Khalil Rana

Hayat Un Nabi Sallalaho Alaihe Wasallam

193 posts in this topic

Quote

مسند ابو یعلی والی روایت برزخی زندگی سے متعلق ہے. نہ کہ دنیوی. صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے قائل تھے. 

جناب اہل حدیث صاحب

اگر مسند ابو یعلیٰ والی حدیث برزخی زندگی سے متعلق ھے تو یہ بتائیےکہ نماز پڑھنا روح کا کام ھے یا جسم کا؟

کیا رفع یدین روح کرتی ھے ؟

کیا رکوع وسجود روح کرتی ھے ؟

ارے اھل حدیث صاحب کچھ عقل کو ھاتھ مارو

Share this post


Link to post
Share on other sites

محترم سب سے پہلے تو یہ کہ مجھپر لگی بیکار کی پابندی ہٹائیں. 

دوسری بات یہ کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر نص صریح پیش کی ہے. جسکے آپ خود منکر ہیں.

رہی بات برزخی زندگی کی تو اللہ کے بندے برزخی زندگی غیبیات سے تعلق رکھتی ہے. 

Share this post


Link to post
Share on other sites
6 hours ago, Ahlehadees said:

محترم سب سے پہلے تو یہ کہ مجھپر لگی بیکار کی پابندی ہٹائیں. 

دوسری بات یہ کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر نص صریح پیش کی ہے. جسکے آپ خود منکر ہیں.

رہی بات برزخی زندگی کی تو اللہ کے بندے برزخی زندگی غیبیات سے تعلق رکھتی ہے. 

پھر تم وہابی تسلیم کیوں نہیں کرتے سرکارﷺ اپنی قبر مبارک میں حیات ہیں جب کہ اس کے بارے میں خلیل رانا بھائی نے صحیح حدیث پیش کی ہے؟؟

ہمارا تو موقف ہے کہ سرکارﷺ اپنی قبر مبارک میں حیات ہیں  اس پر بات کر نا وہابی بات کو گھما پھرا کر کیوں پیش کر رہا ہے؟؟

امام ابن حجر العسقلانی علیہ الرحمہ کی اس عبارت کو  کبھی پڑھا ہے یا نہیں؟؟

 

 قال الله تعالى : {وَلاَ تَقُولُواْ لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبيلِ اللّهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَاء وَلَكِن لاَّ تَشْعُرُونَ} " سورة البقرة "
 قال الله تعالى : { بَلْ أَحْيَاء عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ } , { فَرِحِينَ بِمَا آتَاهُمُ اللّهُ مِن فَضْلِهِ }." سورة آل عمران "

يقول الحافظ ابن حجررحمه الله في هذه الآيتين :
‘‘وإذا ثبت أنهم أحياء من حيث النقل فانه يقوه من حيث النظر كون الشهداء أحياء بنص القران و الأنبياء أفضل من الشهداء ’’
( فتح الباري ج : 6 ص : 379 ).

 

امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:

‘‘حيات النبي - صلى الله عليه وسلم - في قبره وسائر الأنبياء معلومة عندنا علما قطعيا , كما قام عندنا من الأدلة في ذلك وتواترت (به) الأخبار
الدالة على ذلك .’’
( الحاوي للفتاوى , ج : 2 , ص : 147 , طبعة دار الكتب العلمية )

 

قاضی ثنا ء اللہ پانی پتی علیہ الرحمہ (متوفی1225ھ) فرماتے ہیں:
فذهب جماعة من العلماء إلى ان هذه الحيوة مختص بالشهداء والحق عندى عدم اختصاصها بهم بل حيوة الأنبياء أقوى منهم وأشد ظهورا اثارها في الخارج حتى لا يجوز النكاح بأزواج النبي صلى اللّه عليه وسلم بعد وفاته بخلاف الشهيد.
(تفسیر مظہری ج:1ص:152)
 بعض علماء کے نزدیک اس آیت میں جس حیات کا ذکرہے وہ صرف شہداء کو ملتی ہے۔ لیکن صحیح قول کے مطابق انبیاء کرام علیہم السلام کو حیات شہداء سے بھی بڑھ کر ملتی ہے یہی وجہ ہے کہ شہید کی بیوی سے نکاح جائز ہے مگرنبی علیہ السلام کی بیوی سے جائز نہیں۔
Edited by Raza Asqalani

Share this post


Link to post
Share on other sites
4 hours ago, Ahlehadees said:

دوسری بات یہ کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر نص صریح پیش کی ہے. جسکے آپ خود منکر ہیں.

رہی بات برزخی زندگی کی تو اللہ کے بندے برزخی زندگی غیبیات سے تعلق رکھتی ہے. 

Yar clear toh karo k Ap is Waqt Nabi Kareem  صلی اللہ علیہ وسلم ko Hayat nahi manty ho kiya chahy Barzakhi hi sahi..?
Aur Agar Barzakhi Hayaat manty ho toh Bar bar wafaat ki rat kun lagayi ja rahy hain Jab k khud Barzakhi zidnagi k bhi qail hain ap, 
aur dusri baat uper maine bhi aur @Khalil Rana bhai ne bhi Kaha hy k Wafaat k bary mein toh kisi qism ka koi ikhtilaaf hy hi nahi..
Aur @Ahlehadees apny kaha k 
برزخی زندگی غیبیات سے تعلق رکھتی ہے
toh Janab ham ne kab dawa kiya hy k wo Sab kuch hmari ankhon k samny hy har waqt, Barzakh k ma'ani hi parda k hoty..
Ap waziya toh karo k Ap is barzakhi zindagi k qail ho ya nahi..
Agar ho toh phir bar bar wafaat ki zid kun..
@Raza Asqalani bhai in se pehly iska moqa'af pocha krain, kun k har daleel k bad inka aqeeda badal jata hota hy..
is bary mein bhi inki jama'at k logon k kafi moqa'af hain..

Share this post


Link to post
Share on other sites
الحمد للہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی رسولہ الأمین، أما بعد:
 
اول:        اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ دنیا کی زندگی گزار کر فوت ہو گئے ہیں۔

ارشاد باری تعالی ہے کہ: اِنَّکَ مَیِّت‘’ وَ اِنَّھُمْ مَّیِّتُوْنَبے شک تم وفات پانے والے ہو اور یہ لوگ بھی مرنے والے ہیں۔(الزمر:۳۰)

سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:‘‘ ألامن کان یعبد محمدا فإن محمدا ﷺ قدمات’ الخ سن لو! جو شخص (سیدنا) محمد  (ﷺ) کی عبادت کرتا تھا تو بے شک محمد ﷺ فوت ہو گئے ہیں۔ (صحیح البخاری: ۳۶۶۸)

اس موقع پر سیدنا ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ نے ‘وما محمد إلا رسول قد خلت من قبلہ الرسل’’ الخ[آل عمران: ۱۴۴] والی آیت تلاوت فرمائی تھی۔ ان سے یہ آیت سن کر (تمام) صحابہ کرام نے یہ آیت پڑھنی شروع کر دی۔(البخاری: ۱۲۴۱ ، ۱۲۴۲)سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اسے تسلیم کر لیا۔ دیکھئے صحیح البخاری (۴۴۵۴)

معلوم ہوا کہ اس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کا اجماع ہے کہ نبی ﷺ فوت ہو گئے ہیں۔

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:

‘‘مات النبیﷺ’’الخ                    نبی ﷺ فوت ہو گئے(صحیح البخاری: ۴۴۴۶)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ نے فرمایا:    ‘ما من نبی یمرض  إلا خیر بین الدنیا والآخرۃ’’جو نبی بھی بیمار ہوتا ہے تو اسے دنیا اور آخرت کے درمیان اختیار دیا جاتا ہے۔ (صحیح البخاری ۴۵۸۶، صحیح مسلم: ۲۴۴۴)

آپ ﷺ نے دنیا کے بدلے آخرت کو اختیار کر لیا۔ یعنی آپ ﷺ کی وفات کے بعد آپ کی زندگی اُخروی زندگی ہے جسے بعض علماء برزخی زندگی بھی کہتے ہیں۔

ایک روایت میں ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:‘‘کنت أسمع أنہ لایموت نبی حتی یخیر بین الدنیا والآخرۃ’’میں (آپ ﷺ سے) سنتی تھی کہ کوئی نبی بھی وفات نہیں پاتا یہاں تک کہ اسے دنیا اور آخرت کے درمیان اختیار دے دیا جاتا ہے ۔(البخاری:۴۴۳۵و مسلم:۲۴۴۴)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہی فرماتی ہیں کہ:‘‘فجمع اللہ بین ریقی و ریقہ فی آخر یوم من الدنیا و أول یوم من الآخرۃ’’پس اللہ تعالیٰ نے آپ (ﷺ) کے دنیا کے آخری دن اور آخرت کے پہلے دن میرے اور آپ کے لعاب دہن کو (مسواک کے ذریعے) جمع(اکٹھا) کر دیا۔(صحیح البخاری:۴۴۵۱)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک دوسری روایت میں ہے کہ: ‘‘لقد مات رسول اللہ ﷺ’’ الخیقیناً رسول اللہ ﷺ فوت ہو گئے۔(صحیح مسلم:۲۹؍۲۹۷۴و ترقیم دارالسلام:۷۴۵۳)

ان کے علاوہ اور بھی بہت سے دلائل ہیں۔ ان صحیح و متواتر دلائل سے معلوم ہوا کہ سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ ، فداہ ابی و امی و روحی، فوت ہو گئے ہیں۔

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اپنی نمازکے بارے میں فرماتے تھے کہ :‘‘إن کانت ھذہ لصلاتہ حتی فارق الدنیا’ آپ (ﷺ) کی یہی نماز تھی حتی کہ آپ (ﷺ) دنیا سے چلے گئے۔(صحیح البخاری :۸۰۳)

ایک دوسری روایت میں ہے کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ کے بارے میں فرمایا: ‘‘حتی فارق الدنیا’’ حتی کہ آپ (ﷺ) دنیا سے  چلے گئے۔ (صحیح مسلم:۳۳؍۲۹۷۶و دارالسلام:۷۴۵۸)

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی فرماتے ہیں کہ :‘خرج رسول اللہ من الدنیا’’ الخرسول اللہ ﷺ دنیا سے چلے گئے ۔(صحیح البخاری:۵۴۱۴)

ان ادلہ قطعیہ کے مقابلے میں فرقہ دیوبندیہ کے بانی محمد قاسم نانوتوی(متوفی ۱۲۹۷ھ) لکھتے ہیں کہ:‘‘ارواح انبیاء کرام علیہم السلام کا اخراج نہیں ہوتا فقط مثل نور چراغ اطراف و جوانب سے قبض کر لیتے ہیں یعنی سمیٹ لیتے ہیں اور سوا اُن کے اوروں کی ارواح کو خارج کر دیتے ہیں۔۔۔’’ (جمال قاسمی ص ۱۵)

تنبیہ: میر محمد کتب خانہ باغ کراچی کے مطبوعہ رسالے‘‘جمال قاسمی’’ میں غلطی سے ‘‘ارواح’’ کی بجائے‘‘ازواج’’ چھپ گیاہے۔ اس غلطی کی اصلاح کے لئے دیکھئے سرفراز خان صفدر دیوبندی کی کتاب‘‘تسکین الصدور’’ (ص ۲۱۶)محمد حسین نیلوی مماتی دیوبندی کی کتاب‘‘ندائے حق’’ (ج ۱ص۵۷۲و ص ۶۳۵)

نانو توی صاحب مزید لکھتے ہیں کہ:‘‘رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات دنیوی علی الاتصال ابتک برابر مستمر ہے اس میں انقطاع یا تبدل و تغیر جیسے حیات دنیوی کا حیات برزخی ہو جانا واقع نہیں ہوا’’ (آبِ حیات ص ۲۷)

‘‘انبیاء بدستور زندہ ہیں’’ (آب حیات ص ۳۶)

نانوتوی صاحب کے اس خود ساختہ نظرےے کے بارے میں نیلوی دیوبندی صاحب لکھتے ہیں کہ :‘‘لیکن حضرت نانوتوی کا یہ نظریہ صریح خلاف ہے اس حدیث کے جو امام احمد بن حنبل نے اپنی مسند میں نقل فرمایا ہے۔۔’’ (ندائے حق جلد اول ص۶۳۶)

نیلوی صاحب مزید لکھتے ہیں کہ :‘‘مگر انبیاء کرام علیہم السلام کے حق میں مولانا نانوتوی قرآن و حدیث کی نصوص و اشارات کے خلاف جمال قاسمی ص ۱۵میں فرماتے ہیں :ارواح انبیاء کرام علیہم السلام کا اخراج نہیں ہوتا’’ (ندائے حق جلد اول ص ۷۲۱)

لطیفہ: نانوتوی صاحب کی عبارات مذکورہ پر تبصرہ کرتے ہوئے محمد عباس بریلوی لکھتا ہے کہ:‘‘ اور اس کے برعکس امام اہلِ سنت مجدد دین و ملت مولانا الشاہ احمد رضا خان صاحب وفات (آنی) ماننے کے باوجود قابلِ گردن زنی ہیں’’ (واللہ آپ زندی ہیں ص ۱۲۴)

یعنی بقولِ رضوی بریلوی ، احمد رضا خان بریلوی کا وفات النبی ﷺ کے بارے میں وہ عقیدہ نہیں جو محمد قاسم نانوتوی کا ہے۔

دوم:        اس میں کوئی شک نہیں کہ وفات کے بعد، نبی کریم ﷺ جنت میں زندہ ہیں۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کی بیان کردہ حدیث میں آیا ہے کہ فرشتوں (جبریل و میکائیل علیہما السلام) نے نبی کریم ﷺ سے فرمایا:‘‘إنہ بقی لک عمر لم تستکملہ، فلو  استکملت أتیت منزلک’’بے شک آپ کی عمر باقی ہے جسے آپ نے (ابھی تک) پورا نہیں کیا۔ جب آپ یہ عمر پوری کر لیں گے تو اپنے (جنتی) محل میں آ جائیں گے۔(صحیح البخاری۱؍۱۸۵ح۱۳۸۶)

معلوم ہوا کہ آپ ﷺ دنیا کی عمر گزار کر جنت میں اپنے محل میں پہنچ گئے ہیں۔ شہداء کرام کے بارے میں پیارے رسول  ﷺ فرماتے ہیں کہ:‘‘أرواحھم فی جوف طیر خضر، لھا قنادیل معلقہ بالعرش، تسرح من الجنۃ حیث شاءت، ثم تأوی إلی تلک القنادیل’’ان کی روحیں سبز  پرندوں کے پیٹ میں ہوتی ہیں، ان کے لئے عرش کے نیچے قندیلیں لٹکی ہوئی ہیں۔ وہ (روحیں) جنت میں جہاں چاہتی ہیں سیر کرتی ہیں پھر واپس ان قندیلوں میں پہنچ جاتی ہیں۔ (صحیح مسلم : ۱۲۱؍۱۸۸۷ودار السلام:۴۸۸۵)

جب شہداء کرام کی روحیں جنت میں ہیں تو انبیاء کرام ان سے بدرجہ ہا اعلیٰ جنت کے اعلیٰ و افضل ترین مقامات و محلاتمیں ہیںشہداء کی یہ حیات جنتی، اُخروی و برزخی ہے، اسی طرح انبیاء کرام کی یہ حیات جنتی، اُخروی و برزخی ہے۔

حافظ ذہبی(متوفی ۷۴۸ھ) لکھتے ہیں کہ:‘‘ وھو حی فی لحدہ حیاۃ مثلہ فی البرزخ’ اور آپ (ﷺ) اپنی قبر میں برزخی طور پر زندہ ہیں۔(سیر اعلام النبلاء۹/۱۶۱)

پھر آگے وہ یہ فلسفہ لکھتے ہیں کہ یہ زندگی نہ تو ہر لحاظ سے دنیاوی ہے اور نہ ہر لحاظ سے جنتی ہے بلکہ اصحاب کہف کی زندگی سے مشابہ ہے۔(ایضاً ص۱۶۱)
 
حالانکہ اصحابِ کہف دنیاوی زندہ تھے جبکہ نبی کریم ﷺ پر بہ اعتراف حافظ ذہبی وفات آچکی ہے لہذا صحیح یہی ہے کہ  آپ ﷺ کی زندگی ہر لحاظ سے جنتی زندگی ہے۔ یاد رہے کہ حافظ ذہبی بصراحت خود آپ ﷺ کے لئے دنیاوی زندگی کے  عقیدے کے مخالف ہیں۔

حافظ ابن حجر العسقلانی لکھتے ہیں:‘‘لأنہ بعد موتہ و إن کان حیا فھی حیاۃ اخرویۃ لا تشبہ الحیاۃ الدنیا، واللہ اعلم’’بے شک آپ ﷺ اپنی وفات کے بعد اگرچہ زندہ ہیں لیکن یہ اخروی زندگی ہے دنیاوی زندگی کے مشابہ نہیں ہے، واللہ اعلم(فتح الباری ج۷ص۳۴۹تحت ح۴۰۴۲)

معلوم ہوا کہ نبی کریم ﷺ زندہ ہیں لیکن آپ کی زندگی اُخروی و برزخی ہے، دنیا وی نہیں ہے۔

اس کے برعکس علمائے دیوبند کا یہ عقیدہ ہے کہ:‘‘وحیوتہ ﷺ دنیویۃ من غیر تکلیف وھی مختصۃ بہ ﷺ وبجمیع الأنبیاء صلو ات اللہ علیھم والشھداء لابرزخیۃ۔۔۔’’‘‘ہمارے  نزدیک اور ہمارے مشائخ کے نزدیک حضرت ﷺ اپنی قبر مبارک میں زندہ ہیں اور آپ کی حیات دنیا کی سی ہے بلا مکلف ہونے کے اور یہ حیات مخصوص ہے آنحضرت اور تمام ا نبیاء علیہم السلام اور شہداء کے ساتھ برزخی نہیں ہے جو تمام مسلمانوں بلکہ سب آدمیوں کو ۔۔۔’’(المہند علی المفند فی عقائد دیوبند ص ۲۲۱پانچواں سوال: جواب)

محمد قاسم نانوتوی صاحب لکھتے ہیں کہ:
‘‘رسول اللہ ﷺ کی حیات دنیوی علی الاتصال ابتک برابر مستمر ہے اس میں انقطاع یا تبدیل و تغیر جیسے حیات دنیوی کا حیات برزخی ہو جانا واقع نہیں ہوا’’ (آب حیات ص ۶۷، اور یہی مضمون)
 
دیوبندیوں کا یہ عقیدہ سابقہ نصوص کے مخالف ہونے کی وجہ سے مردود ہے۔

سعودی عرب کے جلیل القدر شیخ صالح الفوزان لکھتے ہیں کہ:‘‘ الَّذی یقول: إن حیاتہ فی البرزخ مثل حیاتہ فی الدنیا کاذب وھذہ مقالۃ الخرافیین’’جو شخص یہ کہتا ہے کہ آپ (ﷺ) کی برزخی  زندگی دنیا کی طرح ہے وہ شخص جھوٹا ہے۔ یہ من گھڑت باتیں کرنے والوں کا کلام ہے۔ (التعلیق المختصر علی القصید ۃ النونیہ، ج ۲ص۶۸۴)

حافظ ابن قیم نے بھی ایسے لوگوں کی تردید کی ہے جو برزخی حیات کے بجائے دنیاوی حیات کا عقیدہ رکھتے ہیں۔(النونیہ، فصل فی الکلام فی حیاۃ الأنبیاء فی قبور ھم۲؍۱۵۴ ، ۱۵۵)

امام بیہقی رحمہ اللہ (برزخی) ردِارواح کے ذکر کے بعد لکھتے ہیں کہ:فھم أحیاء عند ربھم کالشھداء’’ پس وہ (انبیاء علیہم السلام) اپنے رب کے پاس ، شہداء کی طرح زندہ ہیں۔(رسالہ: حیات الأنبیاء للبیہقی ص ۲۰)

یہ عام صحیح العقیدہ آدمی کو بھی معلوم ہے کہ شہداء کی زندگی اُخروی و برزخی ہے، دنیاوی نہیں ہے۔ عقیدہ حیات النبی ﷺ پر حیاتی و  مماتی دیوبندیوں کی طرف سے بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں مثلاً مقام حیات، آب حیات، حیات انبیاکرام، ندائے حق اور اقامۃ البرھان علی ابطال و ساوس ھدایۃ لحیران ، وغیرہ.اس سلسلے میں بہترین کتاب مشہور اہلحدیث عالم مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمہ اللہ کی‘‘ مسئلہ حیاۃ النبی ﷺ ’’ ہے جویہاں یونیکوڈ  میں موجود ہے۔
 
سوئم:       بعض لوگ کہتے ہیں کہ  نبی کریم ﷺ، اپنی قبر مبارک پر لوگوں کا پڑھا ہوا درود بنفسِ نفیس سنتے ہیں اور بطور ِ دلیل‘‘ من صلی علی عند قبری سمعتہ’’ والی روایت پیش کرتے ہیں۔ عرض ہے کہ یہ روایت ضعیف و مردود ہے۔ اس کی دو سندیں بیان کی جاتی ہیں۔ 

اول:     محمد بن مروان السدی عن الأعمش عن أبی صالح عن أبی ھریرۃ۔۔۔إلخ(الضعفاء للعقیلی  ۴؍۱۳۶ ، ۱۳۷ وقال : لا اصل لہ من حدیث اعمش و لیس بمحفوظ الخ و تاریخ۳؍۲۹۲ت۳۷۷و کتاب الموضوعات لا بن الجوزی ۱؍۳۰۳ وقال : ھذا حدیث لا یصح الخ)

اس کا راوی محمد بن مروان السدی: متروک الحدیث(یعنی سخت مجروح) ہے۔ (کتاب الضعفاء للنسائی: ۵۳۸) اس پر شدید جروح کے لئے دیکھئے امام بخاری کی کتاب الضعفاء (۳۵۰) مع تحقیقی : تحفۃ الاقویاء (ص۱۰۲) و کتب اسماء الرجال۔حافظ ابن القیم نے اس روایت کی ایک اور سند بھی دریافت کر لی ہے۔ ‘‘عبدالرحمن بن احمد الاعرج: حد ثنا الحسن بن الصباح: حد ثنا ابو معاویۃ: حد ثنا الاعمش عن ابی صالح عن ابی ہریرہ’’ الخ(جلاء الافھام ص ۵۴بحوالہ کتاب الصلوۃ علی النبی ﷺ لابی الشیخ الاصبہانی)

اس کا راوی عبدالرحمن بن احمد الاعرج غیر موثق (یعنی مجہول الحال) ہے۔ سلیمان بن مہران الاعمش مدلس ہیں۔(طبقات المدلسین:۵۵؍۲والتلخیصالحبیر ۳؍۴۸ح۱۱۸۱و صحیح ابن حبان، الاحسان طبعہ جدیدہ ۱؍۱۶۱و عام کتب اسماء الرجال)

اگر کوئی کہے کہ حافظ ذہبی نے یہ لکھا ہے کہ اعمش کی ابو صالح سے معنعن روایت سماع پر محمول ہے۔(دیکھئے میزان الاعتدال ۲؍۲۲۴)تو عرض ہے کہ یہ قول صحیح نہیں ہے۔ امام احمد نے اعمش کی ابو صالح سے (معنعن) روایت پر جرح کی ہے۔ دیکھئے سنن الترمذی (۲۰۷بتحقیقی)

اس مسئلے میں ہمارے شیخ ابو القاسم محب اللہ شاہ الراشدی رحمہ اللہ کو بھی وہم ہوا تھا۔ صحیح یہی ہے کہ اعمش طبقہ ثالثہ کے مدلس ہیں اور غیر صحیحین میں اُن کی معنعن روایات ، عدمِ تصریح و عدمِ متابعت کی صورت میں ، ضعیف ہیں، لہذا ابو الشیخ والی یہ سند بھی ضعیف و مردود ہے۔
یہ روایت‘‘من صلی علی عند قبری سمعتہ’’ اس صحیح حدیث کے خلاف ہے جس میں آیا ہے کہ:
‘‘إن للہ فی الارض ملائکۃ سیاحین یبلغونی من أمتی السلام’’ بے شک زمین میں اللہ ے فرشتے سیر کرتے رہتے ہیں۔ وہ مجھے میری امت کی طرف سے سلام پہنچاتے ہیں۔(کتاب فضل الصلوۃ علی النبی ﷺ للإمام إسماعیل بن إسحاق القاضی: ۲۱ و سندہ صحیح ، والنسائی ۳؍۴۳ح ۱۲۸۳، الثوری صرح بالسماع)
 
اس حدیث کو ابن حبان(موارد:۲۳۹۲)و ابن القیم (جلاء الافہام ص ۶۰) و غیر ہما نےصحیح قرار دیا ہے۔
 
خلاصۃ التحقیق: اس ساری تحقیق کا یہ  خلاصہ ہے کہ نبی کریم ﷺ فوت ہو گئے  ہیں، وفات کے بعد آپ جنت میں زندہ ہیں۔ آپ کی یہ زندگی اُخروی ہے جسے برزخی زندگی بھی کہا جاتا ہے ۔ یہ زندگی دنیاوی زندگی نہیں ہے۔

Share this post


Link to post
Share on other sites
10 hours ago, Ahlehadees said:
الحمد للہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی رسولہ الأمین، أما بعد:

Yar mazrat k sath 1 baat kahon ga.
Kahan se uth k agaye ho..??
Koi baat karny ka tareeka , Asool wagyra bhi maloom hain k Nahi..
Apny logon k likhy gaye article copy paste karny se apny bara koi teer mar liya hy..
Yar hazaar dafa pocha ja chuka k chand alfaaz mein Apna Moqaf waziya karo..
1-Hayaat nahi manty ho, ?
2-Agar Hayaat chahy barzakhi hi manty ho toh mout wali Ahadees kun bar bar copy_paste kiye ja rahy ho..?
3-aur Qabar aur Jannat wala masla bhi clear kardo..
Umeed karon ga k ab ap copy-paste ki bajaye point to point jawab dain gy..

 

8 hours ago, M Afzal Razvi said:

ان ادلہ قطعیہ کے مقابلے میں فرقہ دیوبندیہ کے بانی محمد قاسم نانوتوی(متوفی ۱۲۹۷ھ) لکھتے ہیں کہ:‘‘ارواح انبیاء کرام علیہم السلام کا اخراج نہیں ہوتا فقط مثل نور چراغ اطراف و جوانب سے قبض کر لیتے ہیں یعنی سمیٹ لیتے ہیں اور سوا اُن کے اوروں کی ارواح کو خارج کر دیتے ہیں۔۔۔’’ (جمال قاسمی ص ۱۵)

تنبیہ: میر محمد کتب خانہ باغ کراچی کے مطبوعہ رسالے‘‘جمال قاسمی’’ میں غلطی سے ‘‘ارواح’’ کی بجائے‘‘ازواج’’ چھپ گیاہے۔ اس غلطی کی اصلاح کے لئے دیکھئے سرفراز خان صفدر دیوبندی کی کتاب‘‘تسکین الصدور’’ (ص ۲۱۶)محمد حسین نیلوی مماتی دیوبندی کی کتاب‘‘ندائے حق’’ (ج ۱ص۵۷۲و ص ۶۳۵)

نانو توی صاحب مزید لکھتے ہیں کہ:‘‘رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات دنیوی علی الاتصال ابتک برابر مستمر ہے اس میں انقطاع یا تبدل و تغیر جیسے حیات دنیوی کا حیات برزخی ہو جانا واقع نہیں ہوا’’ (آبِ حیات ص ۲۷)

‘‘انبیاء بدستور زندہ ہیں’’ (آب حیات ص ۳۶)

نانوتوی صاحب کے اس خود ساختہ نظرےے کے بارے میں نیلوی دیوبندی صاحب لکھتے ہیں کہ :‘‘لیکن حضرت نانوتوی کا یہ نظریہ صریح خلاف ہے اس حدیث کے جو امام احمد بن حنبل نے اپنی مسند میں نقل فرمایا ہے۔۔’’ (ندائے حق جلد اول ص۶۳۶)

نیلوی صاحب مزید لکھتے ہیں کہ :‘‘مگر انبیاء کرام علیہم السلام کے حق میں مولانا نانوتوی قرآن و حدیث کی نصوص و اشارات کے خلاف جمال قاسمی ص ۱۵میں فرماتے ہیں :ارواح انبیاء کرام علیہم السلام کا اخراج نہیں ہوتا’’ (ندائے حق جلد اول ص ۷۲۱)

Apny Deoband bhaiyon k hawaly hmain kun dikha rahy ho..?
tum logon ka Apas ka masla hy khud Hal karo isy..
Wohi na Ankh band kar k bas copy paste kardi hy

Edited by Sag-e-Attar
برائے کرم، پوری پوسٹ کو کوٹ نہ کیا کریں۔ صرف پہلی لائن یا خاص حصے کے علاوہ باقی کوٹ ڈیلیٹ کر دیا کریں۔
1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites
4 hours ago, Ahlehadees said:
اول:        اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ دنیا کی زندگی گزار کر فوت ہو گئے ہیں۔

ارشاد باری تعالی ہے کہ: اِنَّکَ مَیِّت‘’ وَ اِنَّھُمْ مَّیِّتُوْنَبے شک تم وفات پانے والے ہو اور یہ لوگ بھی مرنے والے ہیں۔(الزمر:۳۰)

سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:‘‘ ألامن کان یعبد محمدا فإن محمدا ﷺ قدمات’ الخ سن لو! جو شخص (سیدنا) محمد  (ﷺ) کی عبادت کرتا تھا تو بے شک محمد ﷺ فوت ہو گئے ہیں۔ (صحیح البخاری: ۳۶۶۸)

اس موقع پر سیدنا ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ نے ‘وما محمد إلا رسول قد خلت من قبلہ الرسل’’ الخ[آل عمران: ۱۴۴] والی آیت تلاوت فرمائی تھی۔ ان سے یہ آیت سن کر (تمام) صحابہ کرام نے یہ آیت پڑھنی شروع کر دی۔(البخاری: ۱۲۴۱ ، ۱۲۴۲)سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اسے تسلیم کر لیا۔ دیکھئے صحیح البخاری (۴۴۵۴)

معلوم ہوا کہ اس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کا اجماع ہے کہ نبی ﷺ فوت ہو گئے ہیں۔

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:

‘‘مات النبیﷺ’’الخ                    نبی ﷺ فوت ہو گئے(صحیح البخاری: ۴۴۴۶)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ نے فرمایا:    ‘ما من نبی یمرض  إلا خیر بین الدنیا والآخرۃ’’جو نبی بھی بیمار ہوتا ہے تو اسے دنیا اور آخرت کے درمیان اختیار دیا جاتا ہے۔ (صحیح البخاری ۴۵۸۶، صحیح مسلم: ۲۴۴۴)

آپ ﷺ نے دنیا کے بدلے آخرت کو اختیار کر لیا۔ یعنی آپ ﷺ کی وفات کے بعد آپ کی زندگی اُخروی زندگی ہے جسے بعض علماء برزخی زندگی بھی کہتے ہیں۔

ایک روایت میں ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:‘‘کنت أسمع أنہ لایموت نبی حتی یخیر بین الدنیا والآخرۃ’’میں (آپ ﷺ سے) سنتی تھی کہ کوئی نبی بھی وفات نہیں پاتا یہاں تک کہ اسے دنیا اور آخرت کے درمیان اختیار دے دیا جاتا ہے ۔(البخاری:۴۴۳۵و مسلم:۲۴۴۴)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہی فرماتی ہیں کہ:‘‘فجمع اللہ بین ریقی و ریقہ فی آخر یوم من الدنیا و أول یوم من الآخرۃ’’پس اللہ تعالیٰ نے آپ (ﷺ) کے دنیا کے آخری دن اور آخرت کے پہلے دن میرے اور آپ کے لعاب دہن کو (مسواک کے ذریعے) جمع(اکٹھا) کر دیا۔(صحیح البخاری:۴۴۵۱)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک دوسری روایت میں ہے کہ: ‘‘لقد مات رسول اللہ ﷺ’’ الخیقیناً رسول اللہ ﷺ فوت ہو گئے۔(صحیح مسلم:۲۹؍۲۹۷۴و ترقیم دارالسلام:۷۴۵۳)

ان کے علاوہ اور بھی بہت سے دلائل ہیں۔ ان صحیح و متواتر دلائل سے معلوم ہوا کہ سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ ، فداہ ابی و امی و روحی، فوت ہو گئے ہیں۔

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اپنی نمازکے بارے میں فرماتے تھے کہ :‘‘إن کانت ھذہ لصلاتہ حتی فارق الدنیا’ آپ (ﷺ) کی یہی نماز تھی حتی کہ آپ (ﷺ) دنیا سے چلے گئے۔(صحیح البخاری :۸۰۳)

ایک دوسری روایت میں ہے کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ کے بارے میں فرمایا: ‘‘حتی فارق الدنیا’’ حتی کہ آپ (ﷺ) دنیا سے  چلے گئے۔ (صحیح مسلم:۳۳؍۲۹۷۶و دارالسلام:۷۴۵۸)

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی فرماتے ہیں کہ :‘خرج رسول اللہ من الدنیا’’ الخرسول اللہ ﷺ دنیا سے چلے گئے ۔(صحیح البخاری:۵۴۱۴)

چلو کوئی ایسا بندہ تو آیا جو خود کو قصہ کہانی فروش یعنی اہلحدیث کہلوا رہا ہے،۔، مجھے یقین ہے کہ یہ خود کو ’’ومن الناس میں یشتری لھو الحدیث لیضل عن سبیل اللہ‘‘ والی الحدیث کا اہل ثابت کروا کے جائے گا۔،۔ بس اتنا سا بتا دو کہ وفات کا شرعی معنی ہے کیا؟؟ جب محض قرآن و سنت کی اتباع کا دعوی ہے تو غیر معصوم لوگوں کے اقوال مت لانا پلیز

4 hours ago, Ahlehadees said:

ان ادلہ قطعیہ کے مقابلے میں فرقہ دیوبندیہ کے بانی محمد قاسم نانوتوی(متوفی ۱۲۹۷ھ) لکھتے ہیں کہ:‘‘ارواح انبیاء کرام علیہم السلام کا اخراج نہیں ہوتا فقط مثل نور چراغ اطراف و جوانب سے قبض کر لیتے ہیں یعنی سمیٹ لیتے ہیں اور سوا اُن کے اوروں کی ارواح کو خارج کر دیتے ہیں۔۔۔’’ (جمال قاسمی ص ۱۵)

تنبیہ: میر محمد کتب خانہ باغ کراچی کے مطبوعہ رسالے‘‘جمال قاسمی’’ میں غلطی سے ‘‘ارواح’’ کی بجائے‘‘ازواج’’ چھپ گیاہے۔ اس غلطی کی اصلاح کے لئے دیکھئے سرفراز خان صفدر دیوبندی کی کتاب‘‘تسکین الصدور’’ (ص ۲۱۶)محمد حسین نیلوی مماتی دیوبندی کی کتاب‘‘ندائے حق’’ (ج ۱ص۵۷۲و ص ۶۳۵)

نانو توی صاحب مزید لکھتے ہیں کہ:‘‘رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات دنیوی علی الاتصال ابتک برابر مستمر ہے اس میں انقطاع یا تبدل و تغیر جیسے حیات دنیوی کا حیات برزخی ہو جانا واقع نہیں ہوا’’ (آبِ حیات ص ۲۷)

‘‘انبیاء بدستور زندہ ہیں’’ (آب حیات ص ۳۶)

نانوتوی صاحب کے اس خود ساختہ نظرےے کے بارے میں نیلوی دیوبندی صاحب لکھتے ہیں کہ :‘‘لیکن حضرت نانوتوی کا یہ نظریہ صریح خلاف ہے اس حدیث کے جو امام احمد بن حنبل نے اپنی مسند میں نقل فرمایا ہے۔۔’’ (ندائے حق جلد اول ص۶۳۶)

نیلوی صاحب مزید لکھتے ہیں کہ :‘‘مگر انبیاء کرام علیہم السلام کے حق میں مولانا نانوتوی قرآن و حدیث کی نصوص و اشارات کے خلاف جمال قاسمی ص ۱۵میں فرماتے ہیں :ارواح انبیاء کرام علیہم السلام کا اخراج نہیں ہوتا’’ (ندائے حق جلد اول ص ۷۲۱)

لطیفہ: نانوتوی صاحب کی عبارات مذکورہ پر تبصرہ کرتے ہوئے محمد عباس بریلوی لکھتا ہے کہ:‘‘ اور اس کے برعکس امام اہلِ سنت مجدد دین و ملت مولانا الشاہ احمد رضا خان صاحب وفات (آنی) ماننے کے باوجود قابلِ گردن زنی ہیں’’ (واللہ آپ زندی ہیں ص ۱۲۴)

یعنی بقولِ رضوی بریلوی ، احمد رضا خان بریلوی کا وفات النبی ﷺ کے بارے میں وہ عقیدہ نہیں جو محمد قاسم نانوتوی کا ہے۔

جب بندے کو پتہ ہی نہ ہو کہ بات کس سے کرنی ہے اور کیا کرنی ہے تو ایسا ہی ہوتا ہے۔،۔، چلو بیٹھے بٹھائے تفریح کا سامان ہو گیا

4 hours ago, Ahlehadees said:

دوم:        اس میں کوئی شک نہیں کہ وفات کے بعد، نبی کریم ﷺ جنت میں زندہ ہیں۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کی بیان کردہ حدیث میں آیا ہے کہ فرشتوں (جبریل و میکائیل علیہما السلام) نے نبی کریم ﷺ سے فرمایا:‘‘إنہ بقی لک عمر لم تستکملہ، فلو  استکملت أتیت منزلک’’بے شک آپ کی عمر باقی ہے جسے آپ نے (ابھی تک) پورا نہیں کیا۔ جب آپ یہ عمر پوری کر لیں گے تو اپنے (جنتی) محل میں آ جائیں گے۔(صحیح البخاری۱؍۱۸۵ح۱۳۸۶)

معلوم ہوا کہ آپ ﷺ دنیا کی عمر گزار کر جنت میں اپنے محل میں پہنچ گئے ہیں۔ شہداء کرام کے بارے میں پیارے رسول  ﷺ فرماتے ہیں کہ:‘‘أرواحھم فی جوف طیر خضر، لھا قنادیل معلقہ بالعرش، تسرح من الجنۃ حیث شاءت، ثم تأوی إلی تلک القنادیل’’ان کی روحیں سبز  پرندوں کے پیٹ میں ہوتی ہیں، ان کے لئے عرش کے نیچے قندیلیں لٹکی ہوئی ہیں۔ وہ (روحیں) جنت میں جہاں چاہتی ہیں سیر کرتی ہیں پھر واپس ان قندیلوں میں پہنچ جاتی ہیں۔ (صحیح مسلم : ۱۲۱؍۱۸۸۷ودار السلام:۴۸۸۵)

جب شہداء کرام کی روحیں جنت میں ہیں تو انبیاء کرام ان سے بدرجہ ہا اعلیٰ جنت کے اعلیٰ و افضل ترین مقامات و محلاتمیں ہیںشہداء کی یہ حیات جنتی، اُخروی و برزخی ہے، اسی طرح انبیاء کرام کی یہ حیات جنتی، اُخروی و برزخی ہے۔

ہمارے دعوی کی نفی کیسے سمجھ آئی آپکو ان سے؟؟،۔،، قیاس بھی کرنے لگے ہیں اب اہلحدیث اور اب اول من قاس کا سبق بھلا دیا؟۔،۔،۔،۔،۔

4 hours ago, Ahlehadees said:

حافظ ذہبی(متوفی ۷۴۸ھ) لکھتے ہیں کہ:‘‘ وھو حی فی لحدہ حیاۃ مثلہ فی البرزخ’ اور آپ (ﷺ) اپنی قبر میں برزخی طور پر زندہ ہیں۔(سیر اعلام النبلاء۹/۱۶۱)

پھر آگے وہ یہ فلسفہ لکھتے ہیں کہ یہ زندگی نہ تو ہر لحاظ سے دنیاوی ہے اور نہ ہر لحاظ سے جنتی ہے بلکہ اصحاب کہف کی زندگی سے مشابہ ہے۔(ایضاً ص۱۶۱)
 
حالانکہ اصحابِ کہف دنیاوی زندہ تھے جبکہ نبی کریم ﷺ پر بہ اعتراف حافظ ذہبی وفات آچکی ہے لہذا صحیح یہی ہے کہ  آپ ﷺ کی زندگی ہر لحاظ سے جنتی زندگی ہے۔ یاد رہے کہ حافظ ذہبی بصراحت خود آپ ﷺ کے لئے دنیاوی زندگی کے  عقیدے کے مخالف ہیں۔

حافظ ابن حجر العسقلانی لکھتے ہیں:‘‘لأنہ بعد موتہ و إن کان حیا فھی حیاۃ اخرویۃ لا تشبہ الحیاۃ الدنیا، واللہ اعلم’’بے شک آپ ﷺ اپنی وفات کے بعد اگرچہ زندہ ہیں لیکن یہ اخروی زندگی ہے دنیاوی زندگی کے مشابہ نہیں ہے، واللہ اعلم(فتح الباری ج۷ص۳۴۹تحت ح۴۰۴۲)

معلوم ہوا کہ نبی کریم ﷺ زندہ ہیں لیکن آپ کی زندگی اُخروی و برزخی ہے، دنیا وی نہیں ہے۔

ہم تو حیات دنیوی برزخی اخروی سب مانتے ہیں بلکہ تمام عالمین کے مناسب حیات، تمہارے ان حوالوں سے تو ہمارا پوائنٹ مزید قوی ہوگیا۔،۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ’’اہل حدیث کے دو اصول۔قرآن و حدیث‘‘ والے اب غیر معصوم لوگوں کے اقوال پیش کرنے پر اتر آئے

4 hours ago, Ahlehadees said:
سوئم:       بعض لوگ کہتے ہیں کہ  نبی کریم ﷺ، اپنی قبر مبارک پر لوگوں کا پڑھا ہوا درود بنفسِ نفیس سنتے ہیں اور بطور ِ دلیل‘‘ من صلی علی عند قبری سمعتہ’’ والی روایت پیش کرتے ہیں۔ عرض ہے کہ یہ روایت ضعیف و مردود ہے۔ اس کی دو سندیں بیان کی جاتی ہیں۔ 

اول:     محمد بن مروان السدی عن الأعمش عن أبی صالح عن أبی ھریرۃ۔۔۔إلخ(الضعفاء للعقیلی  ۴؍۱۳۶ ، ۱۳۷ وقال : لا اصل لہ من حدیث اعمش و لیس بمحفوظ الخ و تاریخ۳؍۲۹۲ت۳۷۷و کتاب الموضوعات لا بن الجوزی ۱؍۳۰۳ وقال : ھذا حدیث لا یصح الخ)

اس کا راوی محمد بن مروان السدی: متروک الحدیث(یعنی سخت مجروح) ہے۔ (کتاب الضعفاء للنسائی: ۵۳۸) اس پر شدید جروح کے لئے دیکھئے امام بخاری کی کتاب الضعفاء (۳۵۰) مع تحقیقی : تحفۃ الاقویاء (ص۱۰۲) و کتب اسماء الرجال۔حافظ ابن القیم نے اس روایت کی ایک اور سند بھی دریافت کر لی ہے۔ ‘‘عبدالرحمن بن احمد الاعرج: حد ثنا الحسن بن الصباح: حد ثنا ابو معاویۃ: حد ثنا الاعمش عن ابی صالح عن ابی ہریرہ’’ الخ(جلاء الافھام ص ۵۴بحوالہ کتاب الصلوۃ علی النبی ﷺ لابی الشیخ الاصبہانی)

اس کا راوی عبدالرحمن بن احمد الاعرج غیر موثق (یعنی مجہول الحال) ہے۔ سلیمان بن مہران الاعمش مدلس ہیں۔(طبقات المدلسین:۵۵؍۲والتلخیصالحبیر ۳؍۴۸ح۱۱۸۱و صحیح ابن حبان، الاحسان طبعہ جدیدہ ۱؍۱۶۱و عام کتب اسماء الرجال)

اگر کوئی کہے کہ حافظ ذہبی نے یہ لکھا ہے کہ اعمش کی ابو صالح سے معنعن روایت سماع پر محمول ہے۔(دیکھئے میزان الاعتدال ۲؍۲۲۴)تو عرض ہے کہ یہ قول صحیح نہیں ہے۔ امام احمد نے اعمش کی ابو صالح سے (معنعن) روایت پر جرح کی ہے۔ دیکھئے سنن الترمذی (۲۰۷بتحقیقی)

اس مسئلے میں ہمارے شیخ ابو القاسم محب اللہ شاہ الراشدی رحمہ اللہ کو بھی وہم ہوا تھا۔ صحیح یہی ہے کہ اعمش طبقہ ثالثہ کے مدلس ہیں اور غیر صحیحین میں اُن کی معنعن روایات ، عدمِ تصریح و عدمِ متابعت کی صورت میں ، ضعیف ہیں، لہذا ابو الشیخ والی یہ سند بھی ضعیف و مردود ہے۔
یہ روایت‘‘من صلی علی عند قبری سمعتہ’’ اس صحیح حدیث کے خلاف ہے جس میں آیا ہے کہ:
‘‘إن للہ فی الارض ملائکۃ سیاحین یبلغونی من أمتی السلام’’ بے شک زمین میں اللہ ے فرشتے سیر کرتے رہتے ہیں۔ وہ مجھے میری امت کی طرف سے سلام پہنچاتے ہیں۔(کتاب فضل الصلوۃ علی النبی ﷺ للإمام إسماعیل بن إسحاق القاضی: ۲۱ و سندہ صحیح ، والنسائی ۳؍۴۳ح ۱۲۸۳، الثوری صرح بالسماع)
 
اس حدیث کو ابن حبان(موارد:۲۳۹۲)و ابن القیم (جلاء الافہام ص ۶۰) و غیر ہما نےصحیح قرار دیا ہے

واقعی یہ بندہ اہل حدیث ہی ہوا۔،۔، عقل چیک کرو اسکی، ایک تو غیرمتعلقہ ٹاپک میں اور دوسرا ایک پورا ایسا فن جسکا قرون ثلثہ میں ثبوت نہیں، سے دلیل پکڑ رہا۔،۔،۔ اہلحدیث کے صرف دو اصول کا سبق بھی یاد نہیں رہا۔،۔،۔ ائمہ کی تقلید کو شرک کہنے والا خود ائمہ کے اقوال کو حجت بنا رہا، کمال ہی کمال ۔،۔،۔ کسی امام نے اگر کسی شخص کو ضعیف یا مجہول کہہ دیا تو وہ لوگ بھی اسے حق ماننے لگ گئے جن کے ہاں قول صحابی تک حجت نہیں۔،۔،۔ الگ سے ٹاپک بناو اہلحدیث جی اسکے لیے، ویسے آپکی قصے کہانیوں ناولوں کی دکان یہاں نہیں چلنے والی

2 hours ago, M Afzal Razvi said:

خلاصۃ التحقیق: اس ساری تحقیق کا یہ  خلاصہ ہے کہ نبی کریم ﷺ فوت ہو گئے  ہیں، وفات کے بعد آپ جنت میں زندہ ہیں۔ آپ کی یہ زندگی اُخروی ہے جسے برزخی زندگی بھی کہا جاتا ہے ۔ یہ زندگی دنیاوی زندگی نہیں ہے۔

سبحان اللہ۔،۔۔ آپ اسے تحقیق کہتے ہیں؟؟؟ تحقیق کا موضوع ہی بتا دو تو مان جائیں۔،۔، ایک بات کہیں جارہی تو دوسری اسکے بالکل اپوزیٹ۔،۔، اقول خلاصۃ التحقیق: اسلامی محفل پر @Ahlehadees صاحب نے تین گھنٹے قبل اپنے ہوش و حواس میں نہ رہتے ہوئے ایک پوسٹ کی ہے

:P:P

صرف میں ایسا نہیں کہتا، تمہارا کوئی قصہ کہانی فروش یعنی اہلحدیث بھائی بھی اسکی تصدیق کرے گا تمہاری پوسٹ دیکھ کر

1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites

اھل حدیث صاحب

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا بھی یہی عقیدہ تھا کہ

قبر مبارک میں جسم ھی درودشریف  سن سکتا ھے

اگر جسم بے حس یعنی بے جان  ہو تو درود کیسے سنے گا ؟

وھابیہ کی شائع کردہ مشکوٰۃ کی حدیث

 

m 1.jpg

m 2.jpg

mar 1.jpg

mar 2.jpg

mar 3.JPG

1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites
On 4/25/2017 at 5:29 AM, Ahlehadees said:

محترم سب سے پہلے تو یہ کہ مجھپر لگی بیکار کی پابندی ہٹائیں. 

آپ پر مناظرہ سیکشن میں کوئی پابندی نہیں ہے۔ آپ اور دیگر تمام فورم یوزرز اخلاق و تہذیب کے دائرے میں رہتے ہوئے اختلافی بحث کر سکتے ہیں۔ اگر مناظرہ سیکشن میں پوسٹنگ وغیرہ کا کوئی  بھی مسئلہ ہے تو بتا دیں، ان شاء اللہ دور کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

فورم کے دیگر سیکشنز کا تعلق اہلسنت والجماعت سے ہے اور وہاں ہم ہر کسی کو پوسٹنگ کی اجازت نہیں دیتے کہ پھر ہر بندہ اپنے عقائد کا مواد پوسٹ کرنا شروع کر دیتا ہے، یا پہلے سے پوسٹ شدہ مواد پر ریپلائی شروع کر دیتے ہیں۔ اول تو وہ بحث کے سیکشنز نہیں ہیں۔ دوم، موڈیریٹرز کے لئے اُن جوابات و بحث  والی پوسٹس کو مناظرہ سیکشن میں موو کرنے کے مسائل ہوتے ہیں۔ اسلئے آپ کو کوئی اعتراض، اختلاف ہے، آپ مناظرہ کے کسی بھی سیکشن میں پوسٹ کر سکتے ہیں۔ 

Share this post


Link to post
Share on other sites
On 4/26/2017 at 4:39 AM, kashmeerkhan said:

چلو کوئی ایسا بندہ تو آیا جو خود کو قصہ کہانی فروش یعنی اہلحدیث کہلوا رہا ہے،۔، مجھے یقین ہے کہ یہ خود کو ’’ومن الناس میں یشتری لھو الحدیث لیضل عن سبیل اللہ‘‘ والی الحدیث کا اہل ثابت کروا کے جائے گا۔،۔ بس اتنا سا بتا دو کہ وفات کا شرعی معنی ہے کیا؟؟ جب محض قرآن و سنت کی اتباع کا دعوی ہے تو غیر معصوم لوگوں کے اقوال مت لانا پلیز

جب بندے کو پتہ ہی نہ ہو کہ بات کس سے کرنی ہے اور کیا کرنی ہے تو ایسا ہی ہوتا ہے۔،۔، چلو بیٹھے بٹھائے تفریح کا سامان ہو گیا

ہمارے دعوی کی نفی کیسے سمجھ آئی آپکو ان سے؟؟،۔،، قیاس بھی کرنے لگے ہیں اب اہلحدیث اور اب اول من قاس کا سبق بھلا دیا؟۔،۔،۔،۔،۔

ہم تو حیات دنیوی برزخی اخروی سب مانتے ہیں بلکہ تمام عالمین کے مناسب حیات، تمہارے ان حوالوں سے تو ہمارا پوائنٹ مزید قوی ہوگیا۔،۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ’’اہل حدیث کے دو اصول۔قرآن و حدیث‘‘ والے اب غیر معصوم لوگوں کے اقوال پیش کرنے پر اتر آئے

واقعی یہ بندہ اہل حدیث ہی ہوا۔،۔، عقل چیک کرو اسکی، ایک تو غیرمتعلقہ ٹاپک میں اور دوسرا ایک پورا ایسا فن جسکا قرون ثلثہ میں ثبوت نہیں، سے دلیل پکڑ رہا۔،۔،۔ اہلحدیث کے صرف دو اصول کا سبق بھی یاد نہیں رہا۔،۔،۔ ائمہ کی تقلید کو شرک کہنے والا خود ائمہ کے اقوال کو حجت بنا رہا، کمال ہی کمال ۔،۔،۔ کسی امام نے اگر کسی شخص کو ضعیف یا مجہول کہہ دیا تو وہ لوگ بھی اسے حق ماننے لگ گئے جن کے ہاں قول صحابی تک حجت نہیں۔،۔،۔ الگ سے ٹاپک بناو اہلحدیث جی اسکے لیے، ویسے آپکی قصے کہانیوں ناولوں کی دکان یہاں نہیں چلنے والی

سبحان اللہ۔،۔۔ آپ اسے تحقیق کہتے ہیں؟؟؟ تحقیق کا موضوع ہی بتا دو تو مان جائیں۔،۔، ایک بات کہیں جارہی تو دوسری اسکے بالکل اپوزیٹ۔،۔، اقول خلاصۃ التحقیق: اسلامی محفل پر @Ahlehadees صاحب نے تین گھنٹے قبل اپنے ہوش و حواس میں نہ رہتے ہوئے ایک پوسٹ کی ہے

:P:P

صرف میں ایسا نہیں کہتا، تمہارا کوئی قصہ کہانی فروش یعنی اہلحدیث بھائی بھی اسکی تصدیق کرے گا تمہاری پوسٹ دیکھ کر

بہت افسوس ہوا. ایک بھی بات جو صحیح کہی ہو. سواۓ استہزاء کے کچھ نہیں آتا. اسی لئے میں پہلے بھی کئی دن تک آفلائن تھا. ہو سکتا ہے آپ اسکا بھی غلط مطلب نکالیں. 

میں یہاں کوئی مناظرہ کرنے نہیں آیا. میں یہاں پورے فورم سے فائدہ اٹھانے آیا ہوں. کہیں پر بھی کمنٹ کر سکتا ہوں. براہ کرم مجھ پر سے پابندی ہٹائیں. ورنہ پوری طرح سے لگا دیں. اب اگر کوئی استہزاء یا جہالت بھرا ہوا کمنٹ کیا تو میں اسکو نظر انداز کروں گا.

On 4/26/2017 at 6:42 AM, Khalil Rana said:

اھل حدیث صاحب

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا بھی یہی عقیدہ تھا کہ

قبر مبارک میں جسم ھی درودشریف  سن سکتا ھے

اگر جسم بے حس یعنی بے جان  ہو تو درود کیسے سنے گا ؟

وھابیہ کی شائع کردہ مشکوٰۃ کی حدیث

 

m 1.jpg

m 2.jpg

mar 1.jpg

mar 2.jpg

mar 3.JPG

جناب رانا صاحب! 

صحابہ کا عقیدہ یہ دیکھ لیں:

حدثنا بشر بن محمد، ‏‏‏‏‏‏اخبرنا عبد الله،‏‏‏‏ قال:‏‏‏‏ اخبرني معمرويونس،‏‏‏‏ عن الزهري،‏‏‏‏ قال:‏‏‏‏ اخبرني ابو سلمة، ‏‏‏‏‏‏ان عائشة رضي  الله عنها زوج النبي صلى الله عليه وسلم اخبرته، ‏‏‏‏‏‏قالت:‏‏‏‏ "اقبل ابو بكر رضي الله عنه على فرسه من مسكنه بالسنح  حتى نزل فدخل المسجد فلم يكلم الناس، ‏‏‏‏‏‏حتى نزل فدخل على عائشة رضي الله عنها فتيمم النبي صلى الله عليه وسلم وهو مسجى ببرد حبرة، ‏‏‏‏‏‏فكشف عن وجهه ثم اكب عليه فقبله، ‏‏‏‏‏‏ثم بكى،‏‏‏‏ فقال:‏‏‏‏ بابي انت يا نبي الله، ‏‏‏‏‏‏لا يجمع الله عليك موتتين، ‏‏‏‏‏‏اما الموتة التي كتبت عليك فقد متها، ‏‏‏‏‏‏قال ابو سلمة:‏‏‏‏ فاخبرني ابن عباس رضي الله عنهما، ‏‏‏‏‏‏ان ابا بكر رضي الله عنه خرج وعمر رضي الله عنه يكلم الناس،‏‏‏‏ فقال:‏‏‏‏  اجلس فابى، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ اجلس فابى، ‏‏‏‏‏‏فتشهد ابو بكر رضي الله عنه فمال إليه الناس وتركوا عمر، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏  اما بعد، ‏‏‏‏‏‏فمن كان منكم يعبد محمدا صلى الله عليه وسلم فإن محمدا صلى الله عليه وسلم قد مات، ‏‏‏‏‏‏ومن كان يعبد الله فإن الله حي لا يموت، ‏‏‏‏‏‏قال الله تعالى:‏‏‏‏ وما محمد إلا رسول إلى الشاكرين سورة آل عمران آية 144 والله لكان الناس لم يكونوا يعلمون ان الله انزل الآية حتى تلاها ابو بكر رضي الله عنه فتلقاها منه الناس، ‏‏‏‏‏‏فما يسمع بشر إلا يتلوها.
ہم سے بشر بن محمد نے بیان کیا، انہیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا کہ مجھے معمر بن راشد اور یونس نے خبر دی، انہیں زہری نے، کہا کہ مجھے ابوسلمہ نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ (جب نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی) ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے  گھر سے جو سنح میں تھا گھوڑے پر سوار ہو کر آئے اور اترتے ہی مسجد میں تشریف لے گئے۔ پھر آپ کسی سے گفتگو کئے بغیر عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ میں آئے (جہاں نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلمکی نعش مبارک رکھی ہوئی تھی) اور نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم کی طرف گئے۔ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کو برد حبرہ (یمن کی بنی ہوئی دھاری دار چادر) سے ڈھانک دیا گیا تھا۔ پھر آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کا چہرہ مبارک کھولا  اور جھک کر اس کا بوسہ لیا اور رونے لگے۔ آپ نے کہا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں اے اللہ کے نبی! اللہ تعالیٰ دو موتیں آپ پر کبھی جمع نہیں کرے گا۔ سوا ایک موت کے جو آپ کے مقدر میں تھی سو آپ وفات پا چکے۔ ابوسلمہ نے کہا کہ مجھے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ جب باہر تشریف لائے تو عمر رضی اللہ عنہ اس وقت لوگوں سے کچھ باتیں کر رہے تھے۔ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ بیٹھ جاؤ۔ لیکن عمر رضی اللہ عنہ نہیں مانے۔ پھر دوبارہ آپ نے بیٹھنے کے لیے کہا۔ لیکن عمر رضی اللہ عنہ نہیں مانے۔ آخر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کلمہ شہادت پڑھا تو تمام مجمع آپ کی طرف متوجہ ہو گیا اور عمر رضی اللہ عنہ کو چھوڑ دیا۔ آپ نے فرمایا امابعد! اگر کوئی شخص تم میں سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم  کی عبادت کرتا تھا تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ محمد  صلی اللہ علیہ وسلم  کی وفات ہو چکی اور اگر کوئی اللہ تعالیٰ کی  عبادت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ باقی رہنے والا ہے۔ کبھی وہ مرنے والا نہیں۔ اللہ پاک نے فرمایا ہے اور محمد صرف اللہ کے رسول ہیں اور بہت سے رسول اس سے پہلے بھی گزر چکے ہیں «الشاكرين» تک (آپ نے آیت تلاوت کی) قسم اللہ کی ایسا معلوم ہوا کہ  ابوبکر رضی اللہ عنہ کے آیت کی تلاوت سے پہلے جیسے لوگوں کو معلوم ہی نہ تھا کہ یہ آیت بھی اللہ پاک نے قرآن مجید میں اتاری ہے۔ اب تمام صحابہ نے یہ آیت آپ سے سیکھ لی پھر تو ہر شخص کی زبان پر یہی آیت تھی۔
(بخارى)

ایک بات اور جناب رانا صاحب. یہ اسکینز وغیرہ میرے سامنے بالکل نہ لگایا کریں. بس جو دلیل ہو وہ کوٹ کر دیا کریں. 

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

محترم کیا آپ بتانا پسند فرمائیں گے کہ آپ پر کون سی پابندی لگی ہوئی ہے؟؟

آپ نے جو حدیث شریف پیش کی ہے اس سے آپ کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟؟وفات شریف کا کس نے انکار کیا؟؟

1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites

 مسند ابی یعلی کی صحیح حدیث ہے کہ انبیا کرام اپنی قبور میں زندہ ہیں اور نمازیں پڑہتے ہیںَ

musnad abi yala.jpg

امام بیہقی نے اپنی کتاب میں اس حدیث کو ابو یعلی کہ حوالے سے نقل کر کے اسکی سند کو صحیح کہا۔

bayhaqi.jpg

امام حجر اسقلانی نے ٖفتح الباری شرح صحیح بخاری میں اس حدیث کو نقل کرنے سے پہلے اسکی سند کو صحیح قرار دیا

fath ul bari sharh sahih ul bukhari by imam al hafidh ibn hajr al asqalani  published by qadimi kutab khana karachi pakistan (2).jpg

 

بہت ڈھونڈنے کو باوجود وہابیوں کے محدث شیخ البانی کو بھی اس حدیث کے راویوں میں سے کوئی ضعیف نا ملا تو اسکو بھی اس حدیث کو اپنی کتاب سلسلہ الا حادیث الصحیہ میں لکھنا پڑا۔

al-albani in silsilat al-ahadith al-sahihah publish al-marif lin-nashr riyadh saudia.jpg

صحیح مسلم کی یہ حدیث بھی ابو یعلی کی حدیث کو تقویت دیتی ہیں۔ نام نہاد اھل حدیث سے سوال ہے کہ نماز پڑہنا صرف روح کا کام ہے یا جسم اور روح دونوں کا کام ہے؟

Sahih Muslim on hayatul anbiya3.jpg

 

وہابیوں کے شیخ الاسلام زبیر علی زعی کے استاد حیات نبی کےمسلے پر اقرار کرتے ہوئے۔۔۔۔ ابو دود کی حدیث پر اپنا موقف لکھتے ہیں۔۔

16729400_1543227069045105_7273759545534132679_n.jpg

 

On 4/27/2017 at 0:16 PM, Ahlehadees said:

بہت افسوس ہوا. ایک بھی بات جو صحیح کہی ہو. سواۓ استہزاء کے کچھ نہیں آتا. اسی لئے میں پہلے بھی کئی دن تک آفلائن تھا. ہو سکتا ہے آپ اسکا بھی غلط مطلب نکالیں. 

میں یہاں کوئی مناظرہ کرنے نہیں آیا. میں یہاں پورے فورم سے فائدہ اٹھانے آیا ہوں. کہیں پر بھی کمنٹ کر سکتا ہوں. براہ کرم مجھ پر سے پابندی ہٹائیں. ورنہ پوری طرح سے لگا دیں. اب اگر کوئی استہزاء یا جہالت بھرا ہوا کمنٹ کیا تو میں اسکو نظر انداز کروں گا.

جناب رانا صاحب! 

صحابہ کا عقیدہ یہ دیکھ لیں:

حدثنا بشر بن محمد، ‏‏‏‏‏‏اخبرنا عبد الله،‏‏‏‏ قال:‏‏‏‏ اخبرني معمرويونس،‏‏‏‏ عن الزهري،‏‏‏‏ قال:‏‏‏‏ اخبرني ابو سلمة، ‏‏‏‏‏‏ان عائشة رضي  الله عنها زوج النبي صلى الله عليه وسلم اخبرته، ‏‏‏‏‏‏قالت:‏‏‏‏ "اقبل ابو بكر رضي الله عنه على فرسه من مسكنه بالسنح  حتى نزل فدخل المسجد فلم يكلم الناس، ‏‏‏‏‏‏حتى نزل فدخل على عائشة رضي الله عنها فتيمم النبي صلى الله عليه وسلم وهو مسجى ببرد حبرة، ‏‏‏‏‏‏فكشف عن وجهه ثم اكب عليه فقبله، ‏‏‏‏‏‏ثم بكى،‏‏‏‏ فقال:‏‏‏‏ بابي انت يا نبي الله، ‏‏‏‏‏‏لا يجمع الله عليك موتتين، ‏‏‏‏‏‏اما الموتة التي كتبت عليك فقد متها، ‏‏‏‏‏‏قال ابو سلمة:‏‏‏‏ فاخبرني ابن عباس رضي الله عنهما، ‏‏‏‏‏‏ان ابا بكر رضي الله عنه خرج وعمر رضي الله عنه يكلم الناس،‏‏‏‏ فقال:‏‏‏‏  اجلس فابى، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ اجلس فابى، ‏‏‏‏‏‏فتشهد ابو بكر رضي الله عنه فمال إليه الناس وتركوا عمر، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏  اما بعد، ‏‏‏‏‏‏فمن كان منكم يعبد محمدا صلى الله عليه وسلم فإن محمدا صلى الله عليه وسلم قد مات، ‏‏‏‏‏‏ومن كان يعبد الله فإن الله حي لا يموت، ‏‏‏‏‏‏قال الله تعالى:‏‏‏‏ وما محمد إلا رسول إلى الشاكرين سورة آل عمران آية 144 والله لكان الناس لم يكونوا يعلمون ان الله انزل الآية حتى تلاها ابو بكر رضي الله عنه فتلقاها منه الناس، ‏‏‏‏‏‏فما يسمع بشر إلا يتلوها.
ہم سے بشر بن محمد نے بیان کیا، انہیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا کہ مجھے معمر بن راشد اور یونس نے خبر دی، انہیں زہری نے، کہا کہ مجھے ابوسلمہ نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ (جب نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی) ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے  گھر سے جو سنح میں تھا گھوڑے پر سوار ہو کر آئے اور اترتے ہی مسجد میں تشریف لے گئے۔ پھر آپ کسی سے گفتگو کئے بغیر عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ میں آئے (جہاں نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلمکی نعش مبارک رکھی ہوئی تھی) اور نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم کی طرف گئے۔ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کو برد حبرہ (یمن کی بنی ہوئی دھاری دار چادر) سے ڈھانک دیا گیا تھا۔ پھر آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کا چہرہ مبارک کھولا  اور جھک کر اس کا بوسہ لیا اور رونے لگے۔ آپ نے کہا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں اے اللہ کے نبی! اللہ تعالیٰ دو موتیں آپ پر کبھی جمع نہیں کرے گا۔ سوا ایک موت کے جو آپ کے مقدر میں تھی سو آپ وفات پا چکے۔ ابوسلمہ نے کہا کہ مجھے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ جب باہر تشریف لائے تو عمر رضی اللہ عنہ اس وقت لوگوں سے کچھ باتیں کر رہے تھے۔ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ بیٹھ جاؤ۔ لیکن عمر رضی اللہ عنہ نہیں مانے۔ پھر دوبارہ آپ نے بیٹھنے کے لیے کہا۔ لیکن عمر رضی اللہ عنہ نہیں مانے۔ آخر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کلمہ شہادت پڑھا تو تمام مجمع آپ کی طرف متوجہ ہو گیا اور عمر رضی اللہ عنہ کو چھوڑ دیا۔ آپ نے فرمایا امابعد! اگر کوئی شخص تم میں سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم  کی عبادت کرتا تھا تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ محمد  صلی اللہ علیہ وسلم  کی وفات ہو چکی اور اگر کوئی اللہ تعالیٰ کی  عبادت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ باقی رہنے والا ہے۔ کبھی وہ مرنے والا نہیں۔ اللہ پاک نے فرمایا ہے اور محمد صرف اللہ کے رسول ہیں اور بہت سے رسول اس سے پہلے بھی گزر چکے ہیں «الشاكرين» تک (آپ نے آیت تلاوت کی) قسم اللہ کی ایسا معلوم ہوا کہ  ابوبکر رضی اللہ عنہ کے آیت کی تلاوت سے پہلے جیسے لوگوں کو معلوم ہی نہ تھا کہ یہ آیت بھی اللہ پاک نے قرآن مجید میں اتاری ہے۔ اب تمام صحابہ نے یہ آیت آپ سے سیکھ لی پھر تو ہر شخص کی زبان پر یہی آیت تھی۔
(بخارى)

ایک بات اور جناب رانا صاحب. یہ اسکینز وغیرہ میرے سامنے بالکل نہ لگایا کریں. بس جو دلیل ہو وہ کوٹ کر دیا کریں. 

 

Sahih Bukhari Hadees # 3667
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاتَ وَأَبُو بَكْرٍ بِالسُّنْحِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ إِسْمَاعِيلُ:‏‏‏‏ يَعْنِي بِالْعَالِيَةِ،‏‏‏‏ فَقَامَ عُمَرُ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ مَا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ وَقَالَ عُمَرُ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ مَا كَانَ يَقَعُ فِي نَفْسِي إِلَّا ذَاكَ وَلَيَبْعَثَنَّهُ اللَّهُ فَلَيَقْطَعَنَّ أَيْدِيَ رِجَالٍ وَأَرْجُلَهُمْ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَكَشَفَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَبَّلَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي طِبْتَ حَيًّا وَمَيِّتًا،‏‏‏‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يُذِيقُكَ اللَّهُ الْمَوْتَتَيْنِ أَبَدًا ثُمَّ خَرَجَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ ""أَيُّهَا الْحَالِفُ عَلَى رِسْلِكَ""،‏‏‏‏ فَلَمَّا تَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ جَلَسَ عُمَرُ.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جب وفات ہوئی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ اس وقت مقام سنح میں تھے۔ اسماعیل نے کہا یعنی عوالی کے ایک گاؤں میں۔ آپ کی خبر سن کر عمر رضی اللہ عنہ اٹھ کر یہ کہنے لگے کہ اللہ کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات نہیں ہوئی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ عمر رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے اللہ کی قسم اس وقت میرے دل میں یہی خیال آتا تھا اور میں کہتا تھا کہ اللہ آپ کو ضرور اس بیماری سے اچھا کر کے اٹھائے گا اور آپ ان لوگوں کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیں گے (جو آپ کی موت کی باتیں کرتے ہیں) اتنے میں ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے اور اندر جا کر آپ کی نعش مبارک کے اوپر سے کپڑا اٹھایا اور بوسہ دیا اور کہا: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں۔ آپ زندگی میں بھی پاکیزہ تھے اور وفات کے بعد بھی اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اللہ تعالیٰ آپ پر دو مرتبہ موت ہرگز طاری نہیں کرے گا۔ اس کے بعد آپ باہر آئے اور عمر رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے، اے قسم کھانے والے! ذرا تامل کر۔ پھر جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے گفتگو شروع کی تو عمر رضی اللہ عنہ خاموش بیٹھ گئے۔
  
جناب آپکو بخاری بخاری تو آتا ہے لیکن پوری بخاری پڑھنی نہیں آتی شاید۔ اس حدیث میں ابو بکر کی یہ بات آپ لوگوں کو کیوں نظر نہیں آتی آپ مجھے ابو بکر کہ ان الفاظ کا مطلب بتا دیں کہ اللہ انﷺ پر دو مرتبہ موت ہرگز طاری نہیں کرے گا؟ 
 
2 people like this

Share this post


Link to post
Share on other sites
11 hours ago, Ahlehadees said:

اب اگر کوئی استہزاء یا جہالت بھرا ہوا کمنٹ کیا تو میں اسکو نظر انداز کروں گا

Janab Ainaa dikhaya toh Ap Bura Man gaye..
Apny Abhi tak Apna Moaqaf nahi btaya hy is bary mein..Aisa kun..?? 
Ya apko khud Maloom nahi hy..?
Janab Apny Jahan se copy_paste ki hy aur unho ne apk jis aalim ki book se copy_paste kiya howa hy..
Ap khud uski kitaab parh lo aur yahi hal hoga jo ab ap logon ka hy..
Mout Wali Ahadees aur Ayat pe zor  dyna aur phir Hayat-e-barzakhi ka iqrar bhi..
kiya Ye Khula tazaad nahi hy..??

 

11 hours ago, Ahlehadees said:

اے اللہ کے نبی! اللہ تعالیٰ دو موتیں آپ پر کبھی جمع نہیں کرے گا۔ سوا ایک موت کے جو آپ کے مقدر میں تھی سو آپ وفات پا چکے۔

Aur Janab Ham toh is Hadees ko manty hain per Apk Beshumaar Ulma Is Hadees k munkir hain khas kar is hissy k Jo maine Quote kiya hy..
 Khair Ap Siraf Copy Paste kar k Chaly jaty hain..
Isliye apko daleel dyna baikaar hy..

Share this post


Link to post
Share on other sites

ایک بھی صحیح بات لکھی ہو تو اسکا جواب بھی دیا جاۓ. صرف طنز استہزاء اور اسکے سوا کچھ نہیں. 

مجھے آپ لوگوں کی طرح گالیاں نہیں سکھائی جاتی ہیں. سو میں ان سب معاملات میں نہیں پڑتا. میرے پیسٹ کئے ہوئے دلائل کا جواب تو بن نہیں پڑا آ گئے گالی گلوچ دینے. شرم و حیا باقی ہو تو اپنے اخلاق درست کر لیں آپ سب. اسکے بعد جی بھر کر کسی سے بھی بحث کرنا. 

میں ان لوگوں کے منہ نہیں لگتا جو اپنے آپ کو عاشق رسول کہتے ہیں اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی استیزاء کرتے ہیں. انکے فرامین کو پس پشت ڈال دیتے ہیں. 

پہلے بھی بولا تھا کہ اپنے اخلاق درست کر لیں. بات کرنے کا انداز بدلیں. لیکن اسکا کیا کیا جاۓ کہ آپ سب کی پرورش ہی ایسی ہوئی ہے. صرف بریلوی حضرات کا ھی نہیں بلکہ تمام مقلدین کا یہی حال ہے. 

Share this post


Link to post
Share on other sites

جناب سے عرض کی تھی کہ آپ نشان دہی فرمائیں کہ آپ پر کون سی پابندی عائد کی گئی ہے لیکن سیدھا سا جواب دینے کی بجائے ادھر ادھر کی ہانک کر چل دیے۔۔

جناب کو کون سی بات استہزا معلوم ہوئی ہے ذرا ہمیں بھی بتلائیے محترم؟؟

آپ نے جو احادیث پیش کی ہیں ان میں وفات مبارکہ کا بیان ہے تو اس سے کس نے انکار کیا؟؟

اتنی قیاس آرائیاں اچھی نہیں صاحب،چلو مقلدین آپ کے نزدیک سب ایسے ہی سہی آپ ہی ادب کا دامن تھام کر بحث کر لیں سیدھی طرح

Share this post


Link to post
Share on other sites

اس نے میری ابو یعلی والی حدیث کے کوئی جواب نہ  دینے میں عافیت جانی. انکے مولویوں کی تحقیق انکے سامنے رکھ دینے کے بعد انکو سانپ کیوں سونگھ گیا ہو :(

1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites

                                                  دیدہ کور کو کیا آئے نظر ، کیا دیکھے


نیت صاف نہ ہو تو  کیا صاف اور صحیح نظر  آئے گا ۔  اگر صحیح  نظر نہیں آرہا تو نشاندہی تو کرو  غلطی کی تاکہ علاج کیا جائے ۔

میں نہ مانو کی عینک اتار کر اس ٹاپک کا مطالعہ کرے گے تو انشااللہ  افاقا ہو گا۔




   


 

Share this post


Link to post
Share on other sites
13 hours ago, Ahlehadees said:

ایک بھی صحیح بات لکھی ہو تو اسکا جواب بھی دیا جاۓ. صرف طنز استہزاء اور اسکے سوا کچھ نہیں. 

مجھے آپ لوگوں کی طرح گالیاں نہیں سکھائی جاتی ہیں. سو میں ان سب معاملات میں نہیں پڑتا. میرے پیسٹ کئے ہوئے دلائل کا جواب تو بن نہیں پڑا آ گئے گالی گلوچ دینے. شرم و حیا باقی ہو تو اپنے اخلاق درست کر لیں.

پہلے بھی بولا تھا کہ اپنے اخلاق درست کر لیں. بات کرنے کا انداز بدلیں. لیکن اسکا کیا کیا جاۓ کہ آپ سب کی پرورش ہی ایسی ہوئی ہے. صرف بریلوی حضرات کا ھی نہیں بلکہ تمام مقلدین کا یہی حال ہے. 

Ary janab Ghair Mazhab K Muqallid Kis ne Gali di hy apko..??
kamal hy Uper Apko Janab keh k mukhatib kiya gaya hy..Agar Ye Apk nazdeek gali hy aur Ikhlaaq bas yahi hy apko Wahabi, Najdi Keh k hi Mukhatib kiya jaye toh Ainda se ham Ikhilaaq Ka muzahra krain..

Baqi Siwaye Taqiya aur Matam k ata kuch nahi hy ap logon ko Jab Ap logon ki dukhti Rag pe paon jata hy..
Jaisa k sab k samny hi hy..


Baqi main phir kahon ga k himmat karo aur Apna Aqeeda toh apny alfaaz mein likh do..
Per Main dawy k sath kehta hon k Tumhara Aqeeda har daleel k Bad tabdeel hoga Aur Aisa Main Kafi Dafa
Isi topic pe Wahabi Hazraat k sath Munazry mein daikh chuka hun..

 

2 people like this

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!


Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.


Sign In Now

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.