Leaderboard


Popular Content

Showing most liked content since 03/10/2019 in all areas

  1. 1 like
    السلام علیکم کیا اعلیٰ حضرت رحمتہ اللہ علیہ کی تمام مطبوعہ تصنیفات کی لسٹ مل سکتی ہے؟ جزاک اللہ۔
  2. 1 like
  3. 1 like
  4. 1 like
    منتظم اعلی حضرت علامہ مولانا شاہ احمد نورانی علیہ الرحمہ 1۔ جنہوں نے 1952ء سے قادیانیوں کے خلاف باقاعدہ کام شروع کیا۔ 2۔ مرزائیوں کے خلاف آل پاکستان مسلم پارٹیز کے بورڈ کے رکن منتخب ہوئے۔ 3۔ 1953ء میں آرام باغ کراچی سے تحریک کا آغاز ہوا تو آپ پیش پیش تھے۔ گرفتاریاں دینے کے لئے نوجوانوںکے جتھے تیار کئے۔ 4۔ 15اپریل 1974ء کو قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس میں ختم نبوت کے تحفظ کے لئے آواز بلند کی۔ 5۔ 30جون 1974ء کو قومی اسمبلی میں ایک تاریخی قرارداد پیش کی کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ 6۔ بیرونی ممالک نیروبی‘ ماریشس‘ لاطینی امریکہ‘ سرینام‘ برٹش‘ گیانا ٹرینی ڈاڈ میں قادیانیوں سے مناظرے کئے۔ یہ مناظرے بند کمروں میں نہیں‘ مجمع عام میں ہوئے اور قادیانیوں کو مکمل شکست دی۔ اس کے علاوہ ٹرینی ڈاڈ اور جنوبی امریکہ اور نیروبی میں مرزائی مناظر ذلیل ہوکر کتابیں لے کر بھاگ گئے۔ 7۔ مرزائیوں کے سربراہ مرزا ناصر الدین کو قومی اسمبلی میں شکست دی۔ بالاخر آپ کی کوششوں سے آپ کی پیش کردہ قرارداد پر 7ستمبر 1974ء کو قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ 8۔ آپ کے مناظروں کو دیکھ کر 400قادیانیوں نے توبہ کی اور اسلام قبول کیا۔ آپ قادیانیوں کے خلاف ننگی تلوار تھے۔
  5. 1 like
    اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيْحَ عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُوْلَ اللّٰهِ ۚ وَمَا قَتَلُوْهُ وَمَا صَلَبُوْهُ وَلٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ ۭ وَاِنَّ الَّذِيْنَ اخْتَلَفُوْا فِيْهِ لَفِيْ شَكٍّ مِّنْهُ ۭ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ۚ وَمَا قَتَلُوْهُ يَقِيْنًۢا ۔بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَيْهِ ۭوَكَانَ اللّٰهُ عَزِيْزًا حَكِ۔يْمًا اور ان کے اس کہنے پر کہ ہم نے قتل کیا مسیح عیسیٰ مریم کے بیٹے کو جو رسول تھا اللہ کا اور انہوں نے نہ اس کو مارا اور نہ سولی پر چڑھایا لیکن وہی صورت بن گئی ان کے آگے اور جو لوگ اس میں مختلف باتیں کرتے ہیں تو وہ لوگ اس جگہ شبہ میں پڑے ہوئے ہیں کچھ نہیں ان کو اس کی خبر صرف اٹکل پر چل رہے ہیں اور اس کو قتل نہیں کیا بےشک بلکہ اس کو اٹھا لیا اللہ نے اپنی طرف اور اللہ ہے زبردست حکمت والا(سورہ نسا ۔۱۵۷۔۱۵۸) یہود کا یہ کہنا تھا کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ کو قتل کر دیا (نعوذ باللہ) یہاں اللہ پاک نے یہود کہ اس قول کی دو ٹوک الفاظ میں نفی کریدی اور ما قتلوہ اور ما صلبوہ کہ کر ان کے قتل مطلق کی نفی فرما دی اور یہ فرما دیا کہ بل رفعہ اللہ الیہ یعنی ، بلکہ اللہ نے اٹھا الیا اس کو اپنی طرف۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے حضرت عیسیٰ کو موت سے بچا کر اوپر آسمانوں میں اپنی طرف اٹھا لیا ۔ اب یہاں کچھ باتیں سمجھ لیجئے۔ ۱۔ بل رفعہ اللہ کی ضمیر اسی طرف راجع ہے جس طرف کہ ما قتلوہ اور ما صلبوہ کی ضمیریں راجع ہیں اور ظاہر ہے کہ ما قتلوہ اور ما صلبوہ کی ضمیر یں حضرت عیسیٰ کے جسم و جسد اطہر کی طرف راجع ہیں۔ روح بلا جسم کی طرف راجع نہیں ہیں۔اس لیے کہ قتل کرنا اور صلیب چڑھانا جسم کا ہی ممکن ہے روح کا قطعا ناممکن ہے۔لہذا بل رفعہ کی ضمیر اسی جسم کی طرف راجع ہوگی جس جسم کی طرف ما قتلوہ اور ما صلبوہ کی ضمیریں راجع ہیں۔ساتھ ہی ساتھ یہ کہ یہود روح کے قتل کے مدعی نہ تھے بلکہ جسم کو وہ قتل کرنا چاہتے تھے اور بل رفعہ اللہ میں اس کی تردید کی گئی لہذا بل رفعہ سے مراد جسم(مع روح) ہی ہو گا نہ کہ صرف روح۔ ۲۔ اگر رفع سے رفع روح بمعنی موت مراد ہے تو قتل و صلب کی نفی سےکیا فائدہ؟ کیوں کہ قتل و صلب سے غرض موت ہی ہوتی ہے اور یہاں "بل "کے بعد بصیغہ ماضی" رفعہ" کو لانے میں اس طرف اشارہ ہے کہ تمہارے قتل و صلب سے پہلے ہی ان کو ہم نے اپنی طرف اٹھا لیا۔یہی بات ہے کہ جملہ ائمہ و مفسرین اس بات پر بالکل متفق ہیں آپ کوئی بھی مستند تفسیر اٹھا کر دیکھ لیجئے (کئی ایک کہ تراجم اب نیٹ پر بھی دستیاب ہیں) کہ حضرت عیسیٰ کا یہ رفع ان کی زندگی کی حالت میں ان کے جسد عنصری کے ساتھ ہوا۔مثلا ۱۔ علامہ ابن جریر طبری تفسیر جامع البیان میں اس آیت کے تحت سدی سے بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عیسیٰ کو آسمانوں پر اٹھا لیا گیا۔نیز حضرت مجاہد سے روایت کرتے ہیں سیدنا عیسیٰ کو اللہ تعالیٰ نے زندہ اٹھا لیا۔(جامع البیان جز ۶ص ۱۴،۱۵)۲۔علامہ ابن کثیر حضرت مجاہد کی روایت کو یوں نقل فرمایا ہے"یہود نے ایک شخص کو جو مسیح کا شبیہ تھاصلیب پر لٹکایاجبکہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے زندہ آسمانوں پر اٹھالیا۔(ج۳ص۱۲)۳۔اب لفظ رفع کے بارے میں کچھ باتیں سمجھ لیجئے ۔ لفظ رفع قرآن مجید میں مختلف صیغوں کی صورت میں کل ۲۹ دفعہ استعمال ہوا ہے۔ ۱۷ مرتبہ حقیقی اور ۱۲ مرتبہ مجازی معنوں میں ۔ گو کہ رفع کے معنی اٹھانے اور اوپر لے جانے کہ ہیں لیکن وہ رفع کبھی اجسام کا ہوتا ہے کبھی معانی و اعراض کا، کبھی اقوال و افعال کا ہوتا ہے اور کبھی مرتبہ و درجہ کا۔ جہاں رفع اجسام کا ذکر ہو گا وہاں رفع جسمانی مراد ہو گی۔اور جہاں رفع اعمال و درجات کا ذکر ہو گا وہاں رفع معنوی مراد ہو گا۔یعنی جیسی شے ہو گی اس کا رفع بھی اس کے مناسب ہوگا مثال۱۔ رفع جسمانی و رفع ابویہ علی العرش (یوسف ۱۰۰) اور اونچا بٹھایا اپنے ماں باپ کو تخت پر۔ ۲۔ رفع ذکر و رفعنا لک ذکرک۔ اور ہم نے آپ ﷺ کا ذکر بلند کیا۔ ۳۔ رفع درجات ورفعنا بعضھم فوق بعض درجٰت(الزخرف ۳۲) اور بلند کر دیئے درجے بعض کے بعض پر ۔ اب یہاں جیسی شے ہے ویسے ہی اس کے مناسب رفع کی قید ہے جیسا کہ آخر میں خود ذکر و درجے کی قید موجود ہے۔ رفع کی مذکورہ تعریف اور مثالوں سمجھنے کے بعد اب یہ سمجھنا کہ قرآن میں جہاں کہیں رفع آئے گا وہ روحانی یا درجات کا ہی رفع ہوا گا محض ایک جہالت کی بات ہ۔ ۔ یہ بھی اعتراض کیا ہے کہ اس آیت میں آسمان کا لفظ تو نہیں بلکہ صرف اتنا ہے کہ اللہ پاک نے حضرت عیسیٰ کو اپنی طرف اٹھا لیا تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان کواوپر آسمانوں کی طرف اٹھا یا ہو کیونکہ اللہ پاک تو ہر جگہ موجود ہیں ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بات اچھی طرح سمجھ لی جائے کہ اللہ رب العزت کے لیے فوق و علو ہے ،گو کہ وہ جہت و مکان سے منزہ ہے لیکن انسانی تفہیم کے لیے اور کسی جہت و جگہ کی تکریم کے لیےاس نے اسے اپنی طرف منسوب بھی فرمایا ہے، انہی معنوں میں قرآن میں کہا گیا ہے: [ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِي السَّمَاۗءِ اَنْ يَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِيَ تَمُوْر(سورہ ملک ۱۶) ترجمہ: کیا تم اس سے ڈرتے نہیں جو آسمان میں ہے کہ وہ تمہیں زمین میں دھنسا دے پس یکایک وہ لرزنے لگے۔ اَمْ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِي السَّمَاۗءِ اَنْ يُّرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا ۭ فَسَتَعْلَمُوْنَ كَيْفَ نَذِيْر(سورہ ملک ۱۷) کیا تم اس سے نڈر ہو گئے ہو جو آسمان میں ہے وہ تم پر پتھر برسا دے پھر تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ میرا ڈرانا کیسا ہے۔(مرزا بشیر الدین نے ام امنتم من فی السما کا ترجمہ آسمان میں رہنے والی ہستی سے کیا ہے۔تفسیر صغیر ص ۷۶۰) اسیا ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نزول وحی کے انتظار میں باربار آسمان کی طرف دیکھا کرتےتھے۔ قَدْ نَرٰى تَ۔قَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاۗءِ(بقرہ ۱۴۴) ترجمہ: بے شک ہم دیکھتے ہیں بار بار اٹھنا تیرے منہ کا آسمان کی طرف۔ نیز یہ حدیث بھی ملاحظہ فرمایئے۔ وعن أبي الدرداء قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : " من أشتكى منكم شيئا أو اشتكاه أخ له فليقل : ربنا الله الذي في السماء تقدس اسمك أمرك في السماء والأرض كما أن رحمتك في السماء فاجعل رحمتك في الأرض اغفر لنا حوبنا وخطايانا أنت رب الطيبين أنزل رحمة من رحمتك وشفاء من شفائك على هذا الوجع . فيبرأ " . رواه أبو داود (بحوالہ مشکوٰۃ حدیث ج۲ نمبر ۳۴) ترجمہ: حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ " تم میں سے جس شخص کو کوئی بیماری ہو یا اس کا کوئی بھائی بیمار ہو تو اسے چاہئے کہ یہ دعا پڑھے۔ ہمارا پروردگار اللہ ہے، ایسا اللہ جو آسمان میں ہے، تیرا نام پاک ہے، تیری حکومت آسمان و زمین (دونوں) میں ہے، جیسی تیری رحمت آسمان میں ہے ویسی ہی تو اپنی رحمت زمین پر نازل فرما، تو ہمارے چھوٹے اور بڑے گناہ بخش دے تو پاکیزہ لوگوں کا پروردگار ہے (یعنی ان کا محب اور کا رساز ہے اور تو اپنی رحمت میں سے (جو ہر چیز پر پھیلی ہوئی ہے رحمت عظیمہ) نازل فرما، اور اس بیماری سے اپنی شفا عنایت فرما " (اس دعا کے پڑھنے سے انشاء اللہ بیمار) اچھا ہو جائے گا۔ ( ابوداؤد ) نیز مزے کی بات یہ ہے کہ خود مرزا غلام احمد قادیانی نے رفعہ اللہ کے معنی آسمان کی طرف اٹھایا جانا لکھے ہیں۔ "رافعک کے معنی یہی معنی ہیں کہ جب حضرت عیسیٰ فوت ہو چکےتو ان کی روح آسمان کی طرف اٹھائی گئی (ازالہ اوہام ص ۲۶۶، خزائن ج۳ص۲۳۴)۔ نیز حضرت مسیح تو انجیل کو ناقص کی ناقص ہی چھوڑ کرآسمانوں پر جا بیٹھے۔(حاشیہ براہیں احمدیہ ص ۳۶۱، خزائن ج۱ ص ۴۳۱)۔نیز مرزا نے مزید لکھا ہے کہ"شریعت نے دو طرفوں کو مانا ہےایک خدا کی طرف اور وہ اونچی ہے جس کا مقام انتہائی عرش ہےاور دوسری طرف شیطان کی اور بہت نیچی ہےاور اس کا انتہا زمین کا پاتال۔غرض یہ کہ تینوں شریعتوں کا متفق علیہم مسئلہ ہےکہ مومن مر کر خدا کی طرف جاتا ہے اور اس کے لیے آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں۔تحفہ گولڑویہ ص ۱۴) گویا کہ حضرت عیسیٰ کی نسبت یہ اختلاف نہیں کہ کس طرف اٹھائے گئےقادیانیوں کو بھی تسلیم ہے کہ رفع آسمانوں کی طر ف ہوا یعنی جہت رفع میں کوئی اختلاف نہیں ہاں حالت رفع میں ہے جس کی وضاحت میں نے پہلے ہی کر دی ہے۔چنانچہ بل رفعہ اللہ الیہ یعنی اللہ نے حضرت عیسیٰ کو اپنی طرف اٹھا لیا کہ معنی یہی ہیں کہ اللہ نے آسمان پر اٹھا لیا جیسا کہ تَعْرُجُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ إِلَيْهِ (معارج ۴)چڑہیں گے اس کی طرف فرشتے اور روح ۔ (اس کی طرف یعنی اللہ کیطرف) سے مراد یہی ہے کہ آسمان کی طرف چڑھتے ہی
  6. 1 like
    میں مرزا قادیانی کو مانتا ہوں قسم سے ضرور مانتا ہوں وہ کافر ہے میں مانتا ہوں
  7. 1 like
    ماشا اللہ توحیدی بھائی آپ نے بحث کا لب لباب بڑی اچھی طرھ واضع کیا ہے۔ اب اگر کوئی میں نہ مانوں کی رٹ لگاے تو اس کی اپنی سمجھ کا قصور ہے۔
  8. 1 like
    السّلام و علیکم، جزاک اللہ خیراً مغل بھائی یہ خزانہ شیئر کرنے کا بے حد شکریہ، اللہ عزّوجل آپ کے علم اور عمر میں اضافہ فرمائے۔ آمین اللہ حافظ
  9. 1 like
  10. 1 like
    yeh new book nahi hay balkeh 1986 ki likhi hui book hay jab woh deobundi thay. aur ab deobundion ne ise dobara publish kr diya hay jaise yeh koi new book hau. iss book ka first edition 1986 main publish huwa tha aur iss k third edition ki date bhi book k pg.56 par 1989 likhi hay (jis k bare main likha hay k jo aap k hath main hay). jis k neeche author ne 20 feb 1986 date likhi hui hay. so jau bhi date maan lau yeh old book hay aur tm deobundion ne ise again publish kr diya hay jaise woh phr deobundi hau gaye hon woh kehte hain na k naqal k liye bhi aqal ki zarurat hoti hay. deobundion ne book tau publish kr di but uss main dates change krna bhul gaye. issi book k page 13 par author ki tarf se "Intisab" main 20 feb 2010 date likhi gai hay jb keh pg 56 pe "Arz e Muallaf" main 1986 hay. aur phr kitab k end pr bhi 20 feb 1986 likha hay so yeh koi new book nai hay siraf purani mayyat ko nai qabar main litaya hay . chk the book here
  11. 1 like
    جناب دیوبندی صاحب آپ نے مرتضیٰ چاندپوری کی اولادالزوانی لکھی، یہ گالی ھے یا مدح ھے؟ نظیر ھے تو پیش کریں۔ ھوالمعظم کتاب کو ھم تسلیم نہیں کرتے۔ بر سبیل تنزل، اُس میں سے خواجہ ضیاء الدین سیالوی کے الفاظ پیش کریں۔ آپ نے پوچھا ھے کہ دیوبندی بریلوی اختلافات کیا ھیں؟ یہ ضروریات دین میں بھی ھیں، ضروریات مذھب اھل سنت میں بھی ھیں اور فروعیات و اجتہادیات میں بھی ھیں۔ آپ جواب تو کسی بات کا دیتے نہیں اور اوٹ پٹانگ اپنی ھی ھانکے جاتے ھیں اگر بحث کا شوق ھے تو ھماری بھی ھر بات کا جواب دیا کریں ۔
  12. 1 like
    (1) qasim nanotvi (2) rasheed gangohi (3) khalil anbethvi (4) ashraf ali thanvi jo in ki kufriya ibarat ko sahi kahe won bhi in ke hukam main dakhil hai.
  13. 1 like
    Tahafuz-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Sahab-e-Kiram Aor Aoila Allah رضی اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین Tahafuz-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Sahab-e-Kiram Aor Aoila Allah.rar Tahafuz-e-Aqeeda-e-Khatm-e-Nabuwat Main Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan رحمت اللہ علیہ Ki Khidmaat ka Mukhtasar Jaiza-1 Tahafuz-e-Aqeeda-e-Khatm-e-Nabuwat Main Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Ki Khidmaat ka Mukhtasar Jaiza.rar Tahafuz-e-Aqeeda-e-Khatm-e-Nabuwat Main Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan رحمت اللہ علیہ Ki Khidmaat ka Mukhtasar Jaiza-2 Alahazrat aor Radd-e-Qadianiat.pdf Radd-E-Qadianiat Par Imam Ahmad Raza Ki Chand Tasaneef Khatm-e-Nabuwat K Paasban Khatm-e-Nabuwat K Pasban.pdf Khatm-e-Nabuwat Aor Radd-e-Mirzaiyat Par Ulama-e-Bareli Ka Kirdar http://www.islamimehfil.com/index.php?app=core&module=attach&section=attach&attach_id=63068 Tahafuz-e-Khatm-e-Nabuwat Main Allama Faiz Ahmad Owaisi رحمت اللہ علیہ Ki Tasneefat Tahfuz-e-Khatm-e-Nabuwat Main Allama Faiz Ahmad Owaisi Ki Tasneefat.rar Aolia-e-Ummat Aor Qadianiat Ka Bhyanak Chehra Aolia-e-Ummat Aor Qadianiat Ka Bhyanak Chehra.rar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Jamia Razawia Zia-ul-Uloom 1Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Jamia Razawia Zia-ul-Uloom.rar Tazkira-e-Mujahedeen-e-Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Tazkira-e-Mujahedeen-e-Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat.rar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Chand Sunni Ulama-o-Mashaikh Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Chand Sunni Ulama-o-Mashaikh.rar Kalam-e-Noori Main Aqeeda-e-Khatm-e-Nabuwat Ki Zia Baareyan 01Kalam-e-Noori Main Aqeeda-e-Khatm-e-Nabuwat Ki Zia Baareyan.rar Fitna-e-Qadianiat k khilaf Mumlikat-e-Khudadad ka Tareekhi fesla Fitna-e-Qadianiat k khilaf Mumlikat-e-Khudadad ka Tareekhi fesla.rar Dawateislami Ki Madani Bahar Qadianion Ki Toba Dawateislami Ki Madani Bahar Qadianion Ki Toba.rar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Main Anjuman Talba-e-Islam Ka Kirdar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Main Anjuman Talba-e-Islam Ka Kirdar.rar Qadianiat Aor Tahseel Gojar Khan Qadianiat Aor Tahseel Gojar Khan.rar 7 September Qadianion Ki Shikast Ka Din 7 September Qadianion Ki Shikast Ka Din.rar 7 September Youm-e-Tahafuz-e-Khatm-e-Nabuwat 7 September Youm-e-Tahafuz-e-Khatm-e-Nabuwat.rar Alhaj Peer Nazeer Ahmad Mohrwi رحمت اللہ علیہ Aor Radd-e-Qadiniat Alhaj Peer Nazeer Ahmad Mohrwi Aor Radd-e-Qadiniat.rar Ameer-e-Millatرحمت اللہ علیہ Aor Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Ameer-e-Millat Aor Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat.rar Aqeeda-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Allama Mian AbdulHaq Ghorghashtwiرحمت اللہ علیہ Aqeeda-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Allama Mian AbdulHaq Ghorghashtwi.rar Jab Mujhay Saza-e-Maot Sunayi Gayi Jab Mujhay Saza-e-Maot Sunayi Gayi.rar Khatm-e-Nabuwat Aor Ghzali-e-Zman Allama Saeed Ahmad Kazmiرحمت اللہ علیہ Khatm-e-Nabuwat Aor Ghzali-e-Zman Allama Saeed Ahmad Kazmi.rar Khatm-e-Nabuwat Aor Khawja ZiauDdeen Sialwiرحمت اللہ علیہ Khatm-e-Nabuwat Aor Khawja ZiauDdeen Sialwi.rar Khatm-e-Nabuwat Kay Paasban Khatm-e-Nabuwat Kay Paasban.rar Khawja Ghulam Murtzaرحمت اللہ علیہ Aor Radd-e-Qadianiat Khawja Ghulam Murtza Aor Radd-e-Qadianiat.rar Mashaikh-e-Choora Shareef Aor Taqub-e-Qadianiat Mashaikh-e-Choora Shareef Aor Taqub-e-Qadianiat.rar Molana Enayat-Ullah-Chishti رحمت اللہ علیہ Aor Radd-e-Qadianiat Molana Enayat-Ullah-Chishti Aor Radd-e-Qadianiat.rar Mujahid-e-Millat رحمت اللہ علیہ Aor Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Mujahid-e-Millat Aor Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat.rar Radd-e-Mirzaeat Main Muhaddis-e-Azamرحمت اللہ علیہ ka Kirdar Radd-e-Mirzaeat Main Muhaddis-e-Azam ka Kirdar.rar Radd-e-Mirzaeat Main Peer Muhammad Karam Shah رحمت اللہ علیہ Aor Inkay Khandan Ki Khidmaat Radd-e-Mirzaeat Main Peer Muhammad Karam Shah Aor Inkay Khandan Ki Khidmaat.rar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Justice Peer Karam Shah AlAzhariرحمت اللہ علیہ Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Justice Peer Karam Shah AlAzhari.rar Shaheed-e-Khatm-e-Nabuwat Muhammad Malik Shaheedرحمت اللہ علیہ Shaheed-e-Khatm-e-Nabuwat Muhammad Malik Shaheed.rar Tahaffuz-e-Aqeeda-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Akabreen-e-Ahl-e-Sunnat Tahaffuz-e-Aqeeda-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Akabreen-e-Ahl-e-Sunnat.rar Tahaffuz-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Allama Ghulam Rasool Saeedi Tahaffuz-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Allama Ghulam Rasool Saeedi.rar Tahafuz-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Muffakir-e-Islam Professor Muhammad Hussain Aasi Tahafuz-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Muffakir-e-Islam Professor Muhammad Hussain Aasi.rar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat 1953 Main Ulama-e-Mashaikh Ka Kirdar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat 1953 Main Ulama-e-Mashaikh Ka Kirdar.rar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Allama Peer Muhammad Ameen-Ul-Hasanat Shah Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Allama Peer Muhammad Ameen-Ul-Hasanat SHah.rar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Hazrat Faqeeh-e-Azamرحمت اللہ علیہ Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Hazrat Faqeeh-e-Azam.rar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Sahibzada Faiz-ul-Hasanرحمت اللہ علیہ Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Sahibzada Faiz-ul-Hasan.rar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Shaykh-Ul-Quran AbdulGhfoor Hazarwiرحمت اللہ علیہ Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor SHaykh-Ul-Quran AbdulGhfoor Hazrwi.rar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Ka Aik Qalmi Mujahid Professor Muhammad Ilyas Barniرحمت اللہ علیہ Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Ka Aik Qalmi Mujahid Professor Muhammad Ilyas Barni.rar Tajdar-e-Golraرحمت اللہ علیہ Aor Marka-e-Qadianiat Tajdar-e-Golra Aor Marka-e-Qadianiat.rar Fatih-e-Rabwa Qaid-e-Millat-e-Islamia Shah Ahmad Noorani Siddiquiرحمت اللہ علیہ Fatih-e-Rabwa Qaid-e-Millat-e-Islamia Shah Ahmad Noorani Siddiqui.rar Shah Ahmad Nooraniرحمت اللہ علیہ Munazray Aor Tahreeri Khidmaat Shah Ahmad Noorani Munazray Aor Tahreeri Khidmaat.rar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat 1953 Aor Allamah Shah Ahmad Nooraniرحمت اللہ علیہ Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat 1953 Aor Allamah Shah Ahmad Noorani.rar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat 1974 Aor Allamah Shah Ahmad Nooraniرحمت اللہ علیہ Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat 1974 Aor Allamah Shah Ahmad Noorani.rar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat 1974 Ka Lazwal Kirdar Shah Ahmad Nooraniرحمت اللہ علیہ Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat 1974 Ka Lazwal Kirdar Shah Ahmad Noorani.rar Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Allamah Shah Ahmad Noorani Siddiquiرحمت اللہ علیہ Tahreek-e-Khatm-e-Nabuwat Aor Allamah Shah Ahmad Noorani Siddiqui.rar Tahreek-e-Thaffuz-e-Khatm-e-Nabuwat 1974 Main Imam Shah Ahmad Noorani رحمت اللہ علیہ Aor Inki Rabta Muhim Tahreek-e-Thaffuz-e-Khatm-e-Nabuwat 1974 Main Imam Shah Ahmad Noorani Aor Inki Rabta Muhim.rar
  14. 1 like
  15. 1 like