَحْسَنُ فَصَلَّى بِهِمْ عِشْرِينَ رَكْعَة (إِسْنَاده حسن) ( الأحاديث المختارة للضياء المقدسي 3/367رقم الحدیث 1161) ترجمہ:حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت مروی ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے رمضان میںمجھے رات کو تراویح پڑھانے کاحکم دیتے ہوئے فرمایا کہ لوگ دن میں روزہ رکھ لیتے ہیں مگر تراویح نہیں پڑھ سکتے، اس لئے لوگوں کو تراویح پڑھاؤ۔ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یاامیرالمومنین! یہ ایسی چیز کا حکم ہے جس پر عمل نہیں ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: میں جانتا ہوں لیکن یہی بہتر ہے، پس حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے بیس20 رکعات تراویح پڑھائی۔ اعتراض: کفایت اللہ سنابلی صاحب غیر مقلد اپنی کتاب انوار التوضیح ص348 پر لکھتے ہیں۔ یہ رویات ضعیف ہے ، سند میں موجود ابو جعفرالرازی سی الحفظ ہے ۔ امام أبو زرعة الرازي رحمه الله (المتوفى264)نے کہا: شيخ يهم كثيرا۔[الضعفاء لابي زرعه الرازي: 2/ 443]۔ امام ابن حبان رحمه الله (المتوفى354)نے کہا: كان ممن ينفرد بالمناكير عن المشاهير لا يعجبني الاحتجاج بخبره إلا فيما وافق الثقات۔ [المجروحين لابن حبان: 2/ 120]۔ یہ مشہور لوگوں سے منکر روایت کے بیان میں منفرد ہوتا تھا،اس کی حدیث سے حجت پکڑنا مجھے پسند نہیں الاکہ یہ ثقہ رواۃ سے اس کی تائید مل جائے۔ امام ابن حبان نے یہ بھی فرمایا: والناس يتقون حديثه ما كان من رواية أبى جعفر عنه لأن فيها اضطراب كثير لوگ الربیع بن انس سے ابوجعفر کی روایات سے بچتے ہیں،کیوں کہ ان بہت اضطراب ہوتا ہے۔( الثقات - ابن حبان ص4/228) اور زیر بحث حدیث اسی طریق سے ہے،لہذا ضعیف ہے۔یاد رہے کہ متعدد حنفی حضرات نے بھی اس راوی کو ضعیف تسلیم کیا ہے۔ جواب: گذارش ہے کہ کفایت اللہ سنابلی صاحب نے ابو جعفر الرزی پر چند محدثین کرام نے جرح نقل کی ہے مگر اکثر علماء نے اس کی توثیق کی ہوئی ہے۔ہم مسلکی حمایت سے ہٹ کر اس راوی پر محدثین کرام کے آراء کو پیش کرتے ہیں تاکہ حقیقت واضح ہوسکے۔ ابو جعفر الزای پر جرح کرنے والے محدثین کرام کے حوالہ جات ملاحظہ کریں۔ الفلاس : فيه ضعف ، وهو من أهل الصدق سيء الحفظ ۔ ( تاريخ بغداد 11/146.) العجلي : ضعيف الحديث ۔(ترتيب معرفة الثقات 2/391.) أبو زرعة : شيخ يهم كثيراً ۔( سؤالات البرذعي 1/443.) امام نسائی : ليس بالقوي. (سنن النَّسَائي: 3 / 258.) ابن حبان کا مکمل قول: کفایت اللہ سنابلی صاحب نے ابن حبان کی جرح مکمل نقل نہیں کی۔ كان ممن ينفرد بالمناكير عن المشاهير لا يعجبني الاحتجاج بخبره إلا فيما وافق الثقات۔۔۔۔ یہ مشہور لوگوں سے منکر روایت کے بیان میں منفرد ہوتا تھا،اس کی حدیث سے حجت پکڑنا مجھے پسند نہیں الاکہ یہ ثقہ رواۃ سے اس کی تائید مل جائے۔۔۔۔ اس جرح کے بعد ابن حبان نے متصل جو بات کہی وہ بھی ملاحظہ کریں، ابن حبان لکھتےہیں۔ ولايجوز الاعتبار بروايته إلا فيما لم يخالف الاثبات. اور نہ اس کی روایت پر اعتبار کیا جاسکتا ہےالا یہ کہ اپنے سے زیادہ ثقہ راوی کے مخالفت نہ ہو۔ یعنی کہ جس روایت میں اپنے سے زیادہ ثقہ راوی کی مخالفت نہ ہو تو اس پر اعتبار اور اعتماد کیا جاسکتا ہے۔ اما م ابن حبان کے اس مکمل قول سے واضح ہوا کہ ابو جعفر الرازی کی منفرد روایت سے احتجاج کرنا محدث ابن حبان کو پسند نہ تھا مگر وہ روایت جس میں ابو جعفر الرازی اپنے سے ثقات راوی کی مخالفت نہ کرے اس پر اعتبار اور استدلال کیا جاسکتا ہے۔جبکہ پیش کردہ ضیاء المختارہ کی روایت میں کسی ثقہ راوی کی مخالفت ثابت نہیں بلکہ دیگر ثقہ راویوں نے20رکعت کے بیان میں ابو جعفر الرزای کی موافقت بھی کی ہے جس سے محدث ابن حبان کا ابو جعفر الرزی کا ربیع بن انس سے مرویات پر مضطرب کا اعتراض بھی رفع ہوجاتا ہے۔اس لیے یہ حدیث تو ابن حبان کے اصول کے مطابق بھی قابل حجت اور صحیح روایات ہے۔ ابو جعفر الرازی کی توثیق کرنے والے محدثین کرام کے حوالہ جات پیش خدمت ہیں۔ إمام ابن معين : ثقة ۔(تاريخ بغداد 11/146.) ، ایک دوسرے مقام پر کہا : ثقة ، وهو يغلط فيما يروي عن مغيرة ۔( الدوري4772 .) ایک دوسرے شاگرد نے رویات کیا کہ : ليس به بأس ۔ ( من كلام أبي زكريا في الرجال 82.) ایک دوسرے مقام پر کہا : صالح ۔( الجرح والتعديل 6/280.) ، ایک مقام پر کہا : يُكتب حديثه إلا أنه يخطئ۔(تاريخ بغداد 11/146.) ابن المديني: ثقة ۔(سؤالات ابن أبي شيبة 148) الساجي : صدوق ليس بمتقن ۔(تاريخ بغداد 11/146) امام ابن عمار : ثقة ۔(تاريخ بغداد 11/146) امام أبو حاتم : ثقة صدوق صالح الحديث ۔( الجرح والتعديل 6/280) . حافظ ابن حجر : صدوق سيء الحفظ خصوصاً عن مغيرة ۔(تقريب التهذيب 8019 ) حافظ ابن حجر ایک دوسرے مقام پر ابو جعفر کی روایت کے بارے میں لکھتے ہیں۔ الإسناد حسن۔( مختصر البزار 2/ 265) علامہ ذہبی۔صالح الحديث۔ (میزان الاعتدال3/320رقم6595) ابْن سعد : وكان ثقة۔(طبقات ابن سعد 7 / 380) حاكم: ثقة. (تهذيب: 12 / 57) امام ضیاء المقدسی: وَثَّقَهُ عَليّ بن الْمَدِينِيّ وَيحيى بن معِين۔( الأحاديث المختارة6/97) ضیاء المختارہ میں 13 روایات اس سند سے ہیں۔ محدث ابْن شاهين۔ ثقاته۔(البدر المنیر3/623) علامہ حازمی ۔ ثِقَة.( البدر المنیر3/623) مذکورہ بالاپیش کردہ حوالہ جات سے رابو جعفر الرزای کے بارے میں نتیجہ اخذ کرنا قارئین کرام کے علمی استعداد پر ہے۔مذکورہ بالاتحقیق سے معلوم کہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی 20 رکعت والی روایت حسن اور قابل احتجاج ہے۔اس پر کفایت اللہ سنابلی صاحب کے اعتراضات باطل و مردود ہیں۔
    3 points
  12. ارغام ھاذر بجواب نقش ماہر ۔ماہنامہ فاران توحید نمبر کراچی ،شمارہ جون 1957.pdf
    3 points
  13. وھابیہ دیوبندیہ میں اتنی لیاقت کہاں کہ وہ امام احمد رضا قادری بریلوی علیہ الرحمہ کے اشعار کو سمجھ سکیں۔ امام احمد رضا علیہ الرحمہ، اللہ تعالی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں کہہ رہے بلکہ وصل اور فرقت کو کہہ رہے ہیں، اگر وھابیہ دیوبندیہ وصل اور فرقت کو خدا ورسول مانتے ہیں تو اپنے ایمان کو ٹٹولیں کہ ہے یا نہیں ؟
    3 points
  14. المعجم الاؤسط للطبرانی اردو Jild # 1 https://archive.org/download/AlMujamAlAwsatJild1/al mu'jam al awsat Jild 1.pdf Jild #2 https://archive.org/download/Al-Muajam-ul-Aosat-lil-Tabrani/AlMujamAlAwsatJild2.pdf Jild # 3 https://archive.org/download/AlMujamAlAwsatJild3/al mu'jam al awsat Jild 3.pdf Jild # 4 https://archive.org/download/AlMujamAlAwsatJild4/al mu'jam al awsat Jild 4.pdf Jild # 5 https://archive.org/download/AlMujamAlAwsatJild5/al mu'jam al awsat Jild 5.pdf Jild # 6 https://archive.org/download/AlMujamAlAwsatJild6/al mu'jam al awsat Jild 6.pdf Jild # 7 https://archive.org/download/AlMujamAlAwsatJild6/al mu'jam al awsat Jild 7.pdf
    3 points
  15. انکشاف حق کے رد کیلئے کتاب عجائب دیوبند سے ابتدائی چند صفحات ہی کافی ہیں۔ جب مصنف ہی معتبر نہیں اور اُس کیخلاف متفقہ فتوی ہو تو کتاب کی ہمارے نزدیک کیا حیثیت؟ انکشاف حق کے ابتدائی چند صفحات پڑھ کر ایک صحیح العقیدہ سُنی کو فوراً اندازہ ہوجائے گا کہ یہ کتاب وہابیوں کا دھوکہ ہے۔ کیونکہ مولوی خلیل دیوبندی شروع میں اعلی حضرت سے کفر کے مسئلے پر اختلاف کر رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ اس مسئلہ میں تقلید نہیں کی جائے گی اور کفر کا فتوی دینے میں احتیاط کی جائے گی اور دیوبندی اکابر اُن عبارات کا دوسرا مطلب مانتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔۔۔ مگر آگے چل کر اُس نے باقائدہ دیوبندی اکابرین کا دفاع کرنا شروع کر دیا۔ جس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ یہ مسئلہ کفر پر اختلافی بحث نہیں بلکہ دیوبندیوں کی حمایت اور اُن کے کفریہ کلام کی تاویلات کا ایک نیا منصوبہ ہے۔ اور سُنی لبادہ اوڑھ کر عوام کو گمراہ کرنے کی ایک مذموم کوشش ہے۔
    3 points
  16. تیجانی صاحب۔ آپ کی جہالت، کم علمی اور گندی سوچ انتہائی قابل افسوس ہے۔ آپ کی جہالت اور گندی سوچ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جن الفاظ کو آپ نے ہائی لائٹ کیا ہے وہ تماش بین کے ہیں۔ بالکل اُسی لفظ کہ نیچے لفظ تماشا لکھا ہے۔ یہ لفظ تماشا اصل فارسی کا لفظ ہے۔ جس کا اسکرین شاٹ میں نے اوپر پوسٹ کیا۔ اور اُسی تماشا کو تماشی (باہم پیدل چلنا) کا مفرس کہا گیا ہے۔ پھر بھی آپ کا اتنا ضد اور ہٹ دھرمی کہ ابھی بھی اسے اردو کا لفظ کہہ رہے ہیں۔۔ اور مزید جو اصل لفظ تماشا ہے۔ اُس کا معنی دیکھیں۔ آپ کی جہالت کی انتہا کہ اصل فارسی کا معنی نظارہ ہے۔ جیسا کہ گوگل نے ترجمہ فارسی کا کیا نہ کہ اردو کا۔۔ مذاق ٹھٹا، کھیل، ناٹک یہ سب اردو کے مزید معانی ہیں۔ اوپر والی کتاب اردو لغت ہے۔ فارسی لغت نہیں۔۔ فارسی اصل ماخد ہے اس لفظ کا۔ آپ اپنی دلیل پر فارسی لغت ڈکشنری سے اس کے مختلف معنی پیش کرتے تب بھی کچھ بات بنتی۔ آپ نے جو جہالت کا مظاہرہ کرتے ہوئے لکھا کہ یہی آپ کا اصل رد ہے۔۔ جتنے بھی صحیح اور غلط معنی لغت میں درج ہیں۔۔ وہ اردو کی لغت کے ہیں۔۔۔ مولانا حسن رضا خاں علیہ الرحمہ نے جو لفظ لکھا وہ اُس کے اصل مطلب پر لکھا۔۔۔ یعنی نظارہ کرنا۔ دوسرا آپ کی جہالت اس بات سے ثابت ہے۔ اردو زبان عربی، فارسی اور کچھ ترک الفاظ سے مل کر بنی۔۔ تو الفاظ جہاں سے لئے گئے پہلے اُس کے وہی معنی ہونگے پھر اُس کے دوسرےمعنی ہونگے۔ لفظ تماشائی کا جو مطلب آپ نے اس جگہ لکھا "تماشہ دیکھنے والا" ۔۔ یہی تو غلطی ہے۔ تماشا (فارسی) "دید، نظارہ" تماشا۔۔۔۔ئی ۔۔"نظارہ کرنے والا"۔۔۔ آپ کی علمی حیثیت کا اندازہ اس پوسٹ سے لگایا جا سکتا ہے۔ جو مجرہ کی اوپر تشریح کی ہے۔ اُسی لفظ مجرہ کے اِسی اردو لغت کی کتاب میں غلط معنی بھی درج ہیں (نوٹ: عربی لغت نہیں۔۔ اردو لغت میں مجرہ کے غلط معنی)۔ اور یہاں پر ت مربوظ کا استعمال نہیں ہے کیونکہ لفظ مجرے استعمال ہوا شعر میں۔ مجرۃ نہیں۔ اور بڑی یے اردو کے تلفظ کیلئے نہیں لگائی گئی بلکہ اصل لفظ ہی اردو میں مجرا ہے جو عربی لفظ سے اخذ کیا گیا ہے۔ آپ نے معنی کہکشاں آسماں وغیرہ کِیے ہیں۔۔ جبکہ اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے اسے اصل آداب، جھکنا، سلام والے معنی میں لکھا ہے۔ پھر سے پڑھو۔ "بیت اللہ مجرے کو جھکا"۔ یعنی جھُک کر سلام پیش کرنا۔ آداب بجا لانا۔ جیسے لفظ مجرہ کے معنی تبدیل ہوگئے اور اب اکثر غلط معنی لئے جاتے ہیں۔ بالکل یہی معاملہ یہاں ہے۔ اب بتائو ان دو میں کونسا معنی لوگے؟ جھُک کر سلام پیش کرنا ۔۔۔ یا معاذ اللہ ناچنا وغیرہ جیسے گندے معنی؟ آپ سے کوئی بعید نہیں۔ شاید اس اسکرین شاٹ کے بعد آپ علی حضرت علیہ الرحمہ کو بھی گستاخ ثابت کرنے پر تُل جائیں۔۔۔ اور اسی عربی کے کسی دوسرے لفظ کے صحیح معنی کے ساتھ غلط معنی بھی اردو میں جمع ہوجائیں تو کیا وہ عربی کا لفظ ہی غلط ہوجائے گا اور قرآن کریم میں اُس لفظ کا صحیح استعمال گستاخی بن جائے گی۔۔ نعوذ باللہ؟ مثالوں اور مختلف وقت میں مختلف چیزوں کی مختلف نوعیت کا بیان آپ کی جہالت، ہٹ دھرمی اور گندی سوچ کے آگے بالکل فضول ہے۔ چونکہ آپ اپنی جہالت اور گندی سوچ کہ مطابق بغیر فتوی لئے ایک عاشق رسول کو گستاخ ثابت کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔ اس لئے ہم اللہ تعالی کی پناہ چاہتے ہیں شیطان لعین سے اور آپ جیسے شخص سے۔
    3 points
  17. ایک غیر مقلد کی جہالت چیک کریں دعا کے کے سلسلے میں کفایت اللہ وہابی محدث فورم پر ایک وہابی کے سوال کے جواب میں لکھتا ہے۔ دیکھیں کتنی جہالت سےوہابی کسی اور کے دعا کے تجربے کو کہہ رہا کہ یہ بات کسی روایت میں نہیں ہےاور یقین نہ آئے تو جب جب آپ کی کوئی چیز گم ہو جائے ان الفاظ کو پڑھ کر دیکھیں۔ پتہ چل جائے گا کہ یہ نسخہ کتنا مجرب ہے۔ پھر آگے لکھتا ہے: آدمی کو چاہئے کہ قرآن و حدیث سے ثابت شدہ اذکار و ادعیہ کی پابندی کرے ا ور مجرب کے نام پر خود ساختہ ادعیہ و اذکار کی دوکان چلانے والوں سے ہوشیا ر رہے۔اگرکسی کو مسنون دعائیں یاد نہیں تو وہ اپنے الفاظ میں بھی جب چاہے اللہ سے دعاء کرسکتا ہے۔ اس وہابی کے میرے چند سوالات مندرجہ ذیل ہیں: 1۔ اگرایک بندہ قرآن وحدیث والے اذکار کو پڑھتا ہے لیکن پھر بھی اس کی دعا قبول نہ ہو تو کیا معاذاللہ قرآن و حدیث کو جھٹلا دیں ؟؟؟ 2۔اگر دو بندے ایک ہی ذکر والے کلمات کو پڑھتے ہیں ایک کی دعا قبول ہو جاتی ہے اور دوسرے کی نہیں ہوتی تو کیا اس میں دعا قبول ہونے والےشخص کے تجربے کو جھوٹا کہا جائے گا؟؟ 3۔ جب بندہ اپنی طرف بنائے ہوئےکلمات سےاللہ عزوجل سے دعا مانگ سکتا ہے توکیا کسی ولی یا کسی نیک بندے کے تجربے والی دعااللہ عزوجل سے کیوں نہیں مانگ سکتا ؟؟ مرتے دم تک کوئی وہابی ان سوالات کے جواب نہیں دے پائے گا۔(ان شاء اللہ)
    3 points
  18. Source: dawatulquran.net/ham-naami-ka-mughalta/
    3 points
  19. Radd E Wahabi Deobandi 4000 Scan Refence Form Deoband Books For Internet Facebook And Twiter Etc have folders like this its a very big collection of anti wahabi and deobandi scan books and quotes [CLICK HERE] for download
    3 points
  20. یہ کہنا(معبود جھوٹ بول سکتا ہے) ایسے ھی ھے جیسے یہ کہنا کہ دیوبندیوں کا معبود خود کشی کر سکتا ہے مگر کرتا نہیں (تو جس کی موت و حیات ممکن ہو وہ تو ممکن الوجود ھے نہ کہ واجب الوجود)۔ یا جیسے یہ کہنا کہ دیو باندیوں کا معبود اتنا بھاری پتھر بنا سکتا ہے جسے وہ خود بھی نہ اٹھا سکے ۔ یا جیسے یہ کہنا کہ دیوبندیوں کا معبود چوری کر سکتا ہے، نہ کر سکے تو قدرت پر حرف آتا ہے اور کر سکے تو اس کی ملکیت سے کچھ چیزوں کو خارج ماننا پڑتا ہے جن کی وہ چوری کر سکے اور جن کے لئے کوئی اور مالک ومعبود ماننا لازم آتا ہے ۔ حقیقت میں سچا معبود سب کا ایک ھی ھے جیسا کہ سورۃ اخلاص میں ھے اور اپنے خیالات کے مطابق لوگوں کے بہت معبود ہیں جیسا کہ سورۃ الکافرون میں ھے : لا اعبد ما تعبدون۔ وغیرہ ۔ ان کے تصوراتی معبودوں پر جرح کر کے ھم اُن کے تصورِ معبود کو درست کرنا چاہتے ہیں ۔ وہ جرحیں ھم سب کے سچے معبود کے متعلق سوچی بھی نہیں جا سکتیں۔ دیوبندی کتاب میں شیعہ کے تصورِ معبود کے متعلق یہ جرح موجود ہے ایسے احمق خدا کو میں نہیں مانتا"۔ ارواح ثلاثہ۔" سرفراز لکھتا ہے کہ :"اس کو قدرت ھے کہ بڑے سے بڑے گنہگار حتی کہ کافر و مشرک کو جنت میں داخل کر دے یقینا وہ اپنے اختیار سے ایسا کر سکتا ہے، یہ الگ بات ہے کہ وہ کرے گا ھرگز نہیں کیونکہ اس کا وعدہ سچا ھے"۔ (تنقيد متین:139). دیوبندیت/دیوبندگی کے امام سرفراز گکھڑوی کے نزدیک : اگر بڑے سے بڑے گنہگار جنت میں داخل ھوں تو الله جھوٹا ھو جائے گا ۔ حالانکہ کافر و مشرک کو چھوڑ کر ھر بڑے سے بڑا گناہ گار جلد یا دیر سے جنت میں داخل ضرور ھو گا ۔ تو اس وقت دیو باندیوں کے نزدیک ان کے معبود کا جھوٹا ھونا ثابت ھو جائے گا ۔
    2 points
  21. دیوخانی فرقے کی بدعت نماز عیدین و خطبہ کے بعد دعا خود ان کے اصولوں و قواعد سے
    2 points
  22. اسلامی ایجوکیشن پر ترجمہ کی غلطی تھی اور ایسی مزید اغلاط بھی ہوسکتی ہیں۔ پرانے ایڈیشن میں ہرکتاب اور آرٹیکل کے نیچے وضاحت بھی موجود تھی کہ اگر مواد میں کوئی غلطی پائیں تو رابطہ کر کے آگاہ فرمائیں۔ کتابت و ترجمہ کی اغلاط کبھی بھی عقائد کے خلاف دلیل نہیں ہوتیں۔ عقائد کو ثابت کرنے کیلئے مستند روایات و علماء کے حوالے درکار ہوتے ہیں۔ اسلامی ایجوکیشن ویب سائیٹ پر غلطی کی تصحیح اور وضاحت کر دی گئی ہے۔ مولا کا وہی معنی لیا جائے گا جو کہ جمہور علمائے اہلسنت مراد لیتے ہیں۔
    2 points
  23. ان تمام محدثین پر وہابی بدعت کا فتویٰ کیوں نہیں لگاتے بلکہ انکو امام کہتے ہیںَ اور یہ آخر میں وہابیوں کے شیخ شوکانی بھی اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ بدعت کی اقسام ہوتی ہیں۔ وہابی منافقت چھوڑکر ان محدثین کی پیروی کریں۔ یا منافقت نہ دیکھائیں ان پر بدعتی کا فتویٰ لگوا دیں اپنے ملاوں سے۔
    2 points
  24. بقول ابن تیمیہ میلاد شریف کی تعظیم اور اسے شعار بنا لینے پر اجر عظیم ہے تقی الدین احمد بن عبد الحلیم بن عبد السلام بن تیمیہ (1263۔ 1328ء) اپنی کتاب اقتضاء الصراط المستقیم لمخالفۃ اصحاب الجحیم میں لکھتا ہے :وکذلک ما يحدثه بعض الناس، إما مضاهاة للنصاري في ميلاد عيسي عليه السلام، وإما محبة للنبي صلي الله عليه وآله وسلم وتعظيمًا. واﷲ قد يثيبهم علي هذه المحبة والاجتهاد، لا علي البدع، من اتخاذ مولد النبي صلي الله عليه وآله وسلم عيدًا. ’’اور اِسی طرح اُن اُمور پر (ثواب دیا جاتا ہے) جو بعض لوگ ایجاد کرلیتے ہیں، میلادِ عیسیٰ علیہ السلام میں نصاریٰ سے مشابہت کے لیے یا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت اور تعظیم کے لیے۔ اور ﷲ تعالیٰ اُنہیں اِس محبت اور اِجتہاد پر ثواب عطا فرماتا ہے نہ کہ بدعت پر، اُن لوگوں کو جنہوں نے یومِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بہ طور عید اپنایا۔‘‘ ابن تيميه، اقتضاء الصراط المستقيم لمخالفة أصحاب الجحيم : 404 اِسی کتاب میں دوسری جگہ لکھتا ہے : فتعظيم المولد واتخاذه موسماً، قد يفعله بعض الناس، ويکون له فيه أجر عظيم؛ لحسن قصده، وتعظيمه لرسول ﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، کما قدمته لک أنه يحسن من بعض الناس ما يستقبح من المؤمن المسدد. ’’میلاد شریف کی تعظیم اور اسے شعار بنا لینا بعض لوگوں کا عمل ہے اور اِس میں اُس کے لیے اَجر عظیم بھی ہے کیوں کہ اُس کی نیت نیک ہے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم بھی ہے، جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا ہے کہ بعض لوگوں کے نزدیک ایک اَمر اچھا ہوتا ہے اور بعض مومن اسے قبیح کہتے ہیں۔‘‘ ابن تيميه، اقتضاء الصراط المستقيم لمخالفة أصحاب الجحيم : 406
    2 points
×
×
  • Create New...